پتا چلا ہے کہ!
دعائیہ اسمبلی کے بعد سبھی بچے اپنی اپنی کلاسوں میں آ چکے تھے ساتویں کلاس کے بچے بھی اپنی اپنی جگہوں پر سنبھل رہے تھے کہ دروازہ کھلا اور سر بلال اندر داخل ہوئے۔
حمزہ: سر! سر! ایک بہت بڑی خوش خبری ہے!
بلال صاحب نے پلٹ کر دیکھا: اتنی بڑی خوش خبری ہے تو پہلے بیٹھ جاؤ، کہیں سناتے سناتے خود ہی گر نہ جاؤ۔ ساری کلاس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
حمزہ: نہیں سر، واقعی! بہت بڑی خوش خبری ہے۔
سر بلال نے جان لیا کہ حمزہ خبر سنائے بغیر نہیں ٹلنے والے توکہا جی سنائیے۔
سر ! اب سے ہفتہ اتوار ویکلی دو چھٹیاں ہوا کریں گی۔
علی سمیت ایک دو بچوں کے منہ سے نکلا: کیا۔۔۔۔؟ جبکہ کچھ بچوں کے چہروں پر شرارتی مسکراہٹ تھی جیسے انہیں اس خوش خبری کا پہلے ہی پتا ہو، لیکن بلال صاحب نے سنجیدگی سے حمزہ کو دیکھا اور کہا: آپ سے یہ کس نے کہا ہے؟
حمزہ : سر بڑی کلاسوں کے بچے آپس میں بات کر رہے تھے تو میں نے سن لیا۔
اچھا تو انہیں کہاں سے پتا چلا؟ سر بلال اب پوری طرح حمزہ کی طرف ہی متوجہ تھے۔
حمزہ : یہ تو پتا نہیں سر۔
سر بلال: انہیں پرنسپل صاحب نے خود بتایا ہوگا؟
حمزہ: جی شاید۔
شاید؟؟؟ سر نے شاید کچھ ایسے انداز سے کہا کہ پوری کلاس کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی۔ اب بلال صاحب نے مارکر سے وائٹ بورڈ پر لکھ دیا:خبر؟ اس کے آگے ایک بڑا سا سوالیہ نشان بنا دیا۔
سر بلال: اچھا بچو! اگر سالانہ امتحانات کے دنوں میں کوئی آپ سے کہے کہ کل کا پرچہ منسوخ ہو گیا ہے، نہیں ہوگا تو کیا آپ فوراً مان لیں گے؟
معاویہ: نہیں سر، پہلے اسکول کے واٹس ایپ گروپ میں دیکھیں گے۔
اسید رضا:اپنے اساتذہ یا والدین سے پوچھیں گے۔
میں تو فوراً مان لوں گا، پچھلی قطاروں سے آواز آئی تو سر کے لبوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔ لیکن گفتگو اہم تھی تو سر نے اس آواز سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بات آگے بڑھائی:
یہی مسئلہ ہے۔ جو خبر ہمیں پسند آئے، ہم اسے جلدی سچ مان لیتے ہیں۔اچھا حمزہ بیٹا ابھی آپ نے یہ خوش خبری کسی اور کو نہیں دینی۔
حمزہ: لیکن سر اگر واقعی چھٹی ہوئی تو؟
تو آپ کے ساتھ ساتھ ہم بھی گھر بیٹھ کر انجوائے کریں گے، سر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
اب سر نے ایک بچے کو پرنسپل صاحب کی طرف جبکہ حمزہ کو اسکول کے کسی بھی استاد محترم سے پوچھنے کے لیے بھیجا۔
کچھ ہی دیر میں حمزہ واپس آیا : ریاضی کے استاد صاحب کہہ رہے ہیں مجھے ایسی کوئی خبر نہیں ملی۔ پیچھے پیچھے دوسرا بچہ بھی آ پہنچا اور بتانے لگا: پرنسپل صاحب کہہ رہے ہیں ایساکوئی فیصلہ نہیں ہوا، یہ کسی نے جھوٹی خبر اڑائی ہے، یہ سن کر تو حمزہ کا چہرہ ہی بجھ گیا۔
