اِک باوفا چلا گیا
دنیا میں کتنے ہی لوگ آتے ہیں زندگی گزارتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن ان کا تذکرہ نہیں ہوتا،جبکہ کچھ نفوسِ قدسیہ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا جانا محض ایک فرد کا جانا نہیں ہوتا بلکہ ایک عہد کا خاتمہ ہوتا ہے، ایک روشنی بجھ جاتی ہے، ایک ایسا خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے پُر کرنا ممکن نہیں رہتا۔
شیرِ ِخدا حضرت سیّدنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہ وجہَہُ الکریم سے منقول ہے:جب عالِم وفات پاتا ہے تو 77 ہزار مقربین فرشتے رخصت کرنے کے لیے اس کے ساتھ جاتے ہیں اور عالم کی موت اسلام میں ایسا رَخْنَہ ہے جسے قیامت تک بند نہیں کیا جاسکتا۔([1])
چیف ایڈیٹر ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ حضرت مولانا ابورجب محمد آصف عطاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا سانحۂ ارتحال اس روایت کا مصداق ہے۔ ان کے جانے سے ایک مسندِ تدریس جہاں سے سینکڑوں طلبہ نے علم حاصل کیا، اس کی رونق جاتی رہی، ایک ایسا قلم رُک گیا جس نے ہزاروں صفحات دین کی خدمت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے لیے لکھے۔
حضور نبیِ رحمت، شفیعِ امت، سلطانِ دوجہاں، نبیِ غیب داں ، احمدِ مجتبیٰ محمدِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے:
علم حاصل کرلو اس سے پہلے کہ وہ چلا جائے، لوگوں نے عرض کی:یانبی اللہ! علم کیسے جائے گا حالانکہ ہمارے پاس تو کتاب اللہ موجود ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جلال کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: کیا بنی اسرائیل کے پاس تورات و انجیل نہ تھی؟ انہیں یہ کتابیں کافی نہ ہوئیں، بے شک علم اہلِ علم کے جانے سے چلا جاتاہے۔([2])
حدیثِ پاک سے واضح ہوتاہے کہ علما کے انتقال سے علم اٹھ جاتا ہے اگرچہ کتابیں اور قرآن پاک لوگوں کے پاس موجود ہو کیونکہ یہ علما ہی ہیں جو لوگوں کو کتاب اللہ کے معانی و مفہوم سمجھاتے ہیں اور سنت کے احکام سکھاتے ہیں اور اختلافات و نئے نئے پیدا ہونے والے مسائل کا حل نکالتے ہیں نیز اس سے یہ بھی پتا چلتاہے کہ علم دین حاصل کرنا اور اپنی آنے والی نسلوں کو بھی علم دین کے حصول پر لگانا بہت ضروری ہے۔
16اپریل 2026ء”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کے قارئین کے لیے بالخصوص اور تمام اہل محبت کے لیے بالعموم ایک غمناک موقع آیا۔
چیف ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ، مبلغِ دعوتِ اسلامی، عاشقِ مدنی مذاکرہ، محقق و مصنف، مصلح و ناصح، استاذ العلماء، رکنِ مجلس المدینۃ العلمیہ، حضرت مولانا ابورجب محمد آصف عطاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کم و بیش چھ سال جگر کے عارضہ میں مبتلا رہ کر 50سال کی عمر میں27شوال 1447ھ مطابق 16 اپریل 2026ء بروز جمعرات سہ پہر تقریباً 3بجے کراچی میں وصال فرماگئے۔نمازِجنازہ دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وارسنتوں بھرا اجتماع کے بعد رات تقریباًساڑھے دس بجے امیرِاہلِ سنت علامہ محمد الیاس عطارقادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے پڑھائی۔اس میں دارالافتاء اہلِ سنت کے مفتیانِ کرام ،اراکینِ مرکزی مجلسِ شوریٰ ،علمائے کرام اورہزاروں اسلامی بھائیوں نے شرکت کی ،تدفین قبرستان سی ایریالیاقت آبادکراچی میں کی گئی۔ ([3])
