حضرت سیدنا خُبَیب بن عدی رضی اللہ عنہ
ماہِ صفر سن 4 ہجری میں”یوم رجیع“ کے نام سے ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا ، ہوا کچھ یوں کہ نیکی کی دعوت عام کرنے اور دِلوں میں دینِ اسلام کی شمع جلانے کے لیے دس جاں نثار صحابہ کاایک مختصر قافلہ مدینے سے روانہ ہوا، قبیلۂ ہُذیل کو خبر ملی تو انہوں نے200تیر اندازوں کی ایک جماعت تعاقب میں روانہ کردی۔
دشمنوں کی قید میں:
امیرِ قافلہ حضرت عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو تعاقب کا احساس ہوا تو قافلے کو بلند جگہ پر لےآئے۔ یہ دیکھتے ہی کافروں نے انہیں گھیر لیا اور کہا: تم سب اپنے آپ کو ہمارے حوالے کر دو، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔ امیرِ قافلہ نے فرمایا: ہمیں نہ تمہارے وعدوں کا اعتبار ہے نہ تمہاری قسموں کا، ہم اپنے آپ کو تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔ یہ سنتے ہی دشمنوں نے راہِ خدا کے ان مسافروں پر تیروں کی بارش کر دی۔ امیر ِقافلہ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئیے:اے میرے پروردگار! ہماری اس حالت کی خبر اپنے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پہنچا دے۔ ایک ایک کرکے شرکائے قافلہ شہید ہونے لگے۔آخر کار بدبختوں نے تین صحابہ کو زندہ گرفتار کرلیا اور خوب زد و کوب کرتے ہوئے مکہ کی جانب گھسیٹنا شروع کردیا، ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے مزاحمت کی اور ساتھ جانے سے انکار کیا تو انہیں بھی اسی وقت خون میں نہلادیا۔ اب صرف حضرت خُبَیْب بن عَدی اور حضرت زید بن دَثِنَّہ رضی اللہ عنہما باقی رہ گئے تھے مشرکین نے ان دونوں حضرات کو مکّۂ مکر مہ میں فروخت کر دیا۔
حضرت خبیب کے قتل کا منصوبہ:
ماہِ رمضان 2 ہجری غزوۂ بدر میں حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ نے ایک مشرک حارث بن عامرکوقتل کیا تھا، چنانچہ بیٹوں نے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے آپ رضی اللہ عنہ کو خرید لیا اورقید کردیا پھر آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا ناپاک منصوبہ بنانے لگے۔([1])
رحم دل قیدی:
قید کے دوران ایک دن حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے نظافت اور صفائی کے لیے حارث کی بیٹی سے استرا مانگا تو اس نے آپ کو استرا دے دیا اس دوران وہ اپنے (چھوٹے)بچّے سے غافل ہوگئی تھی، بچّہ آہستہ آہستہ سرکتے ہوئےآپ رضی اللہ عنہ کے پاس جا پہنچا، آپ نے اسے اٹھاکر اپنی ران پر بٹھالیا، جب حارث کی بیٹی نے بچّے کو آپ کے پاس دیکھا تو گھبراگئی، اس وقت استرا آپ کے ہاتھ میں تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم کیا سمجھتی ہو کہ میں تمہارے بچّے کو قتل کرکے اپنے دل کی بھڑاس نکالوں گا، خدا کی قسم! میں ایسا ہرگز نہیں کروں گا، پھر آپ نے بچّے کو اس کی ماں کی طرف بھیج دیا۔([2])
غیب سے انگور ملتے:
مشرک حارث کی بیٹی اسلام لانے کے بعد کہا کرتی تھیں: بخدا! میں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر کوئی پابندِ سلاسل اور قیدی نہیں دیکھا (دورانِ اسیری آپ سے ایسے ایسے معاملات ہوتے دیکھے کہ جن کا وہم وگمان بھی نہیں ہوتا) میں نے دیکھا کہ ایک دن وہ قید کی کوٹھڑی کے اندر زنجیروں میں بندھے ہوئے ہیں اور بہترین انگوروں کا خوشہ ہاتھ میں لیے کھا رہے ہیں حالانکہ خدا کی قسم! ان دِنوں مکّۂ معظّمہ میں کوئی پھل نہ ملتا تھا ، بے شک! یہ تو اللہ پاک کی طرف سے رزق تھاجسے اللہ کریم نے حضرت خبیب کو عطا کیا۔([3])
