حسین لمحات کی یادیں


حسین لمحات کی کچھ یادیں


حدیث شریف میں ہے:عالِم کی موت ایسی مصیبت ہے جس کا اِزالہ نہیں ہو سکتا،یہ ایسا خَلا ہے جسے پُر نہیں کیا جا سکتا، گویا وہ ایک ستا رہ تھا جو ماند پڑ گیا اور ایک قبیلے کی موت عالِم کی موت سے زیادہ ہلکی ہے۔

(شعب الایمان،2/264،حدیث:1699)

اُستادِ محترم حضرت مولانا حاجی ابو رَجب محمد آصف جاوید عطاری مدنی رحمۃُ اللہ علیہ کے سانحہ ٔ اِرتحال نے کئی دلوں کو غمگین کردیا یہاں تک کہ پیر و مُرشد، شیخِ طریقت،اَمِيرِ اَہْلِ سنَّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ بھی آپ کے اِنتقالِ پُرملال کی خبر سُن کر افسردہ ہو گئے۔ آپ ایک عظیم عالِم دِین، بلند پایہ محقق، ماہر اُستاد، مایہ ناز مصنف اور دعوتِ اسلامی کے بہترین مبلغ تھے۔ آپ کے تلامذہ کا دائرہ بہت وَسیع ہے،آپ کے ڈیڑھ ہزار سے زائد تلامذہ اِس وقت دَرس وتدریس،تصنیف و تالیف اور امامت و خطابت کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔الحمدللہ! مجھے بھی آپ کے تلامذہ کی صَف میں شامل ہونے کا اِعزار حاصل ہے۔ دَرسِ نظامی کی اِبتدائی کتب صرف ونحو،اَربعین نووی اور اَربعینِ حنفیہ آپ سے پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔میں نے اُستادِ محترم کو طلبہ بالخصوص ساداتِ کرام پر بہت شفیق اور مہربان پایا۔ دَورانِ طالب علمی ایک دو بار آپ نے مجھ سے فرمایا کہ نئے سال کی نصابی کتب آپ نہ خریدنا میں آپ کو دوں گا،پھر آپ نے مجھے وہ کتب عطا فرمائیں۔ 2001 ء سے لے کر 2026 ء تک کا ایک طویل عرصہ اُستادِ محترم کی صحبت میں گزارنے کا موقع ملا ہے،اِس طویل عرصے میں اُستادِ محترم سے جہاں پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی وہاں دعوتِ اسلامی کے شعبہ المدینۃ العلمیہ (اسلامک ریسرچ سینٹر) میں آپ کے ماتحت رہ کر تصنیف و تالیف کا موقع بھی ملا ہے۔

وقت گزر جاتا ہے یادیں باقی رہ جاتی ہیں۔ یوں تو اُستادِ محترم کے بہت سے اِحسانات ہیں مگر ان میں سے ایک اِحسان تو ایسا ہے جسے شاید میں ساری زندگی نہ بھلا پاؤں۔ وہ یہ کہ جب میرے والد صاحب کا اِنتقال ہوا تو اُس وقت میں دعوتِ اسلامی کے شعبہ المدینۃ العلمیہ میں اپنی خدمات سر انجام دے رہا تھا۔ میں حَسبِ معمول اپنی ڈیوٹی پر موجود کام میں مصروف تھا، ظہر کی نماز کے بعد اچانک مجھے والد صاحب کے اِنتقالِ پُرملال کی خبر ملی، یہ خبر سُن کر میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی۔اُس وقت نہ کسی کی آس اور نہ کچھ پاس والا مُعاملہ تھا۔ میں فوراً اُستادِ محترم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور والدصاحب کی فوتگی کی اِطلاع آپ کو دی۔ آپ نے مجھے دِلاسہ دیا،پانی پلایا اور اپنے پاس آفس میں بٹھایا۔ اُس وقت آپ کے پاس امیرِ اہلِ سنَّت کے خادمِ خاص حاجی علی رضا عطاری بھی تشریف فرما تھے۔ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ آپ نے اکیلے گاؤں جانا ہے یا بچوں کو بھی ساتھ لے کر جانا ہے۔ میں نے عرض کی:بچوں سمیت جانا ہے۔ میرے وہاں بیٹھے بیٹھے آپ نے بائی ایئر میرے اور میری فیملی کے ٹکٹ کروائے اور مجھے تسلی دے کر اپنی دُعاؤں کے ساتھ روانہ کیا۔ الحمد للہ میں وقت پرپہنچ کر اپنے والد صاحب کی نمازِ جنازہ پڑھانے میں کامیاب ہوگیا۔ اگر میں نہ پہنچ پاتا تو یہ میرے لیے ایسا صدمہ ہوتا کہ شاید ساری زندگی اِس کا اِزالہ نہ کر پاتا۔ یہ سب میرے مشفق و مہربان اُستادِ محترم کی شفقت ومہربانی تھی۔

