مؤمن کے لئے سب سے بڑا انعام


مؤمن کے لیے سب سے بڑا انعام


حضرت سَیِّدُنَا جریر بن عبداﷲبَجلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر تھے۔آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چودھویں کےچاند کی طرف دیکھ کر ہم سے فرمایا:

اِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هٰذَا الْقَمَرَ لَا تُضَامُوْنَ في رُؤْیَتِهٖ فَاِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ لَّا تُغْلَبُوْا عَلٰی صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوْبِهَا فَافْعَلُوا۔

ترجمہ:تم یقیناًاپنے کریم ربِّ کادیدارکرو گےجس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہوکہ اسے دیکھنے میں تمہیں کوئی مشقت نہیں ہورہی۔اگر تم سےہوسکے تو طلوعِ آفتاب اور غروبِ آفتاب سے قبل کی نماز میں ہر گز مغلوب نہ ہونا(یعنی فجر و عصر کی نمازہر گز ترک نہ کرنا)۔ ([1])

جنتیوں کے لیے سب سے بڑی نعمت:

علامہ ابنِ کمال پاشا حنفی رحمۃُ اللہ علیہ مذکورہ حدیثِ پاک کے تحت شرح ریاض الصالحین میں فرماتے ہیں:آخرت میں اہلِ ایمان کو دیدارِ الٰہی ہوگا اس پر تمام اہل ِسنت کا اِجماع ہے۔ قرآن وسنت،اِجماعِ صحابہ اور سلف صالحین سے یہ بات ثابت ہے کہ مؤمنین کو آخرت میں دیدارِ الٰہی ہوگا۔بیس صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان سے اس بارے میں احادیث مروی ہیں اور آیاتِ قرآنیہ تو اس بارے میں مشہور ہیں۔([2])

شیخ عبد الحق محدثِ دہلوی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:تما م اہلِ حق کااس بات پر اجماع ہے کہ آخرت میں اہلِ ایمان کودیدار ِ الٰہی کی دولت نصیب ہوگی۔انسان، ملائکہ، جِنَّات، مرد، عورتیں سبھی اس نعمت سے مشرّف ہوں گے۔ دیدارِ الٰہی کی اس عظیم نعمت سے صرف جنّتی ہی مشرف ہوا کریں گے، البتہ میدانِ محشر میں سب دیکھیں گے کیا مؤمن کیا کافر سب کو دیدار ہوگا پھر کفار ہمیشہ کے لیے دور و محروم ہوجائیں گے، اور دائمی حسرت و ندامت ان کا مقدر ہوگی۔نمازوں کی پابندی سے دیدارِ الٰہی کی لیاقت (صلاحیت) پیدا ہوتی ہے۔دیدارِالٰہی کے وقت ایسا نہیں ہوگا کہ بعض دیکھیں اوربعض نہ دیکھیں بلکہ جس طرح چودھویں کا چاند نہایت ہی واضح اورظاہر ہوتا ہے کثیر مجمع بھی بغیر مشقت کے دیکھ لیتاہے اسی طرح اللہ ربُّ العزت کا دیدار بھی نہایت ہی ظاہرو کامل ہوگا وہاں ہجوم و مجمع کی وجہ سےکسی کو دیکھنے میں مشقت و رکاوٹ نہ ہوگی۔ ([3])

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرَّحمہ فرماتے ہیں: دنیا کی زندگی میں اللہ عزّوَجلّ کا دیدارنبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم کے لیے خاص ہے اور آخرت میں ہرسنی مسلمان کے لیے ممکن بلکہ واقع۔رہاقلبی دیداریا خواب میں،یہ دیگر انبیا علیہم السلام بلکہ اولیا کے لیے بھی حاصل ہے ۔([4])

حدیثِ مذکور میں موجود تشبیہ کی وضاحت:

حدیثِ پاک میں ہے: ’’تم اپنے رب کو ایسے دیکھو گے جیسے اس چاندکو دیکھ رہے ہو۔‘‘یعنی آخرت میں اللہ پاک کا دیدار اس طرح شک وشبہ سے بالاتر ہوگا جیسے چاند کا دیکھنا شک وشبہ سے بالا تر ہوتا ہے۔ (اﷲ پاک کی ذات سمت وجہت اور حدود سے پاک ہے اس لیے یہاں تشبیہ سے)یہ ہرگز مراد نہیں کہ جس طرح چاند ایک مخصوص جہت وحَد میں سامنےنظر آتا ہےاسی طرح اﷲ پاک کی ذات بھی ہوگی۔([5])

فجر وعصرمیں سستی سےبچنا:

لَمعات شرح مشکاۃ میں ہے:”تم فجر وعصر کی نماز میں مغلوب نہ ہونا یعنی سُستی و آرام طلبی تم پر اس طرح غالب نہ آئے کہ یہ دونوں نمازیں ہی چھوڑ دو۔فجر وعصر کی تخصیص ان کی افضیلت کی بنا پر ہے، ورنہ تمام نمازوں کا یہی حکم ہےکہ ان میں سے کسی میں بھی سستی نہ کی جائے۔“ ([6])

