حضرت سیدناعوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہما
حضرت سیّدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہما کا شمار پیارے آقا حضرت محمدمصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ان جاں نثاروں میں ہوتاہے جو نہ صرف شجاعت کے اعتبار سے دِلاور اور صف شکن تھے بلکہ علم و فضل کے لحاظ سے آسمانِ ہدایت کے نہایت درخشندہ ستارے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ 5 ہجری میں مشرف بہ اسلام ہوئے آپ کا تعلق عر ب کے مشہور قبیلے بنو اشجع سے تھاجبکہ کنیت ابو عبد الرحمٰن یا ابو حماد تھی۔ والد ماجد حضرت مالک بن ابو عوف رضی اللہ عنہ بھی شرفِ صحابیت سے سرفراز ہوئے، آپ رضی اللہ عنہ ایک جاں باز سپاہی کی حیثیت سے کئی غزوات میں شامل ہوئے۔ غزوۂ خیبر میں دشمنوں کے دانت کھٹے کئے جبکہ جنگِ موتہ میں حضرت خالد بن ولید کی معیت میں سر ہتھیلی پر رکھ کر دشمنوں کی صفوں سے جا ٹکرائے۔ فتحِ مکہ کے موقع پر ان بارہ ہزار نفوس قدسیہ کا حصہ تھے جن کی عظمت تا قیامت باقی رہے گی۔اس وقت بنو اشجع کا جھنڈا آپ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھاجبکہ فتوحاتِ شام میں بہادری اور شجاعت کی داستان رقم کی۔ ([1])
آپ رضی اللہ عنہ کو تحصیلِ علمِ دین کا بہت شوق تھا، بارگاہِ رسالت میں اکثر حاضر رہتے تھے،نفیس کلماتِ مصطفوی سنتے اور فیضانِ نبوی سے خوب بہرہ مند ہوتے، یوں آپ رضی اللہ عنہ نے جلد ہی قراٰن و حدیث میں درجۂ تَبَحُّر حاصل کرلیا تھا۔
آپ رضی اللہ عنہ قبولِ اسلام سے قبل جھاڑ پھونک کے ذریعے لوگوں کا علاج کیا کرتے تھے چنانچہ مسلم شریف میں ہے: آپ رضی اللہ عنہ بارگاہِ رسالت میں یوں عرض گزار ہوئے کہ یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! ان کلمات کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ سرکار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اپنے کلمات مجھے سناؤ۔ ان میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ ان میں شرک نہ ہو۔([2])
حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ناجائز یا شرکیہ الفاظ سے دَم کرنا حرام یا کفر ہے، جائز دعائیں پڑھ کر دَم کرنا سنّت ہے، جس دَم جھاڑ پھونک کے معانی معلوم نہ ہوں انہیں نہ پڑھے ۔([3])
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہما کی طبیعت میں خوش مزاجی بھی تھی چنانچہ غزوۂ تبوک میں جب رحمت ِعالم، نورِ مجسم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم چمڑے کے ایک چھوٹے خیمے میں تشریف فرما تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے داخل ہونے کی اجازت چاہی، اجازت ملنے پر عرض گزار ہوئے:کیا پورا ہی اندر آجاؤں؟ ارشاد فرمایا: پورے داخل ہوجاؤ۔([4])
قراٰنِ مجید فرقانِ حمیدمیں ایک آیتِ مبارکہ ہے:
وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ-
ترجَمۂ کنز الایمان: اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے: حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہما کے فرزند کو مشرکین نے قید کرلیا تو آپ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میرا بیٹا مشرکین نے قید کرلیا ہے اور اسی کے ساتھ اپنی محتاجی و ناداری کی شکایت بھی کی، سیّد ِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ڈر رکھو اور صبر کرو اور کثرت سے لاَحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم پڑھتے رہو۔ حضرت سیِّدُناعوف بن مالک رضی اللہ عنہما نے گھر آکر اپنی بی بی سے یہ کہا اور دونوں نے پڑھنا شروع کیا وہ پڑھ ہی رہے تھے کہ بیٹے نے دروازہ کھٹکھٹایا، اندر داخل ہوکر بیٹے نے بتایا کہ دشمن غافل ہوگیا تھا اس نے موقع پایا قید سے نکل بھاگا اور چلتے ہوئے چار ہزار بکریاں بھی دشمن کی ساتھ لے آیا، حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہما نے خدمت ِ اقدس میں حاضر ہوکر دریافت کیا: یہ بکریاں ان کے لئے حلال ہیں؟ حضورِ انور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اجازت دی اور یہ آیت نازل ہوئی۔([6])
ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہما کہیں جارہے تھے کہ اچانک ایک شخص آیا اور آپ رضی اللہ عنہ کو گالیاں دینے لگا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کمالِ ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے کوئی جواب نہ دیا اور زمین پرلیٹ گئے، اس وقت آپ کے سر ِمبارک پر ٹوپی تھی آپ رضی اللہ عنہ نے ٹوپی اپنے چہرے پر ڈالی اور آنکھیں مونْد لیں وہ شخص کچھ دیر تک کھڑا گالیاں دیتا رہا لیکن جب آپ کی جانب سے کوئی جواب نہ ملا تو مایوس ہوکر چلا گیا اس کے جانے کے بعد کسی نے آپ رضی اللہ عنہ سے پوچھا:اللہ پاک آپ کی مغفرت فرمائے، حیرت ہے کہ ایک شخص آپ کو گالیاں دے رہا تھا اور آپ آرام کررہے تھے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:میں نے تو صرف یہ دیکھا تھا کہ میرے پاس شیطان آیا ہے لہٰذا چپ سادھ لی اور جب اسے میری جانب سے کوئی جواب نہ ملا تو وہ بھاگ کھڑا ہوا۔([7])
