غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی نصیحتیں


غوثِ اعظم رحمۃُ اللہ علیہ کی نصیحتیں


تصوف و طریقت کے باب میں غوثِ اعظم، حضور سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃُ اللہ علیہ کا مقام ایک ایسے آفتاب کی مانند ہے جس کی روشنی آج بھی دلوں کو منور کر رہی ہے۔ ”محی الدین“، ”محبوبِ سبحانی “ اور ”غوثِ اعظم“ جیسے القاب آپ کی اُس روحانی عظمت کا پتا دیتے ہیں جو علمِ ظاہر اور علمِ باطن، دونوں میں کامل جامعیت رکھتی ہے۔

زیرِ نظر مضمون میں سردارِ اولیاء، حضور غوثِ اعظم رحمۃُ اللہ علیہ کے چند منتخب فرامین پیش کیے جا رہے ہیں، جو دنیا کی حقیقت، رضائے الٰہی، اصلاحِ باطن، سچائی، تقویٰ اور اخلاص جیسے بنیادی موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ آئیے! ان سنہری نصیحتوں کی روشنی میں اپنے نفس کا احتساب کرتے ہیں:

(1)دنیا اور آزمائش:

اے لوگو! صبر سے کام لو، دُنیا کی زندگی آفتوں اور مصیبتوں سے بھی بھری پڑی ہے۔ کوئی بچ سکا تو بہت ہی کم، دنیا کی کوئی نعمت ایسی نہیں کہ جس کے ساتھ مصیبت اور غم نہ ہو، کوئی خوشی ایسی نہیں کہ جس کے ساتھ رنج نہ ہواورکوئی فراخی ایسی نہیں کہ جس کے ساتھ تنگی نہ ہو۔ شریعت کے دائرے میں دنیا سے اپنے مقدر کا لکھا لیتے رہو، یقینی بات تو یہ ہے کہ دنیا کی لذتوں سے جو مرض لاحق ہو، شریعت ہی اس کا علاج ہے۔ ([1])

اس فرمان میں حضور غوثِ اعظم نے دنیا کی حقیقت بےنقاب کر دی ہے کہ یہاں کوئی نعمت مصیبت سے خالی نہیں۔ ساتھ ہی علاج بھی تجویز فرما دیا کہ انسان شریعت کے دائرے میں رہ کر اپنا مقدر طلب کرے، کیونکہ دنیا کی محبت سے پیدا ہونے والے امراضِ قلب کا واحد علاج شریعتِ مطہرہ ہی ہے۔

(2)رضائے الٰہی

جو شخص رضائے الٰہی میں راضی نہ ہو، اس کی ہم نوائی نہیں ہوتی، نہ ہی توفیق دی جاتی ہے، جو قضائے الٰہی میں راضی نہیں اللہ بھی اس سے راضی نہیں، جو خود نہیں دیتا، اسے بھی نہیں دیا جاتا، جو کسی سے نہیں ملتا، کوئی اس کے پاس بھی چل کے نہ آئے گا۔([2])

یہ فرمان ایک باہمی تعلق کی تصویر کھینچتا ہے، انسان کا اللہ اور اس کی مخلوق کے ساتھ جیسا رویہ ہوگا، اسے ویسا ہی بدلہ ملے گا۔ رضا، سخاوت اور تعلق قائم رکھنے سے ہی اللہ کی رضا، توفیق اور لوگوں کی محبت حاصل ہوتی ہے۔

(3)باطن کی اصلاح

ایمان والا پہلے اپنے باطن کو آباد کرتا ہے، پھر ظاہر کو، جیسے کوئی شخص گھر بناتا ہے تو پہلے اس کے اندر والے حصے پر بڑی رقم خرچ کرتا ہے مگر اس کا دروازہ خراب ہی ہوتا ہے، جب گھر کی اندرونی تعمیر مکمل ہو جاتی ہے تب دروازہ بناتا ہے۔ اسی طرح سے سالک اللہ کے ساتھ ابتدا کرے اور اس کی رضا طلب کرے، پھر اس کے حکم سے خلقت کی طرف توجہ کرے۔([3])