ان دو نمازوں کو خصوصیت سے ذکرکرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ دیدارِ الٰہی ان ہی اوقات میں ہوگا۔([7])ان دو نمازوں پر پابندی اس دیدار کی لیاقت و قابلیت پیدا کرے گی۔([8])

فجروعصر کا اجرِعظیم:

فیوضُ الباری میں ہے: رہی یہ بات کہ یہ دیدار کیسے ہوگا، اس کی کیفیت کیا ہوگی،ذات کا دیدار ہوگا یا تجلّی کی رُویت ہوگی؟ تو اس کے متعلق ایک مسلمان کےلیے بس اتنا جاننا اور ماننا کافی ہے کہ دیدار ہوگا۔ رہی اس کی حقیقت وماہیت و کیفیت تو یہ نہ بیان ہوسکتی ہے اورنہ بیان کی جاسکتی ہے اورنہ اس کی تہہ تک پہنچنے کا ہمیں مکَلَّف بنایا گیا ہے۔ رُویتِ الٰہی (دیدارِ الٰہی) کے ذکر کےوقت فجر وعصر کے ذِکر کی مناسبت یہ ہے کہ نماز افضل عبادات سے ہے اور عصر وفجر کی اہمیت و عظمت بہت زیادہ ہے، کیونکہ یہ وقت فرشتوں کے اجتماع واعمال کے اٹھنے کا ہے، لہٰذا ایسے افضل واعلیٰ عمل کا ثواب بھی افضل ہونا چاہیے اور وہ ہے دیدارِ الٰہی جو تمام اُخروی نعمتوں سے افضل واکمل اعلیٰ وارفع ہے۔ ([9])

ہر مومن دیدارِ الٰہی سے مُشَرَّف ہوگا:

حکیمُ الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دنیا میں بندے اﷲتعالیٰ کو بصیرت یعنی نورِقلبی سے دیکھتے ہیں اسے جانتے پہچانتے ہیں،آخرت میں اسے بصارت یعنی نورِ نگاہ سے دیکھیں گےکہ وہاں بصارت میں بصیرت ہوگی۔دنیا میں خواب میں دیدارِ الٰہی ہوسکتا ہے بلکہ ہوتا ہے۔ ہمارے امامِ اعظم نے ایک سو بار ربّ کو خواب میں دیکھا۔امام احمد بن حنبل رحمۃُ اللہ علیہ نے خواب میں اللہ پاک کو دیکھا تو پوچھا: الٰہی! کون سی عبادت افضل ہے؟ فرمایا:تلاوتِ قرآن، دوسری بار پھر دیکھا، پوچھا: الٰہی!معنیٰ سمجھ کرتلاوت افضل ہے یا بغیر سمجھے بھی؟ فرمایا: ہر طرح افضل ہے۔یہ حدیث عامۃ المسلمین کی دلیل ہے کہ مومن ربّ تعالیٰ کو محشر میں بھی آنکھوں سے دیکھیں گے اور جنت میں بھی دیکھا کریں گے۔ ([10])

ایک عاشقِ رسول کاعشق بھر اانداز:

حدیثِ پاک میں ہے:”تاجدارِرِسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چودھویں کے چاند کو دیکھا“ چاند دیکھنے کی اس کیفیت کو ایک عاشقِ رسول نے کس عشق بھرے انداز میں بیان کیا ہے، ملاحظہ فرمائیے: چنانچہ مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے چودھویں کے چاند کو دیکھا) یعنی رحمٰن کے چاندنے آسمان کے چاند کو دیکھا۔ ڈوبنے والے گہنے چاند کو اس چاند نے دیکھا جو نہ غروب ہو نہ گہنے۔ظاہر کے چمکانے والے چاند کو اس چاندنے دیکھا جو دل و جان، رُوح و ایمان کو چمکاتا ہے۔رات میں چمکنے والے چاند کو اُس چاند نے دیکھا جو ابدُالآباد تک ہر وقت دن رات چمکتا ہے اور چمکے گا،میں کیا کہوں مجھے الفاظ بھی نہیں ملتے اَللّٰھُمَّ صَلِّ وَسَلِّم وَبَارِكْ عَلٰی بَدْرِ النُّبُوَّۃِ وَشَمْسِ الرِّسَالَۃِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔یوں کہہ لو کہ اُس چاند کو جو سورج سے چمکتا ہےاس چاند نے دیکھا جو سورج کو چمکاتا ہے جو دِلوں پر دن نکال دیتا ہے۔([11])

اللہ پاک ہمیں آخرت میں دیدارِ الٰہی کی نعمت سے سرفراز فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*(فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ذمہ دار شعبہ فیضان حدیث اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ ، کراچی)



([1])بخاری،4/334، حدیث: 4851-7434

([2])الفوائد المترعۃ الحیاض،5/56،تحت الحدیث:1051

([3])دیکھیے:اشعۃ اللمعات،4/448،449

([4])بہارشریعت ،1/20،21

([5])اشعۃ اللمعات،4/449

([6])لمعات التنقیح،9/138،تحت الحدیث:5655

([7])اشعۃ اللمعات، 4/450

([8])مراٰۃ المناجیح،7/518

([9])فیوض الباری،3/248

([10])مراٰۃ المناجیح،7/516، 517

([11])مراٰۃ المناجیح،7/517


Share