ہجرت نبوی میں گھرانۂ صدیقی کاکردار
مَردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے کی سعادت پانے والے حضرت ابو بکر صدیق رضیَ اللہ عنہ ہیں آپ اپنی پوری حیات میں نہایت خاموشی، گہرائی اور والہانہ وابستگی کے ساتھ سرچشمۂ نبوت کے پانی سےا یمان و حکمت، یقین و عزیمت اور تقویٰ و اخلاص کے انمول موتی چنتے رہے۔ اس طویل صحبت اور بے مثال رفاقت کے نتیجے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ کا دامنِ حیات تقوی و پرہیز گاری، ذکر و بیداری، محبت و وفاشعاری، عزیمت و ذمہ داری، اور اخلاص و فرمانبرداری کے گراں قدر ثمرات سے مالا مال ہو گیا۔اور یہ ثمرات صرف حضرت صدیقِ اکبر رضیَ اللہ عنہ کی ذات تک محدود نہ رہے بلکہ صدیقی گھرانے کے دیگر افراد بھی اس سے برکتیں پاتے رہے ہیں، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ہجرتِ مدینہ کی روانگی کا وقت صرف مولا علی، حضرت ابو بکر صدیق اور آل صدیقی رضیَ اللہ عنہم جانتے تھے،([1]) اس لیے اس عظیم موقع پر ان حضرات کی جاں نثاری اور وفاداری ایک عظیم داستاں بیان کرتی ہے۔ آئیے ہجرتِ مدینہ کے موقع پر صدیقی گھرانے کی قربانیوں کے کچھ واقعات پڑھتے ہیں۔
ہجرتِ مدینہ اور انتظارِ صدیق:
ہجرتِ حبشہ کے بعد، جب مکہ مکرمہ کے حالات مسلمانوں کے لیے مزید ناسازگار ہوئے تو ہجرتِ مدینہ منورہ کا تاریخی وقت آپہنچا۔ دیگر صحابۂ کرام کی طرح سیدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ کے دل میں بھی یہ خواہش بیدار ہوئی لہٰذاکئی بار رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت چاہی،آخر کار سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انہیں روکتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا:لَا تَعْجَلْ لَعَلَّ اللّٰهَ يَجْعَلُ لَكَ صَاحِبًا جلدی نہ کرو، شاید اللہ پاک تمہیں میری صحبت میں ہجرت نصیب فرمائے۔ یہ سنتے ہی ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ (نےاپنی خواہش کو قربان کیا اور) اس بات کی تمنا کرنے لگے کہ کاش! انہیں کائنات کی سب سے عظیم ہستی پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی رفاقت میں سفرِ ہجرت کی سعادت حاصل ہو جائے۔([2])
مژدۂ رفاقت پر اشکِ مسرت:
ہجرتِ نبوی کے عظیم مرحلہ کو اُمُّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضیَ اللہ عنہا یوں بیان فرماتی ہیں کہ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا یہ معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم روزانہ صبح یا شام کے وقت ہمارے گھر تشریف لایا کرتے تھے۔ لیکن جب ہجرت کا حکم نازل ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم معمول کے برعکس دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائے۔گھر میں داخل ہو کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: ہجرت کا حکم آ گیا ہے۔سیدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ نے تڑپ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے آپ کی رفاقت چاہیے؟ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مژدہ سنایا: ہاں، تم بھی ہمارے ہی ساتھ چلو گے۔ رفاقت کا یہ مژدۂ جاں فزا سن کر ابوبکر رضیَ اللہ عنہ کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو جاری ہو گئے اور وہ رونے لگے۔ بی بی عائشہ صدیقہ رضیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: آج سے پہلے مجھے اس بات کا علم ہی نہ تھا کہ کوئی انسان حد سے زیادہ خوشی میں بھی رو سکتا ہے۔([3])
دو اونٹنیاں پیش کیں:
