اِثْم و عُدْوان کا قرآنی مفہوم


”اِثْم و عُدْوان“کا قرآنی مفہوم



اللہ کریم کا فرمان ہے:  

وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَؕ-اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور نیکی اور پرہیزگاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ ([1])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت کریمہ میں چار اہم عناصر کا ذکر ہے: البر (نیکی)، التقویٰ (پرہیزگاری)، الاثم (گناہ) اور العدوان (زیادتی)۔ پہلے دو عناصر وہ ہیں جن میں تعاون اور معاونت کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ آخری دو عناصر وہ ہیں جن میں معاونت سے منع کیا گیا ہے۔

البر اور التقویٰ میں تعاون اور اس کا مفہوم ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ“ اپریل اور مئی 2026میں کیا گیا، جبکہ ”الاثم اور العدوان“ میں تعاو ن نہ کرنے کے حوالے سے تفصیلا ت اس مضمون میں ملاحظہ کیجیے۔

رب تعالیٰ نے سورۃ المآئدۃ میں”اثم“ اور ”عدوان“میں معاونت کرنے اور سورۃ المجادلۃ میں ”اثم و عدوان“کی سرگوشیاں کرنے سے منع فرمایا ہے۔ آئیے قرآن کریم ہی کی روشنی میں جانتے ہیں کہ کون کون سے اعمال و افکار اثم اور عدوان میں شامل ہیں؟

الاثم کا قراٰنی مفہوم

لفظ”الاثم“ عربی زبان میں گناہ، معصیت، اور خطا کے معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ قراٰنِ کریم میں الاثم کو البر کے مدمقابل ذکر کیا گیا ہے۔ آئیے! دیکھتے ہیں کہ قراٰن کریم نے کن اعمال، نظریات اور عقائد کو الاثم کے زمرے میں شامل کیا ہے۔

شراب اور جوا”اثم“ ہیں

اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃ میں شراب اور جوئے کے بارے میں فرمایا:

یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ-قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘-وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَاؕ-

ترجَمۂ کنزُالایمان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔([2])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر شراب اور جوئے کو ”اثم کبیر“ یعنی بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان میں کچھ دنیوی فوائد ہو سکتے ہیں، جیسے شراب سے عارضی خوشی یا جوئے سے فوری مالی فائدہ، لیکن ان کے نقصانات ان کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔

شراب انسان کی عقل کو ماؤف کر دیتی ہے، جو انسان کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ جب عقل ماؤف ہو جائے تو انسان ہر قسم کی برائی کر سکتا ہے۔ وہ نماز نہیں پڑھ سکتا، اپنے اہل و عیال کا خیال نہیں رکھ سکتا، اور معاشرے میں فساد پھیلاتا ہے۔ جوا انسان کو کاہل بنا دیتا ہے۔

بدگمانی”اثم“ ہے

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحجرات میں فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًاؕ-

ترجَمۂ کنزُالایمان: اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بےشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے اور عیب نہ ڈھونڈو اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔([3])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بعض ظنوں کو گناہ قرار دیا ہے۔ ظن سے مراد وہ گمان ہے جو بغیر کسی ثبوت کے کیا جائے۔ اگر کسی کے بارے میں برا گمان رکھا جائے بغیر کسی ثبوت کے، تو یہ گناہ ہے۔ اسلام نے مسلمانوں کو سکھایا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں حُسنِ ظن رکھیں، بد گمانی سے انسان کے دل میں دوسرے مسلمان کے لیے نفرت پیدا ہوتی ہے، اور یہ معاشرے میں انتشار کا باعث بنتی ہے۔

لوگوں کا مال ناحق کھانا”اثم “ ہے

اللہ تعالیٰ نے سورۃ البقرۃمیں فرمایا:

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠(۱۸۸)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤاور نہ حاکموں کے پاس ان کا مقدمہ اس لیے پہنچاؤ کہ لوگوں کا کچھ مال ناجائز طور پر کھالو جان بوجھ کر۔([4])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا مال ناحق کھانے کو اثم قرار دیا ہے۔ اس میں وہ تمام طریقے شامل ہیں جن سے لوگوں کا مال ناجائز طور پر حاصل کیا جائے، جیسے چوری، ڈاکہ، رشوت، دھوکا دہی، سود، اور جھوٹی گواہی وغیرہ۔

آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض لوگ حاکموں کے پاس جھوٹے مقدمے لے کر جاتے ہیں تاکہ ان کے ذریعے دوسروں کا مال ہڑپ کر سکیں۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے کیونکہ اس میں جھوٹ، دھوکا، اور ظلم سب کچھ شامل ہے۔

 شرک ”اثم عظیم“ ہے

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النسآء میں فرمایا:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(۴۸)

ترجَمۂ کنزُالایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا  کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا۔([5])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

شرک سب سے بڑا گناہ ہے کیونکہ اس میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، اسے رزق دیا، اسے تمام نعمتوں سے نوازا، لیکن اگر انسان کسی اور کو اس کے ساتھ شریک بنائے تو یہ سب سے بڑی ناشکری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النسآء میں شرک کو افتراء اور ”اثم مبینیعنی کھلم کھلا گناہ قرار دیا:

