کھوئی ہوئی بینائی لوٹ آئی


کھوئی ہوئی بینائی لوٹ آئی


پیارے بچو! ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے معجزات بارہا لوگوں کی مشکلات  میں سہارا بنا کرتے  اور لوگوں کی پریشانیاں  و مشکلیں دور کیا کرتے تھے، آج ایسے معجزے کے بارے میں سُنیں گے جس کے ذریعے ایک صحابیِ رسول کی کھوئی ہوئی بینائی لوٹ آئی ۔چنانچہ؛

حضرت فُدَیک بن عمرو سلامانی رضی اللہ عنہ کی دونوں آنکھیں سفید ہو چکی تھیں اور وہ ان سے کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے، وہ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوئے اور اپنی پریشانی کا حال سنایا۔ طبیبوں کے طبیب، اللہ پاک کے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان کی دونوں آنکھوں میں اپنا مبارک لعابِ  دہن ڈالا، تو انہیں بینائی واپس مل گئی،   حتی کہ آپ 80 سال کی عمر میں بھی سوئی میں دھاگا ڈال لیا کرتے تھے۔ ([1])

حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے مبارک لعابِ دہن کی برکت سے ایک نابینا صحابی کی کھوئی ہوئی بینائی کا لوٹ آنا بلکہ اَسی سال کی عمر  میں بھی بینائی کی توانائی اس قدر برقرار رہنا کہ سوئی میں دھاگا ڈال لیا جائے یقیناً  یہ آپ  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا عظیم معجزہ ہے۔ اس واقعے سے ہمیں کئی پیاری باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔

*بیماری یا پریشانی آنے پر مایوس ہونے کے بجائے اللہ پاک سے امید رکھنی چاہیے، کیونکہ وہ جب چاہے مشکل کو آسان فرما دیتا ہے۔

*اپنی تکلیف کو چھپانے کے بجائے مناسب موقع پر اہلِ خیر سے مدد اور دعا کی درخواست کرنی چاہیے۔

*کسی کو تکلیف میں دیکھیں تو  نظر انداز (ignore) کرنے کے بجائے آگے بڑھ کر ہمدردی و مدد کرنی چاہیے۔

*جسمانی صحت اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے، اس پر ہمیشہ شکر ادا کرنا چاہیے۔

*عمر زیادہ ہو جانے کے باوجود اگر اللہ پاک چاہے تو انسان کو حیرت انگیز طاقت اور صحت عطا فرما دیتا ہے، اس لیے ہر حال میں اسی پر بھروسا رکھنا چاہیے۔

*اللہ پاک کی قدرت کے سامنے کوئی بیماری یا کمزوری مشکل نہیں، وہ جب چاہے لمحوں میں حالات بدل دیتا ہے۔

*ہمیں ہر نعمت، خصوصاً آنکھوں جیسی عظیم نعمت کی حفاظت کرنی چاہیے اور انہیں نیک کاموں میں استعمال کرنا چاہیے۔

*سیرتِ رسولِ کریم لوگوں کے ساتھ شفقت، محبت اور خیر خواہی کرنے کا درس دیتی ہے ۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])مصنف ابن ابی شیبہ،12/81،حدیث:24029۔نوٹ: لعاب عربی کا لفظ ہے جس کا معنیٰ تھوک ہے  اور دہن منہ کو کہتے ہیں، اللہ کے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ادب اور تعظیم کی وجہ سے ان کے مبارک تھوک کو لعابِ دہن کہتے اور لکھتے ہیں۔


Share