بجلی کا کنڈا لگانا یا اس کی مرمت کرنا کیسا؟

احکامِ تجارت


(1)دکان تیار نہ ہونے کے باوجود بلڈر سے دکان کا کرایہ لینا

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے پلازہ میں اپنے لئے ایک دکان بک کی تھی اور میں پیمنٹ بھی کرچکا ہوں۔ اب معاہدے کے مطابق دکان پر قبضہ دینے کا وقت آیا تو ابھی تک دکان نہیں بنی، تھوڑا بہت کام ہوا ہے لیکن بالکل بھی قابل استعمال نہیں جس کی وجہ سے قبضہ نہیں ملا، بلڈ ر کو قبضہ دینے کا کہا اور اس پر زور ڈالا تو وہ کہہ رہا ہے کہ جب تک دکان کا قبضہ نہیں مل جاتا ہر ماہ مارکیٹ ریٹ کے حساب سے مجھ سے کرایہ لیتے رہو۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب تک وہ مجھے دکان بنا کر قبضہ نہ دے دے کیا میں اس وقت تک کرایہ کی مد میں بلڈر سے پیسے لے سکتا ہوں ؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: پوچھی گئی صورت میں بلڈر سے، وقت پر دکان بناکر نہ دینے کی وجہ سے، کرایہ کے نام پر پیسے لینا جائز نہیں۔ نہ ہی یہاں کرایہ کی کوئی گنجائش ہے کیونکہ کرایہ کسی چیز کے استعمال کرنے پر ہوتا ہے یہاں تو نہ مذکورہ دکان اس قابل ہے کہ اس سے فائدہ اٹھایا جا سکے نہ ہی یہ بلڈر کا مقصود ہے۔ کسی بھی مالی آمدنی کے لئے شرعی سبب پایا جانا ضروری ہے جبکہ یہاں کرایہ کے نام پر رقم لینا شرعی سبب نہیں ہے۔

تفصیلِ مسئلہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں رشوت کا پہلو پایا جارہا ہےکیونکہ بلڈر کو وقت پر خریدار کے قبضہ میں دکان دینا لازم تھا،اب بلڈر کسی وجہ سے دکا ن پر قبضہ نہیں دے سکا تو ایسی صورت میں بلڈر کا خریدار کو کرایہ کے نام پر رقم لینے کی آفر کرنا اپنی عزت بچانے کی خاطر ہے تاکہ مارکیٹ میں خود اس بلڈر کی اور اس کے پروجیکٹس کی ویلیو برقرار رہے، اور یہی رشوت ہے لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مذکورہ رقم کا لین دین کرنا، ناجائز وحرام اور باطل طریقے سے کسی مسلمان کا مال کھانا ہے۔

یہ حکم اس صورت میں ہے کہ جب بلڈر اپنے طور پر یہ آفر کرے لیکن اگر بلڈر خود سے آفر نہیں کرتا بلکہ خریدار کی طرف سے مذکورہ رقم لینے کا مطالبہ ہے تو پھر یہ تعزیر بالمال یعنی مالی جرمانہ ہے، اس طرح کہ بلڈر کی طرف سے وقت پر دکان کا قبضہ نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے خریدار بلڈر سے کرایہ کا مطالبہ کررہا ہے،اور تعزیر بالمال یعنی مالی جرمانہ لینا جائزنہیں ہے۔

ہاں اتنا ضرور ہے کہ بلڈر پر دکان کا قبضہ دینا شرعاً لازم تھا بلاوجہ شرعی اس طرح کرتا ہے تو ایسا کرنا درست نہیں۔ اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کرتا ہے تو بلڈر کو مہلت دی جائے گی۔

تنبیہ: یہ تو فقہی احتمالات کی روشنی میں جواب تھا لیکن مشاہدہ یہ ہے کہ اس طرح کی اسکیم فراڈیے بلڈر لگاتے ہیں جو کچھ ماہ کرایہ دینے کے بعد فرار ہوجاتے ہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(2)مردہ ہرن سے نکلی ہوئی مشک بیچنا اور استعمال کرنا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مردار ہرن سے نکلنے والی مشک کی خریدو فروخت کرنا اور اس کا استعمال کرنا کیسا ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: مردار ہرن سے نکلنے والی مشک کا استعمال اور اس کی خرید و فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔

