رسول اللہ ﷺاور نماز


رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اور نماز


مُبلّغِ اسلام، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، عاشقِ امامِ اہلِ سنت، حضرت علامہ مولانا شاہ عبدالعلیم صِدّیقی میرٹھی رحمۃُ اللہ علیہ دینی دنیاوی عُلوم کے جامِع،كئی زبانوں کے ماہر، درجن سے زائد کتب کے مصنف،شُعْلہ بیان خطیب، مُتَعَدّد اداروں کے بانی اور تعلیماتِ اسلام میں گہری نظر رکھنے والے عالمِ دین تھے، آپ نے دنیا کے کئی ممالک کا سفر کیا، آپ کی کوششوں سے صاحبِ اِقتدار حضرات سمیت تقریباً 50 ہزارغیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔آپ 1310ھ کو میرٹھ (یو۔پی) ہند میں پیدا ہوئے اور وصال 22ذوالحجہ 1374ھ کو مدینۂ منورہ میں ہوا، تَدْفین جنت البقیع میں کی گئی۔([1])

زیرِ نظر مضمون ”رسول اللہ اور نماز“ حضرت علامہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی کے انہی معارف اور علمی جواہرات کا ایک شاہکار ہے، جس میں آپ نے امت کے لیے اس عظیم تحفے یعنی نماز کی اہمیت کو نہایت مؤثر اور دل سوز انداز میں قلمبند فرمایا ہے، ملاحظہ کیجیے!

حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم دنیا میں اپنی پیغمبری کا اعلان فرمانے سے پہلے بھی اللہ کے ساتھ اس قدر دھیان لگاتے تھے کہ اُس بستی کو چھوڑ کر جہاں بتوں کے پجاری دنیا کی ہر قسم کی گندگی میں مبتلا رہتے ہیں۔ دو دو تین تین دن کا ناشتہ اپنے ساتھ لے کر، ایک پہاڑ کے غار میں تنہا جا بیٹھتے وہاں ٹھہر کر اپنے اللہ سے دھیان لگاتے اور اس سے دعائیں کرتے۔ اسی حال میں ایک دن وہیں بیٹھے تھے کہ خدا کی طرف سے اس کے سب سے بڑے فرشتہ جبریل علیہ السّلام آسمان سے آئے اور حضور سے کہا کہ پڑھیے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ( چونکہ آپ نے نہ کبھی کسی دنیوی استاد سے پڑھا نہ کسی سے لکھنا سیکھا) جبریل علیہ السّلام نے پھر کہا کہ ” پڑھیے۔“ آپ نے پھر وہی جواب دیا۔ جبریل علیہ السّلام نے یہ سُن کر آپ کو گلے لگایا، خوب زور سے دبایا اور پھر چھوڑ کر خدا کےکلام کی یہ آیتیں آپ کو سنائیں۔

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَۚ(۱)

اس رب کے نام سے پڑھیے جس نے پیدا کیا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍۚ(۲)

انسان کو خون سے بنایا۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُۙ(۳) الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِۙ(۴) عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْؕ(۵) ([2])

پڑھیے آپ کا رب تو ایسا کرم کرنے والا ہے کہ اُس نے قلم کے ذریعہ انسان کو وہ سب کچھ سکھا دیا جو وہ نہ جانتا تھا۔ (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

ان آیتوں کو سن کر آپصلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بھی اسی طرح ان کو پڑھا، اس کے بعد جبریل علیہ السّلام نے آپ کو نماز پڑھنے کا طریقہ سکھایا، آپ نے اسی طرح نماز پڑھی، گھر تشریف لائے اور اپنی بی بی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو یہ سارا حال سنایا۔ وہ آپ کو اپنے ایک رشتہ دار ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ جو خدا کی اگلی کتابوں کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ حال سنتے ہی کہا کہ یہ آنے والے جبریل علیہ السّلام وہی ہیں جو اور نبیوں، رسولوں کے پاس بھی آتے تھے اور اسی طرح خدا کا کلام لاتے تھے۔ عنقریب آپ کو خدا کی طرف سے حکم ملے گا کہ آپ خدا کا یہ کلام اُس کے بندوں کو سنائیں اور خدا کی عبادت کا یہ طریقہ جو اللہ نے آپ کو بتایا ہے، دوسروں کو بھی سکھائیں۔ اُس وقت مکہ کے لوگ آپ کو بہت ستائیں گے۔ اس لیے کہ آپ اُن کو بتوں کی پوجا سے منع فرما کر ان کے سر کو خدا کے سامنے جھکا ئیں گے۔ میں تو بہت بوڑھا ہو گیا ہوں کاش اس وقت تک زندہ رہتا تو آپ کی مدد کرتا۔ آپ کی بی بی حضرت خدیجہ اسی وقت مسلمان ہو گئیں اور آپ سے نماز کا طریقہ سیکھ کر خدا کی عبادت میں وہ بھی مشغول ہوئیں۔

