اعمال میں اعتدال اپنائیے

اعمال میں اعتدال اپنائیے

زندگی جتنی معتدل (Balanced) ہواُتنی خوشگوار ہوتی ہے اسی لیے اسلام نےزندگی کےہر معاملے میں توازن و اعتدال اپنانے کا حکم دیا ہے چنانچہ اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا، وَكَانَ اَحَبَّ الدِّينِ اِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهٗ ترجمہ: تم پر اتناہی عمل ہے جتنے کی تمہیں طاقت ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ پاک (اعمال کا ثواب عطا کرنے سے)نہیں رکتا، یہاں تک کہ تم عمل کرتے کرتے اُکتا جاؤ اور اللہ پاک کے نزدیک پسندیدہ عمل وہی ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی اختیار کرے۔ ([1])

حدیث کا پس منظر:

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سےحضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ایک موقع پر ایک صحابیہ حضرت حولاء بنت تُوَیْت رضی اللہ عنہا کاذکر کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ رات بھر نہیں سوتیں۔تو (ایک روایت کے مطابق) رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اتنا عمل کیا کرو جتنا آسانی سے کر سکو، بخدا ! اللہ پاک ثواب عطا فرمانے سے نہیں رُکتا لیکن تم اُکتا جاؤ گے۔([2])

 مرادِ حدیث:

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےاپنی امّت پر شفقت و نرمی فرماتے ہوئے وہ کام کر نے کا فرمایاجسے ہمیشہ کیا جاسکے،نفس تازگی ونشاط محسوس کرے،دل کشادگی محسوس کرے،اِس طرح عبادت میں مستقل حاضری اور اُس کی لذّت پاناآسان ہوجاتا ہے۔([3])

امام کورانی شافعی علیہ الرَّحمہ اس حدیثِ مبارکہ کی وضاحت میں لکھتے ہیں:كسی بھی عمل کو حد سے زیادہ کرنا اکتاہٹ کا باعث بنتا ہے اور جو عمل اُکتاہٹ کے ساتھ کیا جائے اس پر ثواب نہیں ملتا۔([4])لہٰذا نفلی عبادات میں مناسب مقدار اور اپنی طاقت وقوت کا لحاظ رکھناضروری ہے تاکہ دورانِ عبادت طبیعت میں نشاط برقرار رہے، دل بھی نہ اکتائے اور اُس عبادت کی ادائیگی کا تسلسل بھی نہ ٹوٹنے پائے۔

تربیتِ نبوی کاانداز:

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےبعض صحابہ ٔکرام علیہمُ الرّضوان کو بعض اوقات بعض عبادات میں بہت زیادہ کثرت سے منع کیا اور بعض کو اِس کی اجازت و ترغیب دی ،در اصل بات یہ ہے کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جس فرد / شخص میں یہ بات ملاحظہ کی کہ ان کے لیے اس پر ہمیشہ عمل کرنا دشوار ہو گا اور یہ تکلیف میں پڑ جائیں گے تو ان کو منع فرمایا اور جن کے بارے میں اطمینان تھا کہ یہ کثرتِ عبادت کی طاقت بھی رکھتے ہیں اور ہمیشہ کرنے سے کسی دشواری میں نہیں پڑیں گے نہ دوسروں کے حقوق اس وجہ سے تلف ہوں گے تو اُن کو اجازت مرحمت فرمائی۔ اولیائےکرام اِس تربیتِ نبوی کو پیشِ نظر رکھ کرعبادت کرتے ہیں اور اسی کی روشنی میں اپنے مریدین کی تربیت کرتے ہیں۔

اعتدال اپنانے کے چاراصول:

وہ کشتی منزل پر پہنچتی ہے جو اپنا بیلنس برقرار رکھتے ہوئے منزل کی طرف بڑھتی رہے، زندگی کی کشتی کا بھی یہی حال ہے،اِسےآگے بڑھنے کے لیے بیلنس اور اعتدال کی ضرورت پڑتی ہے،اپنے اندر اعتدال پیدا کرنے کے لیے ان نکات (Points) پر عمل کیجیے :

(1)کسی بھی کام سے پہلےخود کو چانچ لیجیے:

” نیت“ وہ آلہ (Tool) ہےجس کی مدد سے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ ہم یہ کام کیوں کررہے ہیں؟لہٰذا اسلام نے نیت کی درستی کی بہت زیادہ اہمیت بیان کی ہے۔ نیت کے ذریعے آپ خود سے پوچھ سکتے ہیں کہ میرا یہ عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے ہے یا اِس سے دِکھاوا مقصود ہے؟میرا ایسا کرنامفید ہوگا یا نقصان دہ؟وغیرہ وغیرہ۔کام چھوٹا ہو یا بڑا؛ اُس میں اعتدال قائم رکھنے کے لیےنیت کی درستی بہت ضروری ہے ۔

