مطالعۂ حواشی کی اہمیت اور فوائد


مطالعۂ حواشی کی اہمیت اور فوائد

مطالعہ ایک ایسا سفر ہے جس میں کبھی تو راستہ ہموار ملتا ہے تو کبھی مشکل، خاص کر جب کسی فنّی کتاب کا ‏مطالعہ کیا جا رہا ہو تو بعض مقامات ایسے آتے ہیں جو فہم سے بالاتر ہونے کے سبب قاری کو کشمکش میں ڈال دیتے ‏ہیں ایسے میں حاشیہ ایک روشن چراغ کی طرح قاری کے لیے اُن تاریک راہوں کو منوّر کردیتا ہے۔

حاشیہ سے مراد:

لغوی اعتبار سے حاشیہ کا لفظ ابتداءً کتاب کے کناروں کے لیے استعمال ہوتا تھا، پھر یہی لفظ ان کناروں پر ‏لکھی جانے والی تحریر کے لیے بولا جانے لگا اور بعد میں یہ تحریری سلسلہ اس قدر بڑھ گیا کہ اسے ایک مستقل تصنیف کی شکل حاصل ہوگئی، جسے ”تعلیق“ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔(دیکھیے: كشف الظنون، 1/623)

حاشیہ نگاری کا آغاز:

حاشیہ نگاری کا آغاز ساتویں صدی ہجری میں ہوا، سب سے پہلے محشی نجم العلماء علی بن محمد بن احمد بن علی ‏(متوفیٰ: 667ھ) ہیں۔ آپ نے ہدایہ کے مشکل مقامات پر فوائد کے نام سے حاشیہ لکھا ہے۔ (امام احمد رضا کی ‏حاشیہ نگاری، 2/27)

حقیقت یہ ہے کہ حاشیہ استاد کی اس تقریر کی مانند ہے جو سبق کے ساتھ جاری ہو جس طرح استاد کی تقریر ‏غفلت سے سننا علمی استفادہ میں کمی کا باعث بنتا ہے، اسی طرح حاشیے سے صرفِ نظر کرنا بھی قاری کو بہت سے ‏علمی فوائد سے محروم کر سکتا ہے۔ حاشیے کی اس اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اس کے ‏مطالعے سے قاری کو کن علمی فوائد سے بہرہ مند ہونے کا موقع ملتا ہے۔ لہٰذا ذیل میں حاشیہ پڑھنے کے چند فوائد ‏بیان کیے جارہے ہیں ملاحظہ کیجیے:

(1)مشکل مقامات کی تسہیل:

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ عبارت اس قدر دقیق آجاتی ہے کہ قاری کے لیے سمجھنا دشوار ہوتا ہے یہاں حاشیہ اس ‏مشکل مقام کو آسان الفاظ میں سمجھا دیتا ہے۔

(2)فہم پر تائید:

بہت دفعہ طالب علم متن پڑھ کر خود ایک مفہوم اخذ کرتا ہے، اور جب حاشیہ اسی مفہوم کی تصدیق کرتا ہے ‏تو اس کے فہم پر تائید ہوجاتی ہے، چونکہ متن مختصر اور جامع ہوتا ہے جو بہت سے مفاہیم کو سمیٹے ہوئے ہوتا ہے، اس لیے حاشیہ اس مراد کو واضح کرتا ہے جو مصنف کے پیش نظر ہوتی ہے۔

(3)دفعِ اعتراض:

بعض مقامات پر عبارت محلِ اعتراض ہوتی ہے، یعنی اس پر کسی زاویے سے اعتراض قائم کیا جاسکتا ہے۔ ایسے ‏میں محشی اس اعتراض کو دفع کر کے متن کا دفاع کرتا ہے، تاکہ متن کی صحت اور معنی پر کوئی حرف نہ آئے۔

(4)مصادر و مراجع تک رسائی:

محشی کبھی متن میں ذکر کی گئی عبارت کے حوالہ جات پیش کر دیتا ہے، جس سے قاری کو ماخذ و مراجع تک ‏رسائی بآسانی مل جاتی ہے۔

(5)تعارفِ شخصیات:

بسااوقات حاشیہ متن میں مذکور کسی شخصیت کا تعارف پیش کرتا ہے، جس کے سبب قاری کو عبارت سمجھنے ‏میں خاصی آسانی ہو جاتی ہے۔

(6)تنبیہ اغلاط:

بعض دفعہ ماتن سے تسامح واقع ہو جاتا ہے، ایسی صورت میں حاشیہ قاری کی راہنمائی کرتا ہے اس طرح کہ ‏اسے اس غلطی پر مطلع کرکے درستگی کی راہ دکھا دیتا ہے۔

(7)اضافۂ ذخیرۂ الفاظ:

حواشی کا مسلسل مطالعہ رفتہ رفتہ طالب علم کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ کرتا ہے، یوں وہ نئی اصطلاحات سے ‏بھی آشنا ہوتا چلا جاتا ہے۔

مختصراً بس یہ کہ جس طرح رہنما کے بغیر مسافر راستہ بھٹک سکتا ہے، اسی طرح حاشیے سے بے نیاز قاری بھی ‏علمی مقامات پر ٹھوکر کھا سکتا ہے۔ لہٰذا متن کے ساتھ حاشیے کا بھی بغور مطالعہ کیا جائے، تاکہ کتاب سے پورا ‏پورا فائدہ حاصل ہو سکے۔

اللہ پاک ہمیں گہرائی سے مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


Share