بچو! بدگمانی سے بچو
اللہ پاک کےآخری نبی حضرت محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ، فَاِنَّ الظَّنَّ اَكْذَبُ الحَدِيثِ یعنی بدگمانی سے بچو کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے۔ ([1])
پیارے بچو! بدگمانی کا مطلب ہے، کسی کے بارے میں بغیر دلیل اور ثبوت کے بُری بات سوچ لینا، مثلاً جو دوست اسکول نہیں آیا اس کے بارے میں سوچنا کہ وہ ضرور چھٹی کر کے گھر میں گیم کھیل رہا ہوگا ،اسی طرح دو بچے آپس میں آہستہ آواز میں بات کر رہے ہیں، تیسرے کا یہ سوچ لینا کہ یہ ضرور میری برائی کر رہے ہوں گے۔چیز کی گمشدگی کے وقت بغیر ثبوت کے کسی کے بارے میں سوچنا کہ اس نے کی ہوگی وغیرہ بدگمانی کی صورتیں ہیں۔
بدگمانی اللہ و رسول کی ناراضی کا سبب ہے، بدگمانی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، بدگمانی سے لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں، آپسی تعلقات اور رشتے ٹوٹتے اور نفرتیں پھیلتی ہیں، بدگمانی ایک بیماری ہے جو دل کو گندہ کر دیتی ہے، بدگمانی کرنے والے بچے سے کوئی دوستی کرنا بھی پسند نہیں کرتا، بدگمانی کے سبب انسان دوسرے گناہوں مثلاً غیبت وغیرہ میں پڑ جاتا ہے، اللہ پاک نے مسلمانوں کو بدگمانی سے بچنے کا حکم دیا ہے چنانچہ قرآن کریم میں ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ
ترجَمۂ کنزالعرفان: اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
بدگمانی کرنے والے کو بعض اوقات دنیا میں بھی نقصان و ندامت اٹھانی پڑتی ہے ، چنانچہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک امیر تاجر نے مسجد میں اپنے قریب ایک غریب شخص کو دیکھا جو اللہ سے ایک خاص قسم کا کھانا کھانے کی دعا مانگ رہا تھا۔ تاجر نے اپنے دل میں بدگمانی کرتے ہوئے سوچا کہ یہ فقیر صرف دکھاوے کے لیے دعا مانگ رہا ہے، تاکہ میں اسے کھانا کھلا دوں۔ لیکن کچھ دیر بعد ایک آدمی اس فقیر کو ڈھونڈتا ہوا آیا اور اس کے سامنے ڈھکا ہوا کھانا رکھ دیا فقیر نے کھانا کھایا اور بقیہ کھانا واپس کر دیا، تاجر کے پوچھنے پر اس شخص نے بتایا کہ مجھے خواب میں رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی زیارت نصیب ہوئی آپ علیہ السّلام نے مجھے فرمایا: اس مسجد میں اللہ کا ایک ولی (پیارا بندہ) ہے، اسے کھانا کھلاؤ میں تیرے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔تاجر نے کہا کھانے پر جتنا خرچ ہوا وہ مجھ سے لے لو اور نیکی میں حصہ دار بنا لو اس شخص نے مسلسل انکار کیا، تاجر نادم و شرمندہ ہو کر مسجد سے چلا گیا۔گویا اس نے اپنا قیمتی سامان کھو دیا ہو۔([3])
تاجر جس شخص کو بھکاری سمجھ رہا تھا، وہ اللہ کا پیارا بندہ نکلا۔ پتا چلا کہ بدگمانی سے ہم بڑی برکتوں سے محروم رہ جاتے ہیں، کسی کی ظاہری حالت کو دیکھ کر اس کے بارے میں برا خیال نہیں کرنا چاہیے۔
اچھے بچو!کسی کے بارے میں کنفرم معلومات کے بغیر کوئی رائے قائم نہ کریں، دوسروں کے بارے میں ہمیشہ اچھا گمان رکھیں، سچا عیب بھی بغیر درست وجہ کسی کو نہ بتائیں کسی کے بارے میں کوئی کنفیوژن ہو تو اس سے رابطہ کر کے مکمل اور درست معلومات حاصل کریں اور ہر طرح کی بدگمانی سے بچیں تو شروع میں لکھی حدیث پاک پر عمل ہو جائے گا۔ اِن شآءَ اللہ
اللہ پاک ہمیں بدگمانی جیسی آفت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی

Comments