کوہِ طور کے جلوے
19 دسمبر 2025کی رات ایک یادگار اور روح پرور سفر کے آغاز کا سبب بنی۔ ”ذہنی آزمائش سیزن 17“کا فائنل مکمل کرنے کے بعد تقریباً تین بجے ہم کویت کے راستے مصر کے لیے روانہ ہوئے۔ کویت ایئرپورٹ پر چند اسلامی بھائیوں سے ملاقات ہوئی، اور یہ دیکھ کر دلی خوشی محسوس ہوئی کہ وہاں موجود مسافر بھی اَلحمدُ لِلّٰہ دعوتِ اسلامی اور مدنی چینل کا تذکرہ کر رہے تھے۔ یہ سب اللہ کریم کی بے پایاں رحمتوں کا فیضان تھا۔ اس سے پہلے بھی مصر جانے کا موقع ملا تھا، مگر دل میں ایک دیرینہ خواہش تھی کہ کوہِ طور کی حاضری نصیب ہو۔ اس بار دسمبر کی سخت سردی، سفر کی مشقت اور دشوار گزار راستوں کے باوجود یہ شوق غالب آیااور امیرِ اہلِ سنت سے دعائیں لے کر ہم نے اس بابرکت سفر کا آغاز کیا اور بالآخر مصر پہنچ ہی گئے۔
کوہِ طور، شرمل الشیخ شہر سے تقریباً تین گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ اس سفر کے لیے باقاعدہ ایک پیکج کے تحت ہوٹل سے بس کے ذریعے روانگی ہوتی ہے۔ رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے بس آئی اور ہم اس میں سوار ہو گئے۔ راستے میں مختلف مقامات پر ہوٹلوں سے دیگر مسافروں کو ساتھ لیا جاتا رہا، یہاں تک کہ رات ایک بجے کے قریب ہم کوہِ طور کے دامن میں پہنچ گئے۔یہ بات حیران کن تھی کہ اس سفر میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی شریک تھے، کیونکہ ان کے ہاں بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عظمت اور کوہِ طور کا ذکرعقیدت واحترام سے کیا جاتا ہے۔ راستے میں کئی مقامات پر سیکیورٹی چیکنگ بھی ہوتی رہی، جبکہ سردی اپنی شدت پر تھی۔ مسافروں نے گرم کپڑے پہن کر پہاڑ کی چڑھائی کا آغاز کیا، جو تقریباً تین سے ساڑھے تین گھنٹے پر مشتمل تھا۔ اس دوران ایک سہولت یہ بھی تھی کہ خواہش مند افراد اونٹ کی سواری اختیار کر سکتے تھے۔ ہم نے بھی سنت کی ادائیگی کی نیت اور سفر میں آسانی کے پیش نظر اونٹ کی سواری لی، جس کے ذریعے اَلحمدُ لِلّٰہ تقریباً ستر فیصد راستہ طے ہو گیا۔
تقریباً دو گھنٹے کے بعد ہم اس مقام پر پہنچے جہاں سے اونٹ کی سواری ختم ہو جاتی ہے اوراس سے آگے تقریباً ساڑھے سات سو سیڑھیاں چڑھنا پڑتی ہیں۔ یہ مرحلہ واقعی آزمائش سے کم نہ تھا۔ ساری رات کی بیداری، سخت سردی اور جسمانی تھکن کے باوجود ہم مختلف مقامات پر وقفہ کرتے ہوئے سیڑھیاں طے کرتے رہے، وہاں جگہ جگہ کافی شاپس بنی ہوئی تھیں اور کھانے پینے کی چیزوں کی دکانیں بھی موجودتھیں، بہرحال یہ سیڑھیاں ختم ہوئیں اور ہم صبح چھ بجے کے قریب کوہِ طور کی چوٹی پر پہنچ گئے۔
چوٹی پر ایک مسجد بھی بنی ہوئی تھی جس میں ہم نے نمازِ فجر ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد کچھ دیر دعا، درود و سلام اور ذکر واذکار میں مشغول رہے، جس سے دل کو ایک عجیب سکون نصیب ہوا۔ وہاں ایک غار بھی موجود ہے، جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اس میں چالیس راتیں قیام فرمایا تھا۔یہ وہی مقدس مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام سے کلام فرمایا، یہ ایسا واقعہ ہے جو ایمان کو تازگی بخشتا ہے۔ اس واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے:
