حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ

روشن ستارے

حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ


دراز قد، دبلے پتلے مگر چست بدن کے مالک، سر اور داڑھی کے بالوں میں مہندی کی رنگت، پاکیزہ اور نورانی چہرے والی شخصیت جنہیں دیکھ کر آنکھوں کو راحت، دل کو فرحت اور ایمان کو حلاوت نصیب ہوتی، ([1])فقط گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی تھے بےحد خوش اخلاق، منکسر المزاج، شرم و حیا کے پیکر،عابد و زاہد ہونے میں اپنی مثال آپ، مسلمانوں کے درمیان ہوتے تو خوش اخلاقی اور ملنساری کا مجموعہ ہوتے، دشمنان ِ اسلام کے خلاف ایک بپھرے ہوئے شیر اور تیز تلوار کی مانند نظر آتے، جنگی امور کے ماہر ایسے کہ ان کی تدابیرسے میدانِ جنگ کا نقشہ بدل جاتا، ذہین ایسے کہ بڑے سے بڑا مشکل مرحلہ بآسانی حل ہوجاتا، سپہ سالار ایسے کہ ادنیٰ (کسی عام سپاہی) کو بھی شکایت کا موقع نہ ملتا، ظرف اتنا بڑا کہ معزول ہونے کی خبر پہنچی تو مسکرائے اور لوگوں میں نئے سپہ سالارکے آنے کا اعلان کیا،([2]) ماتھے پہ فتوحاتِ شام کا سہرا بندھا، ([3])شام کی گورنری کا پروانہ ملا تو کئی دن تک اسے چھپائے رکھا،([4])اس عظیم جرنیل کا اصل نام تو ” عامر بن عبدُ اللہ بن جراح“ ہے مگر ” ابوعبیدہ بن جراح‘‘کے نام سے عالَم میں شہرہ ہوا۔

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ خاندانِ قریش کے بہت ہی نامور اورمعزَّز فرد تھے۔ ساتویں پشت پر خاندانی سلسلہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے نسب سے مل جاتا ہے۔ ابتداہی میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت ِ اسلام پر لبیک کہہ کر اسلام قبول کیا اور جاں نثاری کے لیے بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہوگئے۔([5])

 ان دس خوش نصیب صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کی فہرست میں شامل ہوئے جو ایک ساتھ جنتی ہونے کی بشارت سے نوازے گئے، دو عالم کے مالک و مختار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مَعِیَّت میں تمام غزوات سے بہرہ مند ہوئے، ایک مرتبہ حبشہ کی طرف تو دوسری مرتبہ مدینۂ منورہ کی جانب ہجرت کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔([6])

ایک مرتبہ پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اہلِ نجران سے ارشاد فرمایا:میں تمہارے پاس ایک ایسا امین بھیجوں گا جو ویسا ہی امین ہے جیسا اسے ہونا چاہیے۔ پھر حضور نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف بھیجا۔([7])

سرورِ کائنات صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک موقع پرارشاد فرمایا: ہر اُمّت میں ایک امین ہوتا ہے اور اے امت! ہمارے  امین ’’ابو عبیدہ بن جراح‘‘ ہیں۔([8])

حکیمُ الامّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں: خیال رہے کہ یہ صفت تمام صحابہ میں تھی مگر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ میں کامل طور پر تھی، حضرت سیدنا ابو عبیدہ میں امانت داری کے سوا اور بہت صفات تھیں مگر یہ صفت نمایاں تھی اس لیے فرمایاکہ اس امت کے امین ”ابو عبیدہ “ ہیں اس سے نہ تو یہ لازم ہے کہ باقی صحابہ امین نہ تھے، نہ یہ کہ جناب ابو عبیدہ میں سوائے امانت داری کے اور کوئی صفت نہ تھی۔([9])

غزوۂ اُحد میں جب تمام نبیوں کے سرور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے رخسار مبارک، خود (یعنی جنگ میں پہنی جانے والی ٹوپی) کی کڑیاں پیوست ہونے سے زخمی ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر تڑپ اٹھے اور عشقِ رسول کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس پہنچ کر ان کڑیوں کو اپنے دانتوں سے نکالنے لگے، پہلی کڑی نکلی تو آپ کا سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا دوسری کڑی نکلی تو دوسرا دانت بھی اپنے محبوب کریم آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر قربان ہوچکا تھا۔([10])

حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بڑے زاہد تارکُ الدنیا تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام تشریف لائے تو لشکرِ اسلام کے سپہ سالارسےملاقات کے لیے آنے لگے، آپ ہرایک سے ملاقات کرتے اور پوچھتے:میرے بھائی ابوعبیدہ کہاں ہیں؟ کچھ دیربعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ گلے لگ گئے اور فرمانے لگے کہ میں تمہارے گھر ٹھہروں گا، حکمرانوں کے لیے آپ کے ایام ِ زیست، سامان اور گھر کی حالت لائقِ تقلید ہے گھرکیا تھا بس! ایک جھونپڑا جس کی نہ کوئی بناوٹ تھی نہ سجاوٹ، سامانِ حیات میں نہ کوئی جگمگاہٹ تھی نہ جھلملاہٹ، لمحاتِ زندگی میں نہ کوئی گھبراہٹ تھی نہ بلبلاہٹ، کل سامان تلوار،ڈھال اور زین پر مشتمل تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا:کیاگھر میں یہی سامان ہے؟ عرض کی: یہی سامان منزل تک پہنچادے گا، فرمایا: مہمان کو کچھ نہیں کھلاؤگے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے تھیلے سے روٹی کے کچھ سوکھے ٹکڑے نکال کر پیش کر دیے جنہیں دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آب دیدہ ہوگئے اور روتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے ابو عبیدہ!دنیا تمہیں اپنے چنگل میں پھنسانہ سکی۔([11])