(2)منظم زندگی گزارنے کی عادت بنالیجیے:

اگر ہم اپنے روز مرہ کے معمولات کا جائزہ لیں تو ہماری پریشانیوں کی بنیادی وجہ زندگی میں بے ترتیبی قرار پائے گی،در اصل یہ بے ترتیبی سستی و کاہلی،لاپر واہی  اورٹال مٹول کی عادت کا نتیجہ ہوا کرتی ہے یوں صبح کا کا م شام تک ٹا ل کر یا شام کا کام صبح پر مؤخر کرکے ہم اپنی زندگی بےترتیب کردیتے ہیں اور یہ غیر منظم زندگی دنیا و آخرت میں عظیم خسارے کا سبب بن جاتی ہے۔

اگر آپ اپنی دنیا و آخرت کی بہتری کی خاطر اعتدال اختیار کرنا چاہتے ہیں تو اپنے روز مرہ کے معمولات کو منظم کیجیے۔ زندگی منظم گزررہی ہے یانہیں؟ اِس بات کا جائزہ لینے کے لیے دعوتِ اسلامی” نیک اعمال“نامی رسالہ شائع کرتی ہے اور Neik Amaal نام سے موبائل ایپلیکیشن بھی موجود ہے جس کی مدد سے اپنی ڈیلی روٹین کاجائزہ لے کرغیر منظم زندگی کو منظم کرسکتے ہیں، جو کچھ آپ کو معلوم ہے اُسے معمول بناسکتے ہیں،جن باتوں کا معلوم ہونا ضروری ہے اُس کاعلم حاصل کرسکتے ہیں اورروزانہ، ماہانہ اور سالانہ کے اعتبار سے اپنی سانسوں کااحتساب کرسکتے ہیں۔میرا مشورہ ہے کہ آپ روزانہ نیک اعمال کا رسالہ پُر کرکے ہر ماہ کے ابتدائی دس دن میں اپنے یہاں کے ذمہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنالیجیے، کچھ عرصے میں آپ خود محسوس کریں گے کہ نیک اعمال پر عمل کی برکت سے آپ کی زندگی خود بخودمنظم ہونے کےسبب بہت زیادہ پرسکون گزررہی ہے۔

(3)وقت کی قدر کو سمجھیے :

کہیں آنے جانے ،گفتگو کرنے یا ملاقاتوں اور دعوتوں وغیرہ میں وقت کی ناقدری کرکے اعتدال سے ہٹنے کے نظارے عام ہیں لہٰذ ا جو لوگ وقت کی قدر نہیں کرتے ان کی زندگی بہت ہی غیر متوازن ہوجاتی ہے ، بلکہ بعض اوقات سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے ضائع کیا جانے والا وقت بہت بڑے مالی و جانی نقصان کا سبب بن جاتا ہے لہٰذا وقت کی قدر کرتے ہوئے خود کو وقت کا پابند بنائیے، اس کی برکت سے آپ کی زندگی میں کافی آسانیا ں پیدا ہوجائیں گی اور حفاظتِ وقت کے معاملے میں احتیاط اخروی اعتبار سے بھی آپ کے لیے مفید ترین ثابت ہو گی۔

(4)صر ف نیک لوگوں کی صحبت اختیارکیجیے :

بےاعتدالی اور بے راہ روی کی جانب لے جانے میں سب سے زیادہ بری صحبت کا کردار ہوتا ہے، بعض اوقات مروّت میں کثیر مال خرچ کرکے بندہ محتاج بن جاتا ہے اور کبھی طرح طرح کے گناہوں میں گرفتار ہوجاتا ہے،نیکوں کی صحبت اختیار کرنے سے جہاں صبر و شکر ،زہد و قناعت جیسے اوصاف پیدا ہوتے ہیں وہیں بری صحبت اخلاق و کردار میں بگاڑ کا سبب بن جاتی ہے، اسی طرح میانہ روی پر ثابت قدم رکھنے میں بھی نیک صحبت کا بہت اہم کردار ہے لہٰذا اپنے معمولات میں میانہ روی پیدا کرنے کے لیے اچھی صحبت اختیار کیجیے ۔

اللہ کریم ہمیں اعتدال کی نعمت عطافرماکر اپنی رضا والے کام ذوق شوق کے ساتھ کرنے کی توفیق عطافرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث، حدیث ریسرچ سینٹر کراچی



([1])بخاری،1/28،حدیث:43

([2])مسلم،ص308، حدیث:1833

([3])التلخیص للنووی،1/696

([4])الكوثر الجاری،1/109


Share