محبوبیت مطلقہ؛ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ایک خاصہ

محبوبیت مطلقہ؛ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ایک خاصہ

رئیس المتکلمین مفتی نقی علی خان رحمۃُ اللہ علیہ نے سیرتِ مبارکہ پر اپنی بہت ہی پیاری کتاب”سرورالقلوب“ میں حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خصائصِ مبارکہ کو بہت دلنشین انداز میں تحریر فرمایا ہے، انہی خصائص میں سے ایک خاصہ ملاحظہ کیجیے: (حضور نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خصائص میں سے ایک خاصہ) محبوبىتِ مطلقہ ہے کہ آپ باعتبارِ جملہ صفات و جہات کے ہر زمانہ مىں تمام خلائق بلکہ خود خالق کے محبوب ہىں مثلاً عالم سے بسبب علم کے اور زاہد سے بسبب زہد کے اور حسىن سے بسبب حسن کے اور عادل سے بسبب عدل کے محبت ہوتى ہے اور آپ کے جملہ صفات ظاہرى و باطنى واختىارى و غىر اختىارى متساوىہ الا قدام ہىں۔حسىن سے اس وقت تک محبت رہتی ہے جب تک حسن باقى ہے، جب حسن جاتا رہتاہے محبت بھى جاتى رہتى ہے اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کى ہر صفتِ کمال،  زوال سے منزہ و مبرا بلکہ یَومًا فَیَومًا (روز بروز،دن بدن) ترقى پر ہے:

وَ لَلْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰىؕ(۴) ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سرکار کی محبت ہرزمانہ و وقت میں  رہی:

اور بعض اشخاص سے معاصرىن محبت رکھتے ہىں نہ لاحقىن،  اور بعضوں سے لاحقىن محبت رکھتے ہىں نہ معاصرىن([2])،  مگر آپ(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) سے ہر وقت اور ہر زمانہ مىں اہلِ اىمان کو محبت رہى ہے اور اسى طرح بعض اشخاص سے اس لىے کہ اپنے دوست ہىں محبت اور اس جہت سے کہ دشمن سے ملتے ہىں،  کدورت ہوتى ہے مگر آپ(صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کى ذات پاک مىں کوئى جہت منافى محبوبىت کى نہىں بعض لوگوں سے بعض خلق کو محبت ہوتى ہے اور بعض کو نہىں مگر اس جناب سے تمام جنّ اور فرشتے اور انسان بلکہ وَحَش و طَىر محبت رکھتے ہىں سوا ان کے جن کو جناب بارى نے روز ازل بدنصىب کىا اور لوح محفوظ مىں جہنمى لکھ دىا۔

حضور کے شہر کى قسم یاد فرمانا:

اے عزىز خلق کا کىا ذکر ہے خود خالق ان سے محبت رکھتا ہے غور کر کہ کس محبت سے ان کے شہرو وطن کى قسم کھاتا ہے:

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۲) ([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

لَا زائد ہ ىعنى مىں اس شہر کى قسم کھاتا ہوں اس لىے کہ تو اس شہر مىں رہتا ہے۔ ابن عباس رضى اللہ عنہ کہتے ہىں: مىں نے نہ سُنا کہ خد انے محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سوا کسى کے شہر اور عمر کى قسم كھائی ہو۔([4])

خداچاہتا ہے رضائے محمد:

ىوسف علىہ السلام کو دوھ پىتے بچہ کى گواہى([5]) اور موسىٰ علىہ السلام کو پتھر کے کپڑے لے جانے([6]) اور عىسى علىہ السلام کو پىدا ہوتے ہى گوىائى بخشنے سے([7]) دشمنوں کى بدگمانى اور بدظنى سے پاک کىا۔عائشہ صدىقہ پر جب بہتان اٹھا خود گواہى دى([8]) اگر چاہتا تو اىک اىک درخت اور پتھر ان کى طہارت پر گواہى دىتا مگر منظو رىہ تھا کہ اپنے پىارے کى بىوى کى طہارت پر خود گواہى دوں۔ہر شخص اس کى رضا چاہتا ہے اور وہ محمد (صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کى رضا چاہتا ہے:

