عقیدہ ختم نبوت اور قرآن


عقیدۂ ختمِ نبوت اور قرآن


عقیدۂ ختمِ نبوت ضروریاتِ دین میں سے ہے، جس پر امتِ مسلمہ کا تواتر کے ساتھ اجماع چلا آ رہا ہے۔ قرآن حکیم کی  کثیر آیات ایسی ہیں جو صراحتاً یا اشارۃً و استنباطاً اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور آخری رسول ہیں اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد قیامت تک کوئی کسی طرح کا  نیا نبی مبعوث نہیں ہوگا۔  اس   مفہوم کی  آیات  کو چندعوانات کے تحت ذکر کیا جاتاہے:

(1)خاتم النبیین:

قرآنِ کریم کی وہ آیتِ مبارکہ جس میں رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو صراحت کے ساتھ ”خاتم النبیین“فرمایا گیا ہے، عقیدۂ ختمِ نبوت کی سب سے واضح، قطعی اور بنیادی دلیل ہے:

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠(۴۰)

ترجَمۂ کنزُالایمان: محمّد تمہارے مَردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلےاور اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح: اس آیتِ کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو”خاتم النبیین“ کے لقب سے یاد فرما کر یہ اعلان فرما دیا کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی جملہ انبیاء کرام علیہم السلام کی آخری کڑی ہیں۔”خاتم النبیین“ کا لغوی و اصطلاحی مفہوم یہی ہے کہ نبوت کا سلسلہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ختم ہو گیا، اور اب آپ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا۔

 امتِ مسلمہ کے ہر دور کے مفسرین، محدثین، فقہاء اور متکلمین کا اس کے مفہوم پر اجماع رہا ہے کہ حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں، اور خاتم النبیین کا معنیٰ و مفہوم بھی یہی ہے۔

ختمِ نُبُوَّت کے منکرین اس آیتِ مبارکہ کے الفاظ”خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ“کے معنیٰ میں طرح طرح کی بے بنیاد، جھوٹی اور دھوکا پر مبنی تاوِیلاتِ فاسدہ کرتے ہیں جو کہ قرآن، احادیث، فرامین و اجماعِ صحابہ اور مفسرین، محدثین، محققین، متکلمین اور ساری اُمّتِ محمّدیہ کے خلاف ہیں، چنانچہ مُفسّرِ قرآن ابو جعفر محمد بن جریر طبری (وفات: 310ھ)، ابوالحسن علی بن محمد بغدادی ماوردی (وفات:450ھ)، ابو الحسن علی بن احمد واحدی  نیشاپوری شافعی (وفات: 468ھ)، ابوالمظفر منصور بن محمد المروزی سمعانی شافعی (وفات: 489ھ)، محیُّ السُّنّۃ ابومحمد حسین بن مسعود بغوی (وفات: 510ھ)، ابو محمد عبدُالحق بن غالب اندلسی محاربی (وفات: 542ھ)، سلطانُ العلماء ابومحمد عزالدين عبدالعزيز بن عبدالسلام سلمی دمشقی (وفات: 660ھ)، ناصرُ الدّين ابوسعيد عبدُاللہ بن عمر شیرازی بیضاوی (وفات: 685ھ)، ابوالبركات عبدُاللہ بن احمد نسفی (وفات: 710ھ)، ابوالقاسم محمد بن احمد بن محمد الکلبی غرناطی (وفات: 741ھ)، ابوعبدُالله محمد بن محمد بن عرفہ ورغمی مالکی (وفات: 803ھ)، جلال الدّين محمد بن احمد محلی (وفات: 864ھ) اور ابوالسعود العمادی محمد بن محمد بن مصطفىٰ (وفات: 982ھ)  رحمۃ  اللہ تعالیٰ علیہم اَجْمعین سمیت دیگر کثیر مفسرینِ کرام نے  اس آیت کی تفسیر میں ہمارے پیارے آقا محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کے آخری نبی ہونے کی تصریح و تاکید  فرمائی ہے۔ 

