چند قدیم مدارس و جامعات (دوسری اور آخری قسط)


چند قدیم مدارس و جامعات (دوسری اور آخری قسط)


گزشتہ سے پیوستہ


ذیل میں چند مشہور درس گاہوں کا مختصر حال بھی پیش کیا جاتا ہے۔

مدرسہ نظامیہ:

 آلِ سلجوق کے وزیرِ اعظم نظامُ الملک طُوسی نے اپنی کُل جاگیروں میں سے دسواں حصہ مدرسوں کے لئے وقف کردیا تھا، شہرِ بغداد میں یہ مدرسہ اسی کا ایک عظیمُ الشان کارنامہ ہے، اور اس مدرسہ سے پہلے بغداد شہر میں کوئی خاص عمارت مدرسہ کے نام سے نہیں ملتی، اس کی تعمیر 457ہجری میں شروع ہوئی اور 459ھ میں اس کا افتتاح ہوا، مدرسہ نظامیہ کا فیض پانچویں صدی ہجری سے لے کر نویں صدی ہجری تک جاری رہا، امام غزالی، ابو عبداللہ طَبری، الخطیب التبریزی  رحمۃُ اللہ علیہ م وغیرہ وقتاً فوقتاً اس کے صدر مدرس رہ چکے ہیں، اس کے احاطے میں ایک کُتب خانہ بھی تھا، اس میں پڑھنے والوں کی تعداد اس زمانہ میں چھ ہزار تھی، یہاں تعلیم اور جملہ سہولیات مفت فراہم کرنے کے ساتھ غریب طلبہ کو اَوقاف سے خصوصی وظیفہ بھی ملتا تھا۔ طلبہ کے لئے وظائف مقرر کرنے کا اس سے پہلے رواج نہ تھا۔ نظامُ الملک طُوسی نے عام مدرسوں کے علاوہ نیشاپور، ہرات، اَصفہان اور مَوصِل میں جو بڑے بڑے مدارس قائم کئے تھے وہ بھی مدرسہ نظامیہ کہلاتے تھے۔

مدرسہ قادریہ:

یہ مدرسہ حُضور غوثِ اعظم کی طرف منسوب ہے۔ یہ مدرسہ آپ کے شیخ قاضی ابو سعید مبارک بن علی بن حسین اَلْمُخَرِّمی (سالِ وفات:541ھ) نے بغداد کے علاقے ”باب اَزَج“ میں قائم کیا جو آج کل ”باب الشیخ“ کے نام سے مشہور ہے اور اس میں فقہ حنبلی کا درس دینا شروع کیا، غوثِ اعظم اپنے تعلیمی دور کے آخری سالوں میں مستقل طور پر اسی مدرسے میں پڑھنے لگے اور پھر تعلیم مکمل کرنے کے بعد اسی مدرسے میں اپنے شیخ کے ساتھ بطورِ معاون استاد پڑھانے لگے اور جب آپ کے شیخ ابو سعید المخرمی کا وصال ہوا، تو شیخ کے شاگردوں میں ان کی جانشینی کا اہل تسلیم کرتے ہوئے مسندِ تدریس و اِفتا اور وعظ و ارشاد آپ کے سپرد کردی گئی۔ پھر جب آپ کا حلقۂ درس وسیع ہوا، اور مدرسہ کی عمارت تنگ پڑنے لگی تو آپ بغداد شہر کی فصیل کے باہر عید گاہ میں درس دینے لگے، یہاں تک کہ چند معتقدین نے مدرسہ اَلْمُخَرِّمی کو ان کے ورثاء سے خریدا اور مزید اس میں توسیع کر کے نئے سرے سے ایک وسیع عمارت تعمیر کی جس میں طلبہ اور مریدین کے لیے علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اقامت کا بھی اہتمام کیا، اور پھر یہ مدرسہ شیخ عبدُالقادر جیلانی کے نام سے مشہور ہوا، یہ آج تک موجود ہے اور اس وقت مدرسہ قادریہ کے نام سے مشہور ہے۔اس میں حضور غوثِ اعظم  رحمۃُ اللہ علیہ  کے وصال کے بعد آپ کے شہزادے شیخ عبدالجبار تدریس فرمانے لگے اور ان کے بعد غوثِ اعظم کی اولاد میں سے مختلف افراد اس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ 656سِنِ ہجری میں تاتارِیوں نے بغداد میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا اور دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ غوثِ اعظم کے خاندان کے کثیر افراد کو بھی شہید کیا اور مسجد و مدرسے کو بھی منہدم کردیا، ان فتنوں کے بعد مختلف زمانوں میں اس مدرسے کی تعمیرو ترقی کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ سن 1703ء میں عثمانی سلطان کے حکم سے دو نئے مدرسے بنا کر اس قدیم مدرسے میں شامل کردیئے گئے۔(الشیخ عبد القادر الجیلانی الامام الزاهد القدوة، ص125، 127،  290، 292)

