حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ


حضرت سیدناامام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ



رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی چچی جان حضرت اُمُّ الْفَضْل رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ رسالت میں اپنا خواب عرض کیا: یارسولَ اللہ! آپ کے مبارک جسم کا حصہ میرے گھر آیا ہے۔ یہ سنتے ہی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تم نے اچھا خواب دیکھا ، فاطِمہ کے یہاں بیٹا پید ا ہوگا اور تم اسے دودھ پلاؤگی۔ چنانچہ جب حضرت سیّدتنا فاطِمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے یہاں بیٹے کی ولادت ہوئی تو حضرت سیّدتنا اُمُّ الْفَضْل رضی اللہ عنہا نے انہیں دودھ پلایا۔([1])

اے عاشقانِ صحابہ و اہلِ بیت!سرکارِ دو عالَمصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے یہ نواسے جن کی ولادت کی بشارت خواب کے ذریعے ان کی پیدائش سے پہلے ہی دے دی گئی ان کا نام مبارک حسن، کنیت ابو محمد جبکہ القابات تقی، سیّد، سِبطِ رسول اللّٰہ اور سبطِ اکبر نیز آپ کو رَیْحَانَۃُ الرَّسُوْل (یعنی رسولِ خدا کا پھول)بھی کہتے ہیں۔حضرت سیّدنا امام ابومحمدحسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت15 رمضانُ المبارک 3ہجری میں ہوئی۔([2])

نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے لاڈلے نواسے کے کان میں اذان کہی([3]) اپنے لُعابِ دَہن سے تَحنیک (گُھٹی) دی([4]) اور دو دُنبوں کے ذریعےآپ کا عقىقہ کیا۔([5])

ہم شکلِ مصطَفےٰ:

اے عاشقانِ رسول! یوں تو نواسۂ رسول امام حسن مجتبیٰرضی اللہ عنہ کے کثیر فضائل ہیں لیکن آپ کی ایک بڑی فضیلت و عظمت یہ ہے کہ آپ کی مبارک صورت اپنے نانا جان،رحمتِ عالمیان صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  سے ملتی جلتی ہے۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایک بار نمازِ عصر ادا فرماکر روانہ ہوئے تو امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کو بچّوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا،  آپ نے نواسۂ رسول کو اپنے کندھے پر اٹھالیا اور فرمانے لگے:میرے والد آپ پر قربان! آپ حضرت علی سے نہیں بلکہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے مُشابہ (یعنی ملتے جلتے) ہیں۔حضرت سیدنا علیُّ المُرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم (جو اس وقت قریب موجود تھےیہ بات سن کر)ہنسنے لگے۔([6])

شَفقتِ مصطفےٰ:

نبیِّ رحمت،شفیعِ اُمّت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم امام حسن  رضی اللہ عنہ کوکبھی مبارک گود میں اُٹھائے تو کبھی مبارک کندھوں پر سوار کئے ہوئے گھر سے باہَر تشریف لاتے، کبھی آپ کو دیکھنے اور پیار کرنے کے لیے سیّدہ فاطِمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے۔ حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ بھی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے بے حد مانوس ہوگئے تھے کہ کبھی نماز کی حالت میں مبارَک پیٹھ پر سُوار ہو جاتے۔([7])

راکبِ دَوشِ مصطفےٰ:

ایک مرتبہ حضور پُرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم امام حسن  کو مبارک کندھے پرسُوار کیے ہوئے تھے تو کسی نے عرض کی:نِعْمَ الْمَرْکَبُ رَکِبْتَ یَا غُلَام یعنی صاحبزادے! آپ کی سواری توبڑی اچھی ہے۔ حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا:وَنِعْمَ الرَّاکِبُ ہُوَ یعنی سواربھی تو کیسا اچھا ہے!([8])