(2)اکمالِ دین و اتمامِ نعمتِ نبوت:

قرآنِ کریم ، فرقانِ حمید میں اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کی تکمیل، اپنی نعمت کے اتمام اور شریعتِ محمدیہ کے کامل و مکمل ہونے کا واضح اعلان فرمایا ہے۔  یہ اعلان  ختمِ نبوت پر نہایت مضبوط اور واضح دلیل ہے، کیونکہ جب دین اپنی تکمیل کو پہنچ گیا، نعمتِ ہدایت مکمل ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ہمیشہ کے لیے پسندیدہ دین قرار دے دیا، تو اس کے بعد کسی نئے نبی، نئی وحی یا نئی شریعت کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اللہ کریم فرماتا ہے:

اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-

ترجَمۂ کنزُالایمان:آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔([2])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح: اس آیتِ کریمہ کا نزول حجۃ الوداع کے موقع پر ہوا، اور روایات کے مطابق اس کے نزول کے بعد نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم 81 دن  حیات  رہے، اور اس کے بعد کوئی حکمِ حلال و حرام نازل نہیں ہوا۔ نکتہ یہ ہے کہ ہر نبی اپنے اپنے زمانے کی ضرورت کے مطابق دینی احکام لے کر آتا رہا، اور ہر نبی اپنے بعد آنے والے نبی کی خبر دیتا رہا، یہاں تک کہ نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مبعوث ہوئے اور آپ پر نزولِ وحی کے اختتام کے ساتھ ہی دین اپنی تکمیل کو پہنچ گیا۔

جب ”نعمتِ نبوت“ کو تمام کر دیا گیا تو اس کے بعد نہ کوئی نیا نبی آسکتا ہے اور نہ سلسلۂ وحی جاری رہ سکتا ہے، کیونکہ اکمالِ دین اور نبوتِ جدید ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتے۔   حافظ ابن کثیر نے اس آیت کے تحت واضح تحریر فرمایا ہے: هذه اكبر نعم الله تعالى على هذه الامة، حيث اكمل تعالى لهم دينهم، فلا يحتاجون الى دين غيره، ولا الى نبي غير نبيهم صلوات الله وسلامه عليه، ولهذا جعله الله تعالى خاتم الانبياء وبعثه الى الانس والجن

ترجمہ:یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ اس نے ان کے لیے دین کو کامل فرمایا، لہٰذا امتِ محمدیہ نہ کسی اور دین کی محتاج ہے اور نہ کسی نبی کی، اور اسی لیے اللہ عزوجل نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خاتم النبیین بنایا اور تمام جن و بشر کی طرف مبعوث فرمایا۔([3])

(3)عالمگیریت و آخریتِ رسالت:

قرآنِ کریم کی متعدد آیات  میں ہے کہ رسولِ اکرم حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت  تمام انسانیت بلکہ جن و انس دونوں کے لیے عالمگیر اور دائمی ہے کسی خاص قوم، زمانے یا مکان کے ساتھ خاص نہیں ۔  چنانچہ جب آپ کی رسالت پوری کائنات کے لیے قیامت تک کافی ہے تو اس کے بعد کسی اور نبی یا رسول کی گنجائش باقی نہیں رہتی، کیونکہ اگر کوئی نیا نبی آئے تو لازماً وہ کسی خاص علاقے یا زمانے کے لیے مخصوص ہوگا، جو رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عالمگیر رسالت کی نفی  ہے۔

آئیے ذیل میں ان آیاتِ مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں:

 تمام انسانیت کے لیے بشیر و نذیر:

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۲۸)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور اے محبوب ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر ایسی رسالت سے جو تمام آدمیوں کو گھیرنے والی ہے خوشخبری دیتا  اور ڈر سناتا  لیکن بہت لوگ نہیں جانتے۔([4])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح: اس آیت میں لفظ” كَآفَّةً لِّلنَّاسِ“ پر زور دیا گیا ہے، یعنی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بعثت کسی خاص قوم کے لیے نہیں بلکہ سب انسانوں کے لیے بغیر کسی استثنا کے ہے۔ ماقبل تمام انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے رہے، جیسا کہ خود قرآن کریم میں متعدد مقامات پر ”اخاھم“  اور ” الیٰ عاد“ یا ”الیٰ ثمود“ وغیرہ کے الفاظ سے واضح ہے۔ اب قیامت تک کسی نئے نبی کی ضرورت باقی نہیں، کیونکہ رسالتِ محمدیہ ہر زمانے اور ہر مکان کے انسانوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اگر بفرضِ  محال آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد کوئی  نیا  نبی مبعوث ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ کی رسالتِ عامہ محدود ہو کر رہ جائے، جو خود آیت کے صریح مفہوم کے خلاف ہے۔

میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَاﰳ

ترجَمۂ کنزُالایمان: تم فرماؤ اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں۔([5])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح: یہ آیت سورۃ سبا کی مذکورہ بالا آیت کی ہم معنی اور اس کی  تائید ہے۔ نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو حکم دیا گیا کہ وہ انسانیت کو مخاطَب کرتے ہوئے اپنی رسالت کے تمام جن و انس کے لیے عام  ہونے  کا اعلان فرمائیں۔ خود آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے قول سے  بھی اسے بیان فرمایا:”اَنَا رَسُولُ مَنْ اَدْرَكْتُ حَيًّا ومَنْ يولَدُ بَعْدي“یعنی میں اس کی طرف بھی رسول ہوں جسے میں اپنی زندگی میں پاؤں اور اس کی طرف بھی جو میرے بعد پیدا ہو۔([6])

رحمۃ للعالمین

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے۔([7])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح: اس آیت میں”العالمین“ کا لفظ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رحمت کے دائرے کے تمام جہانوں تک وسیع  ہونے کو بیان کرتا ہے، اور اس كا تقاضا ہے کہ آپ پر ایمان لانے کا حکم بھی تمام جہان والوں کو دیا جارہا ہے،  جبکہ آپ سے پہلے کوئی بھی ایسے نبی یا رسول تشریف نہیں لائے جن کی رحمت یا نبوت یا ایمان کی دعوت تمام جہان  والوں کے لیے ہو۔ چنانچہ اب اگر کوئی یہ کہے کہ  محمدِ عربی رحمۃللعالمین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد بھی کوئی نیا نبی آسکتاہے تو یہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خاصہ ”رحمۃ للعالمین“ کے منافی ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اب صرف آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر ایمان لانا کافی نہیں رہا۔ لہٰذا ”رحمۃ للعالمین“ کا تقاضا یہی ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔

تمام جہانوں کے لیے نذیر

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَ ﰳاۙ (۱)

ترجَمۂ کنزُالایمان: بڑی برکت والا ہے وہ کہ جس نے اُتارا قرآن اپنے بندہ پر  جو سارے جہان کو ڈر سُنانے والا ہو ۔([8])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح: اس آیت میں نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے منصبِ اِنذار کو بھی ”للعالمین“ یعنی عالمگیر قرار دیا گیا ہے، اور اس منصب کا ذریعہ خود قرآن کریم کو بتایا گیا ہے، جو کہ حق و باطل کے لیے فرقان یعنی فرق و فاصلہ کرنے والا ہے۔ یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اِنذار کسی خاص علاقے یا زمانے تک محدود نہیں بلکہ قرآن کے ذریعے تا قیامت جاری رہنے والا ہے۔ چونکہ قرآن کریم قیامت تک کے لیے کتابِ ہدایت ہے، اور اسی قرآن کے ذریعے آپ کا انذار تمام جہانوں تک پہنچتا ہے، اس لیے اس عالمگیر و دائمی منصبِ انذار کے بعد کسی نئے نبی کے ذریعے نئے انذار کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