اب بلال صاحب نے وائٹ بورڈ پر خبر کے نیچے لکھ دیا: فَتَبَیَّنُوْۤا! تو بچو آج حمزہ بیٹے کی ایک نادانی سے ہمیں سیکھنے کو ملا کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیں اس کی تصدیق کر لینی چاہیے اور تصدیق یعنی Confirmation کیسے لینی ہے وہ بھی آج آپ نے سیکھ لیا ہوگا یعنی جیسی خبر ہے تو اس کے متعلق قابل اعتماد ذرائع ( Authentic Resources) سے پتا کرنا۔ جیسے ابھی ہم نے کیا کہ اسکول سے متعلق خبر تھی تو پرنسل صاحب سے تصدیق کروائی۔
اور آپ کو پتا ہونا چاہیےچودہ سو سال پہلے اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں ہمیں اس حوالے سے بھی راہنمائی فرما دی تھی، ارشاد ہے: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لوکہ کہیں کسی قوم کو انجانے میں تکلیف نہ دے بیٹھو پھر اپنے کیے پر پچھتاتے رہ جاؤ۔ (پ26،الحجرات:6)
یہ جو لفظ میں نے لکھا تھا: ”فَتَبَیَّنُوْۤا“ آیت کا حصہ ہے جس کا مطلب ہے تحقیق کر لو، یعنی کسی بھی خبر پر فوری ردِعمل دینے سے پہلے پتا تو کر لو کہ خبر سچی ہے یا جھوٹی۔ کیونکہ آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بغیر تحقیق کے کسی کو نقصان پہنچا بیٹھو اور بعد میں پچھتانا پڑے۔
ثوبان علی: سر، لیکن کسی خبر کو آگے بھیجنے سے کسی کو کیا نقصان ہو سکتا ہے؟
سر: بہت کچھ! بیٹا، اگر آپ کسی سے سن کر یہ کہہ دیں کہ اسید رضا امتحانات میں نقل کرتے پکڑے گئے ہیں حالانکہ ایسا کچھ بھی نہ ہوتو اگرچہ آپ بعد میں معافی مانگتے رہیں لیکن ان کی ایمانداری کو تو بہت سوں کی نظر وں میں مشکوک بنا دیا نا۔ یونہی حمزہ کی بات پر بہت سے بچے یقین کر لیتے تو کیا ہوتا؟
تو آدھی سے زیادہ کلاس ہفتے والے دن گھر بیٹھی ہوتی۔
اور پیر والے دن پرنسپل صاحب کے دفتر میں ہاتھ کھڑے کیے ہوتی، سر نے جلدی سے حمزہ کی بات مکمل کی تو کلاس ہنسنے لگی۔اب سر نے بورڈ پر لکھا :سنو، ٹھہرو، تحقیق کرواور ذمہ دار مسلمان بنو۔
بچو یاد رکھیں، موبائل میں Forward کا آپشن بہت چھوٹا ہوتا ہے، ایک Click سے درجنوں کو خبر بھیج سکتے ہیں لیکن کبھی کبھی اس کے نتائج بہت بڑے ہوتے ہیں۔
یہ تو چلیں اسکول سے متعلق خبر تھی بعض اوقات تو ہم کسی بھی سنی سنائی بات کو آیت یا حدیث سمجھ اور کہہ کر آگے پھیلاتے رہتے ہیں جس کا نقصان ہمیں آخرت میں بھی اٹھانا پڑ سکتا ہے تو آئندہ جب بھی کوئی بات پتا چلے تو ہم نے یہی اصول اپنانا ہے ساتھ ہی سر نے وائٹ بورڈ کی طرف بھی اشارہ کیا تو ساری کلاس بولی: سنو، ٹھہرو، تحقیق کرواور ذمہ دار مسلمان بنو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* مدرس جامعۃُ المدینہ، فیضان آن لائن اکیڈمی
Comments