بیٹیوں کو وقت پر سونے جاگنے کی تربیت دیں
نیند محض ایک جسمانی ضرورت نہیں بلکہ اللہ پاک کی رحمت ہے جس کے ذریعے انسان اپنی کھوئی ہوئی قوت بحال کرتا، ذہنی و جسمانی تازگی حاصل کرتا اور نئے دن کی ذمہ داریاں بہتر انداز میں ادا کرنے کے قابل بنتا ہے، اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۷۳)
ترجَمۂ کنزالعرفان:اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لیے رات اور دن بنائے کہ رات میں آرام کرو اور(دن میں) اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم (اس کا) شکر ادا کرو۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
جس طرح زندگی کی بقا کے لیے کھانا، پینا اور سانس لینا ضروری ہے، اسی طرح جسم و دماغ کو آرام دینے کے لیے مناسب نیند بھی ناگزیر ہے۔ عموماً یہ ہر انسان کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے لیکن بڑھتی عمر کی بچیوں کے لیے اس کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہی عمر جسمانی نشوونما، ذہنی پختگی، تعلیمی قابلیت اور اچھے اخلاق و عادات کی تشکیل کا زمانہ ہوتی ہے۔ وقت پر سونے اور وقت پر جاگنے کی عادت نہ صرف ان کی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ ان کی پڑھائی، یادداشت، ذہنی یکسوئی، چستی اور روزمرہ معمولات پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔
احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صبح کا وقت خصوصی برکتوں والا وقت ہے۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دعا فرمائی: ”اے اللہ! میری امت کے صبح کے کاموں میں برکت عطا فرما۔“([2]) اسی وجہ سے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اہم کاموں کا آغاز صبح کے وقت فرمایا کرتے تھے۔ علماء نے بھی اس حدیث کی روشنی میں لکھا ہے کہ علم حاصل کرنے، عبادت، تجارت اور دیگر اہم کاموں کے لیے صبح کا ابتدائی وقت نہایت بابرکت ہے۔ مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ نے بھی لکھا ہے کہ صحابہ کا تجربہ بھی اس کے متعلق ہوچکا ہے کہ وہ حضرات اس سنت پر عمل کی برکت سے بہت فائدے اٹھا چکے ہیں۔ فقیر نے بھی تجربہ کیا کہ صبح سویرے کاموں میں بہت برکت ہے۔([3])
اسی لیے وقت پر سونے کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ صبح جلد بیدار ہونا آسان ہو جاتا ہے۔ نمازِ فجر کی پابندی، تلاوتِ قرآن، تعلیم پر توجہ اور دن بھر کے کاموں میں چستی اسی معمول کی بدولت نصیب ہوتی ہے۔
آج کل بہت سی بچیاں موبائل فون، سوشل میڈیا اور دیگر غیر ضروری مصروفیات کی وجہ سے رات دیر تک جاگنے کی عادی ہو تی جا رہی ہیں۔ یہ عادت صرف نیند ہی کو متأثر نہیں کرتی بلکہ صحت، تعلیم، اخلاق اور روزمرہ نظم و ضبط پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔ صبح دیر سے اٹھنے کی وجہ سے نماز، تعلیم اور گھریلو معمولات بھی متأثر ہونے لگتے ہیں۔
حالانکہ طبی اعتبار سے بھی وقت پر سونا بے شمار فوائد کا حامل ہے۔ بچپن اور نوجوانی میں گہری نیند جسمانی نشوونما میں مدد دیتی ہے، ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے اور جسم کے دفاعی نظام کو بہتر کرتی ہے۔ اچھی نیند سے دماغی صلاحیتیں، یادداشت اور سیکھنے کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ مزاج میں خوشگواری اور جذباتی توازن بھی برقرار رہتا ہے چڑچڑے پن سے نجات ملتی ہے اسی طرح مناسب نیند ہارمونز کے توازن، جلد کی تازگی، جسمانی توانائی اور روزمرہ سرگرمیوں میں بہتری کا سبب بنتی ہے۔ بچپن سے نیند کا منظم معمول مستقبل میں بھی اچھی صحت برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
والدین، خصوصاً والدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر میں ایسا ماحول بنائیں کہ رات کو جلد سونے کا معمول ہو۔ اگر بڑے خود رات دیر تک جاگتے رہیں تو بچیوں میں جلد سونے کی عادت پیدا کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح بچیوں کو سونے سے پہلے باوضو ہونے، مسنون دعائیں پڑھنے، آیت الکرسی اور دیگر مسنون اذکار پڑھنے کی عادت بھی سکھائی جائے بلکہ کیا ہی اچھا ہو جو امیرِ اہلِ سنّت کے رسالے ”ثواب بڑھانے کے نسخے“ سے سوتے وقت کی جانے والی اچھی اچھی نیتیں بھی کروائی جائیں تاکہ انہیں جسمانی آرام کے ساتھ روحانی سکون بھی نصیب ہواور ان کا سونا حصول ثواب کا باعث بھی ہو۔
مختصر یہ ہے کہ وقت پر سونا اور وقت پر جاگنا کوئی معمولی عادت نہیں بلکہ ایک صحت مند، بااخلاق، منظم اور کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔ یہی عادت بچیوں کی دینی، تعلیمی، گھریلو اور آئندہ ازدواجی زندگی پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچپن ہی سے اپنی بیٹیوں میں اس بہترین عادت کو پروان چڑھائیں تاکہ وہ دنیا و آخرت کی بھلائی حاصل کر سکیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* نگران عالمی مجلس مشاورت (دعوتِ اسلامی) اسلامی بہن
Comments