تختہ ٔ دار پر پہلا سجدہ:
آخر کار حضرت خبیب کی شہادت کا دن آگیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو بزم ِقتل کی جانب لے جایا گیاتو کیا بچے کیا عورتیں و غلام اور کیا مرد سبھی پیچھے پیچھے چل رہے تھے یوں معلوم ہوتا تھا کہ کوئی میلہ لگا ہوا ہے،([4]) آپ رضی اللہ عنہ کو تختہ دار پر کھڑا کردیا گیا، ہر ایک کی نگاہیں آپ کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں مگر آپ نہ جانے کن خیالات میں کھوئے ہوئے تھے۔ اچانک مشرکین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:مجھے اتنا وقفہ دو کہ دو رکعت نماز پڑھ سکوں۔پھر نہایت خشوع و خضوع، عجز وانکساری اور حسن و خوبی کے ساتھ جلدہی دو رکعت ادا کی اور فرمایا: دل تو چاہتا تھا کہ سجدہ سے سر نہ اٹھاؤں لیکن اس وجہ سے نماز کو مختصر کردیا کہ کہیں کوئی یہ نہ سوچے کہ خبیب نے موت کے ڈر سے نماز لمبی کردی ہے۔([5])
پیارے اسلامی بھائیو! اس مردِ مجاہد کی زندگی کے آخری لمحات اور آخری عمل کو بار بار پڑھئے کہ موت سر پر کھڑی ہے اور کفر وشرک کی آندھیوں سے شمعِ ایمان کو محفوظ رکھا ہوا ہے ایسے کڑے وقت میں بس دل میں یہی آرزو مچل رہی تھی کہ اپنے اللہ پاک کی بارگاہ میں سر جھکا لوں اور اس کی عبادت کر لوں۔آپ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے شخص ہیں جو دینِ اسلام کی خاطر سولی پر چڑھائے گئے،([6]) اسی طرح بوقت ِشہادت نماز ادا کر نے کی سعادت بھی سب سے پہلے آپ ہی کے حصے میں آئی ہے۔([7])
اللہ پاک ہمیں بھی ان کے صدقے پنج گانہ نمازِ باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔اٰمِیْن
عشقِ رسول کا بے مثال امتحان :
پھر ان ظالموں نے آپ رضی اللہ عنہ کوکھجور کے ایک تنے کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا اور کہا:اسلام چھوڑ دوگے تو تمہاری جان بخش دی جائے گی، مگر آپ نے فرمایا:میں اسلام نہیں چھوڑ سکتا اگرچہ میرے پاس پوری دنیا بھی چل کر آجائے۔ مشرکینِ مکّہ نے پھر پوچھا: کیاتمہیں یہ بات پسند ہے کہ تمہاری جگہ تمہارے نبی کو یہ سزا دی جاتی؟ محبوبِ کبریا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اس جاں نثار عاشق نے یہ جواب عطا فرمایا: اللہ کی قسم! میں تو اس بات کو بھی پسند نہیں کرتا کہ میں اپنے گھر میں اہلِ خانہ کے ساتھ رہوں اور میر ے آقا و مولیٰ محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو کوئی کانٹابھی چبھے۔([8])
آخری دعا:
اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے دعا کی:اے میرے رب! میری اس حالت کی خبر اپنے رسولِ محتشم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو پہنچادے اور جو کچھ میرے ساتھ ہونے والا ہے اس سے اپنے پیارے حبیب کو با خبر فرمادے،([9]) اے پروردگار! تو ان سب کافروں کو چن چن کر تباہ وبرباد کر دے اور ان میں سے کسی کو بھی باقی نہ رکھ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی اس دعا سے مشرکین پر خوف و ہراس طاری ہوگیا، کوئی زمین پر لیٹ گیا تو کوئی دوسرے کے پیچھے چھپنے لگا، کوئی کانوں میں انگلیاں ڈال کر بھاگنے لگا تو کوئی درختوں کی آڑ میں ہوگیا۔([10]) پھر جنگ ِبدر کے موقع پر ہلاک ہونے والے مشرکین کے بچّوں کو لایا گیا اور ان کے ہاتھوں میں نیزے تھمادیے گئے جنہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو نیزے مارنے شروع کیے۔ اس عالَم میں آپ نے اپنا چہرہ کعبۃُ اللہ شریف کی طرف کیا اور اللہ پاک کا شکر ادا کرنے لگے، پھر آہستہ آہستہ شہادت کے گھونٹ پیتے ہوئے اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔([11])
