شرک کی مذمت احادیث کی روشنی میں
حافظ مبین
(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ غوثِ اعظم، حضرو اٹک)
ماہنامہ فیضانِ مدینہ اکتوبر 2026ء
شرک توحید کی ضِد ہے، جیسے اندھیرا اُجالے کی اور رات دن کی ضد ہے دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے اسی طرح شرک اور توحید ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ تمام انبیائے کرام علیہمُ السّلام شرک کی مذمت بیان کرتے آئے، اولیا و صالحین نے بھی اس کی ہو لناکی کو بیان فرمایا۔
شرک کی تعریف:
شرک کے معنی غیر خدا کو واجب الوجود یا مستحق عبادت جاننا یعنی الوہیت میں دوسرے کو شریک کرنا اور یہ کفر کی سب سے بدتر قسم ہے۔(بہار شریعت، 1/183)
شرک کی مذمّت احادیثِ کریمہ کی روشنی میں:
(1)سب سے بڑا گناہ شرک ہے:
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں؟وہ اللہ پاک کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ (مسند احمد،7/306،حدیث: 20407)
(2)شرک ہلاک کرنے والا ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: سات ہلاکت کی چیزوں سے بچو! لوگوں نے پوچھا وہ کیا ہیں؟ فرمایا (ان میں سے ایک) اللہ پاک کے ساتھ شرک کرنا ہے۔
(مشكاة المصابیح، 1/31، حدیث: 53)
(3)شرک نہ کرنے پر بیعت لی:
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے صحابہ کی ایک جماعت کی موجودگی میں فرمایا کہ مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے۔
(مشکاة المصابیح، 1/24، حدیث: 18)
انتہائی اہم تنبیہ:
کسی مسلمان کے بارے میں کفر یا شرک کے الفاظ استعمال کرنے میں انتہا درجے کی احتیاط ضروری ہے۔ حضور علیہ السّلام نے فرمایا:
ان مَا اَتَخَوَّفُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ قَرَأَ الْقُرْآنَ حَتَّى اِذَا رُئِيَتْ بَهْجَتُهُ عَلَيْهِ وَكَانَ رِدْئًا لِلْاِسْلَامِ غَيَّرَهُ اِلَى مَا شَاءَ اللَّهُ فَانْسَلَخَ مِنْهُ وَنَبَذَهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ وَسَعَى عَلَى جَارِهِ بِالسَّيْفِ وَرَمَاهُ بِالشِّرْكِ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ اَيُّهُمَا اَوْلَى بِالشِّرْكِ الْمَرْمِيُّ اَمِ الرَّامِي قَالَ بل الرامي
یعنی مجھے تم پر ایک ایسے آدمی کا اندیشہ ہے جو قرآن پڑھے گا حتیٰ کہ اس کی روشنی اس پر دکھائی دینے لگے گی،اور اس کی چادر (ظاہری روپ) اسلام ہوگا۔ یہ حالت اس کے پاس رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا،پھر وہ اس سے نکل جائے گا اسے پس پشت ڈال دے گا، اور اپنے (مسلمان) ہمسائے پر تلوار اٹھائے گا اور اس پر شرک کا فتویٰ لگائے گا،راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کیا: یانبی اللہ! دونوں میں شرک کا حقدار کون ہوگا ؟ جس پر فتویٰ لگا یا گیا یا فتویٰ لگانے والا؟، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: فتویٰ لگانے والا (مشرک ہوگا)۔
(صحیح ابنِ حبان، 1/148، حدیث: 81)
اللہ تعالیٰ ہمیں کفر وشرک سے محفوظ فرمائے اور ہمیں اپنی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Comments