سفرِ ہجرت کا مژدہ سنتے ہی سیدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ نے فوراً دو اونٹنیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی خدمتِ اقدس میں پیش کیں اور عرض کیا:یا رسول اللہ! ہجرت ہی کے تاریخی دن کے لیے میں نے یہ دو اونٹنیاں خاص طور پر پال رکھی تھیں اور انہیں تیار کیا تھا۔([4])
مالی قربانی:
اس کے بعد سفر کی حکمتِ عملی کے تحت بنو دیل بن بکر کے ایک فرد عبداللہ بن اُرَیْقط کو راستے کی رہنمائی کے لیے اجرت پر مقرر کیا گیا۔ یہ شخص راستوں کا ماہر اور قابلِ اعتماد تھا۔ چنانچہ یہ دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کر دی گئیں تاکہ وہ وقتِ مقررہ تک ان کی دیکھ بھال کرے اور انہیں محفوظ رکھے۔([5])
غارِ ثور کی طرف روانگی:
پھر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مدینہ کی طرف روانگی کا پختہ ارادہ فرمایااور اپنے کاشانۂ اقدس سے نکل کر حضرت ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے، پھر رات ہونے تک وہیں قیام پذیر رہے۔([6])
بناتِ صدیقی کی خدمات :
صدیقی گھرانے نے بھی اس سفر کے لیے خدمات کا ایک لاجواب باب رقم کیا۔ چنانچہ اُمُّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلماور والد محترم حضرت ابو بکر صدیق رضیَ اللہ عنہ کے لیے بہترین طریقے سے سامانِ سفر تیار کیاجس میں بکری کاپکا ہوا گوشت بھی شامل تھا۔ توشہ تیار کر کے ایک تھیلے میں رکھ دیا گیا،لیکن تھیلے کا منہ باندھنے کے لیے گھر میں کوئی رسی یا کپڑا نہ ملا اس نازک موقع پر بڑی بہن حضرت اسماء رضیَ اللہ عنہا نے کمر پر (کام کاج کے دوران باندھا جانے والا)کپڑا کھولا، اسے درمیان سے پھاڑ کر دو ٹکڑے کیے اور ایک ٹکڑے سے پانی کا مشکیزہ اور دوسرے سے توشے کا تھیلا مضبوطی سے باندھ دیا۔ ان کی اسی فہم و فراست اور خدمت کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے انہیں ’’ذات النطاقین“ کا عظیم لقب عطا کیا اور فرمایا: اللہ تجھے اس کے بدلے دو جنتی کپڑے عطا کرے۔([7])جب رات کا اندھیرا چھا گیا تو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضیَ اللہ عنہ گھر کی پشت پر موجود ایک چھوٹے دروازے سے باہر نکلےاور وہاں سے سیدھے مکہ کے زیریں علاقے میں واقع پہاڑ ثور کے ایک غار کی طرف رخ کیا۔ ([8])
غارِ ثور کے راستے میں والہانہ جاں نثاری:
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ساتھ غار ثور کی جانب بڑھتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ پر عجیب وارفتگی کی کیفیت طاری تھی۔ وہ راستے میں کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے آگے چلنے لگتے اور کبھی پیچھے چلتے، کبھی دائیں جانب آجاتے اور کبھی بائیں طرف آجاتے، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ان کی اس بے چینی کو محسوس کیا اور پوچھا: اے ابوبکر! یہ کیا ماجرا ہے کہ تم کچھ دیر میرے آگے چلتے ہو اور کچھ دیر پیچھے، کبھی دائیں چلتے ہو تو کبھی بائیں ؟ عاشقِ صادق صدیق اکبر رضیَ اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب مجھے یہ خیال آتا ہے کہ لوگ آپ کو تلاش کررہے ہیں تو آپ کے پیچھے چلنے لگ جاتا ہوں اور جب یہ خوف ستاتا ہے کہ کوئی دشمن آگے گھات لگائے نہ بیٹھا ہو، تو میں آپ کے آگے آ جاتا ہوں (تاکہ آپ تک پہنچنے والی ہر مصیبت پہلے مجھ پر آئے) پھر دائیں اور بائیں چلتا ہو تاکہ آپ کی حفاظت کے بارے میں مطمئن رہوں۔یہ سن کر مکی مدنی سرکار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اگر کوئی تکلیف پہنچے تو وہ تمہیں پہنچے اور میں محفوظ رہوں؟ سیدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ نے تڑپ کر عرض کی: جی ہاں، اللہ پاک کی قسم ! میں تو یہی پسند کرتا ہوں کہ ہرقسم کی تکلیف و مصیبت مجھے پہنچے اور آپ کو کچھ بھی نہ ہو۔([9])