صَلَّی اللہ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللہ وَسَلَّم عَلَیْکَ یَا حَبِیْبَ اللہ

بشارت ہو نبی آئے ہمارے رہنما بن کر!

حبیب کبریا ہو کر شفیع دوسرا بن کر

کہے یہ کس طرح کوئی نبی آئے خدا بن کر

مگر ہاں! آئے اس کی ذات ہی کا آئینہ بن کر

اگر چشم بصیرت ہے رسول اللہ کو دیکھو

ہوا ہے جلوہ گر نور خدا نورالہدیٰ بن کر

کہاں ہیں تشنگان دید حق اُن کی تسلی کو

یہ آیا عکس نور حق جمال مصطفٰے بن کر

محمد مصطفٰے نور ظہور کنز مخفی ہیں

ہدایت کے لیے آئے نبی الانبیاء بن کر

گنہگارو چلو خوش ہو بڑی تقدیر ہے اپنی

کہ وہ آئے شفیع المذنبین صاحب لوا بن کر

زباں کھلتی نہیں مختار کی شرمِ معاصی سے

دل مہجور خود حاضر ہے عرضِ مدعا بن کر

صَلَّی اللہ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللہ وَسَلَّم عَلَیْکَ یَا حَبِیْبَ اللہ

نماز کا بیان:

آپ کو اس نماز میں ایسا لطف آتا تھا کہ ساری ساری رات خدا کی عبادت میں گزارتے۔ اس کے بہت دنوں بعد پانچ وقت کی نمازیں فرض ہوئیں اور ہمیں تمہیں پانچ وقت کی نماز کے لیے تاکیدی حکم دیا گیا، مگر حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی یہ حالت تھی کہ رات بھر کھڑے ہوئے نماز پڑھتے۔ یہاں تک کہ آپ کے پیر بھی سوج جاتے، آج ہمیں فرض نماز پڑھنا دشوار معلوم ہوتا ہے جس کے لیے اس قدر تاکید کی گئی کہ حدیث میں آیا: جس نے جان بوجھ کر نماز کو چھوڑا اس نے دین ہی چھوڑ دیا۔ اُسے خدا سے کیا واسطہ رہا ہمیں پھر بھی اس کا خیال نہیں آتا۔ حضور اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خدا کی عبادت کا یہ سب سے اچھا نمونہ ہمیں دکھایا کہ خدا کی عبادت اس طرح کرو اور خدا سے اپنا رشتہ اس طرح جوڑو۔

صَلَّی اللہ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللہ وَسَلَّم عَلَیْکَ یَا حَبِیْبَ اللہ

جلوہ ہے خاص رحمت حق کا نماز میں!

انوار قدس کا ہے نظارہ نماز میں

جب ہاتھ اُٹھائے باندھ کے نیت تو یوں سمجھ!

دونوں جہاں سے ہاتھ اُٹھایا نماز میں

مولیٰ سے اپنے ملتا ہے بندہ نماز میں

اُٹھ جاتا ہے جدائی کا پردہ نماز میں

آ پہنچا خاص اپنے شہنشاہ کے حضور!

جب بندہ ہاتھ باندھ کے آیا نماز میں

مت کر قضا نماز کھڑی سر پہ ہے قضا

سن مالكِ قضا کا تقاضا نماز میں

گر قبر کی اندھیری سے ڈرتا ہے پڑھ نماز

ہے ظلمتِ لحد کا اُجالا نماز میں

بیدل نماز کیوں نہ ہو معراجِ مومنین

پاتا عروج و قرب ہے بندہ نماز میں

صَلَّی اللہ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللہ وَسَلَّم عَلَیْکَ یَا حَبِیْبَ اللہ

حقیقتِ نماز:

انسان کے وجود میں دو چیزیں ہیں، ایک جسم دوسری روح، جس طرح جسم کو غذاؤں کی ضرورت اسی طرح روح کو بھی غذا کی حاجت، جسم کی غذا مختلف قسم کا کھانا جس کا مزا سب سے پہلے زبان کو ملتا ہے، اسی طرح روح کی غذا خدا کی عبادت اور خدا کا ذکر۔ اس کی لذت سب سے پہلے دل پاتا ہے اس لیے قرآن پاک میں فرمایا جاتا ہے کہ

اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ([3])

بے شک خدا کے ذکر سے دل اطمینان پاتے ہیں۔

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 نماز ہی سے دل آرام پائے۔ روح کو چین ملے۔ پانچ وقت کی نماز اسی لیے فرض کی گئی کہ دن رات میں کم از کم پانچ بار لازمی طور پر یہ غذا روح کو پہنچائی جائے۔ اگر نہ پہنچائی جائے گی تو روح میں بھی اسی طرح کمزوری پیدا ہوگی جیسی جسم کو کھانا نہ پہنچنے کے سبب ہوتی ہے۔ آپ کو تجربہ ہے کہ دن رات میں جو اوقات ہم نے کھانے کے لیے مقرر کیے ہیں ان میں سے ایک وقت بھی اگر کھانا نہ ملے تو ہمارا کیا حال ہو جاتا ہے اور اگر اس طرح لگا تار چند وقت بے کھائے گزر جاتے ہیں تو کیا نوبت پہنچتی ہے کہ چلنا، پھرنا، ہلنا جلنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بار بار نماز کے چھوڑنے اور خدا کے ذکر کی غذا روح کو نہ پہنچانے کے سبب روحانی فاقہ سے روح بھی اس قدر کمزور ہو جاتی ہے کہ کسی نیک کام کی قوت نہیں معلوم ہوتی۔ وعظ میں دل نہیں لگتا، وظیفہ پڑھنے بیٹھتے ہیں تو دل گھبراتا ہے۔ ہاں گانے باجے، کھیل کود اور فضول کاموں میں دلچسپی ہوتی ہے۔ نہ نیند ہے نہ کسل، اس کی وجہ اصل میں یہی ہے کہ ہم نے نمازیں چھوڑ کر خدا کے ذکر سے غافل رہ کر اپنی روح کو کمزور بنا دیا ہے جیسے کمزور بدن بھاری کام سے گھبراتا ہے۔ کمزوری کے سبب اب یہ کام روح پر بھی بار معلوم ہوتے ہیں۔

صَلَّی اللہ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللہ وَسَلَّم عَلَیْکَ یَا حَبِیْبَ اللہ

اے فخر رسل شہ ہر دوسرا، کرو قید الم سے جلد رہا

مجھے رنج و فکر نے گھیر لیا میرے درد دل کی تمہیں ہو، دوا

رہے ذوق عبادت دل میں مرے، اسی شوق میں ہو انجام مرا

کوئی حارج راہ خیر نہ ہو، کروں گوشہ میں بیٹھ کے یاد خدا

نہ میں طالب دولت دنیا ہوں، نہ امارت و عیش کی خواہش ہے

تری الفت میں دیوانہ رہوں، مجھے طالب صادق اپنا بنا

ترے عشق میں اے محبوب خدا، مری عمر عزیز گزر جائے!

نہ کسی کی محبت دل میں رہے، نہ کسی سے تعلق ہووے مرا

کوئی مونس حال زار نہیں، مری جانِ حزیں ہے اور غم ہے

کروں کس سے میں شکوہ جور فلک، مری کون سنے گا تیرے سوا

میں بشر ہوں بھلا کیوں کر جھیلوں، یہ ستم یہ جفا یہ رنج والم

مجھے چین سے رہنا مشکل ہے، مرا ضبط پہ بھی قابو نہ رہا

کرو مجھ پہ نگاہ کرم جو شہا، ابھی بگڑی ہوئی بن جائے مری

ہوا اشرفی مسکیں کے لیے دوران آمادہ جو روجفا([4])

صَلَّی اللہ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللہ وَسَلَّم عَلَیْکَ یَا حَبِیْبَ اللہ



([1])ماہنامہ فیضان مدینہ، ذوالحجہ 1438ھ/ستمبر 2017ء، ص43، مضمون: اپنے بزرگوں کو یاد رکھیے

([2])پ30، العلق:1تا5

([3])پ13، الرعد:28

([4])تبرکات عالمی مبلغ اسلام،ص29 تا 33


Share