آخری نبی محمد عربی کا اندازِ گفتگو
صحیح اور دانش مندانہ گفتگو پختہ علم کی نشانی ہوتی ہے، جس کا علمی رسوخ جتنازیادہ ہوتا ہے اُس کی گفتگو اُتنی ہی شاندار، مفید اورنتیجہ خیز ہواکرتی ہے۔آئیے!اِس بنیادی نکتے کو ذہن میں رکھ کر ہم قرآنِ کریم کھولتے ہیں اور سورۂ رحمٰن کی پہلی آیت پڑھتےہیں:
اَلرَّحْمٰنُۙ(۱) عَلَّمَ الْقُرْاٰنَؕ(۲) خَلَقَ الْاِنْسَانَۙ(۳) عَلَّمَهُ الْبَیَانَ(۴)
ترجَمۂ کنز الایمان: رحمٰن نے اپنے محبوب کو قرآن سکھایا انسانیت کی جان محمد کو پیدا کیاما کان وما یکون( یعنی جوہوچکا ہے اور جوہوگا) کا بیان اُنہیں سکھایا۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اور جو قرآنِ کریم سکھایا اُس کی شان بیان کرتے ہوئے ربِّ کریم ارشاد فرماتا ہے:
وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ
ترجَمۂ کنزُالایمان: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اب ذرا اس بات پر غور فرمائیے کہ ربُّ العالمین نے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوخود علم سکھا یا ہو اور قرآن جیسا معجزانہ کلام اُن پرنازل فرمایا ہوتو اُن کی گفتگو کی خوب صورتی ودل کشی اور کمال کا عالَم کیا ہوگا! مصطفےٰ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی گفتگو کو محفوظ کرنے، سمجھنے،اِس پر غور و فکر کرنےمیں دنیا کے ذہین ترین لوگوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں۔سیّدِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی احادیث ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ بولنا کب چاہیے،کیسے چاہیے اور کیا اور کتنا چاہیے؟ آئیے! اللہ کےآخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اندازِگفتگو کا مطالعہ کرتے ہیں:
(1) بوقتِ ضرورت گفتگو:
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اکثر اوقات خاموش رہتے تھے بلا ضرورت گفتگو نہ فرماتے تھے۔([3])رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے خاموشی کی ترغیب یوں دلائی ہے:*جوچپ رہااُس نے نجات پائی۔([4])*جو سلامتی چاہتا ہو تو اُس پر خاموشی لازم ہے۔([5]) *خاموشی اخلاق کی سردار ہے۔([6]) *تم پرنیکی کی بات کے علاوہ طویل خاموشی لازم ہے کیونکہ یہ شیطان کوتم سے دور کردےگی اوردینی معاملات میں تمہاری مددگار ہو گی۔([7])معلوم ہوا کہ بےوقت بولتے رہنے سے بہتر ہےکہ بندہ بروقت بولے کہ بروقت بولنا انسان کی سمجھ دار ی اور بے وقت بولنا نادانی کی نشانی ہے۔ ہمیں الفاظ کو خزانہ سمجھنا چاہیےاور اِسے وہاں خرچ کرناچاہیے جہاں ضرورت ہو۔
(2) گفتگو کا آغاز اور اختتام:
ہمارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم گفتگو کا آغاز بھی اللہ کے نام سے کرتے اور اختتام بھی اللہ کے نام پر کرتے۔([8])مرادیہ ہےکہ آپ گفتگو شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھتے اور گفتگو ختم کرنے کے بعد الحمدللہ فرماتے۔([9])
(3) گفتگو کے موضوعات:
اللہ پاک نےسیّدِعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوتعلیمِ کتاب و حکمت اور تزکیۂ نفوس کے لیے مبعوث فرمایا ہے لہٰذا آپ کی گفتگو کا موضوع ہر وہ چیز رہی جس کی انسان کو ضرورت تھی، یہی وجہ ہے کہ ہمارے سامنےموجود ذخیرۂ احادیث تقریباً ساڑھے چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود انسان کی اعتقادی، تعلیمی، سماجی اور معاشی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی و وافی ہے اور ہمارےعروج کےحصول اور زوال سے نجات کا راز بھی احادیثِ رسول سمجھنے اور اُن پر عمل کرنے میں ہے، اسی اہمیت کے پیش ِ نظردعوتِ اسلامی45 سال سے تعلیماتِ نبوی عام کرنے میں مصروف عمل ہے جس کا نتیجہ یہ ہےکہ اب تک لاتعداد لوگوں کا کردار سنتوں کے سانچے میں ڈھل چکا ہے، دعوت ِ اسلامی کے پلیٹ فارمز سےکئی نوجوان علومِ حدیث کی تحصیل واشاعت میں اپنا حصّہ ملارہے ہیں۔
