بچوں کو قناعت سکھائیں

بچوں کو قناعت سکھائیں


قناعت ایک نہایت اعلیٰ اور خوبصورت صفت ہے جو انسان کی زندگی کو سکون اور خوشیوں  سے بھر دیتی ہے، یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر راضی رہنے اور شکر ادا کرنے کا نام ہے۔ موجودہ دور میں جہاں ہر طرف لالچ اور زیادہ   مال حاصل کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، وہاں قناعت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ قناعت انسان کو  حسد، حرص اور بےسکونی سے بچاتی ہے اور اسے ایک مطمئن اور پُرسکون زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے، اسی لیے اسلام میں قناعت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اور اسے کامیاب زندگی کا ایک اہم اصول قرار دیا گیا ہے۔ ذیل میں دئیے گئے نکات پر عمل کرکے والدین اپنے بچوں میں قناعت کا جذبہ پیدا کرسکتے ہیں۔

قناعت کیا ہے؟

بندےکو مال کی ضرورت ہو اور وہ مال کو پسند بھی کرتا ہو، لیکن وہ اس کے پیچھے بھاگ دوڑ نہ کرے۔اگر مال آسانی اور جائز ذرائع سے مل جائے تو خوشی سے لے لےلیکن اگر اس کے لیے زیادہ محنت یا بھاگ دوڑ کرنی پڑےجس سے امورِ آخرت کا نقصان ہو یا عبادت متأثر ہو تو وہ چھوڑ دے تو یہ قناعت ہے۔ ([1])

والدین کو ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ بچوں کو قناعت سکھانا صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ ان کی پوری زندگی کی بنیاد ہے۔ اگر بچپن میں ہی دل میں ”کم پر راضی رہنے“ کی عادت ڈال دی جائے تو یہی بچے بڑے ہو کر مطمئن، شکر گزار اور کامیاب  انسان بنتے ہیں۔

قناعت سکھانے کے طریقے:

(1)قناعت کے فضائل بتائیں:

والدین کو چاہیے کہ بچوں کو قناعت کی اہمیت اور فضائل بتائیں۔ بچوں کو بتائیں کہ اسلام ہمیں قناعت کی تعلیم دیتا ہے،نبیِ محترم، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: وہ بندہ کامیاب ہوگیا جو مسلمان ہوا اور ضرورت کے مطابق رِزق دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے دیئے ہوئے پر قَناعَت دی۔([2])

اسی طرح ایک حدیثِ پاک میں قناعت کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: قناعت کبھی ختم نہ ہونے والاخزانہ ہے ۔([3])

قناعت کی اہمیت  کے پیشِ نظر نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے رب سے دعا میں قناعت مانگی ۔حضرت اِبنِ عباس  رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم یہ دعا کیا کرتے تھے:اَللّٰھُمَّ قَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْتَنِیْ وَبَارِکْ لِیْ فِیْہِ وَاخْلُفْ عَلَیَّ کُلَّ غَائِبَۃٍ لِیْ بِخَیْرٍ، اے اللہ! جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس پر مجھے قناعت نصیب فرما اور اس میں میرے لیے برکت پیدا کر،اور میری وہ تمام چیزیں جو میری آنکھو ں سے اوجھل ہیں ان کی حفاظت فرما۔([4])

حضور نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے دُعا کی:اَللّٰھُمَّ اجۡعَلۡ رِزۡقَ اٰلِ مُحَمَّدٍ قُوۡتاً یعنی اے اللہ! محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کی آل کوصرف ضرورت کے مُطابق رِزق عطا فرما۔([5])

(2)عملی نمونہ بنیے:

بچے اپنے والدین کی عادات،طور طریقے اور رہن سہن سے سیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود قناعت پسند ہوں، غیر ضروری چیزوں کے پیچھے نہ بھاگیں اور سادگی اختیار کریں تو بچے بھی اسی راہ پر چلیں گے۔

(3)شکرگزاری کی عادت ڈالیے:

بچوں کو روزمرہ کی بڑی چھوٹی نعمتوں پربھی ”الحمدللہ“ کہنا سکھائیں۔ کھانا، رہائش، تعلیم یہاں تک کہ معمولی سی چیز ملنے پر بھی شکر ادا کرنے کی تربیت دیں ۔

(4)خواہشات کو قابو میں رکھنا سکھائیے:

ہر خواہش بغیر سوچے سمجھے فوراً پوری نہ کریں۔ بچے جب کسی چیز کے لیے ضد کریں، تو انہیں سمجھائیں کہ ہر چیز فوراً حاصل کرنا ضروری نہیں۔ کچھ چیزیں وقت یا کوشش سے ملتی ہیں۔

(5)بزرگوں کی سادگی کے واقعات سنائیے:

قصے، کہانیاں یا سادہ زندگی گزارنے والے عظیم لوگوں کی مثالیں بتائیں اور واقعات سنائیں۔

(6)دوسروں کی حالت دکھائیں:

غریب اور ضرورت مند لوگوں کے حالات سے بچوں کو آگاہ کریں تاکہ وہ اپنی نعمتوں کی قدر کریں اور دل میں قناعت پیدا ہو۔

بچوں کو بتائیں کہ

*قَناعت میں عزت ہے۔ قَناعت اختیار کرنے والا عزّت پاتا ہے  اور لالچی انسان ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔([6]) *قناعت انسان کو حرص اور لالچ جیسی اخلاقی کمزوریوں سے بچاتی ہے۔ * قناعت سے زندگی میں سکون آتا ہے، بے چینی دور ہوتی  ہے۔ * جو شخص قناعت اختیار کرتا ہے، وہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچ جاتا ہے اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ * قناعت کرنے والا شخص ہی اصل میں مال دار ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السّلام نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کی:اے اللہ! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ مالدار کون ہے؟ اللہ پاک نے اِرشاد فرمایا:وہ شخص جو میری دی ہوئی چیز پر سب سے زیادہ قناعت کرنے والا ہے۔([7]) *قناعت کرنے والا شخص کبھی ناشکرا نہیں بنتا *وہ دوسروں سے حسد نہیں کرتا* وہ زندگی میں سکون پاتا ہے*وہ اپنے رب پر بھروسا کرتا ہے*وہ  لوگوں سے امیدیں وابستہ نہیں کرتا۔

قناعت نہ ہونے کے نقصانات:

*قناعت نہ ہونا انسان کو لالچی اور بے چین بنا دیتا ہے۔ *وہ ہمیشہ دوسروں سے اپنی زندگی کا موازنہ کرتا رہتا ہے، اور جو کچھ مال و دولت یا نعمتیں  رکھتا ہے اسے کم سمجھتا ہے۔ *ایسے افراد میں حسد اور مقابلہ کی آگ بھڑکتی ہے جو تعلقات کو خراب اور دل کو ناپسندیدہ جذبات سے بھر دیتی ہے۔* مزید یہ کہ غیر ضروری خواہشات معاشی بوجھ، ذہنی تناؤ، اور خاندانی ناچاقیوں کا سبب بھی بنتی ہیں۔

اللہ پاک ہمیں اور ہمارے بچوں کو قناعت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])دیکھیے:احیاء العلوم، 4/563

([2])مسلم، ص406، حدیث: 2426

([3])الزہد الکبیرللبیہقی،ص88،حدیث:104

([4])المستدرک للحاکم، 2/189،حدیث:1921

([5])مسلم، ص406، حدیث:2427

([6])تفسیر روح البیان،1/161

([7])ابنِ عساکر،61/139، رقم:7741


Share