اللہ تعالیٰ نےحضرت موسیٰ علیہ السّلام سے کلام فرمایا اس پر ہمارا ایمان ہے۔ کلام کی حقیقت اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ کتابوں میں مذکور ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السّلام اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ نے طہارت کی،پاکیزہ لباس پہنا اور روزہ رکھ کر طورِ سینا میں حاضر ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بادل نازل فرمایا جس نے پہاڑ کو ہر طرف سے چار فرسنگ (یعنی12میل) کی مقدار ڈھک لیا۔ شیاطین اور زمین کے جانور حتّٰی کہ ساتھ رہنے والے فرشتے تک وہاں سے علیحدہ کردیئے گئے۔ آپ کے لیے آسمان کھول دیا گیا تو آپ نے ملائکہ کو ملاحظہ فرمایا کہ ہوا میں کھڑے ہیں۔ آپ نے عرشِ الٰہی کو صاف دیکھا یہاں تک کہ اَلواح پر قلموں کی آواز سنی اور اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام فرمایا۔ آپ علیہ السّلام نے اللہ کی بارگاہ میں اپنی معروضات پیش کیں، اللہ نے اپنا کلام کریم سنا کر نوازا۔ حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو کلامِ ربانی کی لذت نے اللہ کے دیدار کا آرزو مند اور مشتاق بنادیا۔
چنانچہ بارگاہِ ربُّ العزّت میں عرض کی:
رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَؕ-
ترجمہ: اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا تاکہ میں تیرا دیدار کرلوں۔ ([1])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یعنی صرف دل یا خیال کا دیدار نہیں مانگتا بلکہ آنکھ کا دیدار چاہتا ہوں کہ جیسے تو نے میرے کان سے حجاب اٹھا دیا تو میں نے تیرا کلامِ قدیم سن لیا ایسے ہی میری آنکھ سے پردہ ہٹا دے تاکہ تیرا جمال دیکھ لوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے ارشاد فرمایا:
لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْۚ-
ترجمہ: تو مجھے ہر گز نہ دیکھ سکے گا، البتہ اس پہاڑ کی طرف دیکھ،یہ اگر اپنی جگہ پرٹھہرا رہا تو عنقریب تو مجھے دیکھ لے گا ۔([2])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یاد رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ میرا دیکھنا ممکن نہیں بلکہ دنیا میں حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے دیکھنے کی نفی کی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ دیدارِ الٰہی ممکن ہے اگرچہ دنیا میں نہ ہو کیونکہ صحیح حدیثوں میں ہے کہ روزِ قیامت مؤمنین اپنے ربّ کے دیدار سے فیض یاب کئے جائیں گے،اس کے علاوہ یہ کہ حضرت موسٰی علیہ السّلام اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں، اگر دیدارِ الٰہی ممکن نہ ہوتا توآپ ہر گز سوال نہ فرماتے([3]) کہ اللہ کے نبی کسی محال شے کی دعا نہیں کرتے۔
قصہ مختصر،جب رب تعالیٰ نے پہاڑ پر اپنا نور چمکایا تو وہ پہاڑ پاش پاش ہوگیا اورحضرت موسیٰ علیہ السّلام بے ہوش ہوکر گر گئے، پھر جب ہوش آیا تو عرض کی:
سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ(۱۴۳)
ترجمہ: تو پاک ہے ، میں تیری طرف رجوع لایا اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔ ([4])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
یہاں ایک نکتہ قابلِ ذکر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنا دیدار کروانے کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں منع فرمایا، پہاڑ تجلیِ ربانی برداشت نہ کر سکا اور پاش پاش ہو گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السّلام بیہوش ہو کر زمین پر تشریف لے آئے جبکہ اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ(۷) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ(۸) فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ(۹) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ(۱۰) مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى(۱۱) اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى(۱۲) وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ(۱۳) عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى(۱۴) عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ(۱۵) اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ(۱۶) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى(۱۷)