اس فرمان میں سالک کو تعمیرِ زندگی کی ترتیب سکھائی گئی ہے کہ پہلے باطن کی آبادکاری، پھر ظاہر کی زینت۔ یعنی پہلے اللہ سے تعلق مضبوط کرے اور اس کی رضا کا طالب ہو، پھر اسی کے حکم سے مخلوق کی طرف متوجہ ہو۔

(4)دنیا کے بدلے آخرت

تم پر افسوس ہے کہ دنیا کے بدلے تم آخرت کو کیسے خراب کرتے ہو، اپنے نفس اور خواہش اور شیطان اور خلقت کی اطاعت کر کے اپنے مالک کی تابع داری کیسے فاسد کرتے ہو، اس کے غیر سے شکوہ و شکایت کر کے اپنے تقویٰ کو کیوں ضائع کرتے ہو، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ پر ہیز گاروں کا حافظ و ناصر ہے، ان سے بدی کو روکنے والا ہے، ان کو علم کی دولت دینے والا ہے، انہیں اپنی معرفت عنایت کرنے والا ہے، انہیں تکلیف دہ چیزوں سے نجات عطا کرنے والا ہے، انہیں ایسی جگہ سے رزق پہنچانے والا ہے، جہاں سے انہیں گمان بھی نہیں۔([4])

اس فرمان میں انسان کی اس بنیادی غلطی کی نشاندہی کی گئی ہے کہ وہ فانی دنیا کے عوض آخرت کو تباہ کر لیتا ہے۔ ساتھ ہی متقین کے لیے اللہ تعالیٰ کی خصوصی حفاظت، رزق، علم اور نجات کی بشارت دے کر تقویٰ اختیار کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔

(5)اوروں کو نصیحت خود را فضیحت

تیرے پر افسوس ہے کہ تو قرآن حفظ کرتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا، رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث یاد کرتا ہے مگر ان پر عمل نہیں کرتا، تو یہ کیا کر رہا ہے؟ لوگوں کو کرنے کے لیے کہتا ہے مگر خود وہ نہیں کرتا ! دوسروں کو روکتا ہے اور خود اس سے نہیں رکتا۔([5])

یہ فرمان اس منافقانہ روش پر کاری ضرب ہے جس میں انسان قرآن و حدیث کا علم تو رکھتا ہے، دوسروں کو نیکی کی تلقین بھی کرتا ہے مگر خود اس پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔ اصل کامیابی صرف علم حاصل کرنے یا نصیحت کرنے میں نہیں، بلکہ اس علم پر خود عمل کرنے اور اپنے کردار کو سنوارنے میں ہے کہ عمل کے بغیر علم محض حجت بن جاتا ہے۔

(6)متقی اور منافق کا عمل

متقی اللہ کی عبادت بلا تکلف کرتا ہے، کیونکہ عبادت تو اس کی عادت بن گئی ہے، وہ اپنے ظاہر اور باطن دونوں سے اللہ کی بندگی بلا تکلف کرتا ہے، جبکہ منافق ہر حال میں تکلف کرتا ہے، خاص طور سے اللہ کی عبادت ظاہری طور پر تکلف سے ادا کرتا ہے، باطنی طور پر عبادت کا ترک کرنے والا ہے۔([6])

اس فرمانِ مبارکہ میں ریاکاری اور اخلاص کے درمیان فرق کرنے والی لکیر کو بیان کیا گیا ہے کہ متقی کی عبادت اس کی عادت بن چکی ہوتی ہے، اس لیے وہ بلا تکلف اللہ کی عبادت کرتا ہے جبکہ منافق کی عبادت محض ظاہری دکھاوا ہوتی ہے اور باطن میں وہ اس سے خالی رہتا ہے۔