(4) اندازِ گفتگو:
مؤثر گفتگو میں انداز کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے کیونکہ انداز عمدہ ہو تو بات دل میں اُتر جاتی ہےلہٰذا
(1)آپ جلدی جلدی گفتگو نہ فرماتےبلکہ ایک جملہ پر رک جاتے تھے تاکہ سننے والا غور کرکے سمجھ لے،یہ رفتار اتنی ہوتی کہ اگر کوئی الفاظ گننا چاہتا تو گِن سکتاتھا جیساکہ امُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمہاری جلدی کی طرح بات جلدی جلدی نہ کرتے تھے([10])آپ باتیں یوں کرتے تھے کہ اگر کوئی گننےوالاگنناچاہتاتوانہیں گِن لیتا۔([11])
(2) اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اندازِ گفتگو اتنا واضح اور صاف ہوتا کہ بات پوری طرح سمجھ آجاتی۔([12])
(3) رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بسااوقات کوئی بات تین بار دہراتے جیسا کہحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم(بعض اوقات)بات کو (مشکل معنی،نامانوسیت یاسننے والوں کی کثرت وغیرہ جیسی وجوہات کی بنا پر شفقت ومہربانی کرتے ہوئے) تین مرتبہ دہراتے تاکہ آپ کی بات سمجھی جاسکے۔([13])
ضرورت کی بنا پر کسی بات کو تین مرتبہ دہرانے کی کئی مثالیں کتبِ حدیث میں موجود ہیں اور اُن تمام یا اکثر احادیث کو سامنے رکھنے والے پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اُن میں سے ہر ایک حدیث میں دہرائی جانے والی بات اسلام کی کسی اہم تعلیم پر مشتمل ہے، تکرار کے اِس طریقۂ گفتگو کانتیجہ یہ نکلا کہ صحابۂ کرام نے اِسے خوب ذہن نشین کیا اور اِن کی بدولت ہمیں یہ ذخیرۂ حدیث اسلام کی روشن تعلیمات کی صورت میں پہنچا۔
(5) انتخابِ الفاظ:
اللہ کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوجوامعُ الکلِم کامعجزہ عطا ہوا تھاجس کی وجہ سے آپ طویل گفتگو کو چند الفاظ میں سمیٹ دیتے تھے،آپ کی زبان سےاداہونےوالالفظ لفظ ؛معانی و مطالب کے سمندر کےلیےکوزہ بن جاتا، آج بھی جو احادیثِ طیبہ کوپڑھتا ہے الفاظِ مصطفےٰ کی تاثیر اپنے دل میں ضرور محسوس کرتا ہے۔
(6)لب و لہجہ:
خوب صورت اندازِ گفتگو الفاظ میں مٹھاس پیدا کردیتا ہے، آخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کےخوب صورت لب ولہجےکی خصوصیات بیان کرتے ہوئےحضرت امِّ معبد رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خاموش ہوتے تو پُروقار ہوتےاورجب گفتگو فرماتے تو چہرہ پُر نور اور بارونق ہوتا۔گفتگو میٹھی ہوتی،بے فائدہ ہوتی نہ بیہودہ۔آپ کی گفتگو گویاموتیوں کی لڑی ہوتی، جس سے موتی جھڑ رہے ہوتے۔([14])
رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بے مثال لب ولہجے کی چند مثالیں ملاحظہ کیجیے:
1)آپ کے لہجے میں سختی نہ تھی۔([15]) حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے دس سال رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں گزارے مگر نہ تو کبھی آپ مجھ پر ناراض ہوئے اور نہ کبھی مجھے ڈانٹا بلکہ یہ بھی نہ فرمایا کہ یہ کام تو نے کیوں کیا؟ یا کیوں نہ کیا؟([16])
2) آپ کالب ولہجہ توہین وحقارت سے پاک تھا۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوااور کونے میں جا کر پیشاب کرنے لگا،صحابۂ کرام اسے روکنے لگے تو حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اسے نہ روکو؛چھوڑ دو۔([17]) جب اس نے پیشاب کر لیا تو بلا کر ارشاد فرمایا:یہ مسجدیں پیشاب اورگندگی کے لیے نہیں،یہ تو ذکرِ الٰہی، نماز اور تلاوتِ قراٰن کے لیے ہیں۔([18]) (ایک روایت کے مطابق) وہ دیہاتی آپ کے اِس اندازسے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے اندازِ تربیت کا یوں بیان کیا : فَقَامَ اِلَيَّ بِاَبِي وَاُمِّي، فَلَمْ يُؤَنِّبْ وَلَمْ يَسُبّ یعنی رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میری طرف تشریف لائے، میرے ماں باپ ان پر قربان! آپ نے نہ تو مجھے ڈانٹا اور نہ ہی بُرا بھلا کہا۔([19])چونکہ یہ نئےنئےمسلمان ہوئے تھے اور اس مسئلے سے لاعلم تھے اِس لیے یہ عمل اِن سے ہوا۔([20]) ورنہ حکمِ شرعی یہ ہے کہ ”مسجد میں پیشاب کرنا حرام ہے۔“([21])
