(1)پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی وِلادت فجر سے پہلے ہوئی تھی یا بعد میں؟
سوال: سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى وِلادت کا وقت فجر سے پہلے تھا ىا فجر کے بعد؟
جواب: پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی وِلادت کا وقت، رات کا بالکل آخری حِصّہ اور صبح کے شروع کا وقت تھا، یعنی رات جا رہی تھی اور صبح آ رہی تھی اور یوں رات کو بھی نوازا گیا اور صبح کو بھی مُشَرَّف فرمایا گیا۔(مدنی مذاکرہ، 9ربیع الاول 1440ھ)
(2)پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۃُ النّاس پڑھ لی تو……
سوال: اگر فرض نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورۃُ النّاس پڑھ لی تو اب دوسری رکعت میں کون سی سورت پڑھیں گے؟
جواب: دوسری رکعت میں بھی سورۂ فاتحہ کے بعد یہی سورۃُ النّاس پڑھیں گے۔
(دیکھئے: فتاویٰ رضویہ، 6/266، 267-بہار شریعت، 1/548- مدنی مذاکرہ،9 شوال المکرم1444ھ)
(3)جَشنِ وِلادت کے جھنڈے کب اُتارے جائیں؟
سوال: جَشنِ وِلادت کے موقع پر ہم اپنے گھروں پر جو جھنڈے لگاتے ہىں انہیں کب اُتارىں؟
جواب: ہوسکے تو 25 صَفَرشریف سے ایک آدھ دن پہلے لگا دئیے جائیں تاکہ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ کا عُرسِ مُبارَک بھی اِس میں آجائے اور پھر بارھویں شریف کا دِن گزار کر ان جھنڈوں کو اُتار کر اِحتیاط کے ساتھ رکھ لیا جائے تاکہ آئندہ سال کام آ سکیں۔ اگر ان جھنڈوں کو سارا سال لگا رہنے دیں گے تو پھر ان کی طرف شایدکوئی توجہ بھی نہیں دے گا اور ہوسکتا ہے یہ دھوپ اور ہوا کی وجہ سے شہید ہو کر زمین پر تشریف لے آئیں۔
(مدنی مذاکرہ، 9ربیع الاول 1440ھ)
(4)کیا 12ربیعُ الاوّل کے دِن کام پر جا سکتے ہیں؟
سوال: اگر آفس میں کوئی اَرجنٹ کام ہو تو 12ربیعُ الاوّل کے دِن کام پر جا سکتے ہیں؟
جواب: 12ربیعُ الاوّل اور عیدین(یعنی عِیْدُ الْفِطر اور عِیْدُ الاضحیٰ) کے دِن مسلمانوں کی اکثریت چھٹی کرتی ہے، اگر کوئی ان دِنوں میں بھی چھٹی کرنے کے بجائے کام کاج کرتا ہے تو یہ منع نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے جو مسلمان غیر مسلموں کے پاس نوکریاں کرتے ہوں وہ انہیں ان دِنوں کی چھٹیاں نہ دیتے ہوں اور انہیں کام کرنا پڑتا ہو تو وہ کام کر سکتے ہیں۔ یوں ہی بعض مسلمان بھی اپنے ملازمین کو ان دِنوں کی چھٹی نہیں دیتے کیونکہ عیدین اور 12 ربیعُ الاوّل کے دِن ان کا کام مزید بڑھ جاتا ہے۔ جیسے بقرہ عید کے دِنوں میں گوشت فروشوں کی چھٹی نہیں ہوتی کہ اس دِن یہ لوگ زیادہ مَصروف ہو جاتے ہیں۔ اِسی طرح جانور بیچنے والے بیوپاری بھی بقرہ عید کے دِنوں میں چھٹی نہیں کرتے۔ یوں ہی عیدین میں مٹھائیوں اور جنرل اسٹورز والوں کا کام بھی بہت زیادہ ہوتا ہے تو وہ بھی چھٹی نہیں کرتے۔نیز جو لوگ بچوں کے کھلونے وغیرہ فروخت کرتے ہیں ان کی بھی عیدین وغیرہ کی چھٹی نہیں ہوتی کہ یہ ان کی خاص کمائی کے اَیّام ہوتے ہیں۔(مدنی مذاکرہ، 9ربیع الاول 1440ھ)
(5)قبرپر جھنڈے یا جھنڈیاں لگانا کیسا؟
سوال: ميلاد شریف کے موقع پر اپنے مَرحومین کی قبروں پر میلاد شریف کے جھنڈے یا جھنڈیاں لگانا کیسا ہے؟
