کینیڈا میں دینی کاموں کی دھوم (قسط:01)


کینیڈا میں دینی کاموں کی دھوم (قسط:01)


8 اپریل کو کراچی سے براستہ برطانیہ (یوکے) کینیڈا کے سفر پر روانہ ہوا۔ بعض ذاتی مصروفیات کے باعث تقریباً ڈیڑھ دن برطانیہ میں قیام رہا۔ اس کے بعد 10 اپریل کو لندن سے تقریباً آٹھ گھنٹے کی پرواز کے ذریعے کینیڈا کے سب سے بڑےشہر ٹورانٹو (Toronto) پہنچا۔ ٹورانٹو ائیرپورٹ پر تقریباً ساڑھے تین گھنٹے قیام کے بعد کینیڈا کے مغربی ساحل پر واقع شہر وینکوور (Vancouver)کے لیے ایک اور پرواز تھی، جس کا دورانیہ تقریباً سوا پانچ گھنٹے تھا۔ شاید بہت سے قارئین کے لیے یہ بات دلچسپی کا باعث ہو کہ کینیڈا جیسے وسیع و عریض ملک میں ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے کے لیے بھی کئی کئی گھنٹے کی فضائی مسافت طے کرنا پڑتی ہے۔اگر مجموعی سفر کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان سے برطانیہ، پھر برطانیہ سے ٹورانٹو، اور وہاں سے وینکوور تک تقریباً بیس سے بائیس گھنٹے کا ہوائی سفر بنتا ہے۔ الحمدللہ، اللہ پاک کے فضل و کرم سے یہ طویل سفر خیریت کے ساتھ مکمل ہوا۔ مسلسل سفر کی وجہ سے خاصی تھکن محسوس ہو رہی تھی، اس لیے منزل پر پہنچ کر کچھ دیر آرام کیا۔سن 2008ء میں پہلی مرتبہ کینیڈا آنے کا موقع ملا تھا، اور اب تقریباً اٹھارہ سال بعد دوبارہ اس سرزمین پر آمد ہوئی ہے۔ اللہ کریم اس سفر کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اسے خیر و برکت کا ذریعہ بنائے اور اس کے تمام دینی مقاصد کو بخیر و خوبی پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

الحمدللہ!11 اپریل بروز ہفتہ وینکوور میں قائم دعوتِ اسلامی کے مرکز ”فیضانِ مدینہ“ میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی۔ وہاں مقامی اسلامی بھائیوں کے علاوہ امریکہ اور دیگر شہروں سے تشریف لائے ہوئے اسلامی بھائی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مدنی حلقے اور تربیتی نشست کا سلسلہ رہا، جس میں مختلف دینی اور تنظیمی امور پر گفتگو ہوئی۔اسی روز ہفتے کی شب وینکوور کے ایک مقامی ہال میں عظیم الشان سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہوا، جس میں عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جبکہ پردے کے انتظام کے ساتھ اسلامی بہنیں بھی شریک تھیں۔ اس اجتماع میں ”اچھی صحبت اور اچھے دوست“ کے موضوع پر بیان کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔

الحمدللہ!12 اپریل، بروز اتوار، نمازِ ظہر کے بعد کینیڈا اور امریکہ کی ذمہ دار اسلامی بہنوں کے سنتوں بھرے اجتماع میں شرعی پردے کی رعایت کے ساتھ بیان کرنے کی سعادت ملی۔ اس نشست میں مختلف دینی، تربیتی اور تنظیمی امور پر گفتگو ہوئی۔ اسی روز نمازِ عشاء کے بعد وینکوور کے اُن اسلامی بھائیوں کے ساتھ مدنی مشورہ ہوا جو دعوتِ اسلامی کے مختلف شعبہ جات میں خدمت انجام دے رہے ہیں۔ نہایت خوشگوار ماحول میں ہونے والی اس نشست میں مختلف شعبہ جات کی کارکردگی، آئندہ کے اہداف اور دینی خدمات کے فروغ کے حوالے سے مفید تبادلۂ خیال ہوا۔

