(1)سب سے پہلے اور سب سے آخری نبی کون ہیں؟
سوال: سب سے پہلے اور سب سے آخری نبی کا نام بتادیجئے نیز پیغمبر کے کیا معنیٰ ہیں؟
جواب: سب سے پہلے نبی ہمارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں اور سب سے آخری نبی بھی سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہی ہیں۔ البتہ دُنیا میں تشریف لانے والے سب سے پہلے نبی حضرتِ آدم صَفِیُّ اللہ عَلیٰ نَبِیِّنا وَعَلَیہِ الصّلوٰۃُ وَالسَّلام ہیں اور سب سے آخر میں تشریف لانے والے ہمارے پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ہیں۔ پیغمبر کے معنیٰ ہیں: پیغام پہنچانے والا۔(مدنی مذاکرہ، 10ذوالقعدۃ الحرام 1440ھ)
(2)حضرت ىحییٰ و عیسیٰ علیہما السَّلام نے نکاح نہیں فرمایا:
سوال: حضرت ىحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السَّلام نے شادى کى تھى ىا نہىں؟
جواب:یہ دونوں حضرات کنوارے تھے اِنہوں نے نکاح نہیں فرمایا ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام آسمان پر موجود ہیں جب یہ دُنیا میں تشریف لائیں گے تو نکاح کریں گے۔
(دیکھیے: بہار شریعت، 1/122، 123-مدنی مذاکرہ، یکم ربیع الاول شریف1442ھ)
(3)عجوہ کھجور کا درخت اُگ گیا:
سوال: ایک اسلامی بھائی کی والدہ نے 30 سال پہلے مدینہ منورہ سےلائی گئی کھجور کی گٹھلی کو ایک گملے میں لگایا تھا جو آج قدآور درخت بن چکا ہے، کیا اس درخت کو مدینے سے لائی گئی کھجور کے ذریعے مدینے سے نسبت ہے، چونکہ مسلمان مدىنے کى کھجوروں کا ادب و احترام اورتعظىم کرتے ہىں اور یقیناً کرنا بھى چاہیے تو کیا اس درخت کی کھجوروں کا بھی اسی طرح ادب واحترام کرنا لازم آئے گا؟
جواب:
عشق دے جھلے ای نمبر لے گئے
عقل منداں ایویں عمراں گالیاں
دنیا کے کسی بھی ملک سے چیز آئے وہ الگ مگر جو چیز مدینے کی گلیوں سے گھوم کر آئے اس کا ہم ادب واحترام کرتے ہیں، مدینے سے آئی ہوئی عجوہ کھجور کی گٹھلی سے اُگے ہوئے درخت کا احترام کیا جائے گا کہ اسے ضرور مدینے کی گلیوں سے نسبت ہے، البتہ مدینے شریف کی عجوہ کھجور کے متعلق جو فضائل احادیثِ مبارکہ میں وارد ہوئے ہیں، وہ حاصل نہیں ہوں گے۔ (مدنی مذاکرہ، 15جُمادَی الاخریٰ 1444ھ بتغیر)
(4)قرآنِ کریم کے غلاف کا دھوون کہاں ڈالا جائے؟
سوال: قرآنِ کریم کو جس غِلاف میں رکھا جاتا ہے، اگر اس غلاف کو دھویا جائے تو اس کا پانی کہاں ڈالا جائے؟
جواب: اُس کا پانی کسی اَدَب والی جگہ پر ڈالا جائے، جیسے سمندر، دریا،نہر یا ایسے میدان میں ڈالا جائے جہاں پانی پر کسی کا پاؤں نہ پڑے۔ گملے میں نہ ڈالا جائے، کیونکہ ہمارے ہاں پودے کے گملے کی مٹّی میں گائے کا گوبر اور بکریوں کی مینگنیاں بھی ڈالی جاتی ہیں جو ناپاک ہو تی ہیں، ہاں! جہاں پانی سُوکھ جائے،جیسے کوئی دِیوار ہو یاگھر کی چھت وغیرہ تو وہاں وہ پانی ڈالا جاسکتا ہے۔(مدنی مذاکرہ، 2صفرالمظفر شریف 1442ھ)
