سکون کی تلاش


سکون کی تلاش



سکون انسانی فطرت کی ایک بنیادی اور قیمتی طلب ہے۔ دنیا کا ہر انسان، خواہ وہ کسی بھی خطے، زبان یا طبقے سے تعلق رکھتا ہو، اپنی زندگی میں دو ہی چیزوں کی جستجو میں سرگرداں رہتا ہے: کامیابی اور سکون۔ اب یہ الگ بات ہے کہ کس کے نزدیک کامیابی کا معیار کیا ہے؟ البتہ ایک مسلمان کے لیے کامیابی کا معیار اللہ کریم اور رسولِ رحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضاہے۔

دیکھا یہ گیا ہے کہ دولت، شہرت، اقتدار اور آسائشیں حاصل کرلینے کے باوجود بھی بہت سے لوگ قلبی اطمینان اور سکون سے محروم رہتے ہیں۔ گھر کی رونق ہو یا کاروبار کی ترقی، تعلقات کی فراوانی ہو یا سہولتوں کی بہتات، اگر دل مضطرب اور بے چین ہے تو یہ تمام نعمتیں بے کیف اور بے لطف محسوس ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس سادہ سی زندگی گزارنے والا وہ شخص جسے اپنے رب سے تعلق، اپنے نفس پر قابو اور اپنے اردگرد کے لوگوں سے حسنِ سلوک نصیب ہو، سچی مسرت اور قرارِ قلب کی نعمت سے لطف اندوز ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ انسانی معاشرے کی ایک بڑا مسئلہ  ”بےسکونی“ قرار دی جاسکتی ہے۔ نجی زندگی میں گھریلو جھگڑے، رشتوں میں دراڑیں، بے جا شکوک و شبہات اور انا پرستی؛ اور اجتماعی زندگی میں غیبت، چغلی، جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ، اختلافِ رائے میں بدتہذیبی اور دوسروں کے عیب اچھالنے کا رجحان، یہ سب وہ اسباب ہیں جو فرد اور معاشرے دونوں کو سکون سے محروم کردیتے ہیں۔

سکون کے دینی فوائد:

اسلامی تعلیمات میں سکون کو ایک روحانی نعمت اور قربِ الٰہی کا ثمرہ قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ سورۃ الرعد میں ذکرِ الٰہی کو سکونِ قلبی ذریعہ فرمایا گیا ہے:

اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) (پ13، الرعد:28)

ترجَمۂ کنزُالعِرفان: سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل چین پاتے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

جب بندے کا تعلق اپنے خالق سے مضبوط ہوتا ہے تو نماز میں خشوع، روزے میں راحت، صدقہ و خیرات میں فرحت اور ذکرِ الٰہی میں حلاوت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہی وہ داخلی سکون ہے جو کسی بیرونی حالات کے بدلنے سے متأثر نہیں ہوتا، بلکہ مشکل ترین حالات میں بھی دل کو ثابت قدم اور مطمئن رکھتا ہے۔

اس کے علاوہ، دینی نقطۂ نظر سے سکون کے حصول کا ایک بڑا ذریعہ حقوقُ العباد کی پاسداری بھی ہے۔ دوسروں کو معاف کرنا، ان کی غلطیوں سے درگزر کرنا، پردہ پوشی کرنا، خیر خواہی کا جذبہ رکھنا اور بدگمانی سے بچنا، یہ سب وہ اخلاقی اوصاف ہیں جن کی ترغیب ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دی ہے اور جن کا نتیجہ نہ صرف آخرت میں اجر و ثواب بلکہ دنیا میں بھی قلبی راحت کی صورت میں نکلتا ہے۔ گویا سکون کا دینی پہلو دو رخوں پر مشتمل ہے: ایک اللہ پاک سے تعلق کی مضبوطی، دوسرا بندوں کے حقوق کی ادائیگی۔

سکون کے دنیاوی فوائد:

دینی برکات کے ساتھ ساتھ سکون کے دنیاوی فوائد بھی نہایت وسیع ہیں۔ ایک پُرسکون انسان نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ اپنے خاندان، برادری اور پورے معاشرے کے لیے سکون کا باعث بنتا ہے۔ گھریلو زندگی میں جب میاں بیوی، والدین اور اولاد، اور بہن بھائیوں کے درمیان برداشت، درگزر اور خوش اسلوبی کا رویہ ہو تو گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے، اور اگر اِن کی جگہ اَنَا، شک اور تلخ کلامی لے لے تو وہی گھر بے سکونی کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔

اجتماعی سطح پر بھی سکون کی اہمیت کسی سے مخفی نہیں۔ جس معاشرے کے افراد ایک دوسرے کے بارے میں خبروں کی تصدیق کیے بغیر رائے قائم نہیں کرتے، جھگڑوں سے بچتے ہیں، اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بننے دیتے اور دوسروں پر بلاوجہ تبصرہ آرائی سے گریز کرتے ہیں، وہاں باہمی اعتماد اور بھائی چارہ پروان چڑھتا ہے۔ اس کے برعکس بدگمانی، جلد بازی میں رائے قائم کرلینا اور موبائل و سوشل میڈیا کے غیر محتاط استعمال سے پھیلنے والی غلط فہمیاں پورے معاشرے کو بے چینی اور انتشار سے دوچار کردیتی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو سکون محض ایک انفرادی نعمت نہیں بلکہ ایک اجتماعی امانت ہے، جس کی حفاظت ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔

”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“کے مرحوم چیف ایڈیٹر، استاذ المدرسین حضرت علامہ ابورجب محمد آصف عطاری مدنی رحمۃُ اللہ علیہ ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“کے قارئین کے لیے ہر شمارے میں بہت اچھوتے، تربیتی، معلوماتی اور سکون کی تلاش میں معاون مضامین لکھا کرتے تھے۔ انہوں نے جنوری 2017ء میں ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کے آغاز سے اپنے وصال سے ایک ہفتہ قبل تک جاری ہونے والے ہر شمارے میں بہترین مضامین لکھے۔ یہ مضامین مختلف سلسلوں”معاشرے کے ناسور، اسلامی زندگی، کتابِ زندگی، نوجوانوں کے مسائل اور درسِ کتابِ زندگی“ کے تحت شامل ہوتے تھے۔ حالیہ دنوں میں معاشرتی بےسکونی اور ان مضامین کی اہمیت کے پیشِ نظر مجلس ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ نے وہ تمام مضامین جو ”سکون کی تلاش“ میں معاون ہیں، کا ایک مجموعہ بنام ”سکون کی تلاش“ جاری کیا ہے۔ آئیے! ذیل میں ان کے چند مضامین کے عنوانات اور ان کے معاشرتی ثمرات کا جائزہ لیتے ہیں:

سکون کی تلاش

”سکون کی تلاش“ میں شامل مضامین دراصل انہی عملی رہنما اصولوں پر مشتمل ہیں جن پر عمل کرکے انسان اپنی نجی اور اجتماعی زندگی کو سکون سے ہم کنار کرسکتا ہے۔ ذیل میں انہی عنوانات کی روشنی میں چند بنیادی نکات پیش کیے جاتے ہیں:

(1)رشتوں اور تعلقات میں سکون کے لیے برداشت کا مزاج اپنائیے کیونکہ عدمِ برداشت ان میں دراڑ کا سبب بنتی ہے، جبکہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی خامیوں اور اپنے مزاج کے خلاف باتوں کو برداشت کرنا سیکھ لینے والا شخص گھریلو اور معاشرتی تعلقات میں سکون پالیتا ہے۔

(2)رشتوں اور معاشرتی تعلقات کو محفوظ رکھنے کے لیے خبر کی تصدیق کیجیے کیونکہ بغیر تحقیق کے کسی بات کو آگے پھیلا دینا یا کسی پر الزام لگا دینا دلوں میں کدورت اور معاشرے میں فتنے کا سبب بن سکتا ہے۔

(3)جھگڑوں اور اختلافات کے خاتمے کے لیے اپنی غلطی تسلیم کرنے کی عادت بنائیے کیونکہ اَنَا کی جگہ عاجزی اپنانا اور اپنی غلطی کا برملا اعتراف کرلینا بہت سے جھگڑوں کو ختم کرکے دل کو ہلکا اور مطمئن کردیتا ہے۔

(4)دل کی کشادگی اور اطمینان کے لیے دوسروں کو دینا سیکھیے کیونکہ سخاوت اور ایثار، خواہ مال میں ہو یا وقت اور توجہ میں، انسان کو بخل اور حسد جیسی بے سکونی پیدا کرنے والی کیفیات سے بچاتے ہیں۔

(5)غلط فہمیوں اور نزاعات سے بچنے کے لیے پوچھ کر دیکھ لیجیے کیونکہ دوسروں کی نیت یا موقف کے بارے میں قیاس آرائی کرنے کے بجائے براہِ راست پوچھ کر تصدیق کرلینا بہت سے اختلافات کو ختم کردیتا ہے۔

(6)گھر اور معاشرے کو نزاعات سے محفوظ رکھنے کے لیے جھگڑوں سے بچنے کے طریقے اپنائیے اور غیر ضروری بحث و تکرار سے گریز، لہجے میں نرمی اور بروقت خاموشی کو اپنا معمول بنائیے۔

