صحابہ کرام علیہم الرضوان ، اولیائے کرام رحمہم اللہ السلام،علمائے اسلام رحمہم اللہ السلام

اپنےبزرگو ں کو یادرکھئے


محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینا ہے۔ اس میں جن صحابۂ کرام، اَولیائے عظام اور علمائے اسلام کا وِصال یا عرس ہے، ان میں سے116کا مختصر ذکر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ محرمُ الحرام 1439ھ تا1447ھ کے شماروں میں کیا جاچکا ہے۔ مزید 12کا تعارف ملاحظہ فرمائیے:

صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان:

(1)حضرت ابوصخر بُجَیر بن بَجْرہ طائی رضی اللہُ عنہ مجاہد و شاعر تھے۔9ھ کو یہ حضرت خالدبن ولید رضی اللہُ عنہ کے اس لشکر میں شامل تھے جو دومۃ الجندل کے حکمران اُکَیْدرکی جانب گیا تھا، اس لشکر کو کامیابی ملی، اکیدر کو قیدی بنا کر مدینہ منورہ لایا گیا، انہوں نے اس وقت اشعار کہے جسے سُن کر نبی کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے انہیں منہ کی سلامتی کی دعا دی، انہوں نے 90 سال کی عمر میں جنگ قادسیہ میں شہادت پائی، اس وقت بھی ان کے سارے دانت سلامت تھے۔([1])

(2)حضرت ابوعمر حارث بن مضرس بن عبدزراح انصاری رضی اللہُ عنہ بیعتِ حدیبیہ (اصحاب شجرہ) میں شامل تھے، انہوں نے بھی جنگ قادسیہ میں شہادت پائی،یہ صاحب اولاد تھے۔([2])

 علمائے اسلام رحمہمُ اللہ السَّلام:

(3)امام الحدیث شیخ ابوعامر قبیصہ بن عقبہ کوفی رحمۃُ اللہِ علیہ جلیل القدر ائمہ دین مثلاً امام سفیان ثوری، امام شعبہ بن حجاج کے شاگرد اور ثقہ راوی تھے، آپ سے روایت کرنے والوں میں امام ابوبکر بن شیبہ اور امام محمد بن اسماعیل بخاری جیسے محدثین ہیں۔ بخاری شریف میں آپ سے روایت کردہ 44 احادیث ہیں، آپ کا وصال ماہِ محرم215ھ میں ہوا۔([3])

(4)شیخ ابوالحسن محمد بن ابوالبقاء مبارک شافعی بغدادی المعروف علّامہ ابن الخل رحمۃُ اللہِ علیہ امام ومفتی، شارح کتاب التنبیہ اور شیخ الشافعیہ فی البغداد تھے، ان کی پیدائش 475ھ میں ہوئی اور وصال ماہِ محرم 552ھ میں ہوا۔([4])

(5)شہاب الملت والدّین شیخ ابوالعباس احمد بن ابوبکر کتانی بوصیری شافعی رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش 762ھ بوصیر،صوبہ غربیہ، مصر میں ہوئی اور 18 یا 27 محرم 840ھ کوقاہرہ،مصر میں وصال فرمایا۔ آپ حافظ و قاری قراٰن، تلمیذ علامہ ابن حجر عسقلانی، ماہرِ علمِ حدیث، بہترین کاتب، محلہ حسینیہ قاہرہ کے امام، فاضل و صالح، تلاوت و عبادت میں بکثرت مشغول رہنے والے، خلوت پسند اور حسن اخلاق کے مالک تھے۔ مشہور تصانیف میں مصباح الزجاجہ فی زوائد ابن ماجہ اور اتحاف الخیرۃ المہرۃ بزوائد المسانید العشرۃ ہیں۔([5])

(6)قطب وِیْلُور حضرت مولانا سید محی الدین قادری وِیْلُوری رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش خاندان سادات گیلانیہ میں1207ھ کو ہوئی اور مدینہ منورہ میں 3محرم1289ھ کو وصال فرمایا۔ آپ عالمِ دین، عارف باللہ، شیخ طریقت اور صاحب تصنیف ہیں۔ وِیلُور(Vellore)سٹی ریاست تمل ناڈو (Tamil Nadu) ہند کے مشہور عالمِ دین مولانا عبدالوہاب ویلوری قادری (بانی جامعہ باقیات الصالحات ویلُور) آپ کے ہی مرید ہیں۔([6])

