مکار بڈھا
بریک کے بعد پہلا پیریڈ شروع ہو چکا تھا لیکن سر سجاد ابھی تک کلاس میں نہیں آئے تھے، بچے سبق دہرائی کے بعد اب باتیں شروع کر چکے تھے تو کلاس مانیٹر معاویہ نے اسید رضا کو کلاس روم میں بچوں کی نگرانی کے لیے کھڑا کیا اور خود سر سجاد کو دیکھنے چلے گئے۔اسٹاف روم کا دروازہ کھٹکھٹا کر اندر داخل ہوئے تو سارا روم خالی تھا بس سر بلال میز کے کنارے پہ رکھی کرسی پر بیٹھے کسی کتاب کے مطالعے میں مگن تھے۔
السلام علیکم! سر، آپ نے سجاد صاحب کو دیکھا ہے؟ معاویہ نے سر بلال سے پوچھا لیکن شاید سر کو سنائی نہیں دیا، معاویہ نے مزید آگے جا کر تھوڑی اونچی آواز سے دوبارہ پوچھا، لیکن کوئی جواب نہیں، پھر تیسری بار اونچے سے سر کہنے پر سربلال نے گھوم کر دیکھا، سر معاویہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے تو معاویہ کو سمجھ آ گئی کہ سر کو میرا سوال نہیں سنائی دیا تھا، تو انہوں نے پھر سے پوچھا: سر سجاد آج نہیں آئے؟
سر بلال: نہیں شاید، آپ ڈسپلن آفیسر سے پوچھ لیں بیٹا، وہ گیلری میں ہوں گے، اتنا کہہ کر سر دوبارہ کتاب پڑھنے لگے۔
ڈسپلن آفیسر نے بتایا کہ سر سجاد آج چھٹی پر ہیں، آپ کلاس میں چلیں میں کسی اور استاد صاحب کو آپ کی کلاس میں بھیجتا ہوں۔ معاویہ کلاس میں آ کر بیٹھے ہی تھے کہ پیچھے سر بلال چلے آئے۔
سلام اور حال احوال کے بعد سر بلال نے سبق کا پوچھا تو سبھی بچے بلند آواز سے کہنے لگے کہ سر آج اسلامی واقعہ سنا دیں۔
بچوں کی بات سن کر سر بلال کرسی پر بیٹھ گئے تو معاویہ کھڑے ہو ئے اور کہنےلگے: سر ایساکریں آج جو کتاب آپ پڑھ رہے تھے اسی میں سے کوئی بات سنا دیں، جتنی توجہ سے آپ وہ پڑھ رہے تھے یقیناً بڑی دلچسپ کتاب ہوگی۔
سر بلال یہ سن کر کچھ سوچنے لگے اور پھر بولے: دراصل میں آج کل ان مسلمانوں کی تاریخ پڑھ رہا ہوں جنہوں نے شروع سے آج تک ختمِ نبوت کے نام پر اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ آپ کو پتا ہے مسلمانوں میں سے سب سے پہلے کس نے ختم نبوت کے دشمنوں کے خلاف جہاد کیا تھا؟
سر بلال کے سوال پر ساری کلاس خاموش رہی تو سر خود ہی بتانے لگے: ختم نبوت کے دشمنوں کے خلاف سب سے پہلے جہاد کرنے والے حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تھے۔ چلیں پھر شروع سے شروع کرتے ہیں، 10 ہجری کو بنی حنیفہ قبیلے کا ایک وفد (Deligation) نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا، ایک شخص مسیلمہ کذاب کے سوا سارے وفد نے اسلام قبول کر لیا، وہ شخص بوڑھا ہو چکا تھا لیکن بہت مکار اور چالاک تھا، اس نے اسلام قبول کرنے کے لیے عجیب و غریب شرط پیش کی۔
ہیں؟؟؟ اسلام کے لیے کوئی شرط کیسے رکھ سکتا ہے؟ اسید رضا نے کہا
سر بلال: یہی تو اس شخص کی بےوقوفی تھی،کہنے لگا: اگر محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے بعد خلافت مجھے عطا فرمادیں تو میں ان کی اتباع کروں گا اور ایمان قبول کرلوں گا۔ یعنی حضور کے بعد میں مسلمانوں کا امیر(leader) بن جاؤں۔ تب آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہاتھ مبارک میں کھجور کی شاخ تھی، اس کی فرمائش سن کر آپ نے فرمایا: اگر تو مجھ سے یہ لکڑی کا ٹکڑا بھی مانگے تو نہ دوں ۔( یعنی خلافت تو بہت دور کی بات ہے۔)