ابتدائی حالات اور خاندانی پس منظر
حضرت مولانا ابو رجب آصف عطاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کا اصل نام آصف جاوید تھا۔ آپ کا آبائی تعلق گوجرہ سے تھا، تاہم ابتدائی زندگی کینال کالونی، ہیڈ پنجند(پنجاب، پاکستان) میں گزری۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کے والد ماجد محکمہ نہر میں ملازم تھے، اور وہیں سرکاری کالونی میں رہائش تھی۔بہن بھائیوں میں آپ سب سے چھوٹے تھے۔ پانچویں جماعت تک ہیڈ پنجند کے مقامی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ آپ نے ایک سال میں دو کلاسز بھی پاس کیں۔ آپ کی طبیعت بچپن ہی سے ممتاز اور منفرد تھی۔آپ کا گھرانہ اگرچہ پنجابی تھا مگر آپ بچپن ہی سے اردو ہی میں گفتگو کرتے تھے۔
مطالعہ کا غیرمعمولی جذبہ بچپن ہی سے تھا۔ اخبار ہو، میگزین ہو، یا دکاندار کی طرف سے سامان کے ساتھ ملنے والا عام کاغذ، آپ ہر چیز کو پڑھ ڈالتے تھے۔ یہاں تک کہ دال پتیسے والے جو کاغذات دیتے، آپ انہیں بھی نظرانداز نہ کرتے اور غور سے پڑھتے۔ یہ شوق ہی آگے چل کر آپ کو ایک صاحبِ علم اور صاحبِ قلم شخصیت بنانے کا باعث بنا۔
آپ کے بڑے بھائی ایڈووکیٹ نجم جاوید پرائمری کی تعلیم کے بعد اپنے آبائی شہر گوجرہ میں شفٹ ہوگئے تھے اور بعد میں آپ بھی پرائمری کی تعلیم کے بعد بڑے بھائی کے پاس آگئے۔گوجرہ میں آپ نے ایم سی ہائی اسکول سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج گوجرہ سے بی اے کی سند حاصل کی۔ بی اے کے بعد آپ کا پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ بھی ہوگیا مگر لاہور میں آپ کی ملاقات دعوتِ اسلامی کے ایک مبلغ سے ہوئی جو کہ درسِ نظامی کے طالب علم تھے، ان کی صحبت سے آپ کو بھی درسِ نظامی کا جذبہ ملا تو آپ نے درسِ نظامی کا آغاز کردیا اور علومِ دینیہ کی راہ اختیار کی۔
بڑے بھائی نے ابتداءً یونیورسٹی کی تعلیم ہی جاری رکھنے کی تاکید کی لیکن آپ کے والد صاحب اور چچا نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا:”انہیں جو کرتے ہیں کرنے دو اور ان کی مدد کرو، ایک دن تمہیں ان پر فخر ہوگا۔“
اور پھر زمانے نے دیکھا کہ حضرت مولانا ابورجب آصف عطاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ پر ہر اپنا پرایا رشک کرنے لگا جب عالَمِ اسلام کی عظیم ہستی، امیرِ اہلِ سنت نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی، کندھا دیا، قبرستان تک تشریف لے گئے، دعائیں کیں، انہیں اپنا بازو کہا ، باوفا، کام کا بندہ اور فعال کہا۔
لاہور قیام کے دوران آپ نے امامت کے فرائض بھی انجام دیے بعد ازاں آپ کراچی منتقل ہوگئے اور بقیہ دینی تعلیم فیضانِ مدینہ کراچی میں مکمل کی اور ساتھ ہی تدریس کا آغاز بھی کردیا یعنی خود پڑھتے بھی رہے اور دوسروں کو پڑھاتے بھی رہے۔
دینی خدمات
آپ نے دین کی خدمت تحریر، تقریر، تدریس تینوں انداز میں فرمائی۔ عاشقانِ رسول کے قافلوں میں سفر، درس و بیان اور مدنی چینل پر کئی علمی واصلاحی پروگرامز میں بطورِ مبلغ شرکت فرماتے رہے۔ دسمبر 2000 تا 2025ء مسلسل 25سال تدریس فرمائی اور دورِ طالبِ علمی ہی سے تحریر و تصنیف میں مشغول رہے جو سلسلہ 2026ء میں وصال سے تقریباً 15 دن پہلے تک جاری رہا۔