قرآن کے ذریعے قیامت تک اِنذار

وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَؕ-

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور میری طرف اس قرآن کی وحی ہوئی ہے کہ میں اس سے تمہیں ڈراؤں ا ور جن جن کو پہنچے۔([9])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

توضیح: اس آیت میں ”ومن بلغ“ کا فقرہ نہایت وسیع المعنی ہے، یعنی نہ صرف موجودہ زمانے کے لوگ بلکہ ہر وہ شخص جس تک قرآن کریم کا پیغام پہنچے، وہ اسی انذارِ محمدی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دائرے میں شامل ہے، خواہ وہ قیامت تک کسی بھی زمانے میں پیدا ہو۔ اس سے یہ  واضح ہے کہ  قرآن کریم اور اس کے ذریعے دیا جانے والا انذار قیامت تک کے تمام انسانوں کے لیے کافی و شافی ہے، اور  کسی نئے نبی کے ذریعے نئے انذار کی حاجت باقی نہیں رہتی، کیونکہ خود قرآن نے یہ ذمہ داری قیامت تک کے لیے سنبھال لی ہے۔

خلاصہ آیات:ان تمام آیات پر مجموعی نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم نے نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کو ایسی جامع، عالمگیر اور دائمی حیثیت عطا فرمائی ہے کہ اس کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ چنانچہ”كَافَّةً لِّلنَّاسِ“(سب انسانوں کے لیے)،”اِلَيْكُمْ جَمِيعًا“(تم سب کی طرف)،”رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ“(تمام جہانوں کے لیے رحمت)،”لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا“(تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والا)،”وَمَن بَلَغَ“(جس جس تک قرآن پہنچے)، جنات کے ایمان لانے اور اپنی قوم میں دعوت پہنچانے سے ثابت ہونے والی جن و انس دونوں کے لیے عالمگیر رسالت، اور اہلِ مکہ کے لیے آخری اور مکمل مرکزِ ہدایت کی حیثیت جیسے الفاظ و مضامین اس حقیقت کو نمایاں کرتے ہیں کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی دعوت ہر قوم، ہر نسل، ہر زمانے، ہر خطے اور تمام مکلف مخلوقات پر محیط ہے۔ لہٰذا اگر بالفرض آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد کوئی نیا نبی مبعوث ہوتا تو اس پر ایمان لانا بھی نجات کے لیے لازم قرار پاتا، جس سے رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت کا ساری کائنات کے لیے کافی ہونا باقی نہ رہتا۔ایسی صورت میں”كَافَّةً لِّلنَّاسِ“کا عموم،اِلَيْكُمْ جَمِيعًا“کی شمولیت، ”رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ“کی عالمگیر رحمت، ”لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا“کے دائمی منصبِ اِنذار،”وَمَن بَلَغَ“کے قیامت تک جاری رہنے والے قرآنی اِنذار، اور جن و انس دونوں کے لیے رسالتِ محمدیہ کی جامعیت، سب کے سب اپنے کامل مفہوم کے اعتبار سے متأثر ہو جاتے۔

 اس لیے ان تمام آیات کا مجموعی تقاضا یہی ہے کہ نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت ہی قیامت تک تمام انسانوں اور جنات کے لیے کافی، کامل، عالمگیر اور دائمی رسالت ہے، اور اسی بنا پر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد کسی نئے نبی یا نئی نبوت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*(فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ، ایڈیٹر ماہنامہ فیضان مدینہ)



([1])پ22،الاحزاب:40

([2])پ6،المائدۃ:3

([3])تفسیر ابن کثیر،3/22، المآئدہ،  تحت الآیۃ:  3

([4])پ22،سبا:28

([5])پ9، الاعراف:158

([6])الطبقات الکبیر لابن سعد ، 1/162، رقم:

([7])پ17،الانبیآء:107

([8])پ18،  الفرقان:1

([9])پ7،   الانعام:19


Share