فلاح کی راہ میں حائل رکاوٹیں

فلاح کی راہ میں حائل رکاوٹیں


کتابِ عظیم قرآنِ کریم نے جیسے فلاح و کامیابی کاذریعہ و سبب بننے والے اعمال و نظریات کی جانب راہنمائی فرمائی ہے ایسے ہی ان اعمال اور عقائد وغیرہ کی بھی نشاندہی فرمائی ہے جو حقیقی فلاح و کامرانی یعنی اخروی نجات اور حصولِ  جنت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ قرآنِ کریم نے فلاح کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا مختلف انداز میں ذکر فرمایا ہے البتہ اس مضمون میں ان پہلوؤں کا ذکر کیا جاتاہے جن کے لیے قرآنِ کریم میں ”لَایُفْلِحُ“ اور اس کے دیگر مترادفات کاذکر ہوا ہے۔ ذیل میں ایسے اعمال ونظریات کا جائزہ لیا گیا ہے جو فلاح کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں:

ظلم (کفر)کرنا:

ظلم کے لغوی معنیٰ ہیں”وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَیْرِ مَوْضِعِہ“یعنی چیز کو وہاں رکھنا جو اس کی جگہ نہ ہو۔(التعریفات للجرجانی،ص 102) اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو جس چیز کا حقدار نہ ہو اسے وہ دینا یا جو جس چیز کا حقدار ہو اسے وہ نہ دینا ظلم ہوگا۔

قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر کفر  و  شرک کو ظلم اور   کرنے والوں کو ظالم قرار دیا گیا ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ یہ ظلم کرنے والے ظالم (لوگ)فلاح نہیں پائیں گے، چنانچہ سورۃ الانعام میں ہے:

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتیں جھٹلائے بےشک ظالم فلاح نہ پائیں گے۔(پ7، الانعام:21)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اسی طرح سورۃُ الْاَنْعام ہی کی آیت 135 میں کفار کو کھلی تنبیہ فرمائی گئی اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زبانی اعلان کروایا گیا کہ

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌۚ-فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ-مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۱۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان:تم فرماؤ اے میری قوم تم اپنی جگہ پر کام کیے جاؤ میں اپنا کام کرتا ہوں تو اب جاننا چاہتے ہو کس کا رہتا ہے آخرت کا گھر بے شک ظالم فلاح نہیں پاتے۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ظلم  کی ایک  شکل یہ ہے کہ انسان اللہ کے حقوق کو پہچاننے کے باوجود انہیں ادا نہ کرے۔ عصرِ حاضر میں ”روشن خیالی“ اور ”جدیدیت“ کے نام پر دین کو ذاتی معاملہ قرار دے کر زندگی کے اجتماعی دائروں سے نکال باہر کرنا دراصل ظلم  ہی ہے ۔ آج نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر یہ باور کرایا جاتا ہے کہ عقیدہ و ایمان ”پرانے زمانے کی چیز“ ہے، اور بعض نام نہاد دانشور اسلامی عقائد پر طعن و تشنیع کرتے ہوئے خود کو ”آزاد مفکر“ کہلواتے ہیں۔ یاد رہے کہ دنیا میں چاہے کتنی ہی شہرت، دولت اور عزت ملے، جو شخص اللہ کی توحید کو دل سے تسلیم نہ کرے اس کا انجام ہمیشہ کی ناکامی ہے۔

جرم(آیاتِ قرآنیہ کا انکار) کرنا:

فلاح کی راہ میں حائل ایک رکاوٹ قرآنی آیات کا انکار کرنا بھی ہے، قرآنِ کریم نے ایسا کرنے والوں کو مجرم قرار دیا ہے۔ جب رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کفارِ مکہ کے سامنے قرآنِ کریم کی آیتیں تلاوت فرمائیں تو وہ اس قرآن کے علاوہ کا مطالبہ کرنے لگے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے واضح فرمادیا کہ میں نہ تو قرآن بدلنے والا ہوں اور نہ ہی اپنے رب کی نافرمانی کرنے والا، لیکن وہ کمال ڈھٹائی کے ساتھ یہی کہتے رہے کہ اس کے سوا اور قرآن لے آئیے یا اسی کو بدل دیجئے، اللہ کریم نے فرمایا: اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتیں جھٹلائے بےشک مجرم فلاح نہ پائیں گے۔ چنانچہ سورۂ یونس میں ہے:

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍۙ-قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُؕ-قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْۚ-اِنْ اَتَّبِـعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّۚ-اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۱۵) قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ ﳲ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۱۶) فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ(۱۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے یا اسی کو بدل دیجئے تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے تم فرماؤ اگر اللہ چاہتا تو میں اسے تم پر نہ پڑھتا نہ وہ تم کو اس سے خبردار کرتا تو میں اس سے پہلے تم میں اپنی ایک عمر گزار چکا ہوں تو کیا تمہیں عقل نہیں تو اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ پر جھوٹ باندھے  یا اس کی آیتیں جھٹلائے بےشک مجرموں کا بھلا نہ ہوگا۔(پ11، یونس:15تا17)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

آیاتِ قرآنیہ کے انکار کی ایک خطرناک صورت یہ  ہے کہ بعض  منکرینِ دین و رسالت قرآنِ کریم کی من مانی تشریحات کرکے مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

قادیانی اور ان جیسے دیگر باطل گروہ ”خاتم النبیین“ جیسے واضح قرآنی لفظ کے معنی بدلنے کی جسارت کرتے ہیں تاکہ اپنے جھوٹے عقائد کو سہارا دے سکیں، حالانکہ چودہ سو سال سے امتِ مسلمہ کا اجماعی عقیدہ یہی ہے کہ حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔

 اسی طرح بعض لوگ نماز قائم کرنے کی تشریح کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں اور عملی نماز، رکوع، سجود اور جماعت کے اس عظیم نظام کا انکار کرتے ہیں جو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے لے کر آج تک پوری امت میں متواتر چلا آرہا ہے۔ یہ محض فکری غلطی نہیں بلکہ آیاتِ الٰہیہ کا انکار اور دین کو مسخ کرنے کی سنگین کوشش ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن کو صحابۂ کرام، ائمۂ دین اور اہلِ سنت کے فہم کے مطابق سمجھے، کیونکہ اپنی عقل اور خواہش کے مطابق قرآن کی تفسیر کرنا انسان کو گمراہی کے اندھیروں میں دھکیل دیتا ہے۔ آج سوشل میڈیا اور مختلف پلیٹ فارمز پر ایسے فتنے بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں، اس لیے عقائد کی حفاظت، علمائے حق سے وابستگی اور مستند دینی تعلیم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے پہلے سے زیادہ  ضروری ہوچکا ہے، ورنہ انسان دھوکے میں رہتے ہوئے ایمان کی دولت سے محروم بھی ہوسکتا ہے۔

اللہ پر جھوٹ باندھنا /شرک کرنا:

یہودیوں نے راہِ حق کو چھوڑ کرحضرت عزیر علیہ السّلام کو اور عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو معاذاللہ! اللہ کا بیٹا کہا جبکہ کفارِ مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے، قرآنِ کریم نے اس جسارتِ بد کو ذاتِ الٰہی پر افتراء اور اخروی فلاح نہ ملنے کا سبب کہا ہے۔ چنانچہ سورۂ یونس میں ہے:  

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗؕ-هُوَ الْغَنِیُّؕ-لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ-اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَاؕ-اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۸) قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان:بولے اللہ نے اپنے لیے اولاد بنائی پاکی اس کو وہی بے نیاز ہے اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں تمہارے پاس اس کی کوئی بھی سند نہیں کیا اللہ پر وہ بات بتاتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔ تم فرماؤ وہ جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔(پ11، یونس:68تا69)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ناشکری اور خیانت:

فلاح کی راہ میں حائل رکاوٹوں میں سے ایک اپنے محسن کی ناشکری اور اس کے ساتھ خیانت کرنا بھی ہے۔ اس کا تعلق اگر خالق کے ساتھ دیکھا جائے تو حقیقی احسان فرمانے والا اللہ کریم ہی ہے اور اللہ پاک کے کسی بھی حکم کی نافرمانی خیانت ہے جبکہ اگر اس کا تعلق مخلوق کے ساتھ ہو تو مفہوم یہ ہو گا کہ جس کسی نے تمہارے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کی ہو تو اس کےساتھ  یا اس کے مال و اہل کے ساتھ برائی نہ کرو، جو ایسا کرتا ہے وہ ظالم ہے۔ حضرت یوسف علیہ السّلام کو جب عزیزِ مصر کی بیوی نے برائی کی طرف بلایا تو آپ نے کیا ہی خوب صورت الفاظ کے ساتھ اپنے محسن کی احسان مندی کا اظہاراور اس کے اہل میں خیانت کرنے سے انکار فرمایا، اور اسے ظلم سے تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ ظالم فلاح نہیں پاتے، چنانچہ سورۂ  یوسف میں ہے:

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَؕ-قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۳)

ترجمۂ  کنزالعرفان: اور وہ جس عورت کے گھر میں تھے اُس نے اُنہیں اُن کے نفس کے خلاف پھسلانے کی کوشش کی اور سب دروازے بند کردئیے اور کہنے لگی: آؤ ، (یہ) تم ہی سے کہہ رہی ہوں۔ یوسف نے جواب دیا: (ایسے کام سے) اللہ کی پناہ۔ بیشک وہ مجھے خریدنے والا شخص میری پرورش کرنے والا ہے، اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے۔ بیشک زیادتی کرنے والے فلاح نہیں پاتے۔ (پ12،یوسف:23)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

احسان فراموشی آج کے معاشرے کا ایک بڑا المیہ بن چکی ہے۔ والدین کی قربانیاں بھلا دی جاتی ہیں، استاد کی عزت کم ہوگئی، دوستوں کے حقوق پامال ہونے لگے اور امانت و دیانت کو ”سادگی“ سمجھا جانے لگا۔ بعض لوگ معمولی فائدے کے لیے دوستوں، اداروں، حتیٰ کہ اپنے خاندان تک سے خیانت کرنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ ناشکری دل کی سختی اور برکت کے خاتمے کا سبب بنتی ہے۔ جو شخص اپنے محسن کا وفادار نہیں ہوتا وہ درحقیقت اللہ کی نعمتوں کی بھی قدر نہیں کرتا۔ آج گھروں میں بے سکونی، کاروبار میں بے برکتی اور تعلقات میں نفرت کی ایک بڑی وجہ یہی ہے کہ لوگ امانت، وفاداری اور احسان شناسی جیسی صفات سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ اگر انسان حضرت یوسف علیہ السّلام کے کردار سے سبق لے اور تنہائی، موقع اور خواہش کے باوجود خیانت سے بچ جائے تو یہی اس کے ایمان کی حقیقی علامت ہے۔ کامیاب وہی ہے جو ہر حال میں امانت و وفا کا دامن تھامے رکھے۔

مَن مرضی سے حلال و حرام ٹھہرانا:

اپنی مَن مرضی سے اللہ کی حلال و طیب نعمتوں کو حرام ٹھہراتے رہنا بھی فلاح و کامرانی کی راہ میں حائل ایک رکاوٹ ہے۔ کفارِ مکہ کی عادت تھی کہ کبھی بھی اپنی مرضی اور من گھڑت اصولوں پر کچھ جانوروں کو خواتین اور دیگر كے حق میں حرام قرار دیتے، قرآنِ کریم نے اس خودساختہ حلال و حرام کو اللہ کی ذات پر جھوٹ باندھنا قرار دیا اور حلت وحرمت کا واضح اصول اور قاعدہ عطا فرمادیا کہ

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ(۱۱۴) اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖۚ-فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۱۵) وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۱۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان:تو اللہ کی دی ہوئی روزی حلال پاکیزہ کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر کرو اگر تم اسے پوجتے ہو۔ تم پر تو یہی حرام کیا ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جس کے ذبح کرتے وقت غیر خدا کا نام پکارا گیا پھر جو لاچار ہو نہ خواہش کرتا اور نہ حد سے بڑھتا تو بےشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو بےشک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا۔(پ14، النحل:114تا116)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ماضی قریب میں بھی کچھ بدباطنوں نے آیتِ قرآنی کے اس حصہ” وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖۚ- “ سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اولیاء اللہ کے نام کی نیاز و فاتحہ وغیرہ اور ان کے ایصالِ ثواب کے لئے راہِ خدا میں قربان کیے گئے جانور بھی حرام ہیں۔ یہ بھی ظلمِ عظیم اور احکامِ ربی پر افترا ء ہے، قرآنی آیت بالکل واضح ہے کہ وہ جانور حرام ہے جس کو ذبح کرتے وقت اللہ کے علاوہ کوئی نام لیا جائے۔

پیغامِ حق پر اعتراض و انکار:

اللہ کریم کی طرف سے انبیائے کرام پیغامِ حق لے کر تشریف لائے تو کئی اقوام نے انہیں جھٹلایا اور پیغامِ حق کو معاذاللہ جادو وغیرہ بھی کہا۔ جلیل القدر نبی و رسول حضرت موسیٰ علیہ السّلام  کو بھی فرعون اور اس کی قوم نے ایسا ہی کہا تو آپ علیہ السّلام  نے فرمادیا کہ جادوگر فلاح نہیں پاتے جبکہ اللہ کی بارگاہ سے پیغامِ حق لے کر آنے والے  کا ہی انجام بہتر ہے، چنانچہ

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآىٕنَا الْاَوَّلِیْنَ(۳۶) وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِؕ-اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ(۳۷)

ترجمۂ کنزالایمان:پھر جب موسیٰ ان کے پاس ہماری روشن نشانیاں لایا بولے یہ تو نہیں مگر بناوٹ کا جادو اور ہم نے اپنے اگلے باپ داداؤں میں ایسا نہ سنا۔ اور موسیٰ نے فرمایا میرا رب خوب جانتا ہے جو اس کے پاس سے ہدایت لایا  اور جس کے لیے آخرت کا گھر ہوگا بےشک ظالم مراد کو نہیں پہنچتے۔(پ20، القصص:36تا37)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۂ یونس میں بھی  موسیٰ علیہ السّلام  کے فرمان سے  واضح ہے کہ جادوگر حق کے مقابلے میں کبھی فلاح نہیں پاسکتے اور اللہ کریم  کی طرف سے آیا ہوا پیغامِ حق  ہی کامیاب ہے:

قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْؕ-اَسِحْرٌ هٰذَاؕ-وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان:موسیٰ نے کہا: کیا حق کی نسبت ایسا کہتے ہو جب وہ تمہارے پاس آیا، کیا یہ جادو ہے؟ اور جادوگر مراد کو نہیں پہنچتے۔(پ11، یونس:77)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اسی طرح سورۂ  طہٰ میں بھی قرآنِ کریم نے فرمایا کہ جادوگر فلاح نہیں پاتے، چنانچہ

وَ اَلْقِ مَا فِیْ یَمِیْنِكَ تَلْقَفْ مَا صَنَعُوْاؕ-اِنَّمَا صَنَعُوْا كَیْدُ سٰحِرٍؕ-وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰى(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان:اور ڈال تو دے جوتیرے دہنے ہاتھ میں ہے وہ ان کی بناوٹوں کو نگل جائے گا وہ جو بناکر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے۔(پ16، طہٰ:69)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ قرآنِ کریم نے انسان کی حقیقی کامیابی اور دائمی فلاح کے راستے کو نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے اور ساتھ ہی اُن رکاوٹوں سے بھی خبردار کردیا ہے جو انسان کو ایمان، ہدایت اور آخرت کی کامیابی سے محروم کردیتی ہیں۔ آج کے پُرفتن دور میں جہاں باطل نظریات، الحاد، بے دینی اور دین سے دوری تیزی سے پھیل رہی ہے وہاں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامیں، اپنے عقائد و اعمال کی حفاظت کریں اور اپنی نسلوں کو بھی سچے اسلامی ماحول سے وابستہ رکھیں۔

اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ دورِ حاضر میں دعوتِ اسلامی کا دینی ماحول مسلمانوں کے لیے ہدایت و اصلاح کا عظیم ذریعہ بنا ہوا ہے ۔ دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماعات، ہفتے کے روز ہونے والا امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا مدنی مذاکرہ، دعوتِ اسلامی  کے زیرِ انتظام  مساجد میں نمازِ فجر کے بعد ہونے والے تفسیرِ قرآن کے حلقے، مدرسۃ المدینہ، جامعۃ المدینہ، نیکی کی دعوت اور دیگر دینی کام ایسے مبارک ذرائع ہیں جو مسلمانوں کو دین پر عمل کرنا سکھاتے، گناہوں سے بچاتے اور نئی نسل کو عملی اسلام سے جوڑتے ہیں۔ جو شخص دینی ماحول اختیار کرلے، نیک لوگوں کی صحبت اپنالے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے فلاح و کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی دین سے وابستہ رہیں اور اپنے گھر والوں اور آنے والی نسلوں کو بھی ایسے پاکیزہ دینی ماحول سے وابستہ رکھیں تاکہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی نصیب ہو۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share