مسلمان کی سفارش
حضرت سیدنا ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ
كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِذَا اَتَاهُ طَالِبُ حَاجَةٍ اَقْبَلَ عَلَى جُلَسَائِهِ فَقَالَ اشْفَعُوْا تُؤْجَرُوْا وَيَقْضِي اللَّهُ عَلٰى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا اَحَبَّ۔([1])
جب کوئی حاجت مند بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتاتو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے ہم نشین صحابہ کرام علیہمُ الرّضوان کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے:’’اے لوگو! سفارش کرو اَجر پاؤگے اور اللہ پاک اپنے نبی کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو وہ پسند فرماتا ہے۔‘‘
قرآن وحدیث میں تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا گیا ہے، مسلمانوں کے مابین اس دینی رشتے کو قائم کرنے کی بنیادی وجہ بھی یہ ہے کہ تمام مسلمان آپس میں اتحاد واتفاق، پیار ومحبت سے رہیں، ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تکالیف کو اپنی تکالیف سمجھے، اسے جب کوئی پریشانی لاحق ہو تو اسے دور کرنے کی کوشش کرے۔ اگر وہ بذاتِ خود اپنے مسلمان بھائی کا مسئلہ حل کرسکتا ہے تو خود حل کرے ورنہ کسی ایسے مسلمان بھائی سے اُس کے مسئلے کو حل کرنے کی سفارش کرے جو اُسے حل کرسکتا ہو۔ کسی مسلمان بھائی کی مدد کرنے کےلیے دوسرے مسلمان بھائی سے سفارش کرنا بھی دراصل اُسی کی مدد کرنا ہےجبکہ وہ سفارش شرعی طور پر جائز ہو۔
سفارش کرنا مستحب ہے:
علامہ بدر الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہفرماتے ہیں:’’معنیٰ یہ ہیں کہ تم میں سے بعض بعض کی سفارش کریں تو اِس میں تمہارے لیے اَجر ہے۔ جب تم نے مجھ سے کسی حاجت مند کی سفارش کی اور میں نے اللہ پاک کی قضا کے مطابق اُس کی حاجت کو پورا کردیا تو تمہیں بھی اَجر ملے گا۔‘‘سفارش کرنا مستحب ہے قرآن و حدیث میں اِس کی ترغیب دلائی گئی ہے چنانچہ اللہ پاک کا فرمانِ عالیشان ہے:
مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَاۚ-
ترجَمۂ کنزالعرفان: جو اچھی سفارش کرے اس کے لیے اس کا اجر ہے ۔([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ پاک بھی اس کی مدد فرماتا رہتا ہے۔‘‘([3])
بھلائی کرنےکی ترغیب:
علامہ محمد بن علان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’اِس حدیثِ پاک میں بھلائی کرنے، بھلائی کا سبب بننے، کسی کی مصیبت پر مطلع ہونے کی صورت میں اُس کی سفارش کرنے اور کمزور کی مدد کرنے پر اُبھارا گیا ہے کیونکہ ہر کسی کی افسر تک رسائی نہیں ہوتی اور ہر شخص اپنی بات دوسرے کو سمجھانے پرقادر نہیں ہوتا (تو جو افسر تک پہنچ رکھتے ہیں اور دوسرے کی بات سمجھا سکتے ہیں وہ سفارش کریں اور حاجت مند کا مسئلہ حل کروادیں) لیکن جن کاموں کی سفارش کرنا جائز نہیں وہ اِس حدیث میں داخل نہیں۔‘‘([4]) (مثلا ًکسی نا اہل کو منصب دلوانے کی سفارش یا گناہ کے کام کی سفارش یا ایسی سفارش جس سے دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہو۔)
سفارش کرنے والے کو ہر حال میں ثواب ملے گا:
مذکورہ حدیث میں مسلمان کی سفارش کرنے والے کو ثواب کی بشارت دی گئی ہےکیا مسلمان کی سفارش کرنے والے کو ہر حال میں ثواب ملے گا؟ چنانچہ علامہ بدر الدین عینی رحمۃُ اللہ علیہ حدیث پاک کے اِن الفاظ (اللہ پاک اپنے نبی کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو وہ پسند فرماتا ہے)کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”یہ اِس بات کا بیان ہے کہ جس نے سفارش کی اسے ہر حال میں ثواب ملے گا خواہ اُس کی سفارش قبول ہو یا نہ ہو۔ کسی بڑے کو اپنے سے چھوٹے آدمی سے سفارش کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیےاور اگر وہ اُس کی سفارش قبول نہ کرے تو اسے ایذا بھی نہیں دینی چاہیے بےشک حضور نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت سیدتنا بریرہ رضی اللہ عنہا سے سفارش کی(یعنی بطورِ مشورہ ارشاد فرمایا) کہ وہ اپنے سابقہ شوہر سے رجوع کرلیں لیکن انہوں نے معذرت کرلی۔‘‘([5])