جواب: میرا مشورہ یہ ہے کہ اس بات کو رَواج نہ دیں، ممکن ہے کہ جھنڈے یا جھنڈیاں بچے وغیرہ اُکھاڑ کر لے جائیں یا پھر بارش اور دھوپ پڑنے سے بوسیدہ ہو کر اُڑ جائیں اور یوں ان کی بے اَدَبی ہو لہٰذا قبر پر میلاد شریف کے جھنڈے لگانے کے بجائے پودے لگائے جائیں کہ یہ جب تک تر و تازہ رہیں گے ذِکر کریں گے جس سے مَیِّت کا دِل بہلے گا۔ میری والدۂ مرحومہ کی قبر پر بھی بعض لوگ جھنڈے لگا جاتے ہیں،براہِ کرم! وہ ایسا نہ کریں، ہاں پھول ڈالنا اچّھا ہے۔(مدنی مذاکرہ، 16ربیع الاول 1440ھ)
(6)مسجد کا چندہ کسی کو ادھار دینا کیسا؟
سوال: کیا مسجد کے پیسے کسی کو ادھار دے سکتے ہیں؟
جواب: مسجد کے پیسے متولی نہ کسی کو ادھار دے سکتا ہے اور نہ خود ادھار لے سکتا ہے(دیکھئے: فتاویٰ رضویہ، 16/574) بلکہ وہ مسجد ہی میں استعمال ہوں گے۔ یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ابھی ایسے ہی رکھے ہوئے ہیں ہم استعمال کرلیتے ہیں بعد میں مسجد کے چندے میں ڈال دیں گے یا فلاں دُکھیارے کو دے دیتے ہیں کہ وہ وقت پر دے دے گا وغیرہ وغیرہ۔ الغرض کسی طرح بھی مسجد کا چندہ نہ قرض دے سکتے ہیں اور نہ واپسی کی نیّت سے بھی خود استِعمال کرسکتے ہیں۔ البتہ ایڈوانس تنخواہ دے سکتے ہیں لیکن یہ بھی عُرف کے مطابق دی جائے گی۔
(مدنی مذاکرہ، 29شوال المکرم 1441ھ)
(7)میت کو تکلیف دینے سے بچایئے:
سوال:”مُردے پر مکھی بیٹھ جائے تو اسے پہاڑ کے برابر لگتی ہے“ کیا اس طرح کی کوئی روایت موجود ہے؟
جواب: یہ میں نے پہلی بار سنا ہے، اب تک نہ کہیں پڑھا ہے اور نہ علما سے سنا ہے۔ البتہ مُردے کے بال توڑنا بھی منع ہے کہ اس سے بھی میت کو تکلیف ہوتی ہے۔(دیکھئے: فتاویٰ رضویہ، 9/164) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہنے فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک حدیث پاک بیان فرمائی ہے: بیشک مردہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ مسلمان کی ہڈی توڑنا۔(ابوداؤد، 3/285، حدیث: 3207-دیکھئے: فتاویٰ رضویہ، 9/165)
اللہ پاک ہمیں مرنے کے بعد ”پوسٹ مارٹم“ سے بچائے کہ اس میں مردے کو چیرا پھاڑا جاتا ہے۔
اسی طرح جب بیرونِ ملک کسی کے عزیز کا انتقال ہوجاتا ہے اور وہ وہاں سے میت منگواتے ہیں تو وہ میت کو چیر کر اس کے اندر سے اوجھڑی اور آنتیں وغیرہ نکال کر اس میں کیمیکل بھر دیتے ہیں اور اس کے بعد میت ان تک پہنچتی ہے۔ لہٰذا میت کو تکلیف دینے سے بچایئے اور جس ملک میں انتقال ہوا ہے اسی میں تدفین ہونے دیجئے۔
(مدنی مذاکرہ، 26شعبان المعظم 1444ھ)
(8)گھر میں خرگوش پالنا:
سوال: گھر میں خرگوش رکھنا کیسا ہے؟
جواب: خرگوش حلال جانور ہے، اس کو گھر میں رکھنا، پالنا جائز ہے،لیکن ان کے کھانے پینے کا خوب خیال رکھناہوگا، گھر میں بچے ہیں تو بچوں سے بھی ان کی حفاظت کرنی ہوگی تاکہ بچے ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچائیں۔
(مدنی مذاکرہ، 9 شوال المکرم 1444ھ)
(9)قضا نماز بیٹھ کر پڑھنا کیسا؟
سوال:کیا قضا نماز بیٹھ کر پڑھ سکتے ہیں؟
جواب: قضا فرض و وتر واجب بلااجازت شرعی بیٹھ کر نہیں پڑھ سکتے۔
(دیکھئے: بہار شریعت، 1/510-مدنی مذاکرہ، 9 شوال المکرم 1444ھ)
Comments