(5)ہر نماز کے ساتھ قضا نماز پڑھنا کیسا؟
سوال: کیا ہر نماز کے ساتھ قضا نماز پڑھ سکتے ہیں؟
جواب:بعض قضا عمری ادا کرنے والے یوں کرتے ہیں، مثلاً فجر کی قضا فجر کے وقت، ظہر کی قضا ظہر کے وقت پڑھتے ہیں۔ اگرچہ یوں بھی قضا ادا ہوجائے گی، لیکن یہ یاد رہے! جس پر قضا نماز لازم ہو اس کو جلد از جلد ادا کرنا واجب ہے، یعنی ضروریاتِ زندگی مثلاً کھانے، پینے، کمانے اور سونے وغیرہ کے علاوہ جو بھی وقت ملے اس میں اپنی قضا نمازیں ادا کرتے رہیں۔(مدنی مذاکرہ، 2محرم الحرام 1442ھ)
(6)بچوں کے لیے صبر کے مواقع:
سوال:بچے کن باتوں پر صبر کرکے ثواب حاصل کرسکتے ہىں؟
جواب: جن باتو ں سے آپ کو تکلىف پہنچتی یا پریشانی ہے ان پر صبر کیجیے مثلاً آپ کو بریانی کھانی تھی،مگر آپ کی امی جان کھچڑى دے دیں تو آپ کو تکلىف ہوگى،مگر آپ صبر کر کے کھالیجیے اور ثواب کمائیے۔اسی طرح آپ کو کوئی کھلونا چاہىے تھا،لیکن آپ کی امى جان نے کہا: ”مىرے پاس پىسے نہىں ہیں میں اتنا مہنگا کھلونا نہىں دلواسکتى“ یہ سن کر آپ کو تکلیف ہوگى، مگر آپ صبر کیجیے اور چھوٹے کھلونے سے گزارا کر لیجیے۔یوں ہی آپ نے امی جان سے کہا: مجھے فلاں کپڑے پہننے ہیں، لیکن ہوسکتا ہے امی جان آپ کو سادہ اور مطلوبہ کپڑوں سے کم قیمت والا کپڑا پىش کرىں تو آپ ضد کیے بغىر صبر کرکے پہن لیجیے اِنْ شَآءَ اللہُ الکریم ثواب ملے گا۔
(مدنی مذاکرہ، بعد نماز تراویح، 24رمضان المبارک 1441ھ)
(7)نکاح میں عورتوں کا گواہ بننا:
سوال: کیا نکاح میں عورتیں گواہ بن سکتی ہیں؟
جواب:نکاح میں دو عاقل و بالغ مسلمان مرد یا ایک مسلمان عاقل و بالغ مرد اور دو مسلمان عاقِلہ و بالِغہ عورتیں گواہ ہوں۔ نکاح میں صرف عورتیں گواہ نہیں ہوسکتیں۔
(دیکھیے:بہار شریعت، 2/11، 12-مدنی مذاکرہ، 5ربیع الاول شریف 1442ھ)
(8)پھیپھڑا کھانا کیسا؟
سوال:حلال جانوروں کا پھیپھڑا کھانا حلال ہے یا نہیں؟
جواب: پھیپھڑا کھانا حلال ہے۔(مدنی مذاکرہ، 10ذوالحجۃ الحرام 1441ھ)
(9)کنواری لڑکی کی نمازِ جنازہ پڑھنا کیسا؟
سوال: کنواری مسلمان لڑکی کی نمازِ جنازہ پڑھنا کیسا ہے؟
جواب: جائز بلکہ اسی طرح فرضِ کفایہ ہے جس طرح دوسرے فوت ہونے والے مسلمانوں کی۔یعنی جن اَفراد کو جنازے کا معلوم ہوا اُن میں سے بعض نے پڑھ لیا تو دوسروں سے اس کا فرض ساقِط ہو جائے گا۔اگر جنازے کا معلوم ہونے کے بعد بھی کسی نے ادا نہیں کیا تو جن جن کو پتا چلا تھا وہ سب کے سب گناہ گار ہوں گے۔
(دیکھیے: بہار شریعت، 1/825-مدنی مذاکرہ، یکم ربیع الآخر 1442ھ)

Comments