مدرسہ ناصِریہ اور مدرسہ صَلاحیہ:

چٹھی صدی ہجری میں سلطان صَلاحُ الدّین ایوبی  رحمۃُ اللہ علیہ  نے بہت سے مَدَارِس قائم کئے اور بے انتہا آمدنی ان پر وَقْف کی، قاہرہ کے اندر انہی کے زمانے سے مدارس کی تاسیس ہوئی اور دِیارِ مصر میں پہلی بار مدرسہ ناصریہ 566ھ میں بنا، خود صلاحُ الدّین ایوبی نے اپنے نام سے ”مدرسہ صلاحیہ“ قائم کیا جس میں انہوں نے پہلی بار باضابطہ مدرس کے لئے تنخواہ کے علاوہ اور دیگر سہولیات فراہم کیں، اس مدرسہ میں سلطان نے شیخ نجمُ الدّین کو مقرر کیا اور ان کی تنخواہ چالیس دینار مقرر کی اور اَوقاف کی نگرانی بھی انہی کے سپرد کر کے دس دینار اس کا معاوضہ مقرر کیا، تقی الدین دَقیقُ العید، سراج بلقینی اور حافظ ابنِ حجر جیسے ائمہ نے وقتاً فوقتاً اس مدرسہ میں تدریس کے فرائض انجام دیئے۔

دارُ الحدیث النوریہ:

اسلامی دنیا کا پہلا دارُالحدیث دِمَشق میں549ھ میں دارُالحدیث النوریہ کے نام سے قائم کیا گیا اور اس کا سہرا عظیم سلطان نورُ الدّین محمود زَنگی کے سَر ہے، اس دارُالحدیث کو انہوں نے اپنے شیخ محدث و مؤرخ حافظ اِبنِ عساکر کے لیے بنوایا تھا، دمشق میں 18 دارُ الحدیث تھے مگر دارُ الحدیث النوریہ ان سب میں ممتاز تھا یہ مدرسہ آج بھی جامع مسجد کی شکل میں قائم ہے اور مسجد کے صحن میں نور الدین زنگی کا مزار بھی ہے۔

دارُ الحدیث الاشرفیہ:

الملک الاشرف مظفرُالدّین جو سلطان صلاحُ الدّین کے بھتیجے ہیں، انہوں نے قلعہ دمشق کے جوار میں ایک بڑی جگہ خرید کر دارُ الحدیث الاشرفیہ کی عمارت تعمیر کی اور اس کے برابر میں شیخ کے لئے رہائش گاہ تیار کی، 15 شعبان630ھ کی مبارک رات میں الملک الاشرف نے اس دارُ الحدیث کا افتتاح کیا، اور مشہور محدث امام حافظ ابوعَمْرو اِبنِ صلاح الشہرزوری کو اس دارُالحدیث کا شیخ مقرر کیا، اس دارُالحدیث میں علمِ حدیث کی بہت سی اہم کُتب تصنیف کی گئیں، دمشق میں علمِ حدیث کو عروج دینے میں ان کا بڑا کردار ہے اور ان کا فیض آج تک سارے عالَم میں پھیل رہا ہے، یہاں تدریس کے فرائض انجام دینے والوں میں دنیا کے بڑے بڑے محدثین جیسے امام شرفُ الدّین نووی، امام ابوالحجاج مزی، اما م تقی الدین سبکی اور ان کے بیٹے تاجُ الدّین سبکی، امام ابنِ کثیر اور خاتمُ الحفاظ ابنِ حجر عسقلانی بھی شامل ہیں، اس دارُالحدیث میں امام، مؤذن، قاریُ القراٰن، قاریُ الحدیث اور حدیث سننے والے افراد کے لئے وظائف مقرر تھے اور بہت سی جاگیریں عمارتیں دکانیں وغیرہ اس دارُالحدیث کے لئے الملک الاشرف کی طرف سے وقف تھیں۔

