خلیفۂ اعلیٰ حضرت مولانا مفتی قاضی محمدنورقادری رحمۃُ اللہ علیہ
محرّمُ الحرام 1331ھ کی ایک مبارک شب تھی، ایک صالح جوان، صاحبِ بصیرت عالمِ دین مدینہ شریف میں محوِاِستراحَت (یعنی سورہے) تھے، خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور حضراتِ شیخینِ کریمین یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہما جلوہ فرما ہیں، تھوڑی دیر بعد حضراتِ شیخین تشریف لے گئے، یہ تنہا نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس رہ گئے، آگے بڑھ کر نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا مبارک ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھتے ہوئے چلنے لگے اور عقائد سے متعلق یکے بعد دیگرے تین سوالات عرض کیے، نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کے ہر سوال کا جواب عطا فرما کر آخر میں یہ ارشاد فرمایا کہ ”جو احمد رضا خاں کہتے ہیں وہ حق وصِدق (سچ) ہے۔“ یہ خواب دیکھنے والے اعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان رحمۃُ اللہ علیہ سے اتنا متأثر ہوئے کہ مدینہ شریف میں ہی نیت کرلی کہ میں اعلیٰ حضرت کے پاس بریلی شریف ضرور جاؤں گا اور آپ کی زیارت کروں گا۔([1]) پھر جب آپ ہند آئے تو اعلیٰ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے، شرفِ تلمذ حاصل کرکے اجازتِ حدیث اورسلسلۂ قادریہ رضویہ میں خلافت سے سرفراز ہوئے۔([2]) یہ عظیم ہستی ضلع چکوال (پنجاب، پاکستان) کے گاؤں اوڈھروال اور چکوڑہ کے علّامہ قاضی محمد نور قادری صاحب ہیں۔ جن کا مختصرتذکرہ آنے والی سطور میں ملاحظہ کیجئے:
ولادت:
خلیفۂ اعلیٰ حضرت، عالمِ رَبَّانی حضرت مولانا قاضی ابوالفخر محمد نور قادری سُنی حنفی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 13 رجب 1307ھ مطابق 5مارچ1890ء موضع اوڈھروال (ضلع چکوال، پنجاب پاکستان) کے ایک علمی، کہوٹ قریشی گھرانے میں ہوئی۔ والدِ گرامی حضرت مولانا قاضی عالم نور قریشی اور دادا حافظ محمد سردار احمد قریشی رحمۃُ اللہ علیہما تھے۔ آپ کی ذاتی ڈائری میں تحریر کردہ خاندانی شجرے کے مطابق آپ کا سلسلۂ نسب نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے چچاجان حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔([3])
علمی خاندان کےچشم وچراغ:
آپ کاخاندان کئی پشتوں سے علم و فضل کا گہوارہ ہے، آپ کےداداجان حضرت علّامہ حافظ محمد سردار احمد قریشی صاحب، بحرُالعلوم حافظ محمدعظیم پشاوری رحمۃُ اللہ علیہ کے شاگرد، جیّدعالمِ دین، محقق و مدقّق اور استاذُ العلماء تھے۔ شیخِ طریقت خواجہ حافظ غلام نبی للہی، عالمِ شہیر مولانا حافظ عبدُالحلیم کریالوی اور علّامہ محمد نور صاحب کے والد مولانا عالم نور قریشی رحمۃُ اللہ علیہم آپ کےہی شاگرد ہیں۔
تعلیم و تربیت:
کمزور بینائی کے باوجود آپ کو حصولِ علم کا بہت شوق تھا، والدِگرامی حضرت مولانا قاضی عالم نور صاحب سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے علاقے کے جید علما سے استفادہ کیا۔ اترپردیش ہند بھی تشریف لے گئے، شاہجہانپور اور دیگر شہروں میں علمِ دین حاصل کیا، آپ بہت ذہین و فطین تھے۔ دیگر عُلوم کے ساتھ ساتھ عربی زبان پر کامل دسترس رکھتے تھے اور اپنے زمانے کے علمائے کرام سے عربی زبان میں مراسلت کیا کرتے تھے۔([4])
بغدادشریف کا سفر:
شوقِ علم دین اور لقائے علما و مشائخ آپ کے بغداد شریف کے سفر کا باعث ہوا، وہاں حاضر ہوئے، اکابر علما و مشائخ سے استفادہ کیا اور اسناد حاصل کیں۔([5]) تخمیناً یہ سفر 1328ھ یا 1329ھ کو ہوا۔
حرمین شریفین میں حاضری:
شوالُ المکرّم 1329ھ مطابق اکتوبر 1911ء کو حج کی سعادت سے بہرہ ور ہوئے۔ قطبِ مکۂ مکرمہ، شیخُ الدلائل حضرت مولانا شاہ عبدُ الحق صدیقی محدثِ الٰہ آبادی نقشبندی حنفی مہاجر مکی رحمۃُ اللہ علیہ سے جملہ علوم اور اَورَاد و وَ ظائف کی اجازت حاصل کی۔ اس کے بعد تین سال مدینۂ منوّرہ میں مقیم رہے اور عُلمائے مدینہ سے خوب استفادہ کیا۔([6]) یہاں آپ ”صوفی“ کے لقب سے معروف تھے۔آپ نے1330ھ کو مدینہ شریف میں حضرت مولانا سیّد احمد علی رامپوری اور حضرت مولانا کریمُ اللہ پنجابی رحمۃُ اللہ علیہما سے ملاقاتیں کیں، انہوں نے آپ کی دعوت بھی کی، ان حضرات نے انہیں اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّۃ کے بعض مضامین سنائے، جسے سُن کر آپ خوش ہوئے، مولانا کریمُ اللہ صاحب نے انہیں تقریظ لکھنے کا کہا، آپ نے فرمایا کہ میں وطن لوٹ رہا ہوں وہاں جاکر اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ سے ملاقات بھی کروں گا اور اچھے انداز سے تقریظ بھی لکھوں گا۔([7]) علّامہ احمدعلی صاحب نے علامہ شیخ یوسف نبہانی رحمۃُ اللہ علیہکی کتاب ”جواہرُ البحار“ اپنے دستخط کے ساتھ آپ کو عطا فرمائی۔([8])
حرمین شریفین سے واپسی:
ذُوالقعدۃِ الحرام 1331ھ مطابق اکتوبر 1913ء میں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بذریعہ خواب آپ کو حج کرنے اور اپنے اہل وعیال کی طرف لوٹنے کا حکم فرمایا۔ چنانچہ حج سے پہلے آپ نے مدینہ شریف کو الوداع کہتے ہوئے ایک درد بھرا فِراقیہ قصیدہ لکھا جوآپ کی ڈائری میں موجودہے۔وطن واپس آکر آپ کی مولاناکریمُ اللہ صاحب سےمراسلت جاری رہی مگر اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّۃ پر تقریظ لکھ سکے یا نہیں اس کی صراحت نہیں مل سکی۔ البتہ اس موضوع پر ایک مستقل کتاب النّیرُ الوضی فِی علمِ النَّبی تحریر فرمائی۔([9])
بیعت و اجازت:
ابتدائی عمر میں سلسلۂ چشتیہ کے شیخِ طریقت سیّد صاحب کی صحبت یا بیعت کا شرف پایا۔([10]) آپ کو آستانۂ عالیہ قادریہ گیلانیہ بغداد شریف کے سجادہ نشین حضرت شیخ سیّد علی قادری گیلانی سے بھی سندِ اجازت حاصل تھی۔حرمینِ طیبین سے واپسی پر بریلی شریف حاضر ہوئے اوراعلیٰ حضرت امام احمدرضا خان قادری رحمۃُ اللہ علیہ سے شرفِ تلمذ حاصل کرکے اجازتِ حدیث اور سلسلۂ قادریہ رضویہ میں خلافت سے سرفراز ہوئے۔([11]) اعلیٰ حضرت نے آپ کو جو اَلْاِجَازَاتُ الْمَتِيْنَۃُ لِعُلَمَاءِ بَكَّة وَ الْمَدِينَة کا نسخہ اپنے دستخط کے ساتھ عطا فرمایا وہ ان کے ورثا کے پاس محفوظ ہے۔
اس پر علّامہ محمد نور قادری صاحب کی عربی تحریر ہے جس کا ترجمہ یوں ہے:”یعنی فقیر(اللہ پاک اس سے راضی ہو) کہتا ہے کہ ہمارے سردار اور شیخ، دلائلِ قاہرہ دینے والے، پاکیزہ دین کے مددگار، لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی کتابوں کے مصنف، اہلِ سنّت و جماعت کے عالم، اہلِ علم و معرفت میں ممتاز، مفسّر،محدث، فقیہ، حافظ، حاجی احمد رضا خان بریلوی، نیکیوں کا حکم فرمانے والے اور برائیوں سے روکنے والے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سچے عاشق، اللہ پاک انہیں سلامت رکھے۔ انہوں نے اپنی اس کتاب ”اَلْاِجَازَاتُ الْمَتِيْنَۃُ“ میں مجھے پہلی اجازت ان مقامات پر ان الفاظ سے دی: صفحہ 12: ”بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم“ سے صفحہ 13: ”وھو یرید العدوان من بعد“ تک۔ اس کے بعد صفحہ 17 پر ان کے اس قول: ”یا مولانا الفاضل الحسن الشمائل“ سے ان کی آخری اجازت تک، اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِین صفحہ 23 تک۔ بیشک (اَلْاِجَازَاتُ الْمَتِيْنَہ میں) جو مجھے اجازتیں ملی ہیں اور مولانا شیخ عارف محمد عبد الحق مکی وغیرہ مشائخ کرام رحمۃُ اللہ علیہم نے جو اجازتیں دی ہیں ان سب کی ان شرائط پر جو اس کے مقام پر مذکور ہیں، اپنی اولاد اور قریبی لوگوں میں سے اہل افراد کو اجازت دیتا ہوں، اے اللہ! تو ہم سے اس کو قبول فرما بیشک تو ہی سب سے بہتر سننے اور جاننے والا ہے اور اللہ پاک دُرود و سلام نازِل فرمائے ہمارے آقا محمد صلَّی اللہ علیہ وسلَّم اور آپ کی عزت والی آل پر۔ اپنے پروردگار کے محتاج اوڈھروال ضلع جہلم کے رہائشی محمد نور سنی حنفی قادری نے 23 رجب 1332ھ ہجری کو اسے اپنے قلم سے لکھا ہے، اللہ پاک نیکیوں کا حکم فرمانے والے اور برائیوں سے روکنے والے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے صدقے اس سے راضی ہو۔“
اس سے معلوم ہوتاہے کہ آپ کو یہ اجازت ذُوالقعدۃِ الحرام1331ھ مطابق اکتوبر 1913ء کے بعد 23رجب 1332ھ مطابق 17جون 1914ء سے پہلےحاصل ہوئی۔
علمی مقام اورعلماسےروابط:
آپ عالمِ جلیل، مفتیِ اسلام، صوفیِ باصفا، شاعراورمصنف تھے۔ عربی،اردواورپنجابی میں نظم ونثرمیں کامل دسترس تھی، آپ کےکئی فتاویٰ اس وقت کےمشہور ہفت روزہ سراجُ الاخبار میں شائع ہوئے۔([12])علمائے اہلِ سنّت سے عربی میں مراسلت بھی فرماتے تھے۔ جن عُلما سے آپ کا رابطہ تھا ان میں سے حضرت قبلہ عالم پیر مہر علی شاہ گولڑوی، امیرِ ملت حضرت پیر سیّد جماعت علی شاہ محدث علی پوری،صدرُ الافاضل علامہ نعیمُ الدّین مراد آبادی اور حضرت علامہ فیضُ الحسن فیض رحمۃُ اللہ علیہم وغیرہ شامل ہیں۔([13]) اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃُ اللہ علیہ کی جو كتاب شائع ہوتی وہ بریلی شریف سے آپ کو بھیج دی جاتی تھی۔([14])
خدماتِ دین،تصنیف وتالیف:
آپ نے اپنی زندگی کو علمِ دین کے حصول اوراس کی اشاعت کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ آپ نے عربی، اردو اور پنجابی میں نظم و نثر پر مشتمل 15 کتب تصنیف کیں، جن میں 10 کے نام یہ ہیں:
(1)دفع الجہال عن تکرار الجماعة(عربی/اردو) (2)ردّ الشہاب علی المفتری الکذاب (اردو) (3)مجموعۃ المورد الروی فی المولد النبی(پنجابی منظوم) (4)المراة الحلیہ للحلیة النبویة (پنجابی، منظوم) (5)سلوک اکمل السبیل یا التوجہ الی افضل الرسول (پنجابی، منظوم) (6)احسن النغم فی مدح الغوث الاعظم (پنجابی منظوم) (7)الخزی المزید (اردو، مطبوعہ) (8)التوضیحات لمافی اشعة اللمعات (عربی) (9)النیر الوضی فی علم النبی(عربی مسودہ)۔([15])
شادی واولاد:
آپ کی شادی موضع چکوڑہ(ضلع چکوال) کے ایک علمی خاندان میں ہوئی۔اس کے بعدآپ مستقل چکوڑہ میں رہائش پذیر ہوگئے۔ آپ کے بیٹے حضرت مولانا قاضی حکیم احمدچکوڑوی طب وحکمت میں مشہور اور آپ کے علمی جانشین تھے۔اسی طرح آپ کے خاندان کے مولانا حکیم محمدفاروق صاحب بہترین حکیم اورجامع مسجدچکوڑہ کے امام ہیں۔
وفات و مدفن:
1914ء کے آخراور1915ء کےشروع میں چکوال میں طاعون کی بیماری پھیل گئی، گھرکےگھرویران ہوگئے، آپ کا وصال اسی طاعون کی بیماری میں صفرُالمظفریاربیعُ الاول 1333ھ مطابق جنوری 1915ء([16]) کو کلمہ شہادت پڑھتےہوئے ہوگیا، آپ کے خاندان کی چھ عورتیں بھی اسی دن فوت ہوئیں، سب کا جنازہ اکٹھا ہوا۔ آپ کو قبرستان میاں صاحب بابا عبدالشکور (رحمۃُ اللہ علیہ)موضع اوڈھروال([17]) میں دفن کیا گیا جہاں آج بھی آپ کا مزار موجود ہے۔
علّامہ محمدنورقادری صاحب کے مزارپرحاضری کے احوال:
راقم کچھ سالوں سے خلفا وتلامذہ اعلیٰ حضرت کی معلومات،ان کے وابستگان سے ملاقات اوران کے مزارات کی زیارات میں مصروف ہے، حضرت علّامہ مفتی قاضی محمدنورقادری صاحب کےبارے میں سب سےزیادہ معلومات مصنفِ کتب کثیرہ ومنتظمِ اعلیٰ بہاءُ الدّین زکریا لائبریری چکوال پیرزادہ عابدحسین شاہ صاحب([18]) سے حاصل ہوئیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)و نگران مجلس ماہنامہ فیضان مدینہ، کراچی
Comments