(7)سکون کی طرف بڑھنے کے لیے اپنی بُری عادتوں کا جائزہ لیجیے اور انہیں چھوڑ دیجیے کیونکہ خود احتسابی کی عادت اپنانا اور بُری عادتوں سے بتدریج نجات حاصل کرنا اصلاحِ نفس کا بنیادی قدم ہے۔

(8)دیرپا عزت اور اعتماد کے لیے سمجھ داری کو چالاکی پر ترجیح دیجیے کیونکہ وقتی فائدے کے لیے چالاکی اختیار کرنے والا بالآخر اعتماد کھو بیٹھتا ہے، جبکہ دیانت اور دوراندیشی پر مبنی سمجھ داری دیرپا سکون کا باعث بنتی ہے۔

(9)تعلقات میں انصاف اور اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ڈبل اسٹینڈرڈ سے اجتناب کیجیے کیونکہ اپنے اور دوسروں کے لیے الگ الگ معیار رکھنا ناانصافی اور بے چینی پیدا کرتا ہے، جبکہ یکساں اور منصفانہ رویہ سکون پیدا کرتا ہے۔

(10)باہمی تعلقات میں تلخی سے بچنے کے لیے اختلافِ رائے کے آداب سیکھیے کیونکہ اختلاف کرنا معیوب نہیں، البتہ اختلاف کو دشمنی اور تلخی میں بدل دینا تعلقات کے سکون کو ختم کردیتا ہے۔

(11)دل کو کدورتوں سے پاک رکھنے کے لیے بددعاؤں سے پرہیز کیجیے اور دوسروں کے لیے بددعا کرنے کے بجائے دعائے خیر کی عادت اپنائیے تاکہ دل نرم اور مطمئن رہے۔

(12)رشتوں میں رنجش اور دوری سے بچنے کے لیے تبصروں میں احتیاط برتیے کیونکہ ہر بات پر بے جا تبصرہ آرائی اور تنقید دل آزاری کا سبب بنتی ہے، اس لیے رائے دینے سے پہلے اس کی افادیت اور مناسب وقت کا خیال رکھیے۔

(13)غلط فہمیوں اور بدگمانیوں سے محفوظ رہنے کے لیے موبائل کے استعمال میں اعتدال اور بدگمانیوں سے بچیے کیونکہ جدید ٹیکنالوجی کا بے احتیاط استعمال بہت سی بدگمانیوں کو جنم دے سکتا ہے۔

(14)تعلقات میں محبت اور احترام برقرار رکھنے کے لیے بے تکلفی میں توازن رکھیے کیونکہ حد سے بڑھی ہوئی بے تکلفی احترام کو ختم کرکے بعد ازاں تعلقات میں بگاڑ کا سبب بن سکتی ہے۔

(15)معاشرتی سکون اور باہمی احترام کے لیے پردہ پوشی کا رویہ اپنائیے کیونکہ دوسروں کے عیوب اور کمزوریوں کو چھپانا اور انہیں افشا کرنے سے گریز کرنا نہ صرف دینی فضیلت ہے بلکہ معاشرتی سکون کا ذریعہ بھی ہے۔

(16)دل کو رنجشوں کے بوجھ سے بچانے کے لیے معاملات جلد نمٹائیے کیونکہ غلط فہمیوں اور رنجشوں کو طول دینا انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، اس لیے حتی الامکان جلد معاملات کو سلجھا لینا چاہیے۔

مجموعہ ”سکون کی تلاش“ میں شامل یہ تمام مضامین دراصل ایک ضابطۂ حیات پیش کرتے ہیں، اگر آپ بھی اس بے چین دنیا میں حقیقی سکون کے متلاشی ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا گھر محبت اور اطمینان کا گہوارہ بنے، آپ کے تعلقات مضبوط اور پائیدار ہوں، اور آپ کا دل ہر حال میں مطمئن رہے، تو یہ مجموعہ آپ ہی کے لیے ہے۔ اس کا مطالعہ کیجیے، اس میں بیان کردہ اصولوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل کیجیے، اور اپنے آپ کو اُس حقیقی سکون سے ہمکنار کیجیے جو دنیا کی کسی اور چیز میں نہیں، صرف اپنے رب کی یاد اور اچھے اخلاق میں پوشیدہ ہے۔ آئیے! ”سکون کی تلاش“ کے اس سفر کو مکمل کریں اور ابھی یہ مجموعہ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹwww.dawateislami.net سے فری ڈاؤن لوڈ کیجیے، پڑھیے اور آگے شیئر بھی کیجیے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی


Share