اندازِ تدریس
جامعۃ المدینہ میں ہزاروں طلبہ نے آپ سے استفادہ کیا جن میں سے تقریباً ڈیڑھ ہزار فارغ التحصیل ہوکرعملی زندگی میں دنیا کے مختلف گوشوں میں دعوت و تبلیغ، درس و تدریس اور امامت و خطابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ان کا طریقۂ تدریس محض کتابی نہ تھا بلکہ کبھی زندگی کا کوئی سبق سمجھاتے، کبھی پیر و مرشد شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کا کوئی واقعہ سناتے نیز وقتاً فوقتاً طلبہ کی ذاتی صورتِ حال کی خبرگیری بھی فرمایا کرتے، ان کے یہ اوصاف انہیں دوسروں سے ممتاز کرتے تھے۔
اپنے تلامذہ کو وہ نہ صرف علمی بلکہ عملی تربیت بھی دیتے۔ دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں کی ترغیب دلانا، وقت کی پابندی سکھانا، کام سے لگن پیدا کرنا، یہ سب ان کے درس کا حصہ تھا۔ بعض اوقات حافظِ ملت کا وہ قول سناتے جو ان کے دل پر نقش تھا:”زمین کے اوپر کام، زمین کے نیچے آرام۔“
دوران درس ہلکی ہلکی خوش طبعی ان کے پڑھانے کا حصہ تھی۔ ایک طالب علم نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ وہ استاذ محترم کے سبق کے دوران درمیان میں ہی بول پڑے، تو انہوں نے مسکراتےہوئے فرمایا: ”یہ وہ محشی ہے جو کتاب لکھنے سے پہلے حاشیہ لگاتا ہے۔“
طلبہ پر شفقت
ان کی شفقت کوئی دکھاوا نہ تھی ، یہ ان کے دل کی گہرائیوں سے نکلتی تھی۔ مالی اعتبار سے کمزور طلبہ کی مالی معاونت کرنا ان کا معمول تھا۔ نصابی کتابیں خود خرید کر طلبہ کو دینا، کسی شاگرد کی تعریف سن کر خوش ہونا، کسی کی پریشانی میں کام آنا، کسی کی بیماری پر دعا کرنا، یہ سب ان کے روز مرہ کےمعمولات کا حصہ تھے۔
سادات سے محبت
ساداتِ کرام سے خصوصی تعلق اور حسن سلوک ان کا امتیازی وصف تھا۔ اپنے شاگردوں میں سے جو بھی سید ہوتا اس پر خاص توجہ دیتے، خاص شفقت فرماتے۔
طلبہ کی دلجوئی و حوصلہ افزائی
کسی شاگرد کی اچھی کارکردگی پر دل کھول کر تعریف کرتے اور حوصلہ افزائی فرماتے۔ شاگرد اچھی عبارت پڑھتا تو خوشی کا اظہار کرتے۔ جب کسی شاگرد سے ملتے تو اسے مختلف نیک لوگوں سے تشبیہ دیتے، کبھی فرماتے:”آپ کا عمامہ فلاں جیسا بندھا ہوا ہے“، کبھی کہتے:”آپ کی شکل فلاں عالم صاحب سے ملتی ہے۔“ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں شاگردوں کے دلوں میں ان کی ایک خاص جگہ بنا دیتی تھیں۔
تحریر و تصنیف
تدریس کے ساتھ ساتھ تحریر بھی ان کا میدان تھا۔ انہوں نے چھبیس برس تک مسلسل تحریری خدمات انجام دیں۔ اسلامک ریسرچ سینٹر المدینۃ العلمیہ کے ابتدائی ایام ہی سے آپ اس میں شامل رہے اور اپنے وصال تک بطورِ رکنِ مجلس ، شعبہ ذمہ دار اور سینیئر محرر خدمات انجام دیتے رہے۔
اس دوران آپ نے جہاں سینکڑوں جزوی تحریری کام کیے وہیں 22 سے زیادہ کتب و رسائل بھی لکھے جو کہ شائع ہوکر علمی حلقوں میں دادِ تحسین وصول کرچکے ہیں جبکہ کئی تحقیقی منصوبے ابھی جاری تھے جو ان کی صحت یابی کے منتظر تھے۔
آپ کی علمی، تحقیقی اور اصلاحی نگارشات میں سے چند نام یہ ہیں:
(1)بدگمانی(صفحات:55)(2)بدشگونی(صفحات:126)(3)فیضانِ زکوٰۃ (صفحات:149) (4)حرص (صفحات: 232) (5)انفرادی کوشش (صفحات:200) (6)جیسی کرنی ویسی بھرنی (صفحات:110) (7)جَلد بازی کے نقصانات (صفحات: 168) (8)محبوبِ عطار کی 122 حکایات (صفحات:208) (9)مفتیِ دعوتِ اسلامی (صفحات:89) (10)نام رکھنے کے احکام (صفحات:179) (11)قبر میں آنے والا دوست (صفحات: 115) (12)قومِ جنات اور امیرِ اہلِ سنت (صفحات:263) (13)ریاکاری(صفحات:166) (14)شرح شجرۂ قادریہ رضویہ عطاریہ (صفحات:217) (15)سنتیں اور آداب (صفحات: 124) (16)تکبر (صفحات:97) (17)تکلیف نہ دیجیے (صفحات:219) (18)تربیتِ اولاد (صفحات:187) (19)توبہ کی روایات و حکایات (صفحات: 132) (20)حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز کی 425 حکایات (صفحات:590) (21)وہ ہم میں سے نہیں (صفحات:112) (22)حسد (صفحات:97)۔
آپ کی قلمی کاوشوں میں سے ایک بہت اہم کاوش سات زبانوں(اردو، عربی، انگلش، ہندی، گجراتی، بنگلہ اور سندھی) میں جاری ہونے والا اسلامی میگزین ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ بھی ہے۔
”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کے لیے ہر ماہ عنوانات تجویز کرنا اور فہرست بنانا اگرچہ راقم الحروف کے ذمے تھا لیکن ابتداء ً اس کی تربیت دینا، عنوانات چیک کرنا، ضروری تبدیلی کروانا، عنوان کے موافق مؤلف کی تقرری کرنا، مضامین کی وصولی میں مؤلفین سے روابط میں کرم فرمانا، مضامین کا اول جائزہ لینا، قابلِ اصلاح کی نشاندہی کرنا، مضامین موصول ہونے سے پرنٹنگ تک کے ہر مرحلے میں شریک رہنا ، یہ وہ اہم امور تھے جنہوں نے ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کو ایک منظم صورت اور انداز میں جاری رکھا اور ان شآء اللہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔
آپ ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“میں اصلاحی اور موٹیویشنل مضامین تحریر فرماتے تھے جنہیں کثیر طبقات کی طرف سے سراہا گیا۔ آپ نے تقریباً 200 علمی، تحقیقی اور اصلاحی مضامین لکھے۔
ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے انہوں نے اس رسالے کو ایک علمی و دینی شناخت دی۔ ہر شمارے میں ان کی فکر کی چھاپ نمایاں ہوتی، ہر صفحے پر ان کی تحریری سوچ کا عکس نظر آتا۔
ان کے ماتحت کام کرنے والے اسلامی بھائیوں نے دیکھا کہ وہ کام کو کس قدر سنجیدگی سے لیتے تھے۔ کوئی معقول عذر کے بغیر چھٹی کرتا یا دیر سے آنا معمول بناتا تو وہ حکمت و تدبر سے اس کی اصلاح فرماتے۔ اپنے کام سے ان کی وابستگی اور لگن مثالی تھی۔
جب ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ کا آغاز ہوا تو کام کی کثرت اور وقت کی قلت کے باعث ابتدائی شماروں میں کئی مرتبہ رات 12، کبھی 1 اور کبھی 3اور 4 بجے تک بھی کام ہوتا رہا جس میں استاذ محترم بھی مکمل شریک رہتے۔ بہت مرتبہ چھٹی کے ایام میں بھی کام کرتے رہے اور غیرمعمولی کام کرنے والوں کی دلجوئی بھی فرماتے، کبھی کوئی تحفہ دیتے، کبھی کھانا کھلاتے، کبھی کچھ رقم بطورِ تحفہ دے دیتے تھے۔
وقت کی قدراور تصنیفی انہماک
وقت کی قدر و قیمت کے بارے میں ان کا ایک واقعہ نہایت سبق آموز ہے۔ ایک مرتبہ ایک شاگرد ان کے لیے فیضانِ مدینہ کراچی کی کینٹین سے دال اور چپاتی لایا۔ انہوں نے سالن میں روٹی ڈال کر اس طرح کھانا شروع کیا کہ ساتھ ساتھ تصنیفی کام بھی جاری رہا۔ شاگرد حیران رہ گیا تو فرمایا:
”حیران کیوں ہوتے ہو، ہمارا یہی معمول ہے کہ جتنا وقت بچ سکے، بچا کر دینی کام میں صرف کریں۔ جب میں طلبہ کو ایک ایک گھنٹہ دسترخوان پر بیٹھ کر باتوں میں وقت ضائع کرتے دیکھتا ہوں تو بہت دکھ ہوتا ہے ۔“
محبتِ مرشد
حضرت مولانا ابورجب محمد آصف عطاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی کو کسی ایک نکتے میں سمیٹنا ہو تو وہ ہے: ”محبتِ مرشد“
شیخِ طریقت، امیرِ اہلِ سنت، علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے ان کا تعلق محض ایک مرید اور پیر کا رسمی تعلق نہ تھا، یہ عشق اور محبت کی وہ کیفیت تھی جسے الفاظ میں بیان کرنا دشوار ہے۔
جو بھی ان کی صحبت میں بیٹھا اس نے دیکھا کہ تدریس ہو، یا عمومی گفتگو، شاید ہی کوئی موضوع ایسا ہو جس پر باتیں کرتے کرتے مرشد کا ذکر نہ آئے۔ مرشد کی یادیں، مرشد کی باتیں، مرشد کی ادائیں، یہی ان کا محبوب موضوع تھا، یہی ان کے درد کا درمان تھا، یہی ان کی روح کی غذا تھی۔ ان کے قریبی بیان کرتے ہیں کہ جب پیر و مرشد کا تذکرہ چھڑتا تو ان کی آنکھوں میں ایک غیر معمولی چمک آ جاتی، جسم میں توانائی کا ایک سیل پھوٹ پڑتا، آواز میں ایک خاص کیفیت آ جاتی، گویا ذکرِ محبوب میں انہیں وہ زندگی ملتی تھی جو دنیا کی کوئی دوائی نہیں دے سکتی۔
آپ پیرومرشد کے معاملے میں عشق کی انتہائی منزل پر تھے۔ راقم الحروف کو ان کے ساتھ 9سال تک ماتحت کی حیثیت سے کام کرنے کی سعادت ملی، بیسیوں بار ایسا ہو اکہ پیرومرشد امیر اہل سنت کے لکھے ہوئے ایک لفظ کو بھی تبدیل کرنا گوارا نہ کرتے۔
آپ کو پیرو مرشد کے ساتھ سفرِ ”چل مدینہ“ کی بھی سعادت ملی۔
پیر و مرشد سے جو محبت ملی اس نے ان کے دل میں مدینۂ منورہ کی چاہت کا بیج بویا اور وہ بیج برسوں میں ایک تناور درخت بن گیا۔ مدینۂ پاک کی محبت ان کے رگ و پے میں اتر چکی تھی۔
ان کی علمی تحریروں میں بھی مدینے کی خوشبو ملتی تھی، ان کی گفتگو میں بھی مدینے کا رنگ نظر آتا تھا۔
وفات سے چند ماہ پہلے، جب بیماری اپنے عروج پر تھی، جسم نے بارہا جواب دیا، پھر بھی دلِ بے قرار نے مدینے کا قصد کیا اور حاضریِ مدینہ نصیب ہوئی۔ یہ وہ سعادت تھی جو انہیں اپنی محبت کی بدولت حاصل ہوئی اور شاید یہ اس عاشق کو اس کے محبوب کی طرف سے آخری بلاوا تھا۔
مرشدِ کریم کی آپ سے محبت
امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ بھی ان سے بہت محبت فرماتے تھے۔18اپریل 2026کو ہونے والے مدنی مذاکرے میں امیرِ اہلِ سنت نے حضرت مولانا ابو رجب آصف عطاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ارشاد فرمایا:
’’قابلِ فخر عالم تھے،لکھنے میں ان کا قلم اچھا تھا،معلومات اچھی تھیں،میرے کام کے تھے، ان کی بڑی خدمات ہیں، صاف ستھرے تھے،میں نے کبھی ان کی شکایت نہیں سنی ،یہ حکمتِ عملی جانتےتھے،یہ ہم کو پھنساتے نہیں تھے،اپنے اوپر لے لیتے تھے،المدینۃ العلمیہ کے رکنِ رکین تھے۔
ان کا ہمارا اتنا ساتھ تھا کہ سمجھو میرا ایک بازو الگ ہوگیا،یہ تحریری کاموں میں میری بہت مدد کیا کرتے تھے، اللہ کریم ان کا نعم البدل عطاکردے، خدماتِ دینی ان کی قبول ہوجائیں، ان کی اولاد کو اللہ پاک ان کے نقش قدم پر چلائے۔