عالمی مذہبی اسکالر مولانا محمد الیاس قادری صاحب فرماتے ہیں کہ جب کوئی ہم سے اُلجھے یابُرا بھلا کہے اُس وَقت خاموشی میں ہی ہمارے لئے عافیّت ہے اگر چِہ شیطان لاکھ وَسوَسے ڈالے کہ تو بھی اس کو جواب دے ورنہ لوگ تجھے بُزدل کہیں گے،میاں! شَرافت کا زمانہ نہیں ہے اِس طرح تو لوگ تجھ کو جینے بھی نہیں دیں گے وغیرہ وغیرہ۔ ایک حدیثِ مبارکہ پیشِ خدمت ہے جسے پڑھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ دوسرے کے بُرا بھلا کہتے وَقت خاموش رہنے والارحمتِ الٰہی کے کس قَدَر نزدیک تر ہوتا ہے۔ چُنانچِہ ابوداؤد میں ہے، کسی شخص نے سرکارِ مدینہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی موجودگی میں حضرت سیِّدُنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ کو بُرا کہا تو جب اُس نے بہت زیادتی کی۔ تو انہوں نے اُس کی بعض باتوں کا جواب دیا (حالانکہ آپ کی جوابی کاروائی معصیَّت سے پاک تھی مگر) سرکارِ نامدار صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم وہاں سے اُٹھ گئے۔سیِّدُنا ابوبکر صدّیق رضی اللہ عنہ حُضُورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیچھے پہنچے، عرض کی: یارسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم! وہ مجھے بُرا کہتا رہا آپ تشریف فرما رہے، جب میں نے اُس کی بات کا جواب دیا تو آپ اُٹھ گئے، فرمایا: تمہارے ساتھ فرشتہ تھا، جو اُس کا جواب دے رہا تھا، پھر جب تم نے خود اُسے جواب دینا شروع کیا، تو شیطان درمیان میں آکودا۔([8])
ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہما مسجد میں ٹانگیں پھیلائے ہوئے ایک حلقے میں جلوہ فرماتھے کہ آپ کے شاگرد حضرت کثیر بن مرۃ رحمۃُ اللہ علیہ آگئے، انہیں دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے پاؤں سمیٹ لئے اور فرمایا:میں نے پاؤں اسی لئے پھیلائے تھے کہ کوئی نیک مرد آئے تو میں اسے اپنے پاس بٹھالوں۔([9])
آپ رضی اللہ عنہ کو جہاں بھی موقع ملتا لوگوں کو زیورِ علم سے آراستہ کرتے اورعلم کی روشنی پھیلایا کرتے تھے چنانچہ دمشق سے باہر دیہات میں آپ رضی اللہ عنہ کے ایک دوست رہا کرتے تھے جب بھی آپ ان سے ملنے جاتے تو لوگ آپ کے اردگرد جمع ہوجاتے اوردینی مسائل پوچھتے اورآپ نہایت ہی دلنشین انداز میں انہیں جوابات عطا فرمایا کرتے تھے۔([10])
آپ رضی اللہ عنہ خوفِ خدا کے غلبے کی وجہ سے اور آخرت کے حساب کی جوابدہی کے پیشِ نظر اس خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے کہ کاش!میں کسی گھر میں مینڈھا ہوتا جسے گھر والے ذبح کرلیتے اورمجھے بھون لیتے اورمیرا گوشت کھالیتے۔([11])
حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور ِخلافت میں آپ رضی اللہ عنہ ملکِ شام چلے گئےاور حمص میں قیام کیا اور یہیں 73 ہجری میں وفات پاکر رفیق ِ اعلیٰ سے جاملے۔([12]) حضرت سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہما کا شمار فضلاء صحابہ میں ہوتا ہے، آپ رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ ’’67‘‘ احادیث کے چمکتے دمکتے قیمتی موتی کتبِ احادیث و سیر میں بکھرے ہوئے ہیں،([13])ایک حدیثِ پاک ملاحظہ فرمائیے، چنانچہ حضرت عوف بن مالک اشجعی روایت کرتے ہیں کہ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: تمہارے بہترین امام (خلیفہ) وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں،تم ان کے لیے دعائے مغفرت کرو اور وہ تمہارے لیے دعائے مغفرت کریں اور تمہارے بدترین امام (خلیفہ/حکمران) وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔([14])
حضرت سیّدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے والوں میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہما جیسے جلیلُ القدر اور عظیمُ المرتبت صحابہ جبکہ حضرت ابو مسلم خولانی اور حضرت ابو ادریس خولانی جیسے تابعین بھی شامل ہیں جن کی فہم و فراست و علمی جلالت کو ہر ایک نے تسلیم کیا۔([15])
اللہ پاک کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بےحسا ب مغفرت ہو۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*(سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی)
Comments