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمیں نماز پڑھاتے،(دورانِ نماز) حضرت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جو ابھی چھوٹے سے تھے تشریف لاتے اور رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب سجدہ فرماتے تو وہ اُچھل کر آپ کی گردن شریف اور پیٹھ مبارک پر بیٹھ جاتے۔ سرکارِ دوعالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نہایت آرام سے اپنا سرِ اقدس سجدے سے اٹھاتے اور انہیں شَفقَت سے اُتارتے۔ (ایک مرتبہ نماز کے بعد) صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان بارگاہِ رسالت میں عرض گزار ہوئے: یَارسولَ اللہ! آپ اس بچے کے ساتھ (شفقت و مہربانی)کا جو برتاؤ فرماتے ہیں وہ ہم نے کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھا۔رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :اِنَّهٗ رَيْحَانَتِيْ مِنَ الدُّنْيَا یعنی یہ دنیا میں میرا پھول ہے۔([9])

حضرت بَراء بن عازِب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم امام حسن رضی اللہ عنہ کو کندھے پر اُٹھائے ہوئے ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کررہے ہیں: اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تُو بھی اس سے محبت فرما۔([10])

ایک بار حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم منبر پر جلوہ گر تھے اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ (منبر پر)آپ کے برابر بیٹھے ہوئے تھے۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کبھی لوگوں کی طرف توجُّہ کرتے اورکبھی امام حسن کی طرف نظر فرماتے،پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اِنَّ ابْنِي هٰذَا سَيِّدٌ وَلَعَلَّ اللَّهَ اَنْ يُّصْلِحَ بِهٖ بَيْنَ فِئَتَيْنِ عَظِيْمَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ یعنی میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ پاک اس کے ذریعے مسلمانوں کی دوبڑی جماعتوں میں صلح کروادے گا۔([11])

امام حسن مجتبیٰ کی خلافت:

امیرُ المؤمنین حضرت سیّدنا علیُّ المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم کی شہادت کے بعد حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے اور اہلِ کوفہ نے آپ کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں کچھ عرصہ قیام فرمایا اور پھر چند شرائط کے ساتھ اُمورِ خلافت حضرت سیّدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے سپرد فرمادئیے۔ حضرت  امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے تمام شرائط قبول کیں اور باہم صلح ہوگئی، یوں حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا یہ معجزہ ظاہرہواجو آپ نے فرمایاتھا کہ اللہ پاک میرے اس فرزند کی بدولت مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح فرمائے گا۔([12])

حضرت سیدنا امام حسن  رضی اللہ عنہ کی مبارک سیرت خوفِ خدا، عشقِ مصطفےٰ،مسلمانوں کی خیر خواہی، عبادت و ریاضت اور دیگر اوصافِ حَسَنہ سے بھر پور ہے۔ آپ کی مبارک سیرت کی کچھ جھلکیاں ملاحظہ فرمائیے:

ہاتھوں ہاتھ ضرورت پوری کردی:

حضرت امام حسن  مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک سائل نے حاضر ہوکر تحریری درخواست پیش کی۔ آپ نے (پڑھے بغیر ہی) فرمایا: تمہاری ضرورت پوری کی جائے گی۔عرض کی گئی :اے نواسۂ رسول! آپ اس کی درخواست کو پڑھ کر اس کے مطابق جواب دیتے تو بہتر تھا۔ ارشاد فرمایا: جب تک میں اس کی درخواست پڑھتا وہ میرے سامنے ذلت کی حالت میں کھڑا رہتا، اگر اللہ پاک مجھ سے اس بارے میں سوال فرما لے تو میں اس کا کیا جواب دوں گا؟([13])

10 ہزار درہم سے نواز دیا:

ایک مرتبہ کوئی شخص آپ رضی اللہ عنہ کے پہلو میں بیٹھ کر اللہ پاک سے دس ہزار درہم کا سُوال کررہا تھا۔ اس کی یہ دُعا سُن کر آپ گھر تشریف لائے اور اس کے لیے  10 ہزار درہم بھجوا دیئے۔([14])

سب کچھ خیرات کردیا:

سیِّدُ الْاَسْخِیاء حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے 2  مرتبہ اپنے گھر کا سارا جبکہ3 مرتبہ آدھا مال و اسباب اللہ پاک کی راہ میں خرچ فرمایا۔([15])