ترجمہ: اس حال میں کہ وہ آسمان کے سب سے بلند کنارہ پر تھے۔پھر وہ جلوہ قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا۔تو دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔پھر اس نے اپنے بندے کو وحی فرمائی جو اس نے وحی فرمائی۔دل نے اسے جھوٹ نہ کہا جو (آنکھ نے) دیکھا۔تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑتے ہو۔اور انہوں نے تو وہ جلوہ دوبار دیکھا۔ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔اس کے پاس جنت الماویٰ ہے۔جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا۔ آنکھ نہ کسی طرف پھری اور نہ حد سے بڑھی۔([5])
(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)
اَلحمدُ لِلّٰہ! اس مقدس مقام کی زیارت کرنے کے بعد جب صبح کے سورج کی کرنیں پہاڑوں پر پھیلیں تو وہ منظر نہایت دلکش اور روح پرور تھا۔ ہر طرف ایک روحانی فضا اور ایک خاص کیفیت پورے ماحول پر طاری تھی۔
کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد ہمیں کوہِ تجلی کے دیدار کا موقع بھی ملا، جوایک نہایت بابرکت مقام سمجھا جاتا ہے۔ واپسی پر ایک اور عظیم مقام کی حاضری نصیب ہوئی،وہ درخت جہاں حضرت موسیٰ علیہ السّلام کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ اس مقام پر کھڑے ہو کر دل پر ایک خاص ہیبت اور روحانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے،اس عظیم واقعہ کا ذکر قرآنِ پاک میں بھی موجود ہےکہ جب حضرت موسیٰ علیہ السّلام حضرت شعیب علیہ السّلام سے اجازت لے کرمَدْیَن سے مصر کی طرف اپنی والدہ ماجدہ سے ملنے کے لئے روانہ ہوئے، آپ علیہ السّلام کے اہلِ بیت ہمراہ تھے اور آپ نے شام کے بادشاہوں (کی طرف سے نقصان پہنچنے) کے اندیشہ سے سڑک چھوڑ کر جنگل میں مسافت طے کرنا اختیار فرمایا،اس وقت زوجۂ محترمہ حاملہ تھیں، چلتے چلتے طور پہاڑکے مغربی جانب پہنچے تو یہاں رات کے وقت زوجۂ محترمہ کو دردِ زہ شروع ہوا، یہ رات اندھیری تھی، برف پڑ رہی تھا اور سردی شدت کی تھی، اتنے میں آپ علیہ السّلام کو دور سے آگ معلوم ہوئی۔([6])
جب حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے آگ دیکھی تواپنی زوجۂ محترمہ سے فرمایا: آپ یہیں ٹھہرو، میں نے ایک جگہ آگ دیکھی ہے، اس لیے میں جا تا ہوں، شاید میں تمہارے پاس اس آگ میں سے کوئی چنگاری لے آؤں یا مجھے آگ کے پاس کو ئی ایسا شخص مل جائے جس سے درست راستہ پوچھ کر ہم مصرکی طرف روانہ ہو سکیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السّلام اس آگ کے پاس تشریف لائے تو وہاں آپ علیہ السّلام نے ایک سرسبز و شاداب درخت دیکھا جو اوپر سے نیچے تک انتہائی روشن تھا اور آپ علیہ السّلام جتنا اس کے قریب جاتے اتنا وہ دور ہوجاتا اور جب آپ علیہ السّلام ٹھہر جاتے تو وہ قریب ہوجاتا، اس وقت آپ علیہ السّلام کو ندا فرمائی گئی کہ اے موسیٰ! بیشک میں تیرا رب ہوں تو تو اپنے جوتے اتار دے کہ اس میں عاجزی کا اظہار، مقدس جگہ کا احترام اور پاک وادی کی خاک سے برکت حاصل کرنے کا موقع ہے، بیشک تو اس وقت پاک وادی طُویٰ میں ہے۔([7])
ہمارا یہ سفر بظاہر جسمانی مشقت سے بھرپور تھا، مگر درحقیقت ایک روحانی تجربہ ثابت ہوا،ایسا تجربہ جس نے دل کو تازگی بخشی اور ایمان کو نئی حرارت عطا کی۔
اللہ کریم ہمیں ایسے بابرکت مقامات کی بار بار حاضری نصیب فرمائے اور ان سے حاصل ہونے والی روحانی کیفیات کو ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* رکن شوریٰ و نگرانِ مجلس مدنی چینل
Comments