بیٹیوں کو گھر داری سکھائیں
گھر کا نظام چلانے کے لیے وسائل کی فراہمی مرد کی ذمہ داری ہے تو ان وسائل کے ذریعے گھر کے معاملات کو منظم انداز میں ترتیب دینا عورت پر منحصر ہے لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ابھی سے اپنی بیٹیوں کی اسی طرز پر تربیت کریں کہ وہ آئندہ جس گھر کی بھی رونق بنیں تو اپنی اخلاقی اور شرعی ذمہ داری کو خوش اسلوبی اور خود اعتمادی کے ساتھ انجام دے سکیں۔
اور اس ذمہ داری کو بخوبی نبھانے میں جو چیز بہت اہمیت کی حامل ہے وہ ہے ”روز مرہ امور کی منظم طور پر انجام دہی۔“
جو عورت اپنے روزمرہ کاموں کو جتنا منظم انداز سے چلانا جانتی ہوگی اس کا گھر اتنا ہی نکھرا ہوا، سنورا ہوا اور پُرسکون ہوگا۔
لہٰذا ایک ماں کو چاہیے کہ وہ بیٹا اور بیٹی دونوں کو بچپن ہی سے گھر کے چھوٹے موٹے کاموں کی عادت ڈلوائے مثلاً چیزیں ترتیب سے رکھیں، اپنی الماریاں صاف رکھیں، اپنے جوتے کپڑے ترتیب سے رکھیں، چائے، لسی، شربت وغیرہ بنانا سیکھیں، چھوٹی بچیوں سے تھوڑے بہت برتن دھلوانا، ہلکی پھلکی جھاڑو لگوانا، چھوٹے موٹے کپڑے جیسے ٹوپی، موزے، رومال، اسکاف وغیرہ دھلوانا۔
سبزی بناتے ہوئے انہیں ساتھ بٹھانا چاہیے تاکہ پالک، بھنڈی وغیرہ صاف کرنے اور کاٹنے کی عادت پڑے، لہسن، ادرک چھیلنا، پیسنا آئے۔
اور جب لڑکیاں 14، 15 سال کی ہو جائیں تو بس انہیں کھانا پکانا سکھانا شروع کر دینا چاہیے۔
یہی عمر ہوتی ہے جس میں ہر نیا کام کرنے اور سیکھنے کی دھن ہوتی ہے۔ بچیوں کو پیار محبت سے سمجھانا چاہیے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی لاڈلی بیٹی شہزادیِ کونین بی بی فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا اپنے گھر کے کام کاج خود کیا کرتی تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ گھر کے کام کاج اپنے ہاتھ سے کرنا، جھاڑو پوچا وغیرہ کوئی عزت گھٹانے والے کام نہیں ہیں، بلکہ یہ تو شہزادیِ کونین کا مبارک طریقہ ہے اور اگر آپ ان کے طریقے پر عمل کی نیت سے یہ کام کریں گی تو ثواب کی بھی حقدار ہوں گی۔
گھر کو بغیر کسی ذہنی دباؤ کے بآسانی صاف اور منظم رکھنے کے لیے بچیوں کو درج ذیل چھوٹی چھوٹی عادتوں کو مستقل اپنانے کا ذہن دیا جائے۔
(1)صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے اپنا بستر درست کر لیں۔ یقین کیجیے کہ دو منٹ کے اس معمولی کام کی بدولت آپ کا کمرہ 80 فیصد صاف ستھرا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ جبکہ بکھرا بستر، پورے کمرے کی بے ترتیبی کی علامت بن جاتا ہے۔
ہمارے شیخِ طریقت امیرِ اہلِ سنت علامہ محمد الیاس عطاری قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی طرف سے ہمیں جو 63 نیک اعمال کا رسالہ دیا گیا ہے اس میں ایک نیک عمل یہ بھی ہے۔
کیا آپ صفائی ستھرائی کے عادی اورسلیقہ مندہیں؟
(2)صفائی کو ٹالتے رہنے سے گندگی جمع ہو جاتی ہے اس لیے چھوٹے چھوٹے کام فوری کرنا مثلاً باتھ روم یا باورچی خانے کی سنک استعمال کرتے ہی اسے صاف کر لیں۔ ورنہ پانی اور صابن کے دھبے خشک ہو کر جم جاتے ہیں۔
(3)ہر چیز کے لیے ایک مخصوص جگہ بنانا تاکہ اشیاء بکھری نہ رہیں مثلاً میلے کپڑوں کو زمین یا کرسی وغیرہ پر ڈالنے کی بجائے فوری طور پر لانڈری کی ٹوکری میں ڈالیں۔
(4)غیر ضروری چیزوں کو جمع کرنے سے بچنا اور باقاعدگی سے اشیاء کو الگ کرنا۔ ایک اندر ایک باہر کا اصول اپنائیں مثلاً نیا لباس، نیا جوتا یا نیا برتن خریدتے ہی اب پرانی چیز کسی ضرورت مند کو دے دیں یا ری سائیکل کر دیں اس طرح گھر میں غیر ضروری اشیا کی تعداد نہیں بڑھتی۔ اس کے لیے گھر کے ایک کونے میں ایک ڈبہ رکھیں جہاں آپ وہ چیزیں ڈالتی جائیں جو اب استعمال میں نہیں آتیں جب ڈبہ بھر جائے تو اسے کسی ضرورت مند کو دے دیں یہ عادت گھر کو منظم رکھنے میں بہت مددگار ہوتی ہے۔