اس دارُ الحدیث کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس میں دیوارِ قبلہ پر محراب کے اوپر ایک خوب صورت لکڑی کے صندوق میں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اصلی نعلینِ مبارکہ آویزاں تھیں جو دمشق کے ایک تاجر موسیٰ شرف نظام بن ابوحدید سے الملک الاشرف نے حاصل کی تھیں۔

مدارسِ ہند:

علّامہ مقریزی نے اپنی مشہور کتاب ”کتاب الخُطط“ میں لکھا ہے:”چودھویں صدی عیسوی میں محمد تغلق کے دور میں صرف دہلی شہر میں ایک ہزار مدرسے تھے۔“

کیپٹن ہیلیگزن ہملٹن مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیرکے دور میں ؁1699ء میں اس خطے میں آیا تھا، اس نے اپنے سفرنامے میں لکھا: ”صرف ٹھٹھہ شہر میں مختلف علوم و فنون کے چار سو مدارس تھے۔“ کیئر ہارڈی نے میکس پولر کے حوالے سے تحریر کیا ہے: ”انگریزوں کی علمداری سے قبل بنگال میں اسّی ہزار مدرسے موجود تھے، تقریباً ہر چار سو افراد کے لئے ایک مدرسہ تھا۔“ دہلی میں بہت سے عظیمُ الشّان مدارس موجود تھے۔

مدرسہ فیروز شاہی:

یہ دہلی کا سب سے مشہور اور اپنے عہد کا زبردست مدرسہ تھا، جسے فیروز شاہ نے فیروز آباد دہلی میں 753ھ میں قائم کیا تھا، مدرسہ اپنی شان و شوکت، خوبیِ عمارت و موقع اور حُسنِ انتظام و تعلیم کے لحاظ سے تمام مدارسِ ہند میں سب سے بہتر اور عمدہ تھا، مصارف کے لئے شاہی وظائف مقرر تھے، مدرسہ سے متصل مسجد تھی۔

دہلی کا سب سے آخرُ الذِّکر اور مشہور مدرسہ شاہ ولیُّ اللہ محدث دہلوی کے والدِ بزرگوار شاہ عبدالرحیم دہلوی کا ہے۔ اسی مدرسہ کی آغوش میں شاہ ولیُّ اللہ، قاضی ثناءُ اللہ پانی پتی، مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی وغیرہ جید اہلِ علم پڑھ کر جواں ہوئے ہیں۔(دینی مدارس اور عہد حاضر کے تقاضے، ص41تا49، اردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ، 20/154تا179)

اَلحمدُ لِلّٰہ آج جو پورے عالَم میں علمِ دین کا نور پھیلا ہوا ہے وہ ان ہی قدیم مدارس کا فیض ہے، اور اِخلاص کے ساتھ اُس وقت میں ان مدارس اور جامعات کو شروع کرنے والوں کے لئے صدقہ جاریہ ہے، اللہ کریم علمِ دین کی درس گاہوں کو ترقی و دوام نصیب فرمائے اور ہم کو بھی اس عظیم کارِ خیر میں اپنا حصہ ملانے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* استاذ الحدیث مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی


Share