آخری نبی محمد عربی کےچلنے کاانداز


آخری نبی محمد عربی کےچلنے کاانداز


سیرتِ طیبہ کا مطالعہ  ایک ایسے کامل اسوہ کی تلاش ہے جس کی ہر ادا میں حکمت، اعتدال اور جمالِ اخلاق پنہاں ہے۔ ذاتِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت کے کچھ  گوشے جیسے ”آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اٹھنا بیٹھنا، گفتگو کا انداز، اور چلنے کا طریقہ“  درحقیقت حضورِ اکرم نورِ مجسمصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے  وقار کے مظہر ہیں۔ صحابۂ کرام رضوانُ اللہ علیہم اجمعین نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت کے ان تمام پہلوؤں کو نہایت باریک بینی سے محفوظ کیا اور نسل در نسل روایت کیا، آئیے  ذیل میں  آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چلنے کے انداز   کی جھلکیاں ملاحظہ کرتے ہیں:

نعلین شریف کا استعمال:

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:ننگے پاؤں چلنا رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی عادت نہیں تھی۔ ([1])البتہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے کبھی کبھی ننگے پاؤں چلنے کی ترغیب ارشاد فرمائی چنانچہ ایک بار حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آپ نے جوتاکیوں نہیں پہنا؟تو آپ نے فرمایا:رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ کبھی کبھی ننگے پاؤں بھی چلا کریں۔ ([2])

آخری نبی کےچلنے کی رفتار:

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے زیادہ حسین کچھ نہیں دیکھا گویا کہ سورج آپ کے چہرے میں تَیر رہا ہوتا تھا اور میں نے کسی کو بھی رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے تیز چلتے ہوئے نہیں دیکھا گویا کہ زمین آپ کے لیے سمیٹ دی گئی ہو، ہم اپنے آپ کو تھکا دیا کرتے تھےاور آپ حسبِ معمول رفتار کے ساتھ ایسا کرتے۔([3])

یاد رہے کہ حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رفتار کی تیزی رستہ طے ہونے کے لحاظ سے تھی نہ کہ تیز چلنے کے لحاظ سے حضور انور نہایت وقار سے آہستہ چلتے تھے، اللہ پاک فرماتاہے:

وَ اقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

مگر آپ کے آہستہ چلنے کے باوجود راستہ جلد اور بہت زیادہ طے ہوتا تھا۔اس میں ربّ کا منشا یہ تھا کہ کوئی شخص میرے محبوب سے آگے نہ چل سکے

لَا تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

پر عمل خود اللہ پاک نے ان سے کرا لیا تھا۔

یہ بھی حضور انور کا معجزہ تھا کہ آہستہ چلنے پر زمین زیادہ طے ہوتی تھی،بعض صوفیاء کو بھی یہ کرامت عطا ہوتی ہے اسے طی الارض کہتے ہیں،معراج میں جو حضور انور نے طی الارض ہی نہیں کی بلکہ زمین و آسمان،عرش و کرسی،لوح و قلم سب ہی طے فرمالیے،آصف ابن برخیا کی طی الارض تو قرآن مجید سے ثابت ہے،رب فرماتا ہے:

اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ-

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

میں ملکہ بلقیس کا تخت یمن سے آپ کے پاس پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔([4])

آخری نبی کے قدم اٹھانےرکھنے کا انداز:

مسلمانوں کےچوتھےخلیفہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا وصف بیان کرتے تو فرماتے: رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب چلتے تو مضبوطی سے قدم اٹھاتے، (چلتے ایسے)گویا بلندی سے نیچے کی جانب اتر رہے ہیں۔ ([5])

 حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب چلتے تو آگے جھک کر چلتے گویا بلندی سے نیچے اتر رہے ہیں۔([6])

یہ رہا میرا سَر، سینہ قلب و جگر

رکھ دو آقا قدم، تاجدارِحرم

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو چلتے وقت جوتوں کی آواز ناپسند تھی،چنانچہ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضورِ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سخت گرمی کے دن بقیعِ غرقد کی طرف تشریف لے جاتے اورآپ کے پیچھے دوسرے لوگ آتے۔ جب آپ ان کے جوتوں کی آواز سنتے تویہ بات آپ کو بہت ناگوارمعلوم ہوتی۔آپ بیٹھ جاتے حتّٰی کہ وہ لوگ آگے نکل جاتے اورآپ یہ عمل اس لیے فرماتے تاکہ دل میں فخر پیدانہ ہو۔([7])

گزرنے کا انداز:

 حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم جب چلتےتو تیزرفتارقدموں سے چلتے، معلوم ہوجاتا کہ یہ نہ عاجز کا چلنا ہے اور نہ سست کا۔([8])

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے عورتوں کے درمیان سے گزرنے سے منع فرمایا،اس سلسلےمیں دوروایات ملاحظہ کیجیے:(1)حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہےکہ رسول اﷲ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے مرد کو دو عورتوں کے درمیان میں چلنے سے منع فرمایا۔([9]) (2)ایک موقع پر فرمایا: جب تمہارے سامنے عورتیں آجائیں تو ان کے درمیان میں نہ گزرو، داہنے یا بائیں کا راستہ لے لو۔([10])

بلاشبہ قرآنِ کریم ضابطۂ حیات ہے اور اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرتِ مبارکہ اِس قرآن کی عملی تفسیر ہےلہٰذا جو اصول قرآنِ کریم میں بیان ہوا رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے مبارک فرمان یا عمل سے اُسے واضح فرمادیا تاکہ امّت کے لیے اُسے اپنانا آسان ہوجائے۔

اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے چلنے کے انداز سے ہمیں چند آداب سیکھنے کو ملتے ہیں:(1) جوتا یاچپل پہن کر چلیے تاکہ پاؤں گندگی،میل اور تکلیف دہ چیزوں سے محفوظ رہ سکیں۔ (2)راستہ کے درمیان مت چلیں بلکہ کنارے پر چلیں۔ (3)چلتے ہوئے درمیانہ انداز اختیار کیجیے، نہ ہی مریضوں کی طرح آہستہ چلیے اور نہ اتناتیز کہ لوگ دیکھتے ہی رہ جائیں۔ (4)شریروں کی طرح گریبان کھول کر اور سینہ تان کر مت چلیے بلکہ شریفانہ انداز اپنائیے۔ (5)راستے میں خواتین کے درمیان سے گزرنا منع ہے لہٰذا ایسی صورت میں سائیڈ سے گزر جائیے۔ (6) چلتے ہوئے فضول نظری سے بھی بچیے اور نگاہیں جھکا کر چلنے کی کوشش کیجیے۔ (7) کوشش کیجیےکہ چلتے ہوئے جوتے کی آواز پیدا نہ ہو۔

اللہ کریم ہمیں چلنے کی سنتیں اور آداب کاخیال رکھنے کی توفیق دے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث، حدیث ریسرچ سینٹر کراچی



([1])اخبار مکۃ، 4/80

([2])ابوداؤد،4/102،حدیث:4160

([3])شمائل ترمذی،ص86

([4])مراٰۃالمناجیح،8/61

([5])شمائل ترمذی،ص87

([6])شمائل ترمذی،ص86

([7])ابن ماجہ، 1/160،حدیث:245

([8])شرح السنۃ، 6/377، حدیث:3246،شرح ابی داود لابن رسلان،10/223

([9])ابوداؤد،4/470، حدیث: 5273

([10])شعب الایمان،4/371،حدیث:5447


Share