(5)اگر صرف باورچی خانے، باتھ روم اور صحن کو منظم کر لیا جائے تو پورا گھر منظم نظر آنے لگتا ہے۔ اس لیے صحن، باورچی خانے اور گھر کے داخلی راستے جہاں گرد و غبار جمع ہوتا رہتا ہے، روزانہ ایک سے دو بار جھاڑو لگا لینے سے انہیں کم محنت کے ساتھ کافی حد تک صاف رکھا جا سکتا ہے۔
اسی طرح ضروری ہے کہ کچن میں کھانا پکاتے ہوئے صفائی کو بھی ساتھ ساتھ چلایا جائے مثلاً جب سبزیاں ابل رہی ہوں یا سالن پک رہا ہو ان چند منٹوں میں استعمال شدہ برتن دھو لیے جائیں ، کاؤنٹر صاف کر لیا جائے اس طرح کرنے سے کھانے کے بعد پہاڑ جیسا برتنوں کا ڈھیر نہیں ہوتا اور باورچی خانہ صاف ستھرا رہتا ہے۔ یوں ہی رات کو بھی برتن وغیرہ دھو کر سنک کو بالکل خالی کر دیں۔
سونے سے پہلے پورے گھر کا ایک چکر لگائیں اور بکھری ہوئی چیزوں کو ان کی جگہ پر رکھ دیں۔ یوں صبح ایک منظم اور مرتب گھر آپ کا منتظر ہوگا جو آپ کو ایک ذہنی سکون فراہم کرے گا اور آپ کے دن کا آغازہی صاف اور منظم انداز سے ہوگا۔
ایک مسلمان عورت کے لیے شہزادیِ کونین حضرت فاطمۃ الزہراءرضی اللہ عنہا بہترین نمونہ (Role model) ہیں آپ نے اپنے امور خانہ داری کو بہترین انداز میں منظم کیاہوا تھا حالانکہ مادّی اعتبار سے اس دور میں گھریلو کام کاج میں آسانی کے لیے آج کی طرح کی سہولیات بھی میّسر نہیں تھیں اس کے باوجود تمام گھریلو کاموں کے ساتھ ساتھ عبادت و ریاضت، شوہر کی خدمت اور اولاد کی بہترین تربیت فرمائی۔
اللہ پاک ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وہی ہے راہ ترے عزم و شوق کی منزل
جہاں ہیں عائشہ و فاطمہ کے نقش قدم
رسولِ اکرم، نورِ مجسم، شاہِ بنی آدم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ تسبیحات پڑھنے کی تعلیم فرمائی:
33 مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ،33 مرتبہ اَلْحَمْدُللہ اور 34 مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر اور ارشاد فرمایا کہ یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔
(بخاری،3/ 516،حدیث:5362)
اس عظیم معمول کو تسبیحِ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہا جاتا ہے۔ یہ تمام سلاسلِ طریقت میں، بالخصوص سلسلۂ قادریہ رضویہ عطاریہ میں بھی معمول اور باعثِ برکت ہے۔
حضرت ملا علی قاری رحمۃُ اللہ علیہ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح میں فرماتے ہیں کہ سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جو تسبیحات پڑھنے کی تعلیم فرمائی، ان میں یہ حکمت بھی ہے کہ سونے کے وقت ان تسبیحات کو پڑھنے سے دن بھر کے کام کاج کی تھکن اور درد و آلام دور ہوجاتے ہیں۔(مرقاۃالمفاتیح،5/233)
شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی طرف سے عطا کردہ اسلامی بہنوں کے 63 نیک اعمال میں سے ایک نیک عمل یہ بھی ہے۔
کیا آج آپ نے پانچوں نمازوں کے بعد کم از کم ایک مرتبہ آیۃُالکرسی، سورۃُ الاخلاص اور تسبیحِ فاطمہ رضی اللہ عنہا پڑھی؟
نیت کیجیے!نمازوں کے بعد تسبیحات کا یہ مبارک معمول اپنائیں گی اور سونے سے پہلے تسبیحِ فاطمہ رضی اللہ عنہا پڑھ کر اپنے دل کو ذکرِ الٰہی سے منور کریں گی۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* نگران عالمی مجلس مشاورت (دعوتِ اسلامی) اسلامی بہن
Comments