13 اپریل، بروز پیر وینکوور سے کیلگری (Calgary) روانگی تھی۔ چونکہ صبح آٹھ بجے کی پرواز تھی، اس لیے بہت صبح ہی ائیرپورٹ پہنچنا پڑا۔ وہاں پہنچ کر دیکھا کہ غیر معمولی رش اور طویل قطاریں موجود تھیں۔ معلوم ہوا کہ ان ممالک میں پیر کی صبح ائیرپورٹس پر مسافروں کا ہجوم معمول سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اَلحمدُ لِلّٰہ! تمام مراحل بخیریت طے ہوئے اور تقریباً صبح ساڑھے گیارہ بجے کیلگری پہنچ گئے۔یہاں ایک دلچسپ بات قابلِ ذکر ہے کہ وینکوور پاکستان سے بہت فاصلے پر واقع ہے، جس کی وجہ سے دونوں مقامات کے اوقات میں بارہ گھنٹے کا فرق ہے۔ یعنی جب وینکوور میں دوپہر کے بارہ بجتے ہیں تو پاکستان میں رات کے بارہ بج رہے ہوتے ہیں۔ البتہ کیلگری، وینکوور سے تقریباً ایک گھنٹہ پینتالیس منٹ کی فضائی مسافت پر واقع ہے، اور وہاں پہنچنے پر وقت کا مزید ایک گھنٹہ فرق کم ہو جاتا ہے۔ اس طرح پاکستان اور کیلگری کے درمیان وقت کا فرق گیارہ گھنٹے رہ جاتا ہے۔

ائیرپورٹ سے براہِ راست کیلگری میں قائم دعوتِ اسلامی کے مرکز ”فیضانِ مدینہ“ حاضر ہونے کی سعادت ملی۔ یہ مرکز نہایت خوبصورت، کشادہ اور شہر کی مرکزی مارکیٹ میں واقع ہے۔ وہاں مقامی اسلامی بھائیوں سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد آرام کے لیے قیام گاہ روانہ ہوئے۔کچھ دیر آرام کرنے کے بعد شام کے وقت مقامی ذمہ داران کے ساتھ مدنی مشورے کا سلسلہ شروع ہوا، جو رات گئے تک جاری رہا۔ اس دوران دعوتِ اسلامی کے مختلف دینی، تنظیمی اور انتظامی امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ آئندہ کی منصوبہ بندی کے حوالے سے بھی اہم مشاورت کی گئی۔ اللہ کریم ان تمام کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔

14 اپریل کیلگری میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہوا۔ اگرچہ یہ ورکنگ ڈے تھا، اس کے باوجود عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ منظر وہاں کے اسلامی بھائیوں کے دینی ذوق، محبت اور استقامت کا خوبصورت مظہر تھا۔اس اجتماع میں ”سورۂ بقرہ“ کے منتخب مضامین اور اس سے حاصل ہونے والے اہم پیغامات پر بیان کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ بالخصوص والدین کی یہ ذمہ داری کہ وہ اپنی اولاد کی دینی اور اخلاقی تربیت کس انداز سے کریں، اولاد پر والدین کے ادب و احترام کی اہمیت، اور رزقِ حلال کمانے کی فضیلت و ضرورت جیسے اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ اللہ پاک ان باتوں کو ہم سب کے لیے نافع بنائے، ہمیں علمِ دین پر عمل کرنے، اپنی نسلوں کی صحیح اسلامی تربیت کرنے اور ہمیشہ رزقِ حلال اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

15 اپریل بروز بدھ آج یہاں کے موسم نے ایک حیرت انگیز منظر پیش کیا۔ ایک دن پہلے تک فضا نہایت خوشگوار تھی اور درجۂ حرارت تقریباً 8 سے 10 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان تھا، لیکن گزشتہ رات محکمۂ موسمیات کی جانب سے”یلو وارننگ“ جاری کر دی گئی تھی کہ برف باری کا امکان ہے اور درجۂ حرارت منفی 5 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔چنانچہ پیش گوئی کے عین مطابق دوپہر کے وقت موسم نے اچانک کروٹ بدلی۔ تیز ہواؤں کے ساتھ برف باری شروع ہوگئی اور سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ محسوس ہونے لگا۔ اس دوران چند مقامات پر مدنی چینل کے لیے بعض ریکارڈنگز بھی کرنا تھیں، لہٰذا برف باری کے باوجود وہاں جانے کا موقع ملا۔ اللہ پاک کی قدرت کا یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنا یقیناً ایک منفرد تجربہ تھا۔

شام تقریباً ساڑھے چھ بجے ہماری پرواز کیلگری سے اوٹاوا (Ottawa)کے لیے روانہ ہوئی۔ اوٹاوا کینیڈا کا دارالحکومت ہے، جہاں دعوتِ اسلامی کے ایک عظیم الشان سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت مقصود تھی۔ یہ فضائی سفر تقریباً ساڑھے تین گھنٹے پر مشتمل تھا، جبکہ اوٹاوا پہنچنے پر وقت کا مزید دو گھنٹے کا فرق بھی آ جاتا ہے۔ اس طرح پاکستان اور اوٹاوا کے درمیان مجموعی طور پر نو گھنٹے کا فرق رہ جاتا ہے۔دورانِ پرواز ایک غیر متوقع صورتِ حال پیش آئی۔ مقررہ وقت گزرنے کے باوجود طیارہ منزل پر نہ پہنچ سکا۔ تقریباً چار گھنٹے بیت چکے تھے،مگر ہمارا جہاز مسلسل اوٹاوا کے فضائی علاقے میں چکر لگا رہا تھا۔ بار بار اعلان کیا جا رہا تھا کہ موسم کی خرابی کے باعث اس وقت طیارے کو محفوظ انداز میں اتارنا ممکن نہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اگر موسم مزید خراب رہا تو جہاز کو کسی قریبی شہر کے ائیرپورٹ پر اتارا جا سکتا ہے۔ایسے مواقع انسان کو بے اختیار اپنے رب کی طرف متوجہ کر دیتے ہیں۔ دل مسلسل دعا گو تھا کہ اللہ کریم اپنے فضل و کرم سے خیر و عافیت کا معاملہ فرمائے، سفر کو آسان بنائے اور بحفاظت منزل تک پہنچائے۔