” اللہ پاک اپنے نبی کی زبان پر وہی جاری کرتا ہے جو وہ پسند کرتا ہے۔“اِس کی شرح کرتے ہوئے علامہ محمد بن علّان شافعی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’یعنی اپنے علمِ ازلی کے مطابق جس کا ارادہ کرتا ہےکہ اس کی سفارش کا معاملہ ہوگا، اس کی مراد حاصل ہوگی یا نہیں وغیرہ ۔ پس سفارش اور اُس پر مرتب ہونے والا ثواب مطلوب ہےجو کہ سفارش کرنے پر ہر حال میں ملے گا خواہ علمِ الٰہی میں اُس کا حُصُول مقدر ہو یا نہ ہو۔‘‘([6])
حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ مسلمان کی قول یا فعل سے مدد کرنے پر اجر ہے اگر کسی سے کوئی لغزش ہوجائے اور اس پر حد نہ ہو تو اس کی سفارش کرنا جائز ہے جبکہ وہ اس پر شرمندہ ہو اور معافی کا طلبگار ہو، حاکمِ وقت کو بھی چاہیے کہ وہ اس کو معاف کردے لیکن جو غلط کام پر مُصِر ہو اس کی سفارش نہیں کی جائے گی اور حاکمِ وقت بھی اس کو معاف نہ کرے تاکہ لوگ اس سے باز رہیں۔ حدود(یعنی جرائم کی وہ سزائیں جو شریعتِ مطہرہ نے مقرر کی ہیں، ان)میں سفارش کرنا جائز نہیں۔‘‘([7])
ایسے شخص کی سفارش کرنا سخت منع ہے جس پر کسی گناہ کے سبب حد واقع ہونے کا فیصلہ ہوگیا ہو یا کسی مسلمان کی حق تلفی ہوتی ہو۔ غزوۂ فتح مکہ کے دوران قبیلہ مخزومیہ کی ایک عورت نے چوری کی تو اس کے قبیلہ کے لوگ بولے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے اس کی سفارش کون کرے گا؟ حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ جو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے لاڈلے ہیں ان کے سوا سفارش کی جرأت کون کرسکتا ہے؟ چنانچہ وہ لوگ آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سفارش طلب کرنے آئے۔ جب حضرت سیدنا اُسامہ رضی اللہ عنہ نے اس عورت کے متعلق سفارش کی تو سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا چہرہ انور متغیر ہوگیا، اور ارشاد فرمایا :’’تم مجھ سے اللہ پاک کی حدود میں سے ایک حد کے متعلق سفارش کر رہے ہو۔‘‘ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی:’’یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میرے لیے مغفرت طلب فرمائیے۔‘‘ پھر آپ نے خطبہ دیا، اللہ پاک کی حمد و ثنا بیان کی اور ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! تم سے پہلی قومیں اِس لیے ہلاک ہوگئیں کہ جب اُن میں سے کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو وہ اُس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور یعنی غریب آدمی چوری کرتا تو اُس پر حد قائم کرتے۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کی جان ہےاگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اُس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔“ ([8])
ناجائز سفارشات کاسیلاب، لمحۂ فکریہ:
پیارے اسلامی بھائیو!آج کل ہمارے معاشرے میں سفارش کا رُجحان بہت عام ہے، ایک معمولی کام سے لے کر کسی بھی بڑے کام میں سفارش جُزوِ لازم کی حیثیت اختیار کرچکی ہے، بڑے بڑے شہروں ، دِینی ودُنیوی تقریباً تمام اداروں میں سفارش کا کلچر عام ہوچکا ہے، کسی کو کوئی نوکری لینی ہو تو اس کے لیے سفارش، کسی ادارے میں داخلہ لینا ہوتو اس کے لیے سفارش،کوئی فارم جمع کروانا ہوتو اس کے لیے سفارش، کوئی بل جمع کروانا ہوتو اس کے لیے سفارش، کوئی پروجیکٹ لینا ہوتو اس کےلیے سفارش، کوئی زمین خریدنی ہوتو اس کےلیے سفارش، کوئی اِدارہ، اِنسٹیٹیوٹ، اسکول، کالج، یونیورسٹی، فیکٹری وغیرہ کھولنی ہو تو اس کےلیے سفارش، اپنے موجودہ عہدے سے اوپر کے عہدے کے لیے ترقی کرنی ہوتو اس کےلیے سفارش، کوئی دکان کھولنی ہوتو اس کےلیے سفارش، کوئی مکان بیچنا ہوتو اس کے لیے سفارش، الغرض کوئی کام بغیر سفارش کے نہیں ہوتا۔ یاد رکھیے، اگر سفارش کسی اہل شخص کے لیے ہے یا کسی جائز کام کے لیے ہے یا کسی کا صحیح حق دلانے کے لیے ہے یا کسی کو ظلم سے بچانے کے لیے ہے یا اس کے علاوہ کوئی بھی ایسی صورت ہے کہ جس میں شرعاً سفارش کرنے کی اجازت ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ بسا اوقات تو ایسی سفارش کرنا مستحب اور باعث اجروثواب ہے۔ لیکن اگر سفارش کسی نااہل شخص کے لیے ہو، یا کسی ناجائز کام کے لیے ہو یا کسی کو ناجائز حق دلانے کے لیے ہو یا اِس سفارش میں کسی دوسرے مسلمان کی حق تلفی ہو، اس پر ظلم ہوتا ہو، یا کسی ایسےشخص کے حق میں سفارش کی جس پر حد واجب ہو چکی یا اس کے علاوہ کوئی بھی ایسی صورت ہو جس کی شرعاًاجازت نہیں تو ایسی سفارش کرنا ناجائز وحرام ، گناہ کبیرہ اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ ناجائز سفارشات میں دنیا وآخرت دونوں کی تباہی وبربادی مقدر ہے، ناجائز سفارشات معاشرے کے بگاڑ کا بہت بڑا سبب ہیں، ناجائز سفارشات محبتوں کو مٹاتی اور نفرتوں کو بڑھاتی ہیں، ناجائز سفارشات قابل اور اَہل لوگوں کے ضائع ہونے کا بہت بڑا سبب ہیں، ناجائز سفارشات رِزق میں تنگی کا باعث ہیں، الغرض ناجائز سفارشات میں کوئی بھلائی نہیں، یقیناً سمجھداری اسی میں ہے کہ ناجائز سفارشات کو ترک کرکے فقط جائز سفارشات ہی کی جائیں، اِس سے اَہل اور باصلاحیت لوگ سامنے آئیں گے۔ اِس کی برکت سے ایک بہترین ، پُراَمن اور ترقی یافتہ معاشرے کے قیام میں مدد ملے گی۔ اِن شآءَ اللہ
خلاصہ یہ ہے کہ:
(1)تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں، ایک جسم کی مانند ہیں، سب کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی خیرخواہی اورمدد کریں۔
(2)اگر کسی مسلمان بھائی کی شرعاً جائز سفارش کے ذریعے مددکرنی پڑے تو اُس کی مدد کرنی چاہیے۔
(3)اگر کوئی شخص اہل ہو یا کسی کا جائز حق دلانا ہو یا کسی کی ایسی خطا معاف کروانی ہو جس پر وہ شرمندہ ہے اور اس پر شرعی حد بھی نہیں ہے تو ایسے افراد کے حق میں سفارش کرنا بالکل جائز ہے۔
(4)نااہل کے لیے، ظالم کے لیے، کسی مسلمان کا حق تلف کرنے کے لیے یا حُدُودُ اللہ کو معاف کروانے کے لیے سفارش کرنا حرام ہے۔
(5)جائز سفارش ضرور کرنی چاہیے کہ جائز سفارش کرنے والے کو ہر حال میں اس کی اچھی نیت کا ثواب ملے گا اگرچہ اس کی سفارش قبول ہو یا نہ ہو۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ مسلمانوں کو آپس میں اتفاق اور اتحاد نصیب فرمائے ، ایک دوسرے کی مدد کرنے اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں کام آنے کا جذبہ عطا فرمائے، جائز سفارش کرنے اور ناجائز سفارش سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ذمہ دار شعبہ فیضانِ حدیث، اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ کراچی
[1]…مسلم، ص1414،حدیث:2627
[2]… پ5،النسآء:85
[3]…عمدۃ القاری،6/410،تحت الحدیث:1432
[4]…دلیل الفالحین،2/42،تحت الحدیث:247
[5]…عمدۃ القاری،6/410،تحت الحدیث:1432
[6]…دلیل الفالحین، 2/42،تحت الحدیث:247
[7]…اکمال المعلم،8/107،تحت الحدیث:2627
[8]…بخاری، 3/108،حدیث:4304

Comments