وَ لَسَوْفَ یُعْطِیْكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰىؕ(۵) ([9])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا۪- ([10])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

حضور کى محبت خدا کى محبت:

اے عزىز! غور کر کہ پروردگار تقدس و تعالىٰ نے سوا ان کے کس کى زندگى کى قسم کھائى ہے:

لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِیْ سَكْرَتِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۷۲) ([11])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اور کس کے شہر کى زمىن اپنى طرف نسبت فرمائى:

اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَاؕ- ([12])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

کس کى محبت کو اپنى محبت کے ساتھ ذکر کىا اور کس کى اطاعت کو اپنى طاعت سے مقرون فرماىا([13]) اور کس کى بىعت کو اپنى بىعت کہا اور کس کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دىا([14]) ىہاں تک کہ آپ کے فرمانبرداروں کو اپنا محبوب فرماىا:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ ([15])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

عائشہ صدىقہ آپ سے عرض کرتى ہىں: ىارسول اللہ !مىں تمہارے رب کو دىکھتى ہوں کہ تمہارى خواہش و مراد مىں شتابى(یعنی جلدی) کرتاہے ىعنى وہ ہى کام کرتا ہے جس مىں آپ کى خوشى دىکھتا ہے۔([16])

اور ابن عباس اور ابن ابى الجوزاء تا بعى کہتے ہىں کہ خدا نے محمد سے کسى کو زىادہ بزرگ نہ پىدا کىا اور سوا آپ کے کسى کى عمر و حىات کى قسم نہ کھائى۔([17])

صدیقِ اکبر کی  جانثاری:

اے عزىز! اثر اسى محبت کا ہے کہ اىک عالم اس جناب پر شىدا ہے، سىنکڑوں دل فگار گھر بار چھوڑ دنىا و دولت سے مونہہ موڑ اس کے کوچے مىں آپڑے اور لاکھوں جان باز اس کے شوق مىں محمد محمد کہتے جان سے گزر گئے۔

 صدىقِ اکبر نے تمام مال و متاع آپ کى محبت مىں صَرف کردىا ىہاں تک کہ گھنڈى تکمے کے لائق کپڑا گھر مىں نہ نکلا،  کملى مىں کانٹے لگائے۔جب وقت جاں نثارى کا آىا گھر بار،  مال و دولت،  زن و فرزند،  عزىز و قرىب،  شہر و طن چھوڑ کر آپ کے ساتھ ہولىے،  غارِ تىرہ و تاریک مىں بے دھڑک چلے گئے اور اسے صاف کرکے سوراخ اس کے اپنے بدن کے کپڑوں سے بند کىے،  اىک سوراخ باقى رہا،  اس پر اپنا انگوٹھا رکھ دىا اور آپ کو بلاىا،  آپ نے ان کے زانو پر آرام فرماىا اس سوراخ باقى رہا اس پر اپنا انگوٹھا رکھ دىا اور آپ کو بلاىا آپ نے ان کے زانو پر آرام فرماىا اس سوراخ مىں اىک سانپ مدت سے بہ تمنائے دىدارِ سىد ابرار رہتا تھا ہر چند ابوبکر کے انگوٹھے پر اس نے سرا پنا رگڑا مگر آپ نے اس خىال سے کہ جان جائے مگر محبوب کى نىند مىں خلل نہ آئے پاؤں اپنا نہ ہٹاىا اس نے انگوٹھے مىں اس زور سے کاٹا کہ ان کے آنسو نکل کر حضرت کے چہرہ مقدس پر پڑے آپ بىدار ہوئے حال پوچھا عرض کىا آپ نے اپنا تھوک وہاں پر لگا دىا زہر نے کچھ اثر نہ کىا، مگر بعض علما کہتے ہىں آخر عمر مىں اثر اس کا ظاہر ہوا اور اسى صدمہ سے انتقال فرماىا۔([18])

وصالِ ظاہری کے وقت صحابہ کرام  کا غم:

عمر بن خطاب رضى اللہ عنہ جس وقت مسلمان ہوئے مرنے پر مستعد ہو کر مجمع کفار مىں بآواز بلند اذان کہى([19]) اور حضرت کے انتقال کے دن اىسى بے ہوشى ہوگئى کہ دروزاہ مسجد پر تلوار لے کر آبىٹھے کہ جو شخص کہے گا محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انتقال فرماىا اسے قتل کردوں گا۔([20]) عثمانِ غنى کى اس دن شدت غم سے زبان بند ہوگئى۔([21]) مولىٰ على کئى دن بے حواس رہے۔([22]) جس روز حضرت نے مدىنہ کو ہجرت کى بے خوف و خطر حضرت کے بستر پر سورہے ىہ خىال نہ کىا کہ کفار حضرت کے قتل پر مستعد ہىں شاىد ان کے شبہ مىں مجھے مار ڈالىں۔([23]) بلال امىہ کے غلام تھے جب مسلمان ہوئے امىہ ان کا دشمن ہوگىا دھوپ مىں گرم رىت پر لٹاتا اور کانٹے بدن مىں چبھوتا اور کوڑے مارتا اور کہتا اب کبھى محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا نام نہ لىنا جب پھر ہوش آتا کہتے ”احد “”احد“ پھر وہ ظالم اسی طرح ان کو اىذا دىتا ىہاں تک کہ صدىق اکبر رضى اللہ عنہ نے مول لے کر آزاد کىا۔([24]) جس روز انتقال فرماتے تھے عورت ان کى کہنے لگى ”واکرباہ “،  بڑى سختى کا وقت ہے فرماىا ”واطرباہ“ بڑى خوشى کا وقت ہے کہ اب ہم محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور ان کے ىاروں سے ملىں گے۔([25]) عبداللہ بن زىد انصارى اپنے باغ مىں مىوہ چنتے تھے کہ حضرت کے انتقال کى خبر پہنچى،  جناب بارى مىں دعا کى الٰہى مىں تىرے حبىب کے پاس سے ابھى آىا ہوں نہىں چاہتا کہ ان کے قدم دىکھ کر دوسرے کا مونہہ دىکھو ں مىرى آنکھوں کو اندھا کردے کہ نظر مىرى روئے اغىار پر نہ پڑے دعا ان کى قبول ہوئى اور بىنائى جاتى رہى۔([26])

تقاضۂ محبت اور ہماری حالت:

اے عزیز! محبت اصل کار ہےجسے محبت نہیں اس کے ایمان میں نقصان ہے۔امام غزالی احیاء العلوم میں روایت کرتے ہیں،  سَرورِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:کسی كاایمان ٹھیک نہیں ہوتا جب تک خدا و رسول کو سب سے زیادہ دوست نہیں رکھتا، ([27])  اور محبت مستلزم طاعت ہے،  آدمی جسے چاہتا ہے اس کی فرمانبرداری اور استرضا میں شب و روز مصروف رہتا ہے،  پس دعوی محبتِ خدا و رسول بدون اتباعِ سنت اور دعوی کمال ایمان بدون محبت لاف و گزاف([28]) ہے،  اسی واسطے ارشاد ہوا:”کسی کو ایمان حاصل نہیں ہوتاجب تک خواہش اس کی میری شریعت کے تابع نہ ہوجائے۔([29])