مونٹریال (Montreal) میں غیر متوقع لینڈنگ:

اللہ پاک کی مشیت سے وہی ہوا جس کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔ موسم کی خرابی کے باعث ہمارا طیارہ اوٹاوا کے بجائے مونٹریال میں لینڈ کر گیا۔ یہ منظر میرے لیے خاصا قابلِ غور تھا۔ جہاز میں تقریباً تین سو مسافر موجود تھے، مگر نہ کسی کے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار تھے، نہ شور و غوغا، نہ احتجاج اور نہ ہی بے چینی۔ جب اعلان ہوا کہ موسم کی خرابی کی وجہ سے طیارہ اوٹاوا کے بجائے مونٹریال اتارا جا رہا ہے تو تمام مسافروں نے نہایت سکون، تحمل اور نظم و ضبط کے ساتھ اس صورتِ حال کو قبول کر لیا۔

مونٹریال سے اوٹاوا کا فاصلہ بذریعہ سڑک تقریباً دو گھنٹے کا ہے۔ ائیرپورٹ پر اترنے کے بعد چند منٹوں تک ہم بھی ایک دوسرے سے یہی دریافت کرتے رہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ کیا رات یہیں قیام کرنا پڑے گا؟ کیا اگلی پرواز کا انتظام ہوگا یا بسوں کے ذریعے اوٹاوا بھیجا جائے گا؟ لیکن اس وقت کسی مسافر کے پاس کوئی واضح معلومات موجود نہ تھیں، سب خاموشی سے اپنا سامان وصول کرنے کے لیے بیلٹ کی جانب بڑھ گئے۔

یہ منظر ہمارے خطے کے عمومی حالات سے بالکل مختلف محسوس ہوا۔ اللہ نہ کرےاگر ایسی صورتِ حال ہمارے ہاں پیش آ جاتی تو شاید ائیرپورٹ پر شور و ہنگامہ برپا ہو جاتا، لیکن یہاں نہ کوئی احتجاج تھا، نہ ائیرلائن کے عملے کے گرد ہجوم، بلکہ ہر شخص نہایت صبر اور نظم کے ساتھ اگلی ہدایت کا انتظار کر رہا تھا۔

اللہ کریم نے ہمارے لیے آسانی کی ایک صورت یوں پیدا فرما دی کہ دورانِ پرواز ہی مونٹریال کے نگران فضیل عطاری بھائی کو اطلاع دے دی گئی تھی، چنانچہ وہ ہمیں لینے کے لیے ائیرپورٹ پہنچ چکے تھے البتہ باقی مسافروں کے بارے میں تجسس برقرار تھا۔

کچھ ہی دیر بعد تمام مسافروں کے موبائل فون پر ائیرلائن کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا، جس میں مختلف ہوٹلوں کی فہرست بھیجی گئی تھی اور ہدایت دی گئی تھی کہ ہر مسافر اپنی سہولت کے مطابق کسی بھی ہوٹل میں کمرہ بک کر لے، رات وہیں قیام کرے، جبکہ اگلے دن کے سفر سے متعلق مزید معلومات فراہم کر دی جائیں گی۔ اس کے بعد ہر شخص خاموشی سے اپنے انتظامات میں مصروف ہو گیا۔جب ہم مونٹریال ائیرپورٹ سے باہر نکلے تو باہمی مشورے سے طے پایا کہ چونکہ اوٹاوا تقریباً دو گھنٹے کی مسافت پر ہے اور اگلے دن بارش کی پیش گوئی بھی موجود ہے اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ رات ہی کو سفر کر لیا جائے تاکہ منزل پر پہنچ کر اطمینان سے آرام کیا جا سکے۔ چنانچہ عشا کی نماز ادا کی، کچھ کھانا کھایا اور اوٹاوا (Ottawa)کے لیے روانہ ہوگئے۔ اسی دوران اوٹاوا ائیرپورٹ پر استقبال کے لیے آنے والے چند اسلامی بھائی بھی مونٹریال پہنچ گئے لہٰذا بقیہ سفر انہی کی معیت میں طے ہوا۔