بارگاہِ رسالت سے سلام:
حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کو جب سولی دی جارہی تھی عین اسی وقت رحمت ِعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی پھر زبانِ رسالت سے یہ الفاظ ادا ہوئے: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَاخُبَيْب! اے خبیب! تجھ پر سلام ہو۔([12]) پھر فرمایا: خبیب کو آج مشرکین نے شہید کردیا ، حضرت جبرائیل علیہ السّلام میرے پاس ان کا سلام لائے ہیں۔([13])
کعبہ سے منہ نہ پھرا:
شہادت کے بعد کفّار ِبد اطوارنے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارکہ کو کعبہ سے پھیرنا چاہا لیکن پھیر نہ سکے، بار بار کوشش کی لیکن ہر بار ناکامی نے منہ چڑایا بالآخرمشرکین نے آپ رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارکہ کو یونہی رہنے دیا۔([14])
مہکتا خون :
چند دن بعد جناب ِ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان سے فرمایا: جو شخص خبیب کی لاش کو سولی سے اتار کر لائے اس کے لیے جنّت ہے۔ یہ بشارت سن کر حضرت زبیر بن عوّام اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہما راتوں کو سفر کرتے اور دن کو چھپتے چھپاتے ہوئے مقامِ ”تنعیم“ میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی سولی کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ چالیس کفار سولی کے پہرہ دار بن کر سو رہے ہیں۔ چالیس دن گزر جانے کے باوجود لاش تروتازہ ہے، خون سے بھرے ہوئے دونوں ہاتھ زخموں پر رکھے ہوئے ہیں جبکہ رستا ہوا تازہ خون نیچے ٹپک رہا ہے اور اس سے اٹھنے والی مشک کی مسحور کن خوشبو نے آس پاس کی فضا کو معطر و معنبر کررکھا ہے۔ ان دونوں حضرات نے لاش کو سولی سے اُتارا اور گھوڑے پر رکھ کر چل دیے۔
بَلیع ُالارض :
صبح کو قریش کے ستر سوار تیز رفتار گھوڑوں پر تعاقب میں چل پڑے اور ان دونوں حضرات کے پاس پہنچ گئے، ان حضرات نے جب دیکھا کہ قریش کے سوار ہم کو گرفتار کر لیں گے تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی لاش مبارک کو گھوڑے سے اتار کر زمین پر رکھ دیا۔ خدا کی شان دیکھئے کہ ایک دَم زمین پھٹ گئی اورلاش مبارک کو نگل گئی کہ پھٹنے کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ اسی وجہ سے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ ”بَلیعُ الارض“ (جن کو زمین نگل گئی)کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
صحابہ کی للکار:
اس کے بعد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے کفار سے کہا کہ ہم دو شیر ہیں جو اپنے جنگل میں جا رہے ہیں اگرہمت ہے تو ہمارا راستہ روک کر دکھاؤ،چاہو تو تیر اندازی کا مقابلہ کرلو یا کھلے میدان میں لڑلو اور اگر زندگی پیاری ہے تو واپس لوٹ جاؤ۔ کفار نے ان حضرات کے پاس لاش نہ دیکھی تو لڑنا مناسب نہ جانا اس لیے مکہ واپس چلے گئے۔ جب دونوں مقدس حضرات نے بارگاہ ِرسالت میں سارا ماجرا عرض کیا تو حضرت جبریل علیہ السّلام بھی حاضرِ دربار تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یَارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! آپ کے ان دونوں جاں نثاروں کے اس کارنامہ پر ہم فرشتوں کی جماعت کو بھی فخر ہے۔([15])
اللہ پاک کی اُن پر رحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی
Comments