حضرت مولانا ابورجب آصف عطاری مدنی رحمۃ اللہ علیہ بیماری کے آخری ایام میں جب اسپتال میں تھے تو امیرِ اہلِ سنت نے خود تشریف لے جا کر عیادت فرمائی اور آپ جتنا عرصہ علیل رہے پیرو مرشد مسلسل کرم فرماتے رہے۔ آپ کے وصال پر امیرِ اہلِ سنت بہت غمگین ہوئے جس کا اظہار خود فرماتے ہیں کہ ”
میری ایسی فِیلنگ تھی کہ جیسے میرے گھر میں میت ہوئی ہے، میرا دل ہوا کہ میں ان کے جنازے میں شرکت کروں، بڑا دل کرے میں قبرستان جاؤں، اموات کے بارے میں تو سنتے رہتے ہیں لیکن اتنا جھٹکا (Shock) نہیں لگتا لیکن کوئی کوئی اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے،کوئی مدنی فوت ہوتا ہے تو مجھے محسوس ہوتا ہےکہ ہمارے باغ کا ایک پھول کٹ گیا،نکل گیا،یہ تو پورا گلدستہ تھے۔“
مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مدظلہ العالی فرماتے ہیں:
جب ان کے انتقال کا پتا چلا تو زبان سے بے ساختہ نکلا ”اک باوفا چلا گیا۔“ان کی بڑی باوفا طبیعت تھی کہ (معاملےکو) اپنے اوپر لے لیتے تھے،تنظیم میں ایسے افراد کم ہوتے ہیں اور ان کم میں سے بھی ایک اور کم ہوگیا،دعوت اسلامی والوں سے درخواست ہے کہ تنظیم کے اندر ایسے رہنا چاہئے ۔
اس پر امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے ارشاد فرمایا : ایسے رہا کرو کہ زمانہ مثال دے۔
شیخ طریقت امیر ِاہلِ سنت نے علیل اور ضعیف ہونے کے باوجود آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی، آپ کے جنازے کو کندھا دیا اور آخری بار الوداع کرنے قبرستان بھی تشریف لے گئے۔
خلیفۂ امیرِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبیدرضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے آپ کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارا ۔ یوں علم و عمل کا ایک عظیم آفتاب ہزاروں عاشقانِ رسول کی دعاؤں، مناجات اور درودوسلام کی گونج میں رخصت ہوگیا۔
امیرِ اہلِ سنّت کی طرف سے المدینۃ العلمیہ والوں سے تعزیت
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ وَنُسَلِّمُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن آصف خان مدنی اور المدینۃ العلمیہ کے اسلامی بھائیوں کی خدمتوں میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہٗ
افسوس ہمارے بہت پرانے اور فعال اسلامی بھائی حاجی ابورجب ہم سے جدا ہوگئے، اللہ پاک ان کو غریقِ رحمت فرمائے، بےحساب مغفرت کرے، میں ان سے بڑا متأثر تھا، اور میرے حسنِ ظن کے مطابق یہ نیک صالح انسان تھے اور ماشآء اللہ راز داری کا ذہن اور وفادار الحمدللہ۔ کافی سینئر تھے، شاید المدینۃ العلمیہ کی بنیادوں میں ان کا حصہ ہو۔ اللہ پاک ان کی خدماتِ دعوتِ اسلامی قبول فرمائے اور اللہ پاک ان کا فیضان ہم کو نصیب کرے، ہم بھی دین کا کام کریں، خوب کام کریں، ڈٹ کے کام کریں، اللہ پاک قبول فرمائے، اخلاص عطا فرمائے۔ میں سب سے تعزیت کرتا ہوں، میرے پاس جو کچھ ٹُوٹے پُھوٹے اعمال ہیں اللہ پاک اپنی بارگاہ میں قبول کرلے، اپنی رحمت کے شایانِ شان اجر عطا فرمائے، بارگاہ رسالت میں نذر کرکے مرحوم حاجی ابورجب مدنی کو ایصال کرتا ہوں۔ اللہ ان کو بےحساب مغفرت سے نوازے، ان کی آل اولاد اور سوگواروں کو اللہ پاک صبر جمیل اور صبرجمیل پر اجر جزیل مرحمت فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* ایم فل اسکالر/فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی
Comments