اپنے کندھوں پر اٹھالیا:
محبت، جانثاری اور فدا کاری کے مراحل ابھی ختم نہ ہوئے تھے آگے بھی کئی ادوار آنے والے تھے رات کے اندھیرے میں غار ثور کی طرف بڑھتے ہوئے رسول مکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنے مبارک پیروں کی انگلیوں کے بل چل رہے تھے۔ اور اس احتیاط کا مقصد صرف یہ تھا کہ تعاقب کرنے والے قریش قدموں کے نشانات نہ پا سکیں یہاں تک کہ مکہ کی سنگلاخ وادیوں میں اس طرح چلنے سے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے قدمینِ مبارک زخمی ہو گئے۔ یارِ غارحضرت ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ نے جب اپنے محبوب کے پیروں کی یہ تکلیف دیکھی تو جذبۂ عشق سے رہا نہ گیا فوراً جھک کر کائنات کے والی پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنے کندھوں پر اٹھا لیا اور چلتے ہوئے غارِ ثور کے دہانے تک پہنچ کر نیچے اتار دیا۔
سانپ نے ڈس لیا:
پھر صدیقِ اکبر رضیَ اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! غار میں پہلے میں داخل ہوتا ہوں، اگر اندر کوئی موذی جانور یا خطرہ ہوا، تو وہ آپ سے پہلے مجھے نقصان پہنچائے گا۔ صدیق اکبر رضیَ اللہ عنہ اندر گئے، تسلی کی اور پھر اپنے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو انتہائی تعظیم کے ساتھ اٹھا کر غار کے اندر لے آئے۔ اس اندھیرے غار میں ایک ایسا سوراخ تھا جہاں زہریلے بچھو اور سانپ تھے۔ صدیقِ اکبر رضیَ اللہ عنہ کو خوف ہوا کہ کہیں کوئی موذی شے نکل کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کوتکلیف نہ پہنچائے، لہٰذا انہوں نے جان کی پروا کیے بغیر اپنا قدم اس سوراخ پر رکھ دیا۔سوراخ میں موجود سانپ نے سیدنا صدیق اکبر کے قدم پر بار بار ڈسا۔ زہر جسم میں سرایت کرنے لگا، تکلیف حد سے بڑھی تو چشمِ پرنم سے آنسو چھلک پڑے اور رخسارِ مبارک پر بہتے ہوئے رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے چہرۂ انور پر جا گرے۔دو عالم کے مالک و مختار صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بیدار ہوئے، اور پوچھا:اے ابو بکر !کیا بات ہے؟ عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم! سانپ نے ڈس لیا ہے۔پھر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اپنے یارِ غار کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: اے ابو بکر! غم نہ کرو، بے شک اللہ پاک ہمارے ساتھ ہے۔ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے ان الفاظِ مبارکہ کا ادا ہونا تھا کہ اللہ پاک نے صدیقِ اکبر رضیَ اللہ عنہ کے تڑپتے دل پر سکینت اور اطمینان نازل فرما دیا۔ ایک روایت میں ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ کے اس حصے پر اپنا لعاب دَہن (یعنی تھوک شریف)لگایا توفوراً آرام مل گیا۔([10])
قریش کا غیظ وغضب اور بی بی اسماء کی استقامت:
دوسری جانب ابو جہل نے کچھ کافروں کو ساتھ لیا اور حضرت ابو بکر صدیق رضیَ اللہ عنہ کے گھر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے صاحب زادی حضرت بی بی اسماء رضیَ اللہ عنہا باہر نکلیں تو ابو جہل نے غصے میں پوچھا: تمہارا باپ ابوبکر کہاں ہے؟ حضرت اسماء رضیَ اللہ عنہ نے جرأت سے جواب دیا: مجھے ان کا علم نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔یہ سن کر ظالم انسان ابوجہل نے حضرت بی بی اسماء رضیَ اللہ عنہ کے منہ پر ایسا زور دار طمانچہ رسید کیا جس کی شدت سے ان کے کان کی بالی ٹوٹ کر نیچے جا گری۔ اس ظلم کے باوجود سیدہ اسماء رضیَ اللہ عنہ نے رازداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا،اور کسی کو کچھ نہ بتایا کہ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور ان کے رفیقِ خاص صدیق اکبر رضیَ اللہ عنہ کہاں تشریف لے گئے ہیں۔([11])
