جُمادَی الاُخریٰ اسلامی سال کا چھٹا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، علمائے اسلام اور اَولیائے عظام کا وصال ہوا، ان میں سے134کا مختصر ذکر ماہنامہ فیضانِ مدینہ جُمادَی الاُخریٰ 1438ھ تا 1447ھ کے شماروں میں کیا جا چکا ہے، مزید13کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:
صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان:
(1)حضرت عبداللہ بن ابی بن خلف قرشی جمحی رضی اللہ عنہ قریش کے قبیلہ بنوجمح سے ہیں، آپ نے فتح مکہ کے موقعہ پر اسلام قبول کیا اور حجۃ الوداع میں شرکت کی۔آپ نے جنگ جمل میں جمادی الاخریٰ 36ھ کو جام شہادت نوش فرمایا۔ ([1])
(2)حضرت عبدالرحمٰن بن سائب مخزومی رضی اللہ عنہ قبیلہ قریش کی شاخ بنومخزوم سے ہیں۔یہ بھی فتح مکہ اورحجۃ الوادع میں شریک ہوئے اورجنگ جمل میں جمادی الاخریٰ 36ھ کو شہادت پائی۔([2])
اولیائے کرام رحمۃُ اللہ علیہم:
(3)مقبول خاص و عام حضرت سیدحیدر ولی اللہ قادری گیلانی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش بغداد عراق میں خاندان غوث الاعظم میں ہوئی اور 3جمادی الاخریٰ1033ھ کو وصال فرمایا، مزار نیلنگا، احسن آباد، کرناٹک، ہند میں مرجع خلائق ہے۔ آپ ولی کامل، صاحب تصرف و کرامت اور جاذب نظر شخصیت کے مالک تھے، سلطنت بیجاپور کے سلطان ابراہیم عادل شاہ ثانی آپ کا مریدتھا۔([3])
(4)دیوان شاہ عبدالباقی رحمۃُ اللہ علیہ ولی کامل اور سلسلہ قادریہ سے منسلک تھے۔ وصال 18 جمادی الاخریٰ 1072ھ کو ہوا۔ مزار موضع بیول، تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی میں ہے۔ یہ دیوان حضوری شیخ عبداللہ قادری سوہاوی کے خلیفہ تھے۔ شیخ عبدالواحد آپ کے صاحبزادے اور جانشین مقرر ہوئے۔([4])
(5)شیخ طریقت شیخ سیدابوعبداللہ محمد بن علال حسنی یملحی وزانی فاسی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش فاس، مغرب(مراکش)کے علمی و روحانی گھرانے میں ہوئی۔ آپ فارغ التحصیل عالم دین و فقیہ، کثیر العبادت، سلسلہ وزانیہ کے شیخ طریقت اور مقبول خاص و عام تھے۔ وصال 29جمادی الاخریٰ 1335ھ کو ہوا، تدفین روضہ باب عجیسہ، فاس میں ہوئی۔([5])
(6)حضرت پیر سید امام علی شاہ گیلانی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش کفری، وادی سون سکیسر ضلع خوشاب میں ہوئی اور 16جمادی الاخریٰ 1344ھ کو 105سال کی عمر میں وصال فرمایا۔ مزار جبی شریف ضلع خوشاب میں ہے۔ آپ مرید و خلیفہ خواجہ سلیمان تونسوی، عابد و زاہد، بانی آستانہ عالیہ جبی شریف، کثرت سے تلاوت کرنے والے اور مستجاب الدعوات تھے۔ زندگی کے آخری سال بھی باوجود ضعف و کمزوری ماہ رمضان کے پورے روزے رکھے۔([6])
(7)پروفیسر عابد حسن فریدی جماعتی رحمۃُ اللہ علیہ دینی و دنیاوی تعلیم سے آراستہ، پروفیسر و صدر شعبہ فارسی سینٹ جانسن کالج آگرہ، مرید و خلیفہ امیرملت، متبع سنت، جذبہ ترویج اسلام سے سرشار اور صاحب کشف بزرگ تھے، وصال 4جمادی الاخریٰ 1364ھ کو فرمایا، تدفین مزار سید ابوالعلا کے قریب آگرہ، یوپی ہند میں کی گئی۔([7])