اُستادِ محترم وقتاً فوقتاً بہت شفقتیں فرماتے اور خوب دُعاؤں سے نوازتے تھے۔ابھی چند ماہ قبل جب آپ بہت علیل تھے تو ا یک دِن آپ کے بڑے بیٹے رجب رضا عطّاری میرے پاس المدینۃ العلمیہ کے آفس میں تشریف لائے اور مجھے آفس سے باہر بُلا کر ایک لفافہ دیا۔ میں نے ان سے پوچھا:یہ کیا ہے؟ فرمانے لگے: مجھے کچھ معلوم نہیں،بس ابو نے آپ کے لیے یہ لفافہ دیا ہے۔ میں نے بعد میں اُستادِ محترم سے فون پر رابطہ کیا، خیر خیریت معلوم کرنے کے بعد اُس لفافے سے متعلق جب آپ سے پوچھا: تو آپ فرمانے لگے : ”شاہ جی! یہ میری طرف سے آپ کے لیے تحفہ ہے۔“ آج بھی آپ کی وہ پیار بھری اور شفقت سے لبریز آواز کانوں میں گونج رہی ہے۔

ابھی اِسی رَمَضانُ المبارک 1447 ہجری ہی کی بات ہے کہ آپ کی طبیعت اچانک ایسی خراب ہوئی کہ آپ آئی سی یو میں چلے گئے،اللہ پاک نے کرم کیا، جب طبیعت بہتر ہوئی آپ گھر تشریف لائے تو میں عیادت کے لیے آپ کے مکانِ عالیشان پر حاضر ہوا، اس وقت بھی اگرچہ طبیعت ناساز ہی تھی،لیٹے ہوئے تھے،مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور اُٹھنے کی کوشش کرنے لگے میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر دَست بوسی کی اور اٹھنے سے روکا۔

آپ کے مکانِ عالیشان پر یہ میری پہلی حاضری تھی،کافی دیر تک مجھ سے باتیں کرتے رہے۔ میری زمانہ طالب علمی کی باتیں اپنے چھوٹے بیٹے حافظ کرم رضاعطاری جو کہ آپ کے پاس موجود تھے ان کو بتاتے ہوئے فرمانے لگے : ”شاہ جی بہت محنتی تھے،حضرت صاحب کے بہت دِیوانے تھے“ بہرحال اُستادِ محترم بہت خوش تھے۔ اِسی خوشی کے عالَم میں حافظ کرم رضاعطاری سے فرمانے لگے: بیٹا! سامنے الماری سے میرا بیگ لاؤ، وہ لے کر آئے، ان سے فرمانے لگے: اِس میں سے ہزار ہزار کے دو نوٹ نکال کر شاہ جی کو پیش کرو۔ وہ نوٹ نکال کر مجھے دینے لگے،میں نے لینے سے اِنکار کیا، آپ بار بار فرماتے: شاہ جی! لے لو،ورنہ میں جانے نہیں دوں گا۔ میں یہ سوچ کر مسلسل اِنکار کر رہا تھا کہ یہ وقت تو اُستادِ محترم کی خدمت کرنے کاہے نہ کہ خدمت کروانے کا۔ جب آپ نے دیکھا کہ میں نہیں لے رہا،توآپ وہ رَقم مجھے دینے کے لیے اٹھنے کی کوشش کرنے لگے،میں نے اٹھنے سےمنع کیا تو فرمانے لگے: اچھا پھر یہ پیسے لے لو۔میں ایک ہزار کا نوٹ رکھ کر دوسرا واپس کرنے لگا تو فرمانے لگے: دونوں نوٹ لینے ہوں گے۔ چلو آپ نہیں لے رہے،تو عید آ رہی ہے میری طرف سے اپنے دونوں شہزادوں کو ایک ایک ہزار عیدی دے دینا۔بلآخر نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے دونوں نوٹ لینے پڑے۔میں نے واپسی کی اِجازت چاہی تو آپ مصافحہ کرتے ہوئے فرمانے لگے: شاہ جی معاف کرنا، میں اُٹھ نہیں سکتا،ورنہ میں اُٹھ کر آپ کو رُخصت کرتا۔پھر اپنے چھوٹے بیٹے حافظ کرم رضاعطاری سے فرمانے لگے: جاؤ بیٹا! شاہ جی کو نیچے تک چھوڑ کر آؤ۔ میں نے باہر نکل کر کرم رضا عطاری سے کہا : بیٹا آپ واپس ہو جائیں میں چلا جاؤں گا، وہ بھی اُستادِ محترم کے تربیت یافتہ تھے، فرمانے لگے:نہیں! بابا نے فرمایا ہے نیچے چھوڑ کر آنا، میں نیچے تک آپ کے ساتھ ضرور جاؤں گا۔

اللہ پاک اُستادِ محترم کو بےحساب مغفرت سے نوازے، دَرجات بلند فرمائے، خدماتِ دِینیہ کو قبول فرما کر ذریعہ ٔ نجات بنائے اور آپ کے جملہ لَواحقین اور متعلقین کو صبرِ جمیل اور اَجرِ جزیل عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*(رکن مجلس المدینۃ العلمیہ، ذمہ دار  شعبہ بیاناتِ خلیفہ ٔ امیرِ اہلِ سنت )


Share