اس مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ بیع اسی چیز کی جائز ہوتی ہے جس سے نفع اٹھانا حلال ہو۔ خنزیر کے علاوہ مردار جانور کی وہ چیزیں جن میں خون سرایت نہ کرے، ان کے استعمال اور خرید و فروخت میں کوئی حرج نہیں ہوتا، جیسے مردار جانور کا پٹھا، بال، سینگ اور ہڈی وغیرہ؛ کیونکہ ان اعضاء میں زندگی نہیں ہوتی، لہٰذا ان کا استعمال اور خرید و فروخت کرنا شرعاً جائز ہے۔

اس اصول کے مطابق مردار ہرن سے نکلنے والی مشک اگرچہ اصل کے اعتبار سے نجس خون تھی، لیکن جب وہ اپنی ماہیت بدل کر خوشبو بن گئی اور تھیلی جیسی کیفیت اختیار کرلی، جس میں خون سرایت نہیں کرتا، تو وہ پاک ہوگئی۔ اب اس مشک کا استعمال کرنا اور خریدو فروخت کرنا، جائز ہےاگرچہ مردار سے حاصل کی گئی ہو۔

مراقی الفلاح میں ہے: ”(ونافجۃ المسک طاھرۃ) مطلقا۔۔۔ (کالمسک) للاتفاق علی طھارتہ“ ترجمہ: ہرن کی تھیلی مطلقاً پاک ہے جیساکہ مشک کیونکہ اس کی طہارت پر اتفاق ہے۔

اس کے تحت حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:”وقولہ مطلقا یفسر بانھا سواء کانت من ذکیۃ، او میتۃ، او انفصلت من حیۃ“ ترجمہ: مصنف کا مطلقاً فرمانا اس بات کی تفسیر یہ ہے کہ چاہے وہ مشک ذبح کیے گئے ہرن سے لی گئی ہو، یا مردہ ہرن سے، یا زندہ ہرن سے جدا ہوئی ہو۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، ص 170)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

(3)بجلی کا کنڈا لگانا یا اس کی مرمت کرنا کیسا؟

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں الیکٹرک کے کام سے وابستہ ہوں اور بعض اوقات مجھے عوام کی طرف سے غیر قانونی بجلی کے کنڈے لگانے یا پہلے سے لگے ہوئے کنڈوں کی مرمت کرنے کا کہا جاتا ہے۔ کیا میرے لیے غیر قانونی بجلی کا کنڈا لگانا یا اس کی مرمت کرنا، جائز ہے؟

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

جواب: کُنڈے لگا کر بجلی استعمال کرنا غیر قانونی اور شرعاً ناجائز عمل ہے اور اس ناجائز کام پر معاون و مددگار بننا بھی جائز نہیں۔ قرآن و حدیث میں واضح طور پر ہمیں ناجائز کاموں پر ایک دوسرے کی معاونت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا بجلی کے کُنڈے لگانا بلاشبہ ایک ناجائز کام میں معاون و مددگار بننا ہے جو کہ جائز نہیں اور اس پر حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال نہیں ہوگی۔

گناہوں کے کاموں پر ایک دوسرے کی معاونت کرنے کی ممانعت سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪-

ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔ (پ 6، المائدۃ: 2)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

چوری کی بجلی سے متعلق فتاویٰ فقیہ ملت میں ہے: ”چوری سے بجلی جلانا منع ہے کہ اس میں حکومت کو دھوکا دینا اور اس کے قانون کو توڑنا ہے۔ اپنے کو اہانت کے لیے پیش کرنا، اپنی عزت کو خطرہ میں ڈالنا ہے۔ اور عزت کی حفاظت کرنا ذلت و رسوائی سے بچنا ضروری ہے۔“ (فتاویٰ فقیہ ملت،1/192)

فتاویٰ بریلی شریف میں ہے:”چوری سے بجلی چلانا جائز نہیں ہے اور دیانت داری کے بھی خلاف ہے۔“

(فتاویٰ بریلی، ص 104)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* محقق اہل سنت، دارالافتاء اہل سنت نورالعرفان، کھارادر کراچی


Share