اے عزىز! تو حرام و حلال کى مطلق پروا نہىں رکھتا باوجود اس کے دعوی محبت ،  تف برىں دعوىٔ غلط،  ذرا گرىبان مىں منہ ڈال اور خدا اور رسول سے شرما کہ کىا کہتا ہے اور کىا کرتا ہے۔رات دن تحصیل جاہ و مال میں مشغول اور شب و روز دنیا کے کاموں میں مصروف ہے کسی وقت خدا و رسول کا بھی دل میں خیال آتا ہے،  آئین قانون اور حکام دنیا کی باتیں کس شوق و ذوق سے سنتا ہے،  اگر کوئی شخص پھر پھر کہتا ہے فلاں حاکم نے یہ حکم دیا اور فلاں صاحب فلاں ضلع کو بدلہ گیا اور فلاں معاملے میں یہ چٹھی اور یہ سرکلر آیا تو ہرگز دل نہیں گھبراتا اور قرآن و حدیث سننے اور مجلس وعظ میں بیٹھنے کی گھڑی بھر تاب نہیں لا تا، اس وقت ہزاروں کام یاد آتے ہیں اور ناچ رنگ کی مجلس میں کوئی کام یاد نہیں آتا،  دنیا کا ہر معاملہ خوب تحقیق کرتا ہے اور مسائل کی تحقیق سے کچھ کام نہیں رکھتا،  عالم کے پاس جانے بلکہ مسجد میں نمازِ باجماعت پڑھنے سے عار آتی ہے اور معاملات دنیا کے  لیے  اہلکاروں کے گھر جانے سے عزت میں بٹہ نہیں لگتا،  اگر حاکم ملاقات کے   لئے   صبح کے وقت طلب کرتا ہے رات بھر نیند نہیں آتی اور جو بیٹھنے کا حکم دیتا ہے تو خوشی سے جامے میں نہیں سماتا،  حاکم حقیقی ہر روز پانچ بار اپنے دربار میں بلاتا ہے اور ہر رکعت میں ایک بار اپنے حضور بیٹھنے کا حکم فرماتا ہے اور تو نہ اس کا حکم قبول کرتا ہے اور نہ اس عزت و امتیاز سے خوش ہوتا ہے،  ہزاروں روپیہ فسق وفجور اسبابِ جاہ و تجمل میں اٹھانا آسان ہے اور ایک پیسہ زکوۃ کا دینا ناگوار،  رسوم ممنوعہ ترک کرنا وضعداری کے خلاف سمجھتا ہے اور امورِ خیر میں وضعداری کا بھی لحاظ نہیں،  ادنیٰ حیلے سے چھوڑ دیتا ہے بلکہ بعض ممنوعات شرع جن سے خدا و رسول ناراض ہیں خیر سمجھ لیا ہے اور ان کے ارتکاب میں نماز روزے سے زیادہ اہتمام کرتا ہےامیروں اور اہلکاروں کی تعظیم دل سے کرتا ہے اور علماء و مشائخ و سادات کی کچھ حقیقت نہیں سمجھتا،  کیا وصیت اپنے رسول کی بالکل بھلا دی کہ ”تم میں چھوڑنے والا ہوں دو چیزیں بھاری ایک کتاب اللہ دوسرے عترت اپنی“([30]) کہ نہ تیرے دل میں خادمانِ کتاب کی کچھ عزت رہی اور نہ اولاد نبی کی قدر و منزلت،  علماء کی طرف اس وقت رجوع کرتا ہے جب کسی جھگڑے میں فتوٰی لکھانے کی ضرورت ہوتی ہے،  کیا نماز و روزہ و حج و زکوٰۃ و تمام فرائض و واجبات اور بیع و شراء و اجارہ و مزارعت وغیرہ معاملات کے مسائل تجھے معلوم ہیں اور ان میں رعایت شرع کی کرتا ہے یا احکام شرعیہ صرف اسی صورت میں واجب العمل ہیں جب دو شخصوں میں جھگڑا ہو اور سوا اس کے دوسری تدبیر بھی ہاتھ نہ آئے،  یہ رجوع ہرگز اس  لئے  نہیں کہ شرع کی تیرے دل میں قدرومنزلت یا خدا کا حکم تجھے پسند ہے بلکہ اس غرض سے کہ اس کے ذریعے سے مال دنیا حاصل کرے،  اسی   لیے   اگر فتویٰ شرع کا موافق مطلب کے ہوتا ہے مانتا ہے،  ورنہ دوسری فکر میں پڑتا ہے اور اسے پھاڑ کر پھینک دیتا ہے،  باوجود اسکے بھی دعویٰ اسلام باقی ہے،  سبحان اللہ! یہ منہ اور یہ دعویٰ غور سے دیکھ پروردگار تقدس و تعالیٰ اس باب میں کیا فرماتا ہے:

فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠(۵۹) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖؕ-وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا(۶۰) ([31])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ان آیتوں سے صاف ظاہر ہے کہ خدا اور رسول کا حکم چھوڑ کر شیطان کی طرف رجوع کرنا اور اسے اپنے معاملات میں حاکم بنانا مسلمان کا کام نہیں۔



([1])ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک پچھلی تمہارے   لئے   پہلی سے بہتر ہے (پ30، الضحیٰ:4)

([2])یعنی بعض سے ان کے زمانے کے لوگ محبت کرتے ہیں، بعد والے نہیں ، جبکہ بعض سے بعد والے محبت کرتے ہیں ان کے زمانے کے نہیں

([3])ترجمہ کنزالایمان:مجھے اس شہر کی قسم کہ اے محبوب تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔ (پ30،  البلد: 1، 2)

([4])تفسیر طبری، 14/91 ، الحجر:الآیہ:72

([5])تفسیر بغوی،4/234

([6])بخاری ،2/442، حدیث:3404

([7])پ16،  مریم:29، 30

([8])پ18،النور:10تا26

([9]) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے (پ30، الضحیٰ:5)

([10])ترجمہ کنزالایمان: تو ضرور ہم تمہیں پھیردیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری خوشی ہے (پ2، البقرۃ :144)

([11]) ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب تمہاری جان کی قسم بیشک وہ اپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں (پ14، الحجر:72)

([12]) ترجمہ کنزالایمان: کیا اللہ کی زمین کشادہ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے (پ5،  النساء:97)

([13]) جیسا کہ آگے آنے والی آیت سے ظاہر ہے۔

([14])اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ-یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْۚ- ترجمہ کنزالایمان: وہ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ (پ26، الفتح:10)

([15])ترجمہ کنزالایمان: اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا (پ3،  اٰل عمرٰن:31)

([16])بخاری ،3/436، حدیث:5113-مسلم، ص592،حدیث:3631

([17])دلائل النبوۃ لابی نعیم ،63، رقم:21

([18]) مشكاة المصابيح،2/417،حدیث: 6034-سبل الہدیٰ والرشاد ، 3/240

([19])دیکھئے:صحیح ابن حبان،15/302، حدیث:6879

([20])الریاض النضرۃ ،1/143

([21])مواھب اللدنیہ ،4/548

([22])مواھب اللدنیہ ،4/548

([23])رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آج رات اپنے بستر پر نہ سوئیں، تو رسول کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جناب علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:میرے بستر پر سوجاؤ! اور میری یہ سبز چادراوڑھ لو، تمہیں ان کفار سے کوئی بھی نقصان نہ پہنچے گا۔(سیرت ابن ہشام،2/128)

([24])سیرت ابن ہشام،1/339

([25])مواھب اللدنیہ ،4/538

([26])شواھد النبوۃ، مترجم، ص189

([27]) بخاری ،1/17، حدیث:15-مسند احمد،20/397، حدیث:1351-احیاء العلوم،4/294

([28])اردو میں لاف و گزاف کی ترکیب سے مستعمل ہے،جھوٹی شان،خُود نُمائی، مغرور ہونے کی حالت

([29])شرح السنۃ للبغوی،1/213

([30])مسند احمد، 17/170، حدیث:11104

([31]) ترجمہ کنزالایمان: پھر اگر تم میں کسی بات کا جھگڑا اٹھے تو اُسے اللہ اور رسول کے حضور رجوع کرو اگر اللہ و قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جن کا دعوی ہے کہ وہ ایمان لائے اس پر جو تمہاری طرف اترا اور اس پر جو تم سے پہلے اترا پھر چاہتے ہیں کہ شیطان کو اپنا پنچ بنائیں اور اُن کا تو حکم یہ تھا کہ اُسے اصلاً نہ مانیں اور ابلیس یہ چاہتا ہے کہ انہیں دور بہکاوے۔ (پ5، النسآء:59، 60)


Share