(7)مفتی شیخ جمال الدین بنجری رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش 1238ھ کو دلم پگار، ضلع بنجر، صوبہ جنوبی کلیمتان انڈونیشیا کے علمی گھرانے میں ہوئی، آپ نبیرۂ شیخ ارشدبنجری، اسلامی علوم کے ماہر، تلمیذ علمائے انڈونیشیا و مکہ مکرمہ، سپریم جج اور مفتی داتو سرگی تھے۔ آپ کا وصال 8محرم 1348ھ کو ہوا۔ مزار محلہ ”سرگی مفتی“ شمالی بنجر ماسِن، انڈونیشیا میں ہے۔ ([7])

اولیائے کرام رحمہمُ اللہ السَّلام:

(8)نوری شاہ بابا حضرت غازی سید نور علی شاہ شہید رحمۃُ اللہِ علیہ ولی کامل اور صاحب تصرف بزرگ ہیں، آپ مجاہدِ اسلام محمد بن قاسم کے لشکر کے ساتھ شام سے یہاں سندھ آئے اور 5محرم 93ھ کو شہادت پائی۔ مزار تین ہٹی، جہانگیر روڈ کراچی میں مرجع خلائق ہے۔([8])

(9)مخدوم الملک حضرت خواجہ احمدنوری سہروردی رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش 870ھ کو خاندان غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانی میں ہوئی اور 947ھ میں وصال فرمایا۔ آپ مادر زاد ولی، کثیرُ الفیض اور ولی شہیر ہیں، آپ کی اولاد میں کثیر اولیائے کرام ہوئے، جن میں پیر دا کھارا ضلع جہلم بھی ہیں۔ ان کا خوبصورت روضہ پیل شریف ضلع خوشاب، پنجاب میں ہے جہاں ہر سال یکم محرم کو عرس ہوتاہے۔([9])

(10)قطب الاقطاب سید علوی بن محمد مولی الدویلہ منفرمی رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش 1166ھ تریم، یمن میں ہوئی اور 7محرم 1260ھ کو وصال فرمایا، مزار علاقہ منفرم، ترور نگاڑی ضلع مالاپورم، ریاست کیرلا، ہند میں ہے۔ آپ عالم دین، مبلغ اسلام، سلسلہ باعلویہ کے شیخِ طریقت، ولیِ کامل، مجاہدِ جنگ آزادی اور ملیبار کے ممتاز علما و مشائخ سے  ہیں۔ سلطنتِ عثمانیہ کے علاقہ ظفار (موجودہ عمان) کے گورنر شیخ فضل باشا آپ کے صاحبزادے ہیں۔([10])

(11)پیر سید ولایت شاہ گیلانی گولڑوی رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش نوشہرہ، وادی سون سکیسر، ضلع خوشاب، پنجاب میں ہوئی اور 14محرم 1357ھ کو وصال فرمایا، مزار محلہ مہرال نوشہرہ میں ہے۔ آپ حافظِ قراٰن، صاحبِ علم، مرید قبلہ عالم پیر سید مہر علی شاہ، صاحب کرامت اور مقبولِ خاص و عام تھے۔([11])

(12)خادم الملت حضرت پیر سید خادم حسین شاہ علی پوری رحمۃُ اللہِ علیہ کی پیدائش امیرِملت سیّد جماعت علی شاہ محدث علی پوری کے گھر میں 1307ھ میں ہوئی اور21محرم 1371ھ کو وصال فرمایا۔ آپ حافظ قراٰن، تلمیذ محدث سورتی، فاضل جامع العلوم کانپور اوربانی سالانہ جلسہ میلادالنبی کانپور ہیں۔ تدفین مزار امیرِ ملت، علی پور سیداں، ضلع نارووال، پنجاب میں کی گئی۔([12])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* رکن مرکزی مجلسِ شوریٰ(دعوتِ اسلامی)و نگران مجلس ماہنامہ فیضان مدینہ، کراچی



([1])الاصابہ،1/401، 402

([2])الاصابہ، 1/691

([3])تاریخِ اوسط للبخاری، 2/333،رقم:2791-تہذیب التہذیب، 6/478تا480

([4])سیراعلام النبلاء، 15/94، 95

([5])الضوء اللامع،1/251، 252- اتحاف الخیرہ، 1/9

([6])تذکرۃ الانساب،ص243، 244

([7])ویکیپیڈیا مضمون: Jamaluddin Al-Banjari

([8])تذکرہ اولیائے سندھ،ص366

([9])خوشاب سرزمین اولیاء، ص148تا 151

([10])منحۃ القوی بمدحۃ السید علوی، ص8، 16، ویکیپیڈیا، عربی مضمون: علوي المنفرمي

([11])تجلیات مہر انور، ص987تا991

([12])تذکرہ خلفائے امیرملت، ص172تا176۔


Share