كلامِ الٰہی کی تکمیل اور عقیدۂ ختمِ نبوت
عقیدۂ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی اور قطعی عقائد میں سے ہے۔ قرآنِ کریم نے جہاں صراحت کے ساتھ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو خاتم النبیّٖن قرار دیا، وہیں مختلف اسالیب اور متعدد مقامات پر ایسے اصول بھی بیان فرمائے ہیں جو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ختمِ نبوت پر نہایت مضبوط اور بلیغ دلالت کرتے ہیں۔ ان میں ایک اہم اور قابلِ توجہ پہلو دین کی تکمیل، اللہ تعالیٰ کے کلمات کے تمام و کامل ہونے، وحیِ الٰہی کے محفوظ رہنے اور اس میں کسی قسم کے تغیر و تبدل کی نفی سے متعلق قرآنی بیانات ہیں۔ ان آیات کو باہم مربوط کرکے دیکھا جائے تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے اپنے آخری رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بعثت کے ذریعے دینِ ہدایت کو اپنی تکمیل تک پہنچایا، اپنی آخری کتاب نازل فرمائی اور اس ہدایت کو قیامت تک کے لیے محفوظ فرما دیا۔
اللہ پاک کی سنتِ جاریہ یہ رہی ہے کہ مختلف ادوار میں انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم الصّلوٰۃ والسَّلام تشریف لاتے رہے اور ان کے ذریعے اللہ پاک کا پیغام بندوں تک پہنچتا رہا۔ بنیادی عقیدہ، یعنی اللہ پاک کی توحید، اس کی عبادت اور اس کے رسولوں کی اطاعت، تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکزی مضمون رہا، اگرچہ مختلف زمانوں، اقوام اور حالات کے اعتبار سے بعض شرعی احکام میں فرق ہوتا رہا۔ چنانچہ قرآنِ کریم نے انبیائے کرام کی دعوت کو ایک امت اور ایک بنیادی دین کے ساتھ مربوط فرمایا۔ لیکن جب سلسلۂ نبوت اپنے آخری مرحلے میں پہنچا اور رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مبعوث ہوئے تو اللہ پاک نے آپ کی عالمگیر رسالت کے ذریعے دین کو ایسی جامعیت اور کمال عطا فرمایا جس کے بعد کسی نئے نبی، نئی شریعت کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
قرآنِ کریم فرقانِ حمید نے نہایت واضح الفاظ میں اعلان فرمایا:
اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-
ترجَمۂ کنزُالعرفان:آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا ۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
قرآنِ کریم نے دین اور کلامِ الٰہی کی تکمیل کو کئی مقامات پر ذکر فرمایا ہے،چنانچہ سورۃ الانعام میں ہے:
وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًاؕ-لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖۚ-وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۱۱۵)
ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور سچ اور انصاف کے اعتبار سے تیرے رب کے کلمات کامل ہیں۔ اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں اور وہی سننے والا، جاننے والا ہے۔([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیتِ مبارکہ میں دو اہم نکات بیان ہوئے ہیں: پہلا یہ کہ اللہ پاک کا کلمہ، یعنی وحی و شریعت، ”تَمَّتْ“یعنی اپنی تکمیل کو پہنچ چکا؛ دوسرا یہ کہ اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اس آیت میں قرآنِ پاک کی چار امتیازی شانیں بیان ہوئی ہیں: قرآنِ پاک اپنی ذات میں مکمل ہے، اس میں بیان کردہ ہر بات حق اور سچائی پر مبنی ہے، اس کے تمام احکام عدل و انصاف پر مشتمل ہیں، اور یہ ہمیشہ کے لیے ہر قسم کی تحریف و تبدیلی سے محفوظ ہے۔ جب اللہ پاک کا کلام اپنی تکمیل کو پہنچ چکا اور اس میں تغیر و تبدل کی صراحتاً نفی کر دی گئی، تو اس کے بعد کسی نئے نبی کے ذریعے کسی نئی وحی کے نزول کا امکان خود اس اعلانِ تکمیل سے متصادم ہو جاتا ہے،
اسی طرح سورۃ الانعام کی آیت 34 میں ہے:
وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ-وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِۚ-وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ(۳۴)
ترجَمۂ کنزُالعرفان:اورآپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اورکوئی اللہ کی باتوں کو بدلنے والا نہیں اور بیشک تمہارے پاس رسولوں کی خبریں آچکی ہیں۔([3])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
نیز سورۃ الکہف میں فرمایا :
وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَۚ- لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖۚ-وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا(۲۷)
ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور اپنے رب کی کتاب سے اس وحی کی تلاوت کرو جو آپ کی طرف بھیجی گئی ہے ۔اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور تم ہرگز اس کے سوا کوئی پناہ نہ پاؤ گے۔([4])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
توضیح:
اس آیت میں نبیِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی طرف نازل شدہ وحی کی تلاوت جاری رکھیں، اور ساتھ ہی یہ ضمانت دی گئی کہ اس وحی کے کلمات کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔تبدیلی نہ کرنے کی یہ ضمانت خاص طور پر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر نازل شدہ وحی کے ساتھ خاص کی گئی، جو خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہی وحی حرفِ آخر ہے، اور اس کے بعد کسی نئی وحی کے ذریعے اس میں کسی تغیر کی گنجائش نہیں۔
کلامِ الٰہی کے تبدیلی سے محفوظ ہونے کا مفہوم سورۂ یونس میں بھی ہے:
لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ(۶۴)
ترجَمۂ کنزُالعرفان: اور آخرت میں خوشخبری ہے ، اللہ کی باتیں بدلتی نہیں ،یہی بڑی کامیابی ہے۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
قارئینِ کرام!
یہ تمام آیات قرآنِ کریم کا واضح اعلان ہیں کہ کلامِ الٰہی مکمل ہوچکا ہےا ور اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ تو جب کلامِ الٰہی مکمل ہوگیا تو اب کسی نبی کا آنا اسی اعلانِ تکمیل کے خلاف ہوگا، اور اللہ کریم کا فرمان کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا، لہٰذا جو کوئی رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد بھی کسی نبی کے پیدا ہونے کا دعویٰ کرے یا ایسے مدعی کو سچا مانے وہ کافر، مرتد، جھوٹا، مکار اور اللہ کے کلام کا منکر ہے۔
نوٹ:
وہ آیاتِ کریمہ جن میں قرآنِ کریم کی حقانیت کا چیلنج کیا گیا ہے، وہ بھی عقیدۂ ختمِ نبوت کی دلیل ہیں ، اس کی تفصیل اگلے ماہ کے شمارے میں اِن شآءَ اللہ۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل اسکالرعلوم اسلامیہ، ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments