جَو کی روٹی

جَو (Barley) کی روٹی


اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم انتہائی قناعت پسند اور سادہ کھانا تناول فرمایا کرتے تھے،  کئی روایات میں ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کھانے میں اکثر بِغیر چھنے ہوئے جَو کے آٹے کی روٹی ہوتی تھی۔([1])

طبقات ابن سعد میں ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما بِغیر چھنے جَو کے آٹے کی روٹی تناول فرمایا کرتے تھے۔([2]) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبھی بھی لگاتار دو دن تک سیر ہو کر  جَو کی روٹی نہیں کھائی، یہاں تک کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وصالِ ظاہری فرماگئے۔([3])

حضرت علّامہ عبدالمصطفیٰ اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبھی چپاتی نہیں کھائی، جَو کی موٹی موٹی روٹیاں اکثر غذا میں استعمال فرماتے۔([4])

کھانا تو دیکھو جو کی روٹی، بےچھنا آٹا، روٹی بھی موٹی

وہ بھی شکم بھر روز نہ کھانا، صلَّی اللہ علیہ وسلَّم([5])

ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جَو کی روٹی کے ساتھ مختلف غذائیں بھی تناول فرمائیں ہیں جیساکہ

جَو کی روٹی کے ساتھ کھجور تناول فرمائی:

 حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جَو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا، اس پر کھجور رکھی اور فرمایا: یہ اس (جَو کی روٹی) کا سالن ہے اور کھا لیا۔([6])

کھجور کو سالن فرمانا مجازًا ہے یعنی روٹی اس سے کھائی جاسکتی ہے اور یہ مثل سالن کے ہے۔خیال رہے کہ جو سرد خشک ہے اور کھجور گرم تر۔ لہٰذا جو کی روٹی کی اصلاح بھی کھجور سے ہوجاتی ہے۔ اس حدیث میں صبروقناعت کی بے مثال تعلیم ہے۔([7])

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ضیافت:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے غزوۂ خندق کے موقع پر جو کی روٹی اور بکری کے گوشت سے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ کے اصحاب کی ضیافت کی۔([8])

ایک درزی صحابی  رضی اللہ عنہ کی ضیافت:

اسی طرح حضرتِ اَنَس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک درزی نے حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی کھانے کی دعوت کی، تو میں بھی نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ چلا گیا، اُس نے جَو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا جس میں کدُّو اور خُشک کیے ہوئے نمکین گوشت کی بوٹیاں تھیں۔ کھانے کے دوران میں نے دیکھاکہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پیالے کے کِناروں سے کَدّو کی قاشیں تلاش کرکے تَناوُل فرما رہے ہیں۔ اسی لیے میں اس دِن سے ہمیشہ کدّو پسند کرنے لگا۔([9])

حضرت فاطمۃ الزہراء نے جَو کی روٹی کا ٹکڑا پیش کیا:

حضرت انس رضی اللہ عنہفرماتے ہیں کہ ایک بار حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا نے جَو کی روٹی کا ایک ٹکڑا نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں  پیش کیا تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:یہ پہلا کھانا ہے جو تین دن کے بعد تمہارے والد نے کھایا ہے۔([10])

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ادا کو ادا کرتے ہوئے جَو کی روٹی کھاتے جیساکہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ لوگوں کو امیروں والا کھانا کھلاتے تھے اور خود جَو کی روٹی، سِرکہ اور زیتون پر گزارہ کرتے تھے۔([11])

 مولا علی رضی اللہ عنہ کا جَو کی روٹی تناول فرمانا:

حضرتِ سُوَید بن غَفلہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ، حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضیٰ شیرِ خدا رضی اللہ عنہ کی خدمتِ سراپا عظمت میں دارُالاَمارۃ کوفہ میں حاضِر ہُوا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے جَو شریف کی روٹی اور دودھ کا ایک پِیالہ رکھا ہُوا تھا، روٹی خشک اور اِس قَدَر سخت تھی کہ کبھی اپنے ہاتھوں سے اور کبھی گُھٹنے پر رکھ کر توڑتے تھے۔ یہ دیکھ کر میں نے آپ رضی اللہ عنہ کی کنیز فِضّہ رضی اللہ عنہا سے کہا، آپ کو اِن پر تَرس نہیں آتا؟ دیکھیے تو سہی روٹی پر بھوسی لگی ہوئی ہے اِن کے لیے جَو شریف چھان کر نرم روٹی پکایا کریں۔ تا کہ توڑنے میں مَشَقَّت نہ ہو۔ فِضّہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا، امیرُ المؤمنین رضی اللہ عنہ نے ہم سے عہد لیا ہے کہ ان کے لیے کبھی بھی جَو شریف چھان کر نہ پکایا جائے۔ اتنے میں امیرُ المؤمنین رضی اللہ عنہ میری طرف مُتوجِّہ ہوئے اور فرمایا: اے ابنِ غَفلہ! آپ اِ س کنیز سے کیا فرما رہے ہیں؟ میں نے جو کچھ کہا تھا عَرض کر دیا اور التجا کی: یاامیرَالمؤمنین! آپ اپنی جان پر رَحم فرمایئے اور اِتنی مَشَقَّت نہ اُٹھایئے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابنِ غَفلہ! دو عالم کے مالِک و مختار، مکّی مَدَنی سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور آپ کے اَہل و عِیال نے کبھی تین دن برابر گیہوں کی روٹی شکم سیر ہو کر نہیں کھائی اور نہ ہی کبھی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لیے آٹا چھان کر پکایا گیا۔([12])

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃُ اللہ علیہ اپنے مشہورِ زمانہ سلام میں حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سادہ غذا اور قناعت کا ذکر کچھ یوں فرماتے ہیں:

کل جہاں مِلک اور جَو کی روٹی غذا

اس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام([13])

جَو کی روٹی کے فوائد:

جَو میں جسمانی قوت کا بیش بہا خزانہ پوشیدہ ہے، جَو خون کے اندر کولیسٹرول کو کم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور جسم کو فربہ نہیں ہونے دیتا یعنی سمارٹ رکھتا ہے۔ جَو میں جسم کو توانائی دینے والے اجزا بکثرت پائے جاتے ہیں۔ جوڑوں کے درد میں فائدہ مند ہے، پیاس بجھاتا ہے۔

جَو کے دیگر فوائد:

جَو  بہت سے ضروری غذائی اجزاء کا ایک اچھا ذریعہ ہے، جو  اسے انتہائی غذائیت سے بھرپور غذا بناتا ہے۔

*یہ فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، جَو  ہاضمے میں مدد کرتا ہے اور قبض کے لئے مفید ہے۔

*جَو  کا کھانا آپ کے روزانہ غذائی ریشہ کی مقدار میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔

*جَو میں پائے جانے والے وٹامنز اور معدنیات مختلف جسمانی افعال کے لیے ضروری ہیں۔

*جَو ایک غذائیت سے بھرپور اناج ہے یہ پٹھوں کو مضبوط رکھنے اور بڑھانے میں مدد دیتا ہے اور مجموعی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

*دل کی صحت کو فروغ دیتا ہے۔

*جَو  کا استعمال کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے اس طرح دل کی بیماری کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

*جَو  وزن کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

*جَو  کا استعمال خون میں شکر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں بھی معاون ہے۔

*جَو  ہڈیوں کی پائیداری اور لچک کو بڑھاتا ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہئے کہ ہم حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی  اداؤں کو ادا کرنے کی نیت سے  کھانے میں جَو کی روٹی  کو بھی شامل کیا  کریں۔

کبھی جَو کی موٹی روٹی تو کبھی کھجور پانی

تِرا ایسا سادہ کھانا مدنی مدینے والے([14])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])دیکھیے:ترمذی، 4/160، حدیث: 2367- دیکھیے: بخاری، 3/531، حدیث:5410-ابن ماجہ، 4/42، حدیث: 3336

([2])طبقاتِ ابنِ سعد، 1/313

([3])ترمذی، 4/159، حدیث: 2364

([4])دیکھیے: سیرتِ مصطفیٰ، ص585، 586

([5])فیضانِ سنت، 1/646

([6])دیکھیے: ابوداؤد، 3/507، حدیث: 3830-مشکاۃ المصابیح، 2/98، حدیث:4223

([7])مراٰۃ المناجیح، 6/40

([8])دیکھیے:بخاری، 3/51، 52، حدیث: 4101، 4102

([9])بخاری، 2/17، حدیث:2092-3/537، حدیث:5436

([10])مسند امام احمد، 20/440، حدیث:13223

([11])حسن التنبہ لما ورد فی التشبہ، 3/37

([12])فیضانِ سنت، 1/369، 370

([13])حدائقِ بخشش، ص304

([14])وسائلِ بخشش(مرمم)، ص426


Share