یہ سن کر وہ شخص خاموشی سے واپس چلا گیا لیکن اپنے علاقے میں پہنچ کر اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا، شروع میں تو بہت کم لوگ اس کے ساتھ تھے لیکن جیسے ہی نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دنیا سے تشریف لے گئے، اس کے دھوکے کی دکان چل پڑی، دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے لوگ اس کے دھوکے میں آگئے اور اس کے ساتھ مل گئے۔ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پہلے خلیفہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے اس جھوٹے شخص کو سبق سکھانے کے لیے ایک فوجی لشکر روانہ کیا جس کے کمانڈر سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہتھے، لیکن دشمن چونکہ ایک لاکھ کی فوج لے کر آیا تھا، اس لیے اس کا پلّہ بہت بھاری تھا، سخت مقابلہ ہوا لیکن جنگ کا فیصلہ نہ ہو سکا، پیچھے مسلمانوں کی مدد کیلیے ایک اور لشکر آ پہنچا لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا، آخر کار اللہ کی تلوار، مسلمانوں کے عظیم جرنیل صحابی حضرت خالد بن ولید اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کو پہنچے، بڑی سخت جنگ ہوئی، کہاں ایک لاکھ کا لشکر اور کہاں چند ہزار مسلمان، لیکن مسلمانوں نے عظیم مقصد یعنی عقیدۂ ختمِ نبوت کی حفاظت کی خاطر جانوں کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے بے جگری سے دشمن کا مقابلہ کیا، 1200 سے زائد صحابۂ کرام شہید ہوئے اور بالآخر نبوت کا جھوٹا دعویدار مسیلمہ کذّاب، ایک صحابی حضرت سیدنا وحشی کے نیزے سے مر کر جہنم میں پہنچ گیا اور یوں نبوت کے جھوٹے دعویدار کا قصہ تمام ہوا۔
کامران: سر اس جنگ میں کون سے صحابہ شہید ہوئے تھے؟
سر بلال: جی بیٹا یہ تو ایسی خطرناک جنگ تھی کہ جس میں بڑے بڑے مرتبے (Status)والے صحابۂ کرام نے شہادت حاصل کی، سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی حضرت زید بن خطاب بھی ان میں شامل تھے۔ اور پتا ہے اس جنگ میں بہت سے ایسے صحابۂ کرام جنہوں نے خود نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے زمانے میں قرآنِ پاک حفظ کیا تھا وہ بھی شہید ہو گئے تھے۔ یہ بات کرتے ہوئے سر بلال کی آواز آہستہ ہو چکی تھی، یوں لگ رہا تھا وہ بڑی مشکل سے خود کو رونے سے روک رہے ہیں،
تو بچو آئندہ جب بھی یہ نعرہ لگائیں کہ
محمدِ مصطفےٰ سب سے آخری نبی
احمدِ مجتبےٰ سب سے آخری نبی
تو یاد رکھنا اس نظریے کی خاطر مسلمانوں نے اپنی جانیں تک قربان کر دی تھیں لہٰذا مرتے دم تک ہم بھی اسی نظریے پر قائم رہیں گے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(مدرس جامعۃ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی)
Comments