25 پیدل حج:

حضرت سیّدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ نے (مدینۂ منورہ سے مکۂ مکرّمہ) پیدل چل کر 25 حج ادا فرمائے۔([16])

وفات:

آپ رضی اللہ عنہ نے 5ربیعُ الاوّل 50ھ کو مدینۂ منورہ میں اس دارِ ناپائیدار سے رحلت فرمائی۔ بوقتِ وفات آپ کی عمر 47سال تھی۔([17])

نمازِ جنازہ:

آ پ رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہ نے پڑھائی جو اس وقت مدینۂ منورہ کے گورنر تھے۔امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عاص رضی اللہ عنہکو جنازہ پڑھانے کے لیے آگے بڑھایا۔([18])

جنازے میں لوگوں کا رش:

 حضرت ثَعلبہ بن ابی مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں امامِ حسن رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوا،آپ  کی تدفین جنّتُ البقیع میں(اپنی والدۂ ماجدہ کے پہلو میں) کی گئی، میں نے جنّتُ البقیع میں لوگوں کا اس قدر اِژدِحام (Crowd) دیکھا کہ اگر سوئی بھی پھینکی جاتی تو (بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے) وہ بھی زمین پر نہ گرتی بلکہ کسی نہ کسی انسان کے سر پر گرتی۔([19])

امام حسن کی اولاد:

آپ رضی اللہ عنہ کی کثیر اولاد تھی،امام ابنِ جَوزی رحمۃُ اللہ علیہ نے آپ کے شہزادوں کی تعداد15 اور صاحبزادیوں کی تعداد 8 لکھی ہے۔([20])جبکہ امام محمد بن احمد ذَہبی رحمۃُ اللہ علیہ نے آپ رضی اللہ عنہ کے 12 شہزادوں کے نام لکھے ہیں: حسن ،زید ،طلحہ ،قاسم، ابو بکر اور عبد اللہ، ان6 نے اپنے چچا جان سَیِّدُ الشُّہَداء حضرت سیّدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ میدانِ کربلا میں جامِ شہادت نوش کیا۔ بقیہ 6 یہ ہیں: عَمرو، عبد الرّحمٰن ،حسین، محمد، یعقوب اور اسمٰعیل رحمۃُ اللہ علیہم اجمعین۔ امام حسن رضی اللہ عنہ کی آل(یعنی حَسَنی سیدوں) کا سلسلہ حضرت سیِّدُناحسن مُثَنّٰی اور حضرت سیِّدُنا زَید رضی اللہ عنہما سے چلا۔ ([21])

تیری نسلِ پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا

تُو ہے عینِ نور تیرا سب گھرانہ نور کا([22])

نواسۂ رسول، جگر گوشۂ بتول حضرت سیدنا امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ پر اللہ پاک کی رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی



([1])الذریۃ الطاہرۃ للدولابی ، ص72

([2])طبقات ابن سعد، 6/352

([3])معجم کبیر،1/313،حدیث:926

([4])البدايۃ والنہایہ، 5/519

([5])نسائی،ص 688، حدیث: 4225

([6])بخاری،2/486،حدیث:3542

([7])امام حسن کی 30 حکایات،ص4

([8])ترمذی،5/432،حدیث:3809

([9])مسند بزار،9/111،حدیث:3657

([10])ترمذی ،5/432، حدیث:3808

([11])بخاری،2/214،حدیث:2704

([12])سوانح کربلا ، ص 96ملخصاً

([13])احیاء العلوم ،3/304

([14])تاریخ ابن عساکر، 13/245

([15])حلیۃ الاولیاء،2/47،حدیث:1434

([16])سیراعلام النبلاء، 4/387

([17])تقریب التہذیب ، ص 240

([18])الاستیعاب،1/442 ملخصاً

([19])الاصابۃ، 2/65

([20])المنتظم، 5/225

([21])سیر اعلام النبلاء ، 4/401

([22])حدائقِ بخشش،ص246


Share