اوٹاوا (Ottawa)میں دینی سرگرمیاں:

اوٹاوا پہنچنے کے بعد چند اہم ملاقاتوں کا سلسلہ رہا، جس کے بعد دعوتِ اسلامی کے مرکزفیضانِ مدینہ میں ایک عظیم الشان سنتوں بھرا اجتماع منعقد ہوا۔ اوٹاوا کینیڈا کا دارالحکومت ہے، اور ملک کی پارلیمنٹ اور سینیٹ بھی یہیں واقع ہیں۔ اس موقع پر ان اہم سرکاری مقامات پر بھی مدنی چینل کے لیے چند ریکارڈنگز کرنے کا موقع ملا تاکہ ناظرین تک ان مقامات کا تعارف بھی پہنچایا جا سکے۔رات کو منعقد ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت اور بیان کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اللہ کریم کے فضل سے عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد شریک تھی اور پورا ماحول دینی جذبے اور محبتِ رسول کی خوشبو سے معطر ہورہا تھا۔

کارن وال(Cornwall) کا سفر:

اگلے روز جو جمعہ کا دن تھا، اوٹاوا سے کارن وال کے لیے روانگی ہوئی۔ نمازِ جمعہ سے قبل وہاں بیان کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔کارن وال ایک نہایت خوبصورت، پُرسکون اور دل کش شہر ہے۔ یہاں واقع خوبصورت ”اقصیٰ مسجد“ میں عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد جمع تھی۔ اللہ کریم کے فضل و کرم سے سنتوں بھرا اجتماع نہایت روح پرور ماحول میں منعقد ہوا۔ حاضرین کی دینی محبت، شوقِ سماعت اور اخلاص قابلِ دید تھا، جس نے دل کو بے حد مسرور کیا۔

مونٹریال(Montreal) کی جانب روانگی:

بعد ازاں ہمارا قافلہ مونٹریال کی طرف روانہ ہوا۔ اوٹاوا سے کارن وال کا سفر تقریباً ڈیڑھ سے پونے دو گھنٹے پر مشتمل ہے، جبکہ کارن وال سے مونٹریال تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔مونٹریال پہنچنے پر معلوم ہوا کہ امریکہ کی مختلف ریاستوں سے بڑی تعداد میں اسلامی بھائی تربیتی اجتماع میں شرکت کے لیے پہلے ہی پہنچ چکے ہیں۔ مغرب کی نماز کے بعد ان کے درمیان حاضری کی سعادت حاصل ہوئی، جبکہ رات گئے تک مدنی مشوروں، تربیتی نشستوں اور مختلف تنظیمی امور پر گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔

اس دوران مختلف شعبہ جات کی کارکردگی، مستقبل کی منصوبہ بندی اور دینی خدمات کو مزید مؤثر بنانے کے حوالے سے مفید مشاورت ہوئی۔ اسلامی بھائیوں کا جذبۂ خدمت، اخلاص اور دین کے لیے تڑپ قابلِ تحسین تھی۔

مونٹریال میں تربیتی نشستیں:

ہفتے کا دن مکمل طور پر مونٹریال میں گزرا۔ اس دوران اسلامی بھائیوں کے ساتھ مدنی مشوروں، تربیتی نشستوں اور سوال جواب کا سلسلہ جاری رہا۔ ماحول نہایت خوشگوار، علمی اور تربیتی رنگ لیے ہوئے تھا، جہاں مختلف دینی، دعوتی اور تنظیمی موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔چونکہ یہاں دوپہر تقریباً ایک بجے پاکستان میں رات کے دس بج رہے ہوتے ہیں، اس لیے الحمدللہ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کے مدنی مذاکرے میں اجتماعی طور پر شرکت کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔

اسی مدنی مذاکرے کے دوران جب اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ کے سینئر رائٹر، رکنِ مجلس اور ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے چیف ایڈیٹر مبلغِ دعوت اسلامی مولانا ابو رجب محمد آصف عطاری مدنی رحمۃُ اللہ علیہ کے انتقال کا تذکرہ ہوا، امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی ان سے محبت، دعوتِ اسلامی سے ان کی دیرینہ وابستگی اور وفاداری کا ذکر آیا تو پورا ماحول رقت آمیز ہو گیا۔ کئی آنکھیں اشک بار تھیں اور دلوں کی بے اختیاریہی پکار تھی کہ اللہ کریم ہمیں بھی اس مدنی ماحول سے سچی محبت، اس پر استقامت اور تا دمِ آخر وفاداری نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن شوریٰ و نگران مجلس مدنی چینل


Share