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۵۰)

ترجَمۂ کنزُالایمان: دیکھو کیسا اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اور یہ کافی ہے صریح (کھلا) گناہ۔([6])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

بہتان ”اثم“ ہے

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النسآء میں فرمایا:

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓــٴَـةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓــٴًـا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠(۱۱۲)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو کوئی خطا یا گناہ کمائے پھر اسے کسی بے گناہ پر تھوپ دے اس نے ضرور بہتان اور کھلا گناہ اٹھایا۔([7])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

کسی بے گناہ پر الزام لگانا دوہرا گناہ ہے: ایک تو خود گناہ کرنا، دوسرے اسے کسی بے قصور پر ڈالنا۔ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے ”بہتان“ اور ”اثم مبین“ یعنی واضح گناہ قرار دیا ہے۔

الاثم کا خلاصہ اور تنبیہ

قرآنِ کریم کی مذکورہ بالا اور دیگرآیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ الاثم ایک وسیع اصطلاح ہے جو تمام گناہوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس میں عقیدے کے گناہ (جیسے شرک)، عبادات کے گناہ (جیسے نماز چھوڑنا)، اخلاقی گناہ (جیسے جھوٹ، غیبت، بدگمانی)، اور معاملات کے گناہ (جیسے چوری، دھوکا، رشوت) سب شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمام قسم کے گناہوں سے بچنے کا حکم دیا ہے، چاہے وہ ظاہری ہوں یا باطنی، چھوٹے ہوں یا بڑے۔ گناہ انسان کو اللہ سے دور کر دیتے ہیں، اس کے دل کو سیاہ کر دیتے ہیں، اور آخرت میں عذاب کا باعث بنتے ہیں چنانچہ

 ہمیں  اوپر مذکور  ہر اس کام سے بچنا ہے اور دور رہنا ہے جو ”اثم“ کے زمرے میں آتا ہے ،نیز خود بچنے کے ساتھ ساتھ  کسی طرح سے بھی کوئی ایسا انداز اختیار نہیں کرنا کہ ہماری وجہ سے یا معاذاللہ ہمارے ذریعے سے کوئی ان گناہوں میں مبتلا ہوجائے۔

العدوان کا قرآنی مفہوم

لفظ”العدوان“ عربی زبان میں حد سے تجاوز کرنا، ظلم کرنا، اور زیادتی کرنا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اس کی ممانعت کئی آیات میں وارد ہے۔

بنی اسرائیل کو اللہ کا حکم تھا کہ آپس میں اتحاد رکھیں لیکن انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا اور گھروں سے نکالا اور اس ظلم میں باہم معاونت بھی کی، اللہ کریم نے اسے ان کے مظالم میں ذکر فرمایا ہے چنانچہ سورۃ البقرۃ میں ہے:  

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ٘-تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِؕ-

ترجَمۂ کنزُالایمان: پھر یہ جو تم ہو اپنوں کو قتل کرنے لگے اور اپنے میں ایک گروہ کو ان کے وطن سے نکالتے ہو ان پر مدد دیتے ہو (ان کے مخالف کو) گناہ اور زیادتی میں۔([8])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

سورۃ النسآء میں دوسروں کا مال ناحق کھانے اور قتل و غارت سے منع کیا گیا اور اس عملِ قبیح کے ارتکاب کو ”عدوان اور ظلم“ قرار دیا گیا ، فرمایا:

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًاؕ-وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا(۳۰)

ترجَمۂ کنزُالایمان: اور جو ظلم وزیادتی سے ایسا کرے گا تو عنقریب ہم اُسے آگ میں داخل کریں گے اور یہ اللہ کو آسان ہے۔([9])

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

خلاصہ یہ کہ العدوان ہر قسم کی زیادتی اور ظلم کا نام ہے۔ اس میں اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز، لوگوں کے حقوق غصب کرنا، ان پر ظلم کرنا، ان کے ساتھ دشمنی رکھنا، حرام مال کھانا، اور رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانی، سب کچھ شامل ہے۔

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو واضح حکم دیا ہے کہ وہ کسی پر زیادتی نہ کریں۔ اسلام انصاف کا دین ہے، اور ظلم سے سخت منع کرتا ہے۔ حتّٰی کہ دشمن کے ساتھ بھی انصاف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اللہ کریم ہمیں نیکی اور تقویٰ میں باہم تعاون کرنے اور گناہ اور زیادتی و ظلم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* فارغ التحصیل جامعۃ المدینہ، ایم فل علوم اسلامیہ ایڈیٹر ماہنامہ فیضانِ مدینہ کراچی



([1])پ6، المآئدۃ:2

([2])پ2، البقرۃ:219

([3])پ26، الحجرات: 12

([4])پ2، البقرۃ: 188

([5])پ5، النسآء: 48

([6])پ5، النسآء: 50

([7])پ5، النسآء: 112

([8])پ1، البقرۃ: 85

([9])پ5، النسآء:30


Share