اللہ سے محبت کرو
اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اَحِبُّوا اللَّهَ یعنی اللہ پاک سے محبت کرو۔ (ترمذی، 5/434، حدیث:3814)
پیارے بچو! اس خوبصورت حدیث میں ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہمیں سکھا رہے ہیں کہ ہمیں اپنے سچے رب سے دل سے محبت کرنی چاہیے ۔
غور تو کیجیے!ہم اپنے پیارے اللہ سے محبت کیوں نہ کریں؟ اللہ پاک ہمارا خالق اور ہمارا مالک ہے، ہم اس کے بندے ہیں،اسی نے ہمیں پیدا کیا، دنیا میں بھیجا، ہمیں کوئی معمولی جانور نہیں بنایا، بلکہ سب سے خوبصورت شکل والا انسان بنایا۔ دیکھنے کے لیے آنکھیں، سننے کے لیے کان، چلنے پھرنے کے لیے پاؤں، ہمیں عقل اور سمجھ دی، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت دی جس کے ذریعے ہم اچھے برے کی پہچان کرتے ہیں اور دیگر ہزار طرح کی جسمانی نعمتیں عطا کیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں انسان بنانے کے ساتھ ساتھ مسلمان بنایا، اپنے پیارے نبی محمد عربی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی امت میں شامل کیا۔
تو ہم اللہ پاک سے محبت کیوں نہ کریں کہ جس نے ہمارے لیے چاند، سورج، ستارے، پہاڑ، درخت، دریا، سمندر، کھیت، فصلیں، پھل، میوے اور نجانے کیسی کیسی نعمتیں پیدا فرمائیں اور ہم دن رات ان نعمتوں سے فائدے اٹھاتے ہیں۔ قرآن پاک کی بہت سی آیات میں ان نعمتوں کا ذکر موجود ہے۔
پیارے بچو! باقی ساری نعمتیں تو ایک طرف، ہم صرف ایک نعمت ”گندم“ کو ہی دیکھیں تو حیران رہ جاتے ہیں کہ اللہ پاک نے ایک چھوٹے سے دانے سے ہمارے لیے کتنی بڑی نعمت پیدا کی اور کیسے پیدا کی، چنانچہ بہت بڑے عالمِ دین امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ گندم کے ایک دانے کو اگانے کے لیے اللہ پاک نے کتنا بڑا نظام چلایا ہے۔ اس دانے کو مٹی میں بویا جاتا ہے ، ہوا کو چلانے کے لیے اللہ ہواؤں کو حکم دیتا ہے ، مٹی کو گرم رکھنے کے لیے سورج کو حکم دیتا ہے اور موسموں کو بدلتا ہے، پھر بادلوں کو پانی سے بھاری کر کے ہوا کے ذریعے دور دراز علاقوں تک پہنچاتا ہے اور بوند بوند کر کے بارش برساتا ہے تاکہ بستیاں غرق نہ ہوں، پہاڑوں میں پانی ذخیرہ کرتا ہے جو آہستہ آہستہ چشموں کی صورت میں نکلتا ہے، اللہ کے حکم سے رات کو چاند کی ٹھنڈی روشنی پھلوں کو پکاتی اور رنگین کرتی ہے۔ (دیکھیے: احیاء علوم الدین،4/ 142، 143)
عزیز بچو! سوچیں، گندم کے ایک دانے کے لیے زمین، ہوا، بادل، بارش، سورج اور چاند سب مل کر کام کر رہے ہیں! ہمارے اوپر یہ اللہ پاک کا کتنا بڑا احسان ہے ۔
ہم ہر وقت سانس لیتے ہیں ،یہ قیمتی آکسیجن جو کہ اسپتالوں میں مریضوں کو ہزاروں، لاکھوں روپے خرچ کرنے پر ملتی ہے لیکن ہمیں درختوں کے ذریعے ہوا میں بالکل مفت ملتی ہے۔
ہم ایسے کرم والے رب سے محبت کیوں نہ کریں جس نے ہمارے پینے کے لیے صاف اور ٹھنڈا پانی رکھا، کھانے کے لیے مزیدار اور مختلف قسم کے کھانے بنائے،پہننے کے لیے خوبصورت کپڑے اور رہنے کے لیے پیارا گھر دیا، یہ گھر ہمیں سردی، گرمی اور بارش سے بچاتا ہے، ہمیں پیار کرنے والے امی ابو اور بہن بھائی دیے جو ہر وقت ہمارا خیال رکھتے ہیں۔
اچھے بچو! جس اللہ پاک نے ہمارے اوپر نعمتوں کی اتنی موسلا دھار بارش برسا ئی ہے ہمارا بھی حق بنتا ہے کہ ہم اپنے پیارے رب سے دل و جان سے محبت کریں، اللہ اور رسول کو راضی کرنے والے کام کریں۔
ہمیں اپنے اچھے اعمال سے ثابت کرنا ہوگا کہ ہم اللہ سے سچی محبت کرتے ہیں:پانچ وقت کی نماز اداکر کے اللہ پاک سے محبت کا ثبوت دیں، روزانہ قرآن پاک کی تلاوت کریں، اپنے امی ابو کی بات مانیں اور ان کا ادب و احترام کریں، غریب اور ضرورت مند بچوں کی مدد کریں، کسی بھوکے کو کھانا کھلائیں، یہ سب محبتِ الٰہی کی نشانیاں ہیں۔ اسی طرح اللہ کی نافرمانیوں سے بچنا اور دیگر گناہ والے کاموں سے بچنا بھی محبتِ الٰہی کی نشانی ہے۔
جب ہم یہ اچھے کام کریں گے اور برے کاموں سے بچیں گے تو ہمارا پیارا اللہ ہم سے راضی ہوگا اور ہمیں دنیا اور آخرت میں بہت بڑا انعام دے گا۔ اِن شآءَ اللہ
اللہ پاک ہمیں اپنی سچی محبت عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی

Comments