(7)سچ بولو، فلاح پاؤ

اے اللہ کے بندو! سچ بولو اور فلاح پاؤ، سچے کی ہمت آسمان سے بلند ہے، کسی کی بات اسے نقصان نہیں دیتی، اللہ اپنے امر پر غالب ہے، جب تجھ سے کسی کام کا ارادہ کرے گا تو اس کے لیے تجھے تیار کر دے گا۔([7])

اس فرمان میں سچائی کو فلاح کی ضمانت قرار دیا گیا ہے۔ سچے انسان کی ہمت اتنی بلند ہوتی ہے کہ لوگوں کی باتیں اسے متزلزل نہیں کرتیں، کیونکہ وہ اللہ کی نصرت پر بھروسا رکھتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے سچے بندے کو ہر کام کے لیے خود تیار فرما دیتا ہے۔

(8)عالم اور زاہد کون؟

اگر تیرے پاس علم کا پھل اور برکت ہوتی تو اپنے نفس کی خواہشات اور لذات کے لیے بادشاہوں کے دروازوں پر مارا مارا نہ پھرتا، عالم کے پاس وہ پیر ہی نہیں ہوتے جن سے وہ مخلوق کے دروازوں کی طرف دوڑے اور زاہد کے پاس وہ دو ہاتھ ہی نہیں ہوتے جن سے وہ لوگوں کے مال لے۔([8])

اس فرمان میں حضور غوثِ اعظم علیہ الرَّحمہ نے حقیقی عالم اور زاہد کی پہچان بیان فرمائی ہے کہ حقیقی عالم وہ ہے جو دنیاداروں کے دروازوں کا رخ نہ کرے اور حقیقی زاہد وہ ہے جو لوگوں کے مال پر نظر نہ رکھے۔

(9)فضولیات سے پرہیز

جس کا اسلام صحیح اور ثابت ہو جائے وہ فائدے کی چیزوں پر راغب ہو جاتا ہے اور بے فائدہ چیزوں سے منہ موڑ لیتا ہے، بے فائدہ کاموں میں لگنا بیکار اور مریضوں کا کام ہے، وہ اپنے رب کی رضا سے محروم ہے جو اس کے حکم پر عمل نہ کرے اور وہ کام کرے جس سے اسے منع کیا گیا ہے، یہی اصل محرومی، اصلی موت اور ہر طرح کا نقصان ہے، دنیا میں تیرے مشغول ہونے کے لیے نیک نیتی کی ضرورت ہے، ورنہ تو اللہ کے غضب کا شکار ہو جائے گا۔([9])

اس مبارک فرمان میں صحتِ ایمان کو بیان کیا گیا ہے کہ کامل اور سچا مسلمان وہ ہے جو لاحاصل اور فضول کاموں کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اختیار کرتا ہے۔ مزید یہ کہ انسان کے دنیوی کام بھی اگر نیک نیتی سے خالی ہوں تو وہ اللہ کی ناراضی اور غضب کا باعث بن جاتے ہیں۔

اللہ پاک ہمیں پیرانِ پیر، حضور سیدنا غوثِ اعظم رحمۃُ اللہ علیہ کی ان نصیحتوں پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*(فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، شعبہ ذمہ دار ماہنامہ فیضان مدینہ)



([1])فتح الربانی،المجلس السابع،ص40

([2])فتح الربانی،المجلس السابع،ص41

([3])فتح الربانی،المجلس الثامن،ص43

([4])فتح الربانی،المجلس التاسع،ص44

([5])فتح الربانی،المجلس العاشر،ص45

([6])فتح الربانی،المجلس العاشر،ص45

([7])فتح الربانی،المجلس التاسع والخمسون،ص196

([8])فتح الربانی،المجلس التاسع والخمسون،ص196

([9])فتح الربانی،المجلس الستون،ص201


Share