(8)حضرت مولانا پیر صوفی کفایت علی قادری رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش بلمرام، یوپی ہند میں ہوئی اور 2جمادی الاخریٰ 1389ھ کو کراچی میں وصال فرمایا، مزار قادری مسجد، پی آئی بی کالونی کراچی سے متصل ہے۔ آپ سید جمن میاں شاہجان پوری کے مرید و خلیفہ، نہایت متقی و پرہیزگار، مصنف کتب و رسائل، متواضع و متوکل اور نہات منکسرالمزاج تھے، کثیر مریدوں میں جسٹس مفتی سید شجاعت علی قادری اور مولانا سید سعادت علی قادری بھی ہیں۔([8])
علمائے اسلام رحِمہمُ اللہ السَّلام:
(9)امام ابو عثمان عمرو بن عاصم کلابی قَیسی بصری رحمۃُ اللہ علیہ نے امام ہمام بن یحییٰ ازدی بصری رحمۃُ اللہ علیہ سے حدیث کا سماع کیا۔ آپ روایان صحیح بخاری سے ہیں۔آپ کا وصال بصرہ میں جُمادَی الاخریٰ 212 یا 213ھ کو ہوا۔([9])
(10)شیخ الاسلام حضرت ابواسحاق ابراہیم فیروز آبادی شیرازی رحمۃُ اللہ علیہ کی ولادت 393ھ کو فیروز آباد (صوبہ فارس) ایران میں ہوئی اور 21 جُمادَی الاُخریٰ 476 ھ کو بغداد میں وصال فرمایا، تدفین باب ابرز بغداد عراق میں ہوئی۔آپ فقہ شافعی کے مجتہد، امیرُ المؤمنین فی الفقہ، مصنفِ کُتبِ کثیرہ، اخلاقِ حسنہ سے متصف، فصاحت و بلاغت کے جامع اور مدرس مدرسہ نظامیہ بغداد تھے۔ اَلنُّكَتُ فِی المَسائِلِ المُخْتَلَف آپ کی علمی یادگار ہے۔([10])
(11)استاذالحفاظ مولانا حافظ غلام حبیب نقشبندی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش دربٹہ نزد لاوہ ضلع چکوال میں ہوئی اور 10جمادی الاخریٰ 1384ھ کو وصال فرمایا،مزار ڈھرنکہ ضلع میانوالی میں ہے۔ آپ جید حافظ قرآن، بہترین مدرس، مرید حضرت پیرشاہ محمدنقشبندی(آستانہ عالیہ دندہ شاہ بلاول ضلع چکوال)، عاشق قرآن، کثیر التلامذہ، غیرت مند و سخی اور بغیر لومۃ لائم حق کا ساتھ دینے والے تھے۔([11])
(12)قائدملت حضرت مولانا حسن رضا تاجی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1366ھ کو روشن پور ضلع امیٹھی یوپی ہند میں ہوئی اور آپ عالم دین، فاضل جامعہ عربیہ سلطان پور، شاگرد صدر العلماء علامہ سید غلام جیلانی میرٹھی، مرید بابا عبدالصمد تاجی، خلیفہ آستانہ عالیہ بریلی شریف اور بانی مدرسہ تاج العلوم صمدیہ، قاسم پورہ، گاندھی نگرجائس، ضلع امیٹھی ہیں۔ وفات 22 جمادی الاخریٰ 1439ھ کو ہوئی اور تدفین مذکور مدرسہ کے صحن میں کی گئی۔([12])
(13)حضرت شیخ رادین اسناوی بن عبداللہ قدس جاوی رحمۃُ اللہ علیہ کی پیدائش 1281ھ کو قریہ دماران نزدقدس، سینٹرل جاوہ انڈونیشیا کے علمی گھرانے میں ہوئی اور25جمادی الاخریٰ 1378ھ کو وصال فرمایا۔ آپ عالم کبیر، علامہ عصر، فاضل مسجدالحرام مکہ مکرمہ، استاذالعلماء، صوفی باصفا، مجاہد تحریک آزادی وطن، بانی مدرسہ مہدالاسلامی قدس اور بانی رکن جمعیۃ نہضۃ العلماء انڈونیشیا تھے۔([13])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)و نگران مجلس ماہنامہ فیضان مدینہ، کراچی
Comments