خرگوش کا گوشت


خرگوش کا گوشت (Rabbit meat)


اللہ پاک کے آخِری نبی حضرت محمدِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بکری، دنبہ، بھیڑ، اونٹ، خرگوش، مرغ، بٹیر اور مچھلی کا گوشت تناول فرمایا ہے۔ ([1])آیئے! خرگوش کے گوشت سے متعلق روایات وفوائد وغیرہ ملاحظہ کرتے ہیں:

حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خرگوش کی ران کا گوشت قبول فرمایا:

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہفرماتے ہیں: ہم نے مرالظہران کے مقام پر خرگوش کو دوڑتے پایا،تو لوگوں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی،تو لوگ تھک گئے۔میں نے اس کو دیکھا تو پکڑلیا۔ میں اس کو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، تو انہوں نے اس کو ذبح کیا اور حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی طرف اس کی سرین یا رانوں کا گوشت بھیجا ۔ راوی فرماتے ہیں: اس کی رانوں کا گوشت بھیجا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کو قبول فرمایا۔ میں نے پوچھا: رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس میں سے کھایا تھا؟ تو روای فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس میں سے کھایا تھا، پھر بعد میں کہا کہ قبول فرمایا۔([2])

مرالظہران حرمین شریفین کے درمیان مکہ معظمہ کے قریب ایک بستی ہے وہاں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خرگوش زندہ پکڑ لیا تھا(اور مذکورہ واقعہ پیش آیا)۔ ([3])

حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت عائشہ کو خرگوش کا گوشت کھلایا:

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں خرگوش تحفے میں بھیجا، اس وقت میں سوئی ہوئی تھی، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس کا پچھلا (یعنی ران والا) حصہ میرے لیے رکھ دیا، جب میں جاگی تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے وہ مجھے کھلایا۔([4])

حضرت محمدبن صفوان رضی اللہ عنہفرماتے ہیں کہ وہ دو خرگوش ہاتھ میں لٹکائے ہوئے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس سے گزرے، عرض کی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! میں نے یہ دو خرگوش شکار کئے ہیں، لیکن مجھے کوئی ایسی لوہے کی چیز (چھری وغیرہ) نہیں ملی کہ جس سے میں ان کو ذبح کرتا تو میں نے انہیں ایک سفید (تیز دار) پتھر سے ذبح کیا ہے، کیا میں انہیں کھا سکتا ہوں؟ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کھا لو۔([5])

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس ایک بھنا ہوا خرگوش، چٹنی اور سالن لے کر آیا، اور آپ کے سامنے رکھ دیا، تو حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے آپ کو روکے رکھا خود نہیں کھایا، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں۔([6])

رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے خرگوش کا گوشت کھانے کے حوالے سے محققین کا کچھ اختلاف ہے البتہ علما و فقہائے احناف کا واضح موقف دلائل کے ساتھ یہی ہے کہ رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خرگوش کا گوشت تناول فرمایا ہے جیساکہ فقہ حنفی کی مشہور و معروف کتاب ”الھدایۃ“ میں ہے: خرگوش کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس لیے کہ جب نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں بھنا ہوا خرگوش پیش کیا گیا تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس میں سے کھایا اور اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس میں سے کھانے کا حکم دیا۔([7])

خرگوش کے گوشت کے فوائد:

*کہا جاتا ہے کہ خرگوش کے گوشت کی طبیعت گرم اور خشک ہے۔ *خرگوش کا گوشت ہلکا نمکین اور لذیذ ہوتا ہے۔ *خرگوش کے گوشت میں وٹامن، پروٹین اور غذائیت بکرے کے گوشت سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ *ایک تحقیق کے مطابق سب سے زیادہ پروٹین خرگوش کے گوشت میں موجود ہیں جو کہ 33فیصد ہیں۔ *خرگوش کا گوشت زود ہضم ہوتا ہے۔ *خرگوش کا گوشت سانس کی تکلیف میں فائدہ مند ہے۔ *امراض جگر میں خرگوش کا گوشت کھانا بہت مفید ہے۔ *خرگوش کے گوشت میں آئرن کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو خون کی کمی کے مریضوں کے لیے اہم ہے۔* خرگوش کا گوشت حاملہ خواتین کی صحت کے لیے مفید ہے۔ *خرگوش کا گوشت بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے، اگر بلڈپریشر کے مریض گوشت میں خرگوش کا استعمال کریں تو اس بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ *خرگوش کے گوشت میں میگنیشیم پایا جاتا ہے جوکہ مدافعتی نظام اور بیماریوں سے لڑنے کے لیے بہت فائدہ مند ہے۔*خرگوش کا گوشت جسم سے صفراوی مادوں کے اخراج کو بڑھاتا ہے۔([8])

نوٹ:

تمام مریض اپنے طبیب (ڈاکٹر یا حکیم)کے مشورے سے استعمال کیجیے۔اس مضمون کی طبّی تفتیش حکیم رضوان فردوس عطّاری نے کی ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])دیکھیے:سیرتِ مصطفیٰ،ص586

([2])بخاری،2/167، حدیث:2572

([3])دیکھیے: مراٰۃ المناجیح، 5/661

([4])دارقطنی، 5/524، حدیث: 4788

([5])ابن ماجہ، 3/587، حدیث:3244

([6])دیکھیے: مسند امام احمد بن حنبل، 14/154، حدیث:8434

([7])ھدایہ، جز4، 2/352

([8])مختلف ویب سائٹ سے ماخوذ


Share