بچوں کو بگڑنے سے بچائیں


بچوں کو بگڑنے سے بچائیں

بچے والدین کی آنکھوں کا تارا ہوتے ہیں۔ ان کی اچھی تربیت گھر کو پُرسکون بنانے کے لیے ضروری اور بہترین معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر بچوں کی تربیت پر مناسب توجہ نہ دی جائے تو ان میں ایسی عادات پیدا ہو سکتی ہیں جو ان کے مستقبل کو نقصان پہنچاتی ہیں، لہٰذا والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کے رویّوں پر نظر رکھیں اور ان میں کسی بھی بری عادت کو دیکھتے ہی اصلاح کی کوشش کریں۔اس مضمون میں چند ایسی باتوں کی طرف نشاندہی کی جارہی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی بچوں میں ظاہر ہو تو فوراً اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔

 جھوٹ بولنا:

جھوٹ بولنا بچوں کے بگاڑ کی ایک نمایاں علامت ہے۔ بعض بچے سزا کے خوف سے یا اپنی غلطی چھپانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں۔اگر اس کی بروقت اصلاح نہ کی جائے تو یہ مستقل عادت بن سکتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو سچ بولنے کی ترغیب دیں اور سچائی کے فوائد سے آگاہ کریں۔ مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”تربیتِ اولاد“ میں ہے: خلافِ واقع بات کرنے کو ”جھوٹ“ کہتے ہیں۔([1]) ہمارے معاشرے میں جھوٹ اتنا عام ہوچکا ہے کہ گویا اب اسے معاذ اللہ برائی ہی تصور نہیں کیا جاتا۔ ایسے حالات میں بچوں کا اس سے بچنا بہت دشوار ہے ۔ اپنے بچوں کے ذہن میں بچپن ہی سے جھوٹ کے خلاف نفرت بٹھا دیں تاکہ وہ بڑے ہونے کے بعد بھی سچ بولنے کی عادتِ پاکیزہ اختیار کیے رہيں ۔

نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فرشتہ اس کی بد بو سے ایک میل دور ہوجاتاہے۔ ([2])

بدتمیزی اور نافرمانی:

جب بچے بڑوں کی عزت کرنا چھوڑ دیں، والدین اور اساتذہ کی بات نہ مانیں یا ان سے سخت لہجے میں گفتگو کریں تو یہ بھی بگاڑ کی نشانی ہے۔ ادب و احترام اچھی تربیت کی نشانی ہے، اس لیے بچوں میں شروع سے ہی بڑوں کا احترام پیدا کرنا ضروری ہے۔دینِ اسلام بڑوں کا ادب و احترام کرنے کی بہت زیادہ تاکید کرتا ہے۔ایک حدیثِ پاک میں ہے:نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے:جو ہمارے بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پرشفقت نہیں کرتاوہ ہم میں سے نہیں۔([3])

 ایک اور حدیث میں ہے: حضرت سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:اے انس! بڑوں کا ادب و احترام اور تعظیم وتوقیر کرو اور چھوٹوں پر شفقت کرو، تم جنت میں میری رفاقت پالو گے۔([4])

نماز اور دینی تعلیمات سے دوری:

نماز، تلاوتِ قرآن اور دیگر نیک اعمال سے غفلت بھی ایک تشویش ناک علامت ہے۔ جب بچے دین سے دور ہونے لگتے ہیں تو ان میں اخلاقی کمزوریاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی دینی ماحول اختیار کریں اور بچوں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔

بری صحبت اختیار کرنا:

دوست انسان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ اگر بچے ایسے دوستوں کی صحبت اختیار کرلیں جو جھوٹ، گالی گلوچ، لڑائی جھگڑے یا دیگر بری عادات میں مبتلا ہوں تو ان کے بگڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے بچوں کی دوستیوں پر مناسب نظر رکھنا ضروری ہے۔ دوستی کے حوالے سےدینی تعلیمات مدِّ نظر رکھتے ہوئے ہمیں بچوں کی صحبت کا جا ئزہ لینا چاہیے۔ حدیثِ پاک میں ہے:آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ دیکھے کس سے دوستی کررہا ہے۔([5])

احادیث کے مطابق*اچھا دوست وہ ہے جس کو دیکھنے سے خدا یاد آئے *اس کی گفتگو سے عمل میں اضافہ ہو اور *اس کا عمل آخرت کی یاد دلائے۔([6])*اچھا دوست وہ ہے کہ جب تو خدا کو یاد کرے وہ تیری مدد کرے اور جب تو بُھولے تو یاد دلا دے۔([7])

تعلیم میں عدم دلچسپی:

پڑھائی سے لاپرواہی، مدرسہ،جامعہ یا اسکول سے غیر حاضری یا مسلسل کمزور کارکردگی بھی بچوں کے بگاڑ کی علامت ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں والدین کو چاہیے کہ لاپرواہی، کمزور کارکردگی یا غیر حاضری کی وجوہات پر غور کرکے ان کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔

گالی گلوچ اور غیر مہذب زبان :

اچھی گفتگو ایک مہذب مسلمان کی پہچان ہے۔ اگر بچے گالیاں دینے لگیں یا بدزبان ہو جائیں تو یہ ان کی تربیت میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ والدین اور گھر کے دیگر افراد کو خود بھی مہذب زبان استعمال کرنی چاہیے تاکہ بچے اچھا نمونہ حاصل کریں۔اگر بچہ گالی گلوچ کرے تو اچھے انداز میں اس کے نقصانات سے آگاہ کرتے ہوئے اصلاح کی کوشش کریں۔ سرکارِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: *مسلمان کو گالی دینا فسق (یعنی گناہ) ہے۔([8])*مسلمان کو گالی دینا خود کو ہلاکت کے راستے پر لے جانے جیسا ہے۔([9])*کسی مسلمان جاہل کو بھی بے اذنِ شرع گالی دینا حرامِ قطعی ہے۔([10])

چوری اور امانت میں خیانت:

اگر بچہ دوسروں کی چیزیں بغیر اجازت لینے لگے یا امانت میں خیانت کرے تو یہ بہت خطرناک علامت ہے۔ایسی صورت میں فوری اصلاح اور اخلاقی تربیت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ یہ عادت مستقبل میں بڑے مسائل کا سبب نہ بنے۔

محترم والدین! بچوں کے بگاڑ کی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔آپ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ محبت، شفقت، دعا اور اچھی تربیت کے ذریعے بچوں کی اصلاح کریں۔

اللہ پاک ہمیں اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])حدیقہ ندیہ،2/200

([2])ترمذی،3/392،حدیث:1979

([3])ترمذی،3/369،حدیث:1926

([4])شعب الایمان، 7/458، حدیث:10981

([5])ابوداؤد،4/341، حدیث:4833

([6])جامع صغیر، ص247، حدیث: 4063

([7])جامع صغیر، ص244،حدیث:3999

([8])مسلم،ص54،حدیث:221

([9])الترغیب والترہیب،3/ 311،حدیث:311

([10])فتاویٰ رضویہ،21/127


Share