رازکی حفاظت کیجیے
ہمارے پیارے اور آخری نبی، مکی مدنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اَلْمَجَالِسُ بِالْاَمَانَةِ یعنی مجلسیں امانت ہیں۔ ([1])
یعنی جب کوئی خاص مجلس یا میٹنگ کی جائے، وہاں جو کچھ طے ہو اسے عام نہ کرو بلکہ صیغہ راز میں رکھو کہ وہاں جو کچھ ہوا وہ امانت (یعنی راز) ہے۔([2])
راز یہ ہے کہ امی ابو، ٹیچر یا کوئی دوست آپ کو کوئی بات بتائے اور کہے کہ کسی کو نہ بتانا یہ راز کہلاتا ہے۔
راز کی حفاظت کرنا بہت اچھی عادت ہے۔ جو بچہ دوسروں کے راز چھپاتا ہے، لوگ اس پر اعتماد کرنے لگتے ہیں ، اس کی عزت بڑھ جاتی ہے اور اسے امانت دار سمجھتے ہیں۔ لیکن جو بچہ دوسروں کے راز کی باتیں ادھر ادھر کر دیتا ہے، اس سے دوستیاں ٹوٹ جاتی ہیں اور لوگ اس سے دور رہنے لگتے ہیں۔ اسے کم عقل سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے ہمیں دوسروں کے راز کی باتوں کو ہمیشہ چھپا کر رکھنا چاہیے۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ ایک عظیم صحابی ہیں جو کہ بچپن ہی سے رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس رہے، آپ بچپن میں بھی رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے راز کی حفاظت کرتے تھے، آپ فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، تو پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہاں تشریف لائے اور سلام کرنے کے بعد مجھے ایک خاص کام سے کہیں بھیجا۔ اس کام کی وجہ سے مجھے گھر پہنچنے میں دیر ہو گئی تو امی نے پوچھا:بیٹا! تمہیں دیر کیوں ہوئی؟ میں نے جواب دیا:مجھے اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ایک کام سے بھیجا تھا۔ امی نے پوچھا: وہ کیا کام تھا؟ میں نے عرض کیا: امی! وہ ایک راز (Secret) ہے۔ تو امی نے فرمایا:بیٹا! پھر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا راز کسی کو ہرگز نہ بتانا۔([3])
صرف بچے ہی نہیں بڑے صحابہ کرام بھی راز کی حفاظت کرنے والے تھے، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ رازدارِ مصطفےٰ ہی معروف ہیں کیونکہ آپ نے نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ایک راز ساری زندگی کسی کو نہیں بتایا تھا۔
پیارے بچّو!دیکھا آپ نے! ایک چھوٹے بچے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے لے کر بڑے صحابی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تک، سب نے راز کی حفاظت کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔
اچھے بچو! ہمیں چاہیے کہ اگر کوئی دوست، بہن بھائی یا گھر والا ہمیں کوئی راز کی بات بتائے تو اسے کسی سے بھی شیئر نہ کریں ۔ اسی طرح جب ابو، امی یا بڑے بھائی وغیرہ کسی نئے کاروبار، بجٹ کی منصوبہ بندی پر بات کریں یا گھر میں کسی کی شادی کی بات چل رہی ہو تو یہ باتیں بھی گھر کے راز ہیں یہ باتیں گھر کی چار دیواری میں ہی رہنی چاہئیں۔ اسی طرح بعض بچے اپنے گھر کے کھانے پینے ، خریدوفروخت وغیرہ کی ہر بات دوسروں کو بتاتے رہتے ہیں، انہیں بھی اس سے پرہیز کرنا چاہیے۔
یاد رہے کہ اگر کوئی راز کسی مسلمان کو نقصان پہنچانے والا ہو یا کسی کا مال چرانے کے متعلق ہو یا کسی پر ظلم کرنے کے بارے میں ہو تو یہ راز نہیں ہے ایسی بات چھپانے کے بجائے فوراً امی ابو یا کسی بڑے کو بتا دینی چاہیے۔
اللہ پاک ہمیں راز کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ماہنامہ فیضان مدینہ)

Comments