عفو و درگز کی نبوی تعلیمات
عفو و درگزر (معاف کرنا اور چشم پوشی کرنا)اسلامی اخلاقیات کا وہ روشن ستون ہے جس کے ذریعے نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک اجڑے ہوئے اور جنگ زدہ معاشرے کو امن، محبت اور اخوت کا گہوارہ بنا دیا۔ آپ علیہ السّلام کی سیرت طیبہ کا یہ پہلو رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
عفو و درگزر کا لغوی اور اصطلاحی معنی:
عفو کے لغوی معنی مٹانے یا چھوڑ دینے کے ہیں، جبکہ اصطلاح میں اس سے مراد بدلہ لینے کی طاقت رکھنے کے باوجود کسی کی غلطی کو معاف کر دینا ہے۔ درگزر کا مطلب ہے ملامت نہ کرنا اور دل میں میل نہ رکھنا۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو مخاطب کرکے فرمایا:
خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ(۱۹۹)
ترجَمۂ کنزالعرفان: اے حبیب! معاف کرنا اختیار کرو اور بھلائی کا حکم دو اور جاہلوں سے منہ پھیرلو۔(پ9، الاعراف: 199)
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نہ صرف اس قرآنی حکم پر خود عمل کر کے دکھایا بلکہ اپنی احادیث اور عملی زندگی کے ذریعے امت کو بھی اس کا درس دیا۔
آئیے عفو و درگزر کے متعلق نبوی تعلیمات پڑھیے:
(1)عزت میں اضافہ:
انسانی نفس یہ سمجھتا ہے کہ معاف کرنے سے انسان کمزور یا بے عزتی کا شکار ہوتا ہے، لیکن رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس جاہلانہ تصور کو رد کرتے ہوئے فرمایا: مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلَّهِ اِلَّا رَفَعَهُ اللهُ ترجمہ: صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا، اور اللہ تعالیٰ بندے کے معاف کرنے کی وجہ سے اس کی عزت ہی بڑھاتا ہے اور جو کوئی اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کا مرتبہ بلند فرما دیتا ہے۔
(مسلم، ص1071، حدیث: 6592)
(2)جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا:
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: لَا يَرْحَمُ اللہ مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ ترجمہ: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ بھی اس پر رحم نہیں فرماتا۔(بخاری، 4/531، حدیث: 7376)
(3)عفو و درگزر کی فضیلت:
حضرت معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: مَنْ كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى اَنْ يُنْفِذَهُ دَعَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ مَا شَاءَ ترجمہ: جس شخص نے غصہ پیا باوجود اس کے کہ وہ اسے نافذ کرنے (بدلہ لینے)پر قادر تھا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا یہاں تک کہ اسے اختیار دے گا کہ وہ جس حور کو چاہے چن لے۔
(ابوداؤد، 4/325، حدیث: 4777)
(4)کتنی دفعہ درگزر کیا جائے؟:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں اپنے خادم (یا ماتحت)کو کتنی بار معاف کروں؟ آپ خاموش رہے۔ اس نے دوبارہ پوچھا، تو آپ نے فرمایا: كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً یعنی اسے روزانہ ستر (70) بار معاف (و درگزر)کر دیا کرو۔(ترمذی، 3/381، حدیث: 1956)
عفو و درگزر کی نبوی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ معاشرتی امن کا قیام انتقام سے نہیں بلکہ درگزر سے ممکن ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں جو تلخی، عدم برداشت اور لڑائی جھگڑے پائے جاتے ہیں، ان کا واحد علاج اس نبوی صفت کو اپنانے میں ہے۔
اللہ رب العزت ہمیں اس صفت کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

Comments