حَیْس
اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمدِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بعض کھانے بہت پسند تھے جنہیں آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بڑی رغبت کے ساتھ تناول فرماتے تھے۔ مثلاً عرب میں ایک کھانا ہوتا ہے جو ”حَیْس“ کہلاتا ہے، یہ گھی، پنیر اور کھجور ملا کر پکایا جاتا ہے اس کو آپ بڑی رغبت کے ساتھ تناول فرمایا کرتے تھے۔([1])
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا محبوب ترین کھانا حَیْس کا ثرید تھا۔([2])
یہ نہایت لذیذ ہوتا ہے،چھوہارا اور کھجور ویسے بھی طاقت بڑھانے والی چیز ہے، مکھن سے مل کر اس کی خشکی کم ہوجاتی ہے، لذت بھی زیادہ ہوجاتی ہے، نقصان بھی جاتا رہتا ہے۔
آج کل اسے حریسہ بھی کہا جاتا ہے، حریسہ بہت سی قسم کا ہوتا ہے۔ مختلف طریقوں اور مختلف چیزوں سے بنایا جاتا ہے۔ ([3])
رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حیس سے ولیمہ فرمایا:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جب حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح فرما یا تو حیس سے ولیمہ کیا۔([4])
نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جَشِیْشَہ اور حیس سے مہمان نوازی فرمائی:
حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہمراہ صفہ میں بیٹھے تھے کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم مہاجرین میں سے کسی انصاری کے ہمراہ ایک کو، کسی کے ساتھ دو کو اور کسی کے ساتھ تین آدمیوں کو بھیج رہے تھے حتی کہ آخر میں ہم چار افراد بچے اور پانچو یں خود رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تھے۔ ارشاد فرمایا: تم میرے ساتھ چلو۔ چنانچہ جب ہم درِدولت پر حاضر ہوئے تو آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! ہمیں رات کا کھانا کھلاؤ۔ چنانچہ انہوں نے جَشِیْشَہ([5]) حاضر کردیا۔ ہم نے کھا لیا، پھر ارشاد فرمایا: اے عائشہ! ہمیں کچھ کھلاؤ۔ آپ رضی اللہ عنہا حَیْسہ لے کر حاضر ہوئیں۔ ہم نے کھالیا، پھر ارشاد فرمایا: اے عائشہ! ہمیں کچھ پلاؤ۔ آپ رضی اللہ عنہا دووھ سے بھرا ہوا برتن لے کر حاضر ہوئیں۔ہم نے دو دھ نوش کیا۔ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر ارشاد فرمایا: اے عائشہ! ہمیں کچھ اور پلاؤ۔ آپ پانی سے بھرا ہوا ایک بڑا پیالہ لے کر حاضر ہوئیں۔ ہم نے خوب سیر ہوکر پیا۔([6])
حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں ستّو اور حیس پیش کیا:
حضرت عبد اللہ بن بُسر رضی اللہ عنہفرماتے ہیں: نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میرے والد کے پاس تشریف لائے تو میرے والد صاحب نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں ستّو اور حَیْس کا کھانا پیش کیا، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے تناول فرمایا۔ پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں کھجوریں پیش کیں، حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ان میں سے کچھ کھجوریں تناول فرمائیں، پھر آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں مشروب پیش کیا، آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسے نوش فرمایا اور اسے اپنے دائیں جانب والے کو دے دیا۔ جب رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم سوار ہونے لگے تو میرے والد کھڑے ہو گئے اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض گزار ہوئے کہ یَارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ہمارے لیے دعا فرما دیجیے۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دعا فرمائی: اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ، وَارْحَمْهُمْ یعنی اے اللہ پاک! تو نے جو ان کو رزق دیا ہے اس میں برکت عطا فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔([7])
حَیْس اور طب:
*حیس کھجور، مکھن یا گھی اور پنیر ملا کر بنایا جاتا ہے جو ایک لذیذ مقوی غذا ہے۔
*بیماری اور کمزوری میں طاقت بخش ہے۔
*زود ہضم ہے۔
*معدے کو راحت پہنچاتا ہے۔
*دماغ اور اعصاب کو تقویت دیتا ہے۔
*جوڑوں کے درد میں نہایت مفید ہے۔
*بلغمی امراض میں فائدہ مند ہے۔
*قوت باہ میں اضافہ کرتا ہے۔
*یہ سرد مزاج والے افراد کے لیے مفید غذا ہے۔
*حیس کے فوائد کے پیش نظر اسے Balanced Energy Food (متوازن توانائی والی غذا) کہا جاتا ہے۔
*شوگر (Diabetes) کے مریض کھانے سے پرہیز کریں۔ ([8])
نوٹ: ہر دوائی اپنے طبیب (ڈاکٹریا حکیم)کے مشورے سے استعمال کیجئے۔اس مضمون کی طبّی تفتیش حکیم رضوان فردوس عطّاری نے کی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ماہنامہ فیضان مدینہ)
Comments