3)رحمتِ عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےدرست بات کی تعلیم دینے یاکسی کی غلطی ٹھیک کروانے کےلیے بھی لب ولہجہ درست رکھنا سکھایا ہے،ایک مثال ملاحظہ کیجیے،چنانچہ حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:میں حضور کی اقتدا میں نماز پڑھ رہا تھا، اتنے میں کسی کو چھینک آئی،میں نے نماز میں ہی یَرْحَمُکَ اللہ کہہ دیا، لوگ مجھے نظروں سے گھورنے لگے،میں نے کہا: تمہیں کیا ہوا؟ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟اس پر لوگ اپنی رانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے مجھے چپ کروانے لگے،میں خاموش ہوگیا۔ نماز مکمل ہوگئی تو حضور نے مجھے بلایا، آپ پر میرے ماں باپ فدا! میں نے آپ سے زیادہ اچھے انداز میں سکھانے والا کوئی نہ دیکھا،آپ نے مجھے مارا نہ بُرا بھلا کہا،بلکہ فرمایا:یہ جو نماز ہے، اس میں لوگوں کی گفتگو والی کوئی چیز درست نہیں ہوتی، نماز تو تسبیح،تکبیر اور تلاوت کا نام ہے۔([22])
(7) دورانِ گفتگو مسکراہٹ:
حضرت اُمِّ درداء رضی اللہ عنہا حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے فرماتی ہیں:وہ بات کرتے ہوئے مسکرایا کرتے تھے۔ میں نے ان سے اس بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب دیا:میں نے رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھا کہ وہ گفتگو کرتے ہوئے مسکراتےرہتےتھے۔([23])
(8) ذکرِنعمت:
نعمت اگرچہ چھوٹی ہو؛ ر سولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اپنے قول وفعل سےاُس کی عظمت بیان فرماتے، زبان سے اُس نعمت کے مل جانے پرحمدِ الٰہی بجالاتے اوراُسےربّ کی اطاعت و فرماں برداری اور اُس کی رضا والے کاموں میں خرچ کرکے عملا شکر بجالاتے۔ کسی نعمت کی کبھی بھی مذمّت نہ فرمائی کہ ہر نعمت اللہ کریم ہی عطا فرماتا ہے۔([24])کھانا کتنی بڑی نعمت ہے، رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اِس سلسلے میں طرز عمل یہ رہاکہ آپ نےکبھی کھانے کو عیب نہ لگایا، اگر پسند آیا تناول فرمایا، ورنہ نہ کھایا۔([25])
گفتگو کافن آج ایک اِسکِل کے طور پر پڑھایاجاتاہے، لوگوں کی بڑی تعداد طرح طرح کے ارادوں کے ساتھ یہ فن سیکھتی ہے، ٹیکنالوجی نے پوری دنیا تک اپنی بات پہنچانے میں کئی آسانیاں بھی پیدا کردی ہیں لیکن ان ساری سہولیات کے باوجود دنیا کو ہر روز ایک نئے بحران کا سامنا رہتا ہے اور جب اِس بحران کی کھوج لگاتے ہیں تو یہ بات بہت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ اِس کاسب سے بنیادی سبب بری نیت سے کہے گئے الفاظ اورکیےگئے کام ہیں۔ اللہ کریم نے پوری دنیا کو ہرطرح کے بحران سے نکلنے کے لیے یہ بہترین اصول دیا ہے:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
(ترجَمۂ کنزُالایمان: بےشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہتر ہے۔)([26])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اِس آیت پر عمل کرتےہوئےکیاہی اچھا ہوکہ ہم اندازِ گفتگو سمیت زندگی کے ہرمرحلے میں اللہ کےآخری نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی ادا کو ادا کرنے والے بن جائیں تو کئی دشواریاں ختم ہوجائیں گی، انفرادی اور اجتماعی سطح پر سکون پیدا ہوگا، ہمدردی و خیرخواہی کےجذبے کوفروغ ملے گا،حرص، لالچ، دھوکادہی جیسی کئی مذموم صفات کا خاتمہ ہوگا۔اللہ کریم ہمیں سیرتِ مصطفےٰ اپنانے کی توفیق عطافرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(ذمہ دار مرکز خدمۃ الحدیث و علومہ)
Comments