میلاد


میلاد


گرمیوں کا موسم بس اختتام کے قریب تھا تبھی کلاس روم میں زیادہ گرمی نہیں تھی بلکہ پنکھوں کی ہوا بہت بھلی لگ رہی تھی۔ بچے کافی خوش اور جوش سے بھرے نظر آ رہے تھے کیونکہ آج  اسکول میں میلاد النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سلسلے میں ”بزمِ میلاد“ نامی پروگرام ہونا تھا اور پرنسپل صاحب نے پہلے ہی بچوں کو بتا دیا تھا کہ جمعہ کے دن پہلے لیکچر کے بعد یہ پروگرام ہوگا جس میں شہر سے ایک بڑے عالم صاحب بیان (Speech) کے لیے بھی تشریف لا رہے تھے۔

جیسے ہی پہلے لیکچر کی گھنٹی بجی سر بلال کلاس روم میں داخل ہو چکے تھے، کچھ بچے تو اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ باتوں میں مگن تھے جب کہ دو بچے زور زور سے گفتگو کر رہے تھے ، سر بلال کو دیکھ کر سبھی بچے خاموش ہو گئے ، ابتدائی سلام  اور حال احوال پوچھنے کے بعد سر بلال نے ان دونوں بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا:  کیوں بچو! کس مسئلے پر زور و شور سے بحث جاری تھی؟

ان میں سے ایک بچے کا نام حمزہ تھا وہ جلدی سے کہنے لگا: سر! عمر بھائی پوچھ رہے تھے کہ میلادکیسے منانا چاہیے؟

سر بلال مسکرائے: جی عمر بیٹا  بہت اچھا سوال ہے آپ کا، چلیں پھر آج ہم اس موضوع پر بھی گفتگو کر لیتے ہیں،  پھر سربلال نے وائٹ بورڈ پر سب سے اوپر لکھ دیا:

میلاد کا معنیٰ و مفہوم:

بچو! میلاد کا مطلب ہے ولادت یعنی پیدائش کا ذکر تو جب ہم میلاد النبی  کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ولادت مبارکہ کا ذکر کرنا۔ اس ذکر کے مختلف انداز ہو سکتے ہیں۔

پھر سر نے وائٹ بورڈ کے درمیان میں ایک لائن کھینچ کر اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور دائیں بائیں  لکھ دیا:

میلاد کیسے منانا چاہیے؟

میلاد کیسے نہیں منانا چاہیے؟

اور بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے بات دوبارہ شروع کی: بچو! یقیناً میلاد النبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم منانا بڑی عظیم نیکی ہے لیکن بقیہ نیکیوں کی طرح ہمیں اس نیکی کو بھی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں منانا چاہیے تو آج ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ میلاد النبی کی خوشی منانے کا اسلامی طریقہ کیا ہے۔

پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ میلاد مناتے ہوئے ہمیں کن چیزوں سے بچنا چاہیے، پھر سر نے بائیں طرف والے حصے میں پہلا پوائنٹ لکھ دیا:

ڈھول باجے:

 دیکھیں بچو! پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے کہ مجھے آلاتِ موسیقی (Musical instruments) توڑنے کے لیے بھیجا گیا ہے تو اب کتنی بری بات ہے کہ ہم اسی نبی کے میلاد کی خوشی منانے کے لیے ڈھول باجوں کا استعمال کریں ۔

مسلمانوں کو تکلیف:

دوسرا پوائنٹ جس کا ہم نے میلاد مناتے ہوئے خیال رکھنا ہے کہ ہمارے کسی بھی انداز سے مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو جیسے کچھ لوگ سارا دن  اسپیکروں پر اونچی آواز میں نعتیں چلائے رکھتے ہیں جس سے ظاہر ہے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہوگی، تو نعتیں سنیں گے لیکن کسی کو تکلیف دیے بغیر۔

بے ادبی :

 تیسری چیز جس سے بچنا ہے وہ ہے بے ادبی مثلاً میلاد کے جھنڈے، جھنڈیاں، یونہی کچھ لوگ اس موقع پر خانہ کعبہ و سبز گنبد کے ماڈل بنوا لیتے ہیں تو میلاد گزرتے ہی انہیں حفاظت سے ایسی جگہ رکھ دینا چاہیے جہاں بے ادبی نہ ہو۔ایسے ہی میلاد کی نیاز بانٹنے میں خیال رکھنا ہے کہ رزق زمین پر نہ گرے، ضائع نہ ہو بلکہ پیار سے لوگوں کے ہاتھ میں پکڑائیں۔

اب ہم آتے ہیں کہ میلاد کیسے منانا چاہیے؟

نیکیوں کا تحفہ:

بچو!ہم اپنے پیاروں کی سالگرہ پر انہیں گفٹس دیتے ہیں ناں لیکن پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو ہمارے دنیاوی تحفوں کی تو ضرورت نہیں ہے لہٰذا ان کے میلاد کے موقع پر ہمیں انہیں زیادہ سے زیادہ نیکیوں کے تحفے بھیجنے چاہئیں، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی حدیث مبارک ہے کہ نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے (سننِ کبری للنسائی، ص5280، حدیث:8888) تو اب میلاد کی خوشی میں پانچوں نمازیں پڑھنا شروع کر دیں اور آئندہ بھی پابندی سے پڑھتے رہیں، والدین کے فرمانبردار بیٹے بن جائیں، غریبوں کی مدد کریں یقیناً پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ان تحفوں سے بہت زیادہ خوش ہوں گے۔

درودِ پاک:

بچو! ویسے تو روزانہ ہی کچھ نہ کچھ درودِ پاک پڑھنے کی عادت بنانی چاہیے لیکن میلاد النبی کے مہینے میں خاص طور پر اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر زیادہ سے زیادہ درودِ پاک بھیجنا چاہیے۔

سیرت النبی کا مطالعہ:

 بچو !سمجھانے کے لیے کہہ رہا ہوں آج ہم  میں سے کوئی کسی مشہور شخصیت(Celebrity)کا بہت بڑا مدّاح(Fan)ہو تو اس کی کوشش ہوتی ہے اس کے بارے میں ساری معلومات حاصل کرے پھر کوشش ہوتی ہے اس کو کاپی کرنے کی، اس جیسے بال بنانا، لباس پہننا۔ یونہی میلاد النبی کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ اس موقع پر ہم اپنے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی زندگی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں، آپ کی سیرتِ مبارکہ(Blessed biography) پڑھیں اور پھر اس کی روشنی میں اپنی زندگی کو سنوار لیں،  کیونکہ ہم میلاد اس لیے مناتے ہیں کہ ہمیں آپ  سے محبت ہے تو اگر ہم آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت نہ پڑھیں، آپ  جیسے اخلاق نہ اپنائیں، آپ  کی سنتوں سے ناواقف رہیں تو یہ کیسی محبت ہوئی؟

اتنے میں بیل بج چکی تھی تو سر کہنے لگے: بچو اب قطار میں درودِ پاک پڑھتے ہوئے سب بچے ہال میں پہنچیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* مدرس جامعۃُ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی


Share