کالی بلی

کالی بلی


سر بلال باری باری بچوں سے گزشتہ سبق سن رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر آخری قطار میں بیٹھے دو بچوں پر پڑی جو باتوں میں مصروف تھے۔ بظاہر وہ سر جھکائے سامنے کھلی کتابوں کی طرف متوجہ نظر آ رہے تھے،  مگر سر بلال فوراً بھانپ گئے کہ وہ کتاب پڑھنے کے بجائے ایک دوسرے سے سرگوشیاں کر رہے ہیں۔

سر نے پوچھا: ارے بھئی! آپ دونوں کی کون سی خفیہ میٹنگ چل رہی ہے جو سبق سے بھی زیادہ اہم ہے؟

دونوں بچے جلدی سے کھڑے ہو گئے اور ان میں سے ایک بچہ دوسرے کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا: سر اصل میں حمزہ مجھے بتا رہا تھا کہ اس کی بائیں آنکھ صبح سے پھڑک رہی ہے، لگتا ہے کوئی مصیبت آنے والی ہے۔

یہ سنتے ہی چند بچوں کی ہنسی چھوٹ گئی تھی لیکن سر کی تنبیہی نظر دیکھتے ہی سب سنجیدہ ہوگئے۔ بچو آپ میں سے اور کس کس کو یہ بات پتا ہے؟

علی: جی سر! میری دادی بھی یہی کہتی ہیں۔

سر یہ تو نہیں پتا تھا، البتہ ہماری دادی خالی قینچی چلانے سے سختی سے منع کرتی ہیں کہ اس سے گھر میں لڑائیاں ہوتی ہیں، نعمان نے کہا۔

نعمان کی بات سُن کر پورا کلاس روم مختلف باتوں سے گونج اٹھا: شیشہ ٹوٹ جائے تو مصیبت آتی ہے، کالی بلی کے راستے کاٹنے سے بھی پریشانی آتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ

سر بلال نے مسکراتے ہوئے ہاتھ اٹھایا: اچھا تو بچوآج کا سبق خود بخود شروع ہوگیا ہے۔ پھر وہ کرسی پر بیٹھنے کے بجائے بچوں کے درمیان آگئے اور کہنے لگے:

بچو! سب سے پہلے ایک بات یاد رکھیں کہ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ پر یقین اور بھروسا رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی عقل کا بھی استعمال کریں، خالی ڈر اور وہم میں نہ جیتے رہیں۔ پھر سربلال نے بورڈ پر بڑے لفظوں میں لکھا:

بدشگونی = بے بنیاد خوف

پھر بولے: اسلام سے پہلے جب ہر طرف جہالت کا ڈیرہ تھا تب لوگ پرندوں کی آواز، کسی جگہ یا کسی دن کو منحوس سمجھتے تھے، اگر سفر پر جاتے ہوئے کوئی پرندہ الٹی سمت اڑ جاتا تو بدشگونی سمجھتے ہوئے فوراً سفر منسوخ کردیتے۔ لیکن جب اسلام کی روشنی پھیلی تو نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعلیمات کی برکت سے لوگوں کو پتا چل گیا کہ یہ سب ذہنی خوف ہے، ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے واضح فرمادیا کہ بدشگونی کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

(بخاری ، 4/24،حدیث:5707)

اسید رضا نے ہاتھ کھڑا کیا: لیکن سر، پھر لوگ یہ سب ابھی تک مانتے کیوں ہیں؟

سر بلال مسکراتے ہوئے بولے: اس کی وجہ انسانوں کی وہمی طبیعت(Delusion)، ہمارے معاشرے کا اسلامی تعلیمات سے دور ہونا اور اللہ پر یقین کمزور ہونا ہے، اسی لیے انسان ہر اتفاق کو کسی وہم سے جوڑدیتے ہیں۔

اتنے میں پیچھے سے ایک آواز آئی: لیکن سر اگر صبح اسکول آتے ہوئے کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو؟

سر ہنس پڑے:تو بیٹا بلی اپنے راستے جائے گی اور آپ اپنے راستے، بلی کا بہانہ بنا کر اسکول سے چھٹی نہ کر لینا، ساری کلاس دوبارہ ہنسنے لگی۔

پھر سر سنجیدگی سے کہنے لگے: بچو! مسلمان کا عقیدہ تو بہت مضبوط ہوتا ہے۔ ہم تو یہ ماننے والے ہیں کہ نفع اور نقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے تو پھر کوئی آنکھ، کوئی آواز، کوئی دن، کوئی پرندہ یا کوئی بلی ہماری قسمت کیسے خراب کر سکتی ہے۔

معاویہ نے پوچھا: لیکن سر کبھی کبھار ہر طرف سے ایسی باتیں سُن کر دل میں ڈر آ ہی جاتا ہے تو ایسے میں ہم کیا کریں۔

سر بلال: بہت اچھا سوال ہے۔ اگر بدشگونی سے متعلق کوئی برا خیال آئے تو اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھنا چاہیے اور اس کے ساتھ ایک دعا پڑھ لینی چاہیے:

اَللّٰهُمَّ لَا خَيْرَ اِلَّا خَيْرُكَ، وَلَا طَيْرَ اِلَّا طَيْرُكَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ

(مسند احمد،11/623،حدیث:7045)

بچوں کو دعا یاد کرواتے کرواتے سر بلال حمزہ کے پاس پہنچ چکے تھے اور شفقت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا: تو حمزہ بیٹا آئندہ اگر تمہاری آنکھ پھڑک رہی ہو تو آرام کرو، پانی پیو، نیند پوری کرو… لیکن یہ مت سوچو کہ کوئی مصیبت آنے والی ہے۔ مسلمان امید والا انسان ہوتا ہے، بلاوجہ ڈرجانے والا نہیں۔

پھر سر بلال نے جاتے جاتے کہا: اور ہاں آپ سب بچوں نے آج گھر جا کر اپنے بڑوں سے ادب سے بات کرنی اور پیار سے انہیں بتانا ہے کہ اسلام ہمیں یقین اور توکل سکھاتا ہے نہ کہ ڈر اور وہم۔

پوری کلاس ایک آواز میں بولی: جی سر!

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* مدرس جامعۃُ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی


Share