(1)لِباس میں پیوند لگانا
سُوال: کیا لِباس پر پیوند لگانا سنّت ہے؟
جواب: جی ہاں لِباس پر پیوند لگانا سنّتِ مبارکہ ہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:لِباس کو اُس وقت تک پُرانا مت سمجھو جب تک اُس میں پیوند نہ لگالو۔(دیکھیے:ترمذی،3/302،حدیث:1787) مزید یہ کہ صحابۂ کرام رضی اللہُ عنہم سے بھی کپڑوں میں پیوند لگانا ثابت ہے۔(دیکھیے:مراٰۃ المناجیح،6/108-تاریخ ابن عساکر،59/171) پیوند لگانا ایسی سنّت نہیں ہے کہ اگر کوئی پیوند نہیں لگائے گا تو اُسے مجرم قرار دیاجائے گا۔ اب تو حالات بھی اتنے بَدل چُکے ہیں کہ اگر کوئی پیوند لگائے گا تو ہوسکتا ہے لوگ اُس پر باتیں کریں کہ ”اِس کے پاس پیسا بہت ہے لیکن بس دِکھانے کے لیے پیوند لگائے پھرتا ہے“ یا اِس کے علاوہ ہو سکتا ہے اور بھی بہت کچھ بولا جائے، حالانکہ مسلمانوں کو بُرائیوں، بد گُمانیوں اور گناہوں سے بچانا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی سنّت پر عمل کی نیت سے لباس کی پھٹی ہوئی جگہ پر پیوند لگاناہی چاہے تو بہت اچھا ہے کہ کپڑے کے اُس حصے میں لگالے جہاں کسی کی نظر نہ پڑے، جیسے پاجامے کے پھٹے ہوئے اُس حصے میں پیوند لگالے جو قمیص میں چُھپ جاتا ہےکہ اب یہ پیوند کا پیوندہوجائے گا اور کسی بھی طرح کی نمائش بھی نہیں ہوگی۔
(مدنی مذاکرہ، 13محرم الحرام 1443ھ)
(2)نظرِ بد کب تک رہتی ہے؟
سُوال: نظر بد کا اَثر کتنے عرصے تک رہتا ہے؟
جواب: کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نظرِ بد کا اثر ظاہر ہی نہیں ہوتا اور کبھی ظاہر ہوتا ہے تو فوراً چلا جاتا ہے جیسے کبھی کسی سے دَم کروالیا یا خود ہی اپنے اوپر دَم کرلیاتو فوراً ہی نظر ِبد کا اثر چلاجاتا ہے، کبھی ایساہوتا ہے کہ نظرِ بد کا اثر انسان کو بستر تک لے جاتا ہے اور کبھی قبر تک۔یو ں نظرِ بد کا اثر ختم ہونے کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔
(مدنی مذاکرہ، 13محرم الحرام 1443ھ)
(3)امیرِ اہلِ سنّت کی بہارِ شریعت سے محبت:
سُوال: آپ کو سب سے پہلے بہارِ شریعت کا تعارف کب ہوا؟
جواب:میری لڑکپن کی عمر تھی اور اتنی زیادہ سمجھ نہیں تھی، ہمارے علاقے کی بادامی مسجد (اولڈ سٹی ایریا کراچی)کے امام صاحب روزانہ ایک آدھ مسئلہ بیان کیاکرتے تھے جس میں مجھے مزہ آتا تھا۔ ایک مرتبہ ظہر کی نماز کے بعد کسی نے امام صاحب سے مسئلہ پوچھا تو میں بھی اپنے بڑے بھائی کے ساتھ وہیں امام صاحب کے پاس کھڑا تھا، امام صاحب نے کسی کو کہا کہ ”بہار شریعت لے آؤ۔“ تو وہ بہار شریعت کا کوئی حصہ لے کر آئے جس پر ایک خوبصورت ٹائٹل تھا اور رنگین صفحہ تھا، امام صاحب نے اس کتاب کو کھولا تو اس میں ”مسئلہ، مسئلہ“ لکھا ہواتھا ، یہ دیکھ کر میرے منہ میں پانی آرہا تھا حالانکہ اس وقت مجھے اتنا بھی شعور نہیں تھا کہ یہ کتاب دکان پر مل جاتی ہے، اس وقت امام صاحب نے اس شخص کو مسئلہ بتادیا اور مجھے وہ کتاب اچھی لگی لیکن میں غریب گھرانے کا ایک بچہ تھا کتاب کہاں سے خریدتا!! پھر جب مجھے مزید شعور آیا تو میں نے بہار شریعت کے 17 حصے پاکستانی 28 روپے میں خریدے۔ اب یہ مجھے یاد نہیں کہ پورا سیٹ ایک ساتھ خریدا یا کچھ کچھ حصے کر کے خریدی۔ اَلحمدُ لِلّٰہ میں نے ”بہار شریعت“ سے بہت زیادہ نفع اٹھایا ہے یہاں تک کہ کہنے والوں نے تو اتنا مبالغہ کردیا کہ ”الیاس قادری بہار شریعت کا حافظ ہے“ حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے، میں نہ پہلے بہارِ شریعت کا حافظ تھا اور نہ اب ہوں، البتہ مجھے بہار شریعت سے محبت ہے میں اس کتاب کا درس دیتا تھا اور اس درس کا اعلان خود لکھ کر چار پانچ کلو میٹر پیدل چل کر اخبار کے آفس جاتا تھا اور انہیں دیتا تھا کہ یہ اعلان چھاپ دو کہ فلاں جگہ بہار شریعت کا درس ہوگا۔(مدنی مذاکرہ، 2ذوالقعدۃ الحرام1442ھ)
(4)ہند میں علمائے بِہار کی بَہار:
سوال: کیا آپ کبھی ”بِہار“(ہند) میں تشریف لائے ہیں؟
جواب: میں ابھی تک ”بِہار“ (ہِند) نہیں جاسکا۔ البتہ مجھے یہ معلوم ہے کہ ”بِہار“ پورے ہِند کو عُلما سپلائی کرتا ہے جیسے پاکستان میں زِیادہ تر حفاظ و عُلما پنجاب سے ہوتے ہیں اس طرح ہِند کے بہت سے عُلما بِہار سے ہوتے ہیں۔ بِہار کے مسلمان علمِ دین سے محبّت کرتے ہیں، اپنے بچوں کو عُلما و امام بناتے ہیں۔ مفتیِ اعظم پاکستان حضرت مفتی وقار الدین صاحب رحمۃُ اللہِ علیہ کا تعلّق ”بہار“ سے ہے، مفتی عبدالحلیم صاحب رحمۃُ اللہِ علیہ بھی ”بِہار“ سے ہیں، خلیفۂ اعلیٰ حضرت مفتی ظفر الدین بِہاری رحمۃُ اللہِ علیہ جنہوں نے ”صحیح البہاری“ اور ”حیاتِ اعلیٰ حضرت“ لکھی ہیں، ان کے فتاویٰ کا مجموعہ بھی چَھپا ہوا ہے، یہ بھی بِہاری ہیں۔(مدنی مذاکرہ، 7ذوالحجۃ الحرام 1442ھ)
(5)کیا زخمی شخص کی دعا قَبول ہوتی ہے؟
سُوال: سنا ہے کہ ”اگر کسی کو چوٹ لگ جائے اس وقت دعا مانگنی چاہیے کیونکہ اس وقت دعا قبول ہوتی ہے۔“ یہ بات کہاں تک درست ہے؟
جواب:قرآنِ پاک میں ہے:
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ(پ20، النمل: 62)
ترجَمۂ کنز العرفان: یا وہ بہتر جو مجبور کی فریاد سنتا ہے جب وہ اسے پکارے اوربرائی ٹال دیتا ہے۔
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یعنی اللہ پاک لاچار، مجبور، مضطر یعنی بے قرار کی دعا قبول فرماتا ہے۔ کسی شاعر نے چوٹ لگنے کے بارے میں کیا خوب کہا ہے کہ
مرنے کى طرف دىکھ نہ جینے کى طرف دىکھ
جب چوٹ لگے دل پہ مدىنے کى طرف دىکھ
(مدنی مذاکرہ، 25صفرالمظفر 1443ھ)
(6)نوچندی جمعرات کی حقیقت
سُوال: نوچندی جمعرات کی کیا حقیقت ہے؟
جواب:چاند کے مہینے کی پہلی جمعرات کو نوچندی جمعرات کہتے ہیں۔ بزرگوں سے اس کے بارے میں جو مختلف اوراد منقول ہیں کہ پہلی جمعرات کو یہ پڑھنا ہے اور دوسری جمعرات کو یہ پڑھنا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح بعض لوگ پہلی جمعرات کو مزاراتِ اولیا پر حاضری دیتے ہیں اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے،جبکہ ان کاموں کو ضروری نہ سمجھے۔(مدنی مذاکرہ، 9ذوالقعدۃ الحرام1442ھ)
(7)مکان بیچتے وقت پنکھے اتارنا کیسا؟
سُوال: اگر کسی نے مکان بىچا تو جو پنکھے وغىرہ ہوتے ہىں کیا وہ بھى اُس کى ملکىت ہے جس کو مکان بىچاہے؟
جواب: پنکھے تو نکال کر لے جانے کا عرف ہے کہ جو مکان بیچتا ہے وہ پنکھے نکال کر لے جاتا ہے، البتہ اگر کوئى اپنى مرضى سے پنکھے چھوڑ دىتا ہے یا مکان کے ساتھ دے دىتا ہےتو یہ بھی ٹھىک ہے۔
(مدنی مذاکرہ، 4جمادی الاولیٰ 1442ھ)
Comments