ایک مرتبہ آپ رضی اللہ عنہ کجاوے کی چٹائی پر پالان کو تکیہ بنائے ہوئے لیٹے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، آپ رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں دیکھ کر پوچھا: آپ دوسروں کی طرح آرام دہ بستر پر کیوں نہیں لیٹتے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے عرض کی:میرے آرام کے لیے یہی کافی ہے۔([12])

جنّت کی سند عطا ہونے کے باوجود تمام صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان کبھی بھی اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے غافل نہ رہے بلکہ قیامت کی ہولناکیاں، میدانِ محشر کی وحشتیں اور اعمال کا احتساب یہ تمام امور ِ آخرت انہیں کسی وقت چین نہ لینے دیتے حضرت سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی بھی یہی کیفیت رہتی تھی چنانچہ آپ پر جب خوف ِ خدا کا غلبہ ہوتا، دنیا کی آزمائشی زندگی اور اس کے فتنوں کو دیکھتے تو بے ساختہ پکار اٹھتے: کاش! میں کوئی مینڈھا ہوتا جسے گھر والے ذبح کرتے اور پکاکر اس کا گوشت کھالیتے اور شوربا پی لیتے۔([13])

عالمی مذہبی اسکالر مولانا محمد الیاس قادری صاحب فرماتے ہیں کہ صَحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان اشرفُ المخلوقات اور عظمتِ انسانی کے مفہوم کو یقیناً ہم سے زیادہ سمجھتے تھے۔ ان نفوسِ قدسیَّہ نے مَعَاذَ اللہ بطورِ ناشکری نہیں، خوفِ خداسے مَغلوب ہوکر اور اللہ کریم کی خُفیہ تدبیر سے ڈرتے ہوئے بطورِ عاجزی کبھی دَرَخت،کبھی خاک،کبھی پرندہ توکبھی چوپایہ بن کر دنیا میں نہ آنے پر اپنے لیے تشویش کا اظہار فرمایا!کیونکہ جانور وغیرہ کو بُرے خاتمے کا کوئی خوف نہیں،اِسے نَزْع کی سختیوں، قبر کی وَحشتوں، اور جہنّم کی سزاؤں سے واسِطہ نہیں پڑے گا۔ بلکہ تمنّا کیا کرتے تھے کہ کاش!ہم پیدا ہی نہ ہوئے ہوتے! ([14])

کاش کہ میں دنیا میں پیدا نہ ہوا ہوتا

قبر و حشر کا سب غم ختم ہو گیا ہوتا ([15])

ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چار سو دینار آپ رضی اللہ عنہ کو بھجوائے تو آپ نے کنیز کو بلاکر فرمایا:اتنے دینار فلاں کے گھر اور اتنے دینا ر فلاں حاجت مند کے گھر پہنچادو، ابھی دو دینار باقی تھے کہ گھر والوں کو علم ہوگیا لہٰذا انہوں نے عرض کی: اللہ کی قسم! ہم بھی مسکین ہیں، ہمیں بھی عطا فرمادیں،چنانچہ دونوں دینار آپ رضی اللہ عنہ نے گھر والوں کو دے  دیے۔([16])

شام میں طاعون کی وبا پھوٹی تو آپ بھی  اس بیماری میں مبتلا ہوگئے،18سنِ ہجری میں نماز پڑھنے جارہے تھے کہ راستے میں ہی انتقال ہوگیایوں 58برس کی عمر میں طاعون کے سبب شہادت کا عظیم اور بلند رتبہ پالیا۔([17])

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نماز ِ جنازہ پڑھائی۔([18]) آپ رضی اللہ عنہ کا مزار پُر انوار ملکِ شام کے شہر” غور بیسان“ میں مرجع ِخلائق ہے۔([19])

شارحِ مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہفرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے مزارِ اقدس پر ایک عجیب قسم کی جلالت طاری ہے جو یقیناً ان کے شایانِ شان ہے اور جس وقت مزارِ اقدس کی زیارت سے مشرف ہوا تو مجھ پر کئی عجائبات آشکار ہوئے۔([20])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی



([1])طبقات ابن سعد، 3/316

([2])فتوح الشام،1/24

([3])الاصابۃ، 3/476

([4])فتوح الشام،1/86

([5])طبقات ابن سعد،1/157

([6])طبقات ابن سعد،3/313،اسد الغابہ،2/125

([7])صحیح البخاری، کتاب فضائل اصحاب النبی،الحدیث:۳۷۴۵،ج۲،ص۵۴۶

([8])بخاری،2/546،545،حدیث:3745،3744

([9])مراٰۃ المناجیح،8/434-مرقاۃ المفاتیح،10/488،تحت الحدیث:6118

([10])طبقات ابن سعد،3/313

([11])الزہد لابی داؤد، ص126،رقم:123

([12])مصنف ابن ابی شیبۃ،8/173،رقم:1

([13])طبقات ابن سعد،3/315

([14])سگ مدینہ کہنا کیسا؟،ص16

([15])وسائل بخشش(مُرَمَّم)،ص158

([16])الزھد للامام احمد،ص283،رقم:1562

([17])اسد الغابۃ،3/127،126

([18])معجم کبیر،1/155،رقم:363

([19])معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم،1/160

([20])تہذیب الاسماء واللغات للنووی،2/537


Share