فرزندِ صدیقی کی ڈیوٹی :
سیدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ کے لختِ جگر، حضرت عبداللہ بن ابوبکر رضیَ اللہ عنہما انتہائی ذہین، ہوشیار اور فہم و فراست کے مالک نوجوان تھے۔ ان کی ڈیوٹی یہ تھی کہ وہ رات کے وقت غارِ ثور میں رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور اپنے والدِ ماجد کے پاس پہنچ جاتے اور رات وہیں گزارتے۔ پھر آخری شب منہ اندھیرے وہاں سے نکل کر مکہ مکرمہ واپس آ جاتے، اور قریش کے لوگوں میں اس طرح شامل ہوجاتے کہ جیسے انہوں نے رات مکہ ہی میں گزاری ہے۔
اہلِ مکہ کی جاسوسی :
اس کے بعد صاحب زادے حضرت عبد اللہ رضیَ اللہ عنہ دن بھر قریشِ مکہ کے مابین اٹھتے بیٹھتے اور رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضیَ اللہ عنہ کے متعلق جو بھی سازشیں، مشورے یا باتیں ہوتیں، انہیں اچھی طرح ذہن نشین کر لیتے تھے۔ جیسے ہی رات کی تاریکی چھاتی، وہ تمام خبریں لے کر غارِ ثور پہنچ جاتے اور دونوں مبارک ہستیوں کو مکہ کے حالات سے باخبر کر دیتے۔ اس طرح قریشِ مکہ کو کانوں کان خبر نہ ہو پاتی کہ حضرت ابوبکر رضیَ اللہ عنہ کے صاحب زادے حضرت عبد اللہ رضیَ اللہ عنہ مکہ سے باہر گئے ہیں۔([12])
غلامِ صدیقی کی خدمات اور دفاعی حکمتِ عملی:
نہ صرف آلِ ابوبکر بلکہ ان کے آزاد کردہ وفادار غلام بھی اس عظیم مشن کا اہم حصہ تھے۔ چنانچہ حضرت عامر بن فہیرہ رضیَ اللہ عنہ غارِ ثور والے پہاڑ کے آس پاس دن بھر بکریاں چَرایا کرتے تھے۔ رات کے وقت جب قریش کی آمد و رفت تھم جاتی، تو بکریاں لے کر غار کے پاس پہنچتے اور تازہ دودھ نکال کر رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضیَ اللہ عنہ کی خدمت میں پیش کرتے۔ دونوں مبارک ہستیاں یہ دودھ پی کر رات آرام سے گزارتیں۔ اس کے بعد حضرت عامر رضیَ اللہ عنہ رات کے اندھیرے میں بکریوں کوہانکتے ہوئے مکہ واپس آجاتے۔ ان تین راتوں میں حضرت عامر بن فہیرہ رضیَ اللہ عنہ اسی طرح کرتے رہے۔
حضرت عامر خادم کی حیثیت سےشامل ہوئے:
پھر جب ہجرت کا سفر باقاعدہ شروع ہواتو حضرت عامر بن فہیرہ رضیَ اللہ عنہ بھی حضرت ابو بکر صدیق رضیَ اللہ عنہ کی سواری پر پیچھے بیٹھ کر اس قافلے کے ساتھ ہولیے تاکہ دونوں مقدس ہستیوں کی خدمت کے فرائض سر انجام دے سکیں۔ اس طرح یہ مبارک قافلہ چارافراد پر مشتمل تھا، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم، سیدنا ابوبکر صدیق، حضرت عامر بن فہیرہ رضیَ اللہ عنہما اور راستے کی راہنمائی کرنے والاعبداللہ بن اریقط شامل تھے۔ ابنِ اُرَیْقط اس قافلے کو قریش کے تعاقب سے بچانے کے لیے عام راستوں کے بجائے ساحلی راستے سے لے کر روانہ ہوا۔([13])
یاد رہے کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضیَ اللہ عنہ یکم ربیع الاول جمعرات کی رات کو مکۂ مکرمہ سے نکل کر غارِ ثور میں مقیم ہوئے، تین راتیں یعنی جمعہ ہفتہ اور اتوار کی راتیں غار میں قیام فرمایا، پھر وہاں سے پیر کی رات 5 ربیع الاول مطابق 622عیسوی کو عازم مدینہ ہوئے اور 12 ربیع الاول بروز پیر چاشت کے وقت مدینہ منورہ میں جلوہ فرما ہوئے۔([14])
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی
Comments