حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی داعیانہ صفات


حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی داعیانہ صفات

ساجد علی

(دورہ حدیث مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی)

ماہنامہ فیضانِ مدینہ اکتوبر 2026ء

اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی ہدایت کے لیے مختلف ادوار میں مختلف انبیائے کرام علیہمُ السّلام کو مبعوث فرمایا، حضرت موسیٰ علیہ الصّلوٰۃ وَالسَّلام بھی انہیں میں سے ایک ہیں، آپ کے والد کا نام عمران ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو بنی اسرائیل کی ہدایت کیلیے مبعوث فرمایا، آپ کو اللہ پاک سے بلا واسطہ کلام کرنے کا شرف حاصل ہے اس لیے آپ کو کلیم اللہ کہا جاتا ہے،آپ اللہ پاک کے جلیل القدر انبیاء اور اُولُوالْعَزْم رسولوں میں سے ہیں، آپ نے ایک ایسے معاشرے میں دعوت کا آغاز کیا جہاں ظلم، شرک، تکبر اور استبداد جیسی برائیاں اپنی انتہا کو پہنچ چکی تھیں، مگر آپ نے اللہ پر کامل بھروسا رکھتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کی۔ قرآن مجید میں آپ علیہ السّلام کی نیکی کی دعوت اور آپ کی قوم کا ذکر تفصیل سے موجود ہے، جس سے آج بھی مبلغین رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ ذیل میں قرآن کریم کی روشنی میں حضرت موسیٰ علیہ السّلام کی نیکی کی دعوت کے متعلق چند اوصاف ذکر کیے جاتے ہیں:

(1) حکمت اور دانائی:

حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے نیکی کی دعوت میں ہر موقع پر حکمت سے کام لیا، اگرچہ فرعون دنیا کا بڑا ظالم اور سرکش انسان تھا، لیکن جب اللہ پاک نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السّلام کو فرعون کے پاس بھیجا تو انہیں نرم انداز میں گفتگو کرنے کی تعلیم فرمائی۔ چنانچہ ارشاد ہے:

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى(۴۴)

ترجَمۂ کنز العرفان: توتم اس سے نرم بات کہنا اس امید پر کہ شاید وہ نصیحت قبول کرلے یا ڈرجائے۔

(پ16، طٰہٰ:44)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیت مبلغین کو عظیم اصول سکھاتی ہے کہ نیکی کی دعوت میں نرم لہجہ اختیار کریں کہ یہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔

(2)توکل علی اللہ:

جب فرعون اپنے لشکر کے ساتھ تعاقب کرتے ہوئے سمندر تک پہنچ گیا اور بنی اسرائیل گھبرا گئے تو اس وقت جو حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے توکل کا مظاہرہ کیا اس کو اللہ پاک نے اس طرح ذکر فرمایا:

فَاَتْبَعُوْهُمْ مُّشْرِقِیْنَ(۶۰) فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ(۶۱) قَالَ كَلَّاۚ-اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ(۶۲)

ترجَمۂ کنزالعرفان: تو دن نکلنے کے وقت فرعونیوں نے ان کا تعاقب کیا۔ پھر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا: بیشک ہمیں پالیا گیا۔ موسیٰ نے فرمایا: ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راستہ دکھا دے گا۔ (پ19، الشعراء:60تا 62)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

قارئین کرام! نہ آگے راستہ ہے نہ پیچھے جانے کی کوئی صورت اور اس وقت اللہ پاک کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السّلام کا یہ فرمانا (کہ اے میری قوم تم نہ گھبراؤ کیوں کہ) میرا رب مجھے ابھی بچنے کا راستہ دکھائے گا،اور پھر واقعی رب کی طرف سے راستہ بنا دیا گیا آپ علیہ السّلام کا یہ توکل اور اس توکل کا نتیجہ ہمیں بتاتا ہے کہ داعی کو ہر حال میں اللہ پر کامل بھروسا رکھنا چاہیے۔

(3)معاونین کا حصول:

حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اللہ پاک سے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السّلام کو معاون بنانے کی دعا کی تاکہ نیکی کی دعوت کا کام بہتر انداز میں ہو سکے، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس دعا کو ان الفاظ سے بیان فرمایا ہے:

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ(۲۹) هٰرُوْنَ اَخِیۙ(۳۰) اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ(۳۱) وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ(۳۲) كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ(۳۳) وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ(۳۴) اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا(۳۵)

ترجَمۂ کنز العرفان: اور میرے لیے میرے گھر والوں میں سے ایک وزیر کردے۔ میرے بھائی ہارون کو۔ اس کے ذریعے میری کمر مضبوط فرما۔ اور اسے میرے کام میں شریک کردے۔ تاکہ ہم بکثرت تیری پاکی بیان کریں۔ اور بکثرت تیرا ذکر کریں۔ بیشک تو ہمیں دیکھ رہا ہے۔(پ16، طٰہٰ: 29 تا 35)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

کیونکہ کام دینی ہو یا دنیوی جب اجتماعی تعاون اور مشاورت سے ٹیم ورک کی صورت میں ہو تو وہ زیادہ صحیح اور مؤثر ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کا مبارک واقعہ مختلف مقامات پر جو مذکور ہے اس کا بغور مطالعہ کریں تو واضح ہو تا ہے کہ آپ کی داعیانہ زندگی اخلاص، حکمت، نرم گفتاری، صبر، استقامت، توکل، جرأت، دعا اور خیر خواہی جیسی صفات سے مزین تھی او ریہی اوصاف ہر مبلغ کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ اگر آج بھی مبلغین ان اوصاف کو اپنی زندگی میں اختیار کریں تو نیکی کی دعوت کا اثر زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے اور معاشرے میں اصلاح، امن اور ہدایت کا فروغ ممکن ہو سکتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں قرآن کریم پڑھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share