امام حسین کی تعلیمات اور ان کی عصری معنویت (قسط : 01)


امام حسین کی تعلیمات اور ان کی عصری معنویت(قسط:01)



نواسۂ سیدِ کائنات،لخت جگرِ شیرِ خدا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

اے لوگو! اچھے اَخلاق میں رغبت کرو، نیک اعمال میں جلدی کرو، جس نے کسی پر احسان کیا ہواور وہ اس کا شکر ادا نہ کرے تو احسان کرنے والے کو اللہ پاک عوض عطافرماتا ہے۔ یقین کرو نیک کام میں تعریف ہوتی ہے اور ثواب ملتا ہے، اگر تم نیکی کو کسی مرد کی صورت میں دیکھ سکتے تو اسے بہت حسین و جمیل دیکھتے جو دیکھنے والے کو بھلا لگتا اور اگر تم مَلامت اور بَدی کو دیکھ سکتے تو بدترین منظر دیکھتے جس سے دل نفرت کرتے اور نظریں نیچی ہوجاتی ہیں۔ اے لوگو! جوسخاوت کرتا ہے وہ سردار ہوتا ہے اور جو بخل کرتا ہے وہ ذلیل و رُسوا ہوتا ہے۔ زیادہ سخی وہ شخص ہے جو اس شخص پر سخاوت کرے جسے اس کی اُمید نہ ہو۔ زیادہ پاک دامن اور بہادُر وہ شخص ہے جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود مُعاف کردے، زیادہ صِلۂ رحمی کرنے والا شخص وہ ہے جو قَطْع تعلق کرنے والے رشتے داروں سے تعلق جوڑے۔ جو شخص اپنے بھائی پر احسان کرکے اللہ کی رضا چاہے اللہ پاک مشکل وقت میں اس کا بدلہ دیتا ہے اور اس سے سخت مصیبت ٹال دیتا ہے۔ جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی سے دنیوی مصیبت دور کی اللہ پاک اس سے اُخرَوی مصیبت دور کرتا ہے اور جو کسی پر احسان کرے اللہ کریم اس پر احسان فرماتا ہے اور احسان کرنے والے اللہ کے پیارے ہیں۔([1])

محترم قارئین! جگر گوشۂ بتول سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ وہ عظیم ہستی ہیں جن کی پوری زندگی قراٰن و سنت کا عملی نمونہ تھی۔ آپ نے کربلا کے میدان میں عملی طور پر بھی حق و باطل کا فرق واضح کیا اور اپنے خطبات وارشادات میں قولی طور پر بھی امتِ مسلمہ کو وہ راہنمائی دی جو رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ کے ایک خطبہ مبارکہ کا ایک حصہ ہمارے سامنے ہے جس میں آپ نے معاشرے کے ہر فرد کو اخلاق و کردار کی اعلیٰ اقدار اپنانے کی تلقین فرمائی۔ یہ کلماتِ نور آج بھی اتنے ہی روشن اور بامعنی ہیں جتنے آج سے چودہ صدیاں پہلے تھے۔

آج ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں اخلاقی اقدار پامال ہو رہی ہیں، جہاں احسان کی جگہ خودغرضی نے لے لی ہے، جہاں سخاوت و فیاضی کی بجائے بخل و تنگ دلی نے ڈیرے ڈال لیے ہیں، جہاں معافی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے اور صلۂ رحمی کا جذبہ ٹھنڈا پڑتا جا رہا ہے۔ ایسے میں امام حسین رضی اللہ عنہ   کا یہ خطبہ ہمارے لیے عظیم رہنما  کا کام کرتا ہے۔آئیے! اس خطبے کے ہر پہلو کو الگ الگ سمجھیں اور اپنے کردار کو پرکھیں۔

(1) حسنِ اخلاق اور نیک اعمال میں جلدی: ہماری سب سے بڑی ضرورت

”اے لوگو! اچھے اخلاق میں رغبت کرو، نیک اعمال میں جلدی کرو۔“

آج ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اخلاق کو دین سے الگ کر لیا ہے۔ ہم مساجد میں نمازیں پڑھتے ہیں لیکن گھر آکر بداخلاقی کرتے ہیں۔ تلاوتِ قراٰن کرتے ہیں لیکن ہمسائے کو تکلیف دینے سے نہیں چوکتے۔ روزے رکھتے ہیں لیکن غیبت و چغلی کا بازار گرم رہتا ہے۔ عبادات کی کثرت کے باوجود ہمارے کردار میں وہ نور نہیں جو ایک مسلمان کی پہچان ہونا چاہیے۔

نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: اَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ اِیْمَاناً اَحْسَنُہُمْ خُلُقاً یعنی مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔([2])

(2) احسان اور اس کا صلہ: خدا کی ضمانت

”جس نے کسی پر احسان کیا اور وہ اس کا شکر ادا نہ کرے تو احسان کرنے والے کو اللہ پاک عوض عطا فرماتا ہے۔“

ہمارے معاشرے کا ایک عام مرض یہ ہے کہ ہم احسان اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ تعریف کریں، شکریہ ادا کریں، ہمیں یاد رکھیں۔ جب شکریہ نہیں ملتا تو بھلائی کرنا بند کر دیتے ہیں، بلکہ کبھی کبھی احسان جتا کر دوسرے کی توہین بھی کرتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف غلط ہے بلکہ ہماری نیکی کو بھی ضائع کر دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰىۙ-

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

امام حسین رضی اللہ عنہکی زندگی احسان کا ایک مسلسل سلسلہ ہے۔ آپ نے ہر حال میں لوگوں پر احسان فرمایا اور بدلے میں کسی شکر گزاری کی توقع نہ رکھی۔ کربلا جاتے وقت جن لوگوں نے آپ کو خطوط لکھ کر مدعو کیا تھا انہوں نے بعد میں ساتھ چھوڑ دیا، لیکن آپ نے ان پر لعنت ملامت نہ کی بلکہ اللہ کی رضا پر توکل کیا۔ یہی وہ جذبہ تھا جو آپ نے اس خطبے میں بیان فرمایا کہ احسان اللہ کے لیے کرو، اگر مخلوق نے شکر ادا نہ کیا تو خالق ضرور عوض دے گا۔

(3) نیکی کا حسن اور بدی کی کراہت: روحانی بصیرت

”اگر تم نیکی کو کسی مرد کی صورت میں دیکھ سکتے تو اسے بہت حسین و جمیل دیکھتے اور اگر تم ملامت اور بدی کو دیکھ سکتے تو بدترین منظر دیکھتے جس سے دل نفرت کرتے اور نظریں نیچی ہو جاتیں۔“

یہ بھی آج کا ایک المیہ ہے کہ ہم نے نیکی اور بدی کی پہچان کھو دی ہے۔جھوٹ بولنے کو ”ہوشیاری“ کہتے ہیں، دھوکا دینے کو ”تجارتی مہارت“ سمجھتے ہیں، غیبت کرنے کو ”سچ بولنا“ قرار دیتے ہیں اور حرام کمانے کو ”زمانے کی ضرورت“ جانتے ہیں۔ ہمارے اندر وہ روحانی بصیرت ختم ہوتی جا رہی ہے جو بدی کو بدی کے روپ میں پہچانے۔

قراٰنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ

ترجمۂ کنز الایمان: لوگوں کے لیے آراستہ کی گئی ان خواہشوں کی محبت۔([4])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

شیطان بدی کو سجا کر پیش کرتا ہے، لیکن اہلِ بصیرت اس دھوکے میں نہیں آتے امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا میں یزید کی بیعت سے انکار کرکے عملاً ثابت کر دیا کہ ان کی بصیرت نے بدی کو بدی کے روپ میں دیکھ لیا تھا، اگرچہ وہ اقتدار اور شاہی ٹھاٹھ باٹھ میں لپٹی ہوئی تھی۔ (بقیہ اگلے ماہ کے شمارے میں۔ ان شآء اللہ)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ شعبہ ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])نورالابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار، ص 152، 153

([2])ترمذی ،2/،386، حدیث: 1165

([3])پ3، البقرۃ